اردن جرمنی پہنچ گئے ، تعلقات میں بہتری کا امکان

96
برلن: تُرک صدر رجب طیب اردوان کا جرمنی پہنچنے پر استقبال کیا جارہا ہے
برلن: تُرک صدر رجب طیب اردوان کا جرمنی پہنچنے پر استقبال کیا جارہا ہے

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اِردوان 3 روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ روز جرمنی پہنچ گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے غیر سرکاری ترک تنظیموں اور کاروباری شخصیات سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آج جمعہ کے روز جرمن حکام ترک صدر اِردوان کا باقاعدہ استقبال کریں گے۔ اُمید کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے بعد جرمن ترک تعلقات میں بہتری پیدا ہو گی۔ دونوں ممالک کے مابین حالیہ برس اس وقت سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، جب ترکی میں جرمن صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ترک صدر اپنے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر کے علاوہ چانسلر انجیلا مرکل سے بھی ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک تجارتی امور پر توجہ مرکوز رکھیں گے کیوں کہ ترکی کو اس وقت معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے مطابق کئی برس کے کشیدہ تعلقات کے بعد ترک صدر نے جرمنی کے ساتھ تعلقات ازسرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترکی کو معاشی بہتری کے لیے یورپ
کی ضرورت ہے جب کہ مہاجرین کو روکنے لیے پورپ کو ترکی کا تعاون درکار ہے۔ جرمنی کے مشہور روزنامے فرانکفْرٹر الگمائنے سائٹنگ میں ترک صدر نے اپنے مہمان کالم میں زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی اور ترکی کو اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہیے۔ صدر اردوان نے مزید لکھا کہ یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم غیر حقیقی خوف کو الگ رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے جرمن حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ تعلقات میں بہتری کے لیے گولن تحریک کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دے۔ انقرہ حکومت 2016ء کی ناکام بغاوت کا الزام اسی تحریک پر عائد کرتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور دائیں بازو کی انتہاپسندی سے بھی خبردار کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ کئی برس سے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ جرمن حکومت کے مطابق ترکی میں آمرانہ طرز عمل میں اضافہ ہوا ہے جب کہ ترکی میں جرمن صحافیوں کی گرفتاریوں سے بھی دونوں ممالک کے مابین فاصلہ بڑھا ہے۔ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت بھی 5 جرمن شہری سیاسی بنیادوں پر ترکی میں قید ہیں۔ شام کی وجہ سے اس وقت ترکی کو امریکی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ رواں برس ترک کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کا نقصان ترک معیشت کو بھی اٹھانا پر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی اب جرمنی اور یورپی یونین کی طرف دیکھ رہا ہے تاکہ ملک میں معاشی استحکام لایا جا سکے۔ واضح رہے کہ ترک صدر اپنے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر کی دعوت پر گزشتہ روز برلن پہنچے ہیں جس کے بد آج ان کا فوجی اعزاز کے ساتھ ’ریڈ کارپٹ‘ پر باقاعدہ استقبال کیا جائے گا جب کہ ان کی سرکاری ضیافت بھی کی جائے گی۔ وہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے علاوہ جرمنی میں موجود ترک گروپوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب جرمن چانسلر کی خارجہ پالیسی کے ترجمان یورگن ہارڈ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر معاشی تعلقات کے لیے یہ ضروری ہے کہ انقرہ حکومت قانون کی بالادستی کو ممکن بنانے کے ساتھ انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری پیدا کرے۔ اس دوران بہت سے جرمن سیاستدانوں کی طرف سے ترک صدر کے اس دورے کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور کئی سیاستدانوں نے ان کے لیے کی جانے والے تقریبات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی طرح آج برلن میں ترک صدر کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ ترک صدر جرمن شہر کولون میں ایک مسجد کا بھی افتتاح کریں گے۔
اِردوان ؍ جرمنی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ