ہائیکورٹ کے پاس سزا معطلی کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں‘ نیب پراسیکیوٹر 

115

اسلام آباد (آن لائن )نیب پراسیکیوٹر نے نوازشریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر سوالات اٹھا دیے، اکرم قریشی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائیکورٹ کے پاس سزا معطلی کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں،مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوچکی ہیں ،ہم دلائل دینے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن درخواست گزار تاخیر کررہے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے روبرو دلائل دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلوں کی سماعت کے لیے مقرر ہونے کے بعد سزا معطلی کی درخواست نہیں سنی جاسکتی،اگر ٹرائل کے ساتھ سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہو سکتی ہے تو اپیل پر کیوں نہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل اور اپیلوں پر سماعت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔اس کیس کے مخصوص حالات ہیں،نیب کا کوئی ایسا کیس بتا دیں جس میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوئی،اکرم قریشی نے کہا کہ اس کیس کے کوئی خاص حالات نہیں، عدالت کہے گی تو ایسے مقدمات کی تفصیلات پیش کردیں گے ،جس میں اعلیٰ عدلیہ کی ڈائریکشن پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوئی، اکرم قریشی نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق 30روز میں اپیلوں پر فیصلہ نہ ہو تو عدالت ملزمان کو ریلیف دے سکتی ہے لیکن اس کیس میں صورتحال یہ ہے کہ درخواست گزار کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت میں تاخیر ہورہی ہے،ہم اپیلوں پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ان کی والدہ وکیل ہیں اور لاہور کے اسپتال میں زیر علاج ہیں، سزا معطلی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہونے سے متعلق عدالت کی معاونت کردی ہے ،کیس کے میرٹس پر پیر کو دلائل مکمل کرلوں گا بعدازاں عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد شریف فیملی کی اپیلوں کے خلاف درخواست کی سماعت سوموار تک کے لیے ملتوی کر دی۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف دائر العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ کے زبانی حکم پر جے آئی ٹی نے والیم ٹین کو سیل کیا لیکن اپنے پاس کوئی کاپی نہیں رکھی۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں واجد ضیا نے کہا تھا والیم ٹین کی ایک کاپی رکھی تھی، خواجہ حارث نے بیان میں تضاد نوٹ کرا دیا۔ عدالت نے سابق وزیراعظم کو ایک روز کے لیے حاضری سے استثنا دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ