اسرائیل نے ایک اور تاریخی مسجدبند کردی

57
طبریہ کی تاریخی مسجد جسے اسرائیلی حکومت نے میوزیم بنا دیا ہے
طبریہ کی تاریخی مسجد جسے اسرائیلی حکومت نے میوزیم بنا دیا ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے تاریخی ثقافتی اور مذہبی مراکز کو یہودیانے کی صہیونی سازشیں جاری ہیں۔ ان سازشوں کا تازہ شکار مقبوضہ فلسطین کی ایک جامع مسجد بنی ہے۔ طبریہ شہر کی یہ جامع مسجد جامع جسر یا جامع البحر کے نام سے مشہور ہے، مگر صہیونی ریاست نے فلسطین کی اس عظیم الشان عرب اور اسلامی ثقافتی علامت کو عجائب گھر میں تبدیل کرکے وہاں پر فلسطینی نمازیوں کو عبادت سے روک دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صہیونی حکام نے جامع مسجد البحر پر قبضہ کیا ہے۔ طبریہ شہر میں موجود فلسطینی اسلامی اوقاف کے دیگر مراکز پربھی غاصبانہ تسلط کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی دوسرے مراکز کو یہودیت کے مراکز میں تبدیل کرنے کے بعد ایک تاریخی جامع مسجد کو بھی یہودیت میں تبدیل کردیا گیا۔ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ عرب 48 کے مطابق عرب قیادت اور طبریہ بلدیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت مسجد البحر کو بند کردیا گیا۔ یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب مسجد کو باربار نذرآتش کرنے کرنے اور اس کے گنبد پر شیطانی خاکے بنانے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔ سپریم فالو اپ کمیٹی کے چیئرمین محمد برکہ نے کہا کہ طبریہ بلدیہ نے مسجد البحر کو بند کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ مسجد کی بندش اور اسے میوزیم میں تبدیل کرنے کے نتیجے میں مقدس مقام تک یہودی شرپسندوں کی رسائی کی راہ ہموار کی گئی ہے۔فالو اپ کمیٹی کے شعبہ آزادی کے سربراہ الشیخ کمال خطیب نے کہا کہ طبریہ بلدیہ کے ساتھ طے پائے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور یہودی آبادکار مسجد البحر کی تاریخی اور اسلامی حیثیت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، مگر صہیونی حکومت نے ایک سازش کے تحت مسجد کو عجائب گھر میں تبدیل کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسرائیل بئر سبع کی مسجد کے تحفظ سے متعلق طے پائے معاہدے کی بھی خلاف ورزی کرچکا ہے اور وہاں پرموجود مسجد کو یہودی انتہا پسندوں کے لیے میوزیم بنادیا ہے۔