گیس سیکٹرز نےمشترکہ پریس کانفرنس میں نرخوں میں اضافہ یکسر مسترد کردیا

213

کراچی چیمبر کے صدر جنید ماکڈا ،کراچی ٹرانسپورٹ اتحادکے صدر ارشاد بخاری،شبیر سلیمان جیچیئرمین عبدالسمیع خان ملک خدا بخش کی مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی:اسٹیشنز مالکان ،ٹرانسپورٹرز اور صارفین انجمن نے گیس کی نرخوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں غریبوں اور متوسط طبقے کے فیول سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائیگا جو کہ صارفین اور اسٹیشنز مالکان کی اربوں روپے سرمایہ کاری کیلئے تباہ کن ہوگا

سی این جی اسٹیشنز مالکان نے سندھ میں ایل این جی کے استعمال کی بھی مخالفت کردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گیس کے نرخوں میں اضافے کے نتیجے میں سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سی این جی ایسوسی ایشن کے شبیر سلیمان جی اور ممتاز جتوئی، ،سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان، ،سی این جی اسٹیشن اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش ،کراچی چیمبر کے صدر جنید ماکڈا ،کراچی ٹرانسپورٹ اتحادکے صدر ارشاد بخاری اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گیس کے نرخوں میں حالیہ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں سی این جی کی قیمت میں18روپے کلو اضافہ ہوجائیگا

جس سے سی این جی کی صنعت تباہی سے دوچار ہوسکتی ہے ،سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پٹرول کے مقابلے میں سی این جی کی فروخت شدید متاثر ہوگی اور مالکان کیلئے سی این جی اسٹیشز بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا،اس موقع پر سی این جی صنعت سے وابستہ سرمایہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سی این جی کیلئے ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور اس ضمن میں کسی بھی نتیجے پر پہنچنے تک سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے احکامات جاری نہ کئے جائیں،اگر قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو سی این جی کی فی کلو قیمت101روپے کی سطح پر جاپہنچے گی

جو کہ عوام کے ساتھ ساتھ اسٹیشنز مالکان کیلئے بھی قابل قبول نہ ہوگی ،کراچی چیمبر کے صدر جنید ماکڈا کا کہناتھا کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے سی این جی سیکٹر سے کانسیپٹ پیپر لانے کا کہا ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت سی این جی کی قیمتوں کے تعین کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے جو کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی سی این جی کی قیمتوں کا تعین کرے ،سی این جی اسٹیشنز مالکان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کیلئے قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے تو سی این جی سیکٹر پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے تا کہ سی این جی کی صنعت قائم رہ سکے

،سی این جی سیکٹر کیلئے 700روپے سے980روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کسی طور بھی جائز نہیں ہے اور حکومت کو اس ضمن میں انصاف سے کام لینا چاہیئے ،قدرتی گیس مقامی ریسورس ہے اور اسے پٹرول اور ایل این جی جیسے در آمدی ایندھن سے منسلک نہیں کیا جاسکتا ،سی این جی اسٹیشنز مالکان نے ہڑتال کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں سی این جی صنعت اپنی موت آپ مر جائیگی،تاہم اس کے نتیجے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ پٹرول کی اضافی مقدار کی در آمد سے ملکی آئل امپورٹ بل میں اضافہ ہوگا،پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں نے حکومتی منی بجٹ کو مکمل بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضمنی بجٹ نہیں ہے بلکہ حکومت نے پورے سال کا بجٹ پیش کیا ہے ،گیس کی قیمتوں میں اضافے سے غریبوں کے متاثر نہ ہونے کا حکومتی دعویٰ بالکل غلط ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com