حکومت ملک میں کوئلے کی صنعت کو بند کرانا چاہتی ہے؟

55
فیصل آباد:یوم دفاع کے موقع پر ریلوے پریم یونین کے زیر اہتمام شہدائے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نکالی جانے والی کی قیادت ڈویژنل صدر قاضی عبدالودود، سینئر نائب صدر خالد محمود چودھری و دیگر کررہے ہیں
فیصل آباد:یوم دفاع کے موقع پر ریلوے پریم یونین کے زیر اہتمام شہدائے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نکالی جانے والی کی قیادت ڈویژنل صدر قاضی عبدالودود، سینئر نائب صدر خالد محمود چودھری و دیگر کررہے ہیں

قموس گل
خٹک

پوری دنیا میں پاور انرجی کے طورپر کوئلے کی صنعت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اس صنعت میں سرمایہ لگانے والوں کو خصوصی رعایت اور کانکنوں کوقوانین اور دیگر طریقوں سے رعایت دی جاتی ہے تاکہ اس صنعت کو پروان چڑھاکر کول انڈسٹری کو پاور جنریشن کے لیے استعمال کیاجائے اس کے برعکس ہمارے ملک میں اس انڈسٹری پر زیادہ ترعلاقائی طاقتور لوگوں کا قبضہ ہے جوحکومت کے ساتھ مل کر کوئلے کی صنعت کے تباہی کے ذمہ دار ہیں وہ گلوبلائیزیشن کے اس دور میں بھی نیم غلامانہ طریقوں سے جبر اور حکومتی اداروں کی پشت پناہی سے کام چلارہے ہیں۔ یا پھر ان اداروں پر علاقائی سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والوں کا قبضہ ہے جو گھر بیٹھے سالانہ اربوں روپے کمانے کے باوجود ٹیکس کی مد میں اتنا دیتے ہوں گے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ؟ حکمرانوں نے کوئلے کے مزدوروں کو قانونی بنیادی حقوق دلوانے کے لیے کچھ نہیں کیا جو دن رات سیاسی مقاصد کے لیے مزدور دوستی کے دعویدار بنتے ہیں پوری دنیا بدل گئی مگر کوئلے کے مزدور آج بھی نیم غلاموں کی طرح کام کرنے پر مجبور ہیں آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ جو بیورو کریٹ اپنے محل نما دفاتر میں بیٹھ کر ان محنت کشوں کے لیے قوانین بناتے ہیں انہوں نے کبھی آنکھوں سے کوئلے کے مزدوروں کو کام کرتے نہیں دیکھا مگر غیر انسانی ماحول میں خطر ناک طریقوں سے کام کرنے والے کانکنوں کو شہروں میں کام کرنے والے مزدوروں جیسے سمجھ کر آئے دن ان کو حاصل نام نہاد سہولیات بھی واپس لینے کے لیے ضابطوں پر عمل کروارہے ہیں۔
صرف لاکھڑا کول فیلڈ ضلع جام شورو سندھ کے کانکنوں کو ٹریڈ یونین کے ذریعے ایسے مراعات حاصل ہیں جن کا دوسرے صوبوں کے کانکن تصور بھی نہیں کرسکتے مگر بتدریج یہاں کے چند مائینز اونرز بھی دوسرے صوبوں کی طرح چند بااثر لوگوں کے ذریعے غلامانہ نظام رائج کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں ۔ حالانکہ زمینی حقائق اور تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن کول کمپنیوں کے مالکان نے یونین کے ساتھ بہتر تعلقات بناکر کانکنوں کو جائز حقوق دیے ہیں ان کو ل کمپنیوں کے مالکان زیادہ پرسکون ماحول میں زیادہ منافع کماتے ہیں اور جو نفع نقصان کو دیکھنے کے بجائے یونین دشمنی میں اپنی توانائی خرچ کررہے ہیں وہ اپنے کارکنوں کو جائز مراعات دینے کے بجائے پولیس اور دیگر قوتوں یا بھتہ خوروں کو خوش رکھ کر ذہنی طورپر مطمئن ہوتے ہیں وہ اپنی سوسائٹی اور ماحول کے لحاظ سے یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ پہاڑوں کے تہہ سے کوئلہ نکالنے والوں کو اپنے جیسے انسان سمجھ کر ان کو جائز مراعات کا حقدار سمجھیں۔ اگر کسی مزدور کو کام کرتے ہوئے کینسر ، دل کا عارضہ یا ہیپاٹائٹس کا مرض لاحق ہوجائے تو بیشتر کول کمپنیوں کے مالکان معاہدات میں ہر قسم کا علاج کروانے پر رضامند ی کے باوجود کہتے ہیں کہ یہ مزدور توگھر سے یہ بیماری لے کر آیا تھا او رنوجوان کانکن کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے ان کو اپنے بچے بھی یاد نہیں آتے نہ انسانیت کا خیال آتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک مزدورمرتا ہے تو اس کی جگہ دو نئے مزدور غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے خود کو موت کی گود میں جانے کو تیارہوں گے۔ بڑے ہوٹلوں میں منعقدہ سیمیناروں اور عدالتوں میں بنیادی حقوق کے خوشنما نعروں سے کوئلے کے مزدوروں پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑتا۔
صوبہ بلوچستان میں آئے دن بڑے حادثات میں ایک ساتھ کئی انسانی جانیں ضائع ہونے پر کسی ادارے نے ان حادثات کی بنیادی وجہ معلوم نہیں کی کیونکہ متعلقہ اداروں کے حکام کا کول کمپنی کے مالک تک پہنچ کر اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں۔یہاں تک کہ اگر کسی مائن میں بڑا حادثہ ہوجائے تو کول کمپنی کی انتظامیہ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مائن کے اندر کام کرنے کے لیے کتنے مزدور گئے تھے۔ ان کے نام ولدیت کیا ہیں یہ سب اندازوں سے یا حادثے کے شکار مزدوروں کے ساتھیوں سے معلوم کیا جاتا ہے جبکہ (In, Out) رجسٹر صرف قانون میں لکھا ہے عملاً اس پر عمل نہیں ہوتا کیونکہ مائینز مالکان اور چیف انسپکٹر یٹ کے عملے میں دوستی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔صوبہ خیبر پختوانخواہ کے ایسے علاقوں میں کوئلے کی کانیں ہیں جہاں کسی ملکی قوانین پر عملدرآمد ممکن نہیں اور نہ کوئی مزدور اپنے حقوق کے لیے منہ کھول سکتا ہے وہ اپنے نکالے ہوئے کوئلے کا ریٹ بھی معلوم نہیں کرسکتا جو لیبر جمعدار یا جوڑی سربتائے گا وہ حرف آخر ہے ۔ ان علاقوں میں کام کرتے ہوئے جاں بحق کانکنوں کو معاوضہ موت بھی نہیں ملتا ۔ سرکاری چھٹی کے پیسے علاج کی سہولیت بونس وغیرہ تو دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے اس صوبہ میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے پہلے بھی 5سال حکومت کی ہے مگر کوئلے کے مزدور تبدیلی کے نعروں سے مستفید نہیں ہوئے اور نہ آئندہ اس کاکوئی امکان ہے۔ یہی صورتحال پنجاب میں ہے اور بلوچستان میں سرداری نظام کی وجہ سے جائز حقوق مانگنے والے مزدوروں کو اغواء کرایا جاتا ہے اور تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کانکن غلاموں کی طرح کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ EOBIکاادارہ مزدوروں کے آنسووں پونچھتا ہے کسی حدتک میں اس سے اتفاق کرتا تھا مگر اب یہ ادارہ آنسو پونچھنے کے بجائے ریٹائرڈ مزدوروں ، فوت ہونے والے مزدوروں کی بیواؤں اور معذور مزدوروں کو آنسو بہانے پر مجبور کر رہا ہے۔ جو معمولی مراعات مزدوروں کو تیس سال سے مل رہے تھے وہ بھی سال 2017 میں قوانین کی تشریح کے نام پر بند ہوگئے ہیں۔ کوئلے کے مزدور کو 5250 روپے کی پنشن کے لیے پندرہ سال سروس کرنے کا پابند بنایا گیا ۔ فارمولہ پنشن بند کی گئی اور ملازمت کے دوران جاں بحق مزدور کی بیوہ کو 5 سال کے بجائے اب پندرہ سال سروس پر بیوہ پنشن ملے گی۔ اگر فارمولہ پنشن کے تحت کوئی ابھی پنشن لے رہا ہو تو اس کی وفات کی صورت میں اس کی پنشن بیوہ کو نہیں ملے گی۔ ان مزدور دشمن تبدیلیوں کے ساتھ کوئلے کے مزدوروں سے خصوصی نفرت اور امتیازی کارروائیوں نے کانکنوں کو سال 2017 سے پنشن کے حق سے بالکل محروم کر دیا۔ حال میں چیئرمین EOBI نے حیدرآباد ریجن میں منظور شدہ پنشن کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی جو مالکان سے بیس بیس سال کے ریکارڈ مانگ رہی ہے ۔ یہ اختیار EOBIکو کس قانون کے تحت حاصل ہے اور چکوال میں رہنے کے حوالے سے اس انکوائری کمیٹی کا ایک رکن تحقیقات سے پہلے برملا کہتا پھرتاہے کہ کوئلے کے مزدوروں کی جتنے بھی پنشن منظور ہوئے وہ تمام کے تمام جھوٹے ہیں کیونکہ کوئلے کے مزدور ان کے خیال میں طویل سروس نہیں کرتے یہ عقلمند چکوال کو لاکھڑا کول فیلڈ سے ملاتا ہے؟ اگر ایسے مزدور دشمن متعصب لوگ مزدوروں کے فنڈ سے مثالی مراعات حاصل کرنے والے EOBIمیں آگئے ہیں تو یہ ادارہ بھلائی کے کام کیا کریگا ؟ میں نے چیئرمین EOBIکو مراسلہ بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ کوئلے کے مزدوروں کے تمام پنشن جھوٹے قرار دینے والے اس افسر کو جو چکوال سے سند حاصل کرکے سندھ آیا ہے فوری تحقیقاتی کمیٹی سے ہٹایا جائے اور اس کے خلاف غیر ذمہ درانہ باتیں کرنے کی انکوائری کی جائے بصورت دیگر کول کمپنی کے مالکان اس ادارے کو پریمیم نہ دینے پر غور کرسکتے ہیں اور لاکھڑا کول فیلڈ کے مزدوروں کا ردعمل فطری ہوگا۔
تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت کے دور میں ماحولیاتی آلودگی کے نام پر بھٹہ خشت کو بند کرنے کے نتیجے میں 5کروڑ سے زائد مزدور بے روزگار اور اربوں روپے مائینز اونرز کا سرمایہ ڈوب جائے گا اور حکومت کو اربوں روپے سیلز ٹیکس کا نقصان ہوگا۔ ہم نے وزیر اعظم پاکستان اور دیگر حکام کے علاوہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھی اس فیصلے کے اثرات سے آگاہ کیا ہے اور پورے ملک کے مائن اونرز بھٹہ خشت مالکان کی تنظیموں نے بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ توقع ہے کہ حکومت ایسے غلط اور نقصان دہ فیصلے پر ہر صورت میں عملدرآمد کو موخر کرکے مائینز اونر کی تنظیموں ، بھٹہ خشت مالکان اور کانکنی سے متعلق مزدور رہنماؤں سے مشاورت کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی۔ تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کا مقصد بغیر کسی نقصان کے حاصل ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ