سی پیک کو تو متفقہ رہنے دیں 

246

یہ بات درست ہے کہ کسی بھی حکومت کو کام کرنے اور نتائج کے لیے کچھ وقت ملنا چاہیے اور ابتداء سے ہی تنقید اور اعتراضات نہیں ہونے چاہییں لیکن پی ٹی آئی کی حکومت خود ایسے مواقع پیدا کر رہی ہے کہ اس کے اقدامات تنقید اور اعتراضات کی زد میں آئیں پہلے ایک قادیانی کو مشاورتی کونسل میں شامل کیا پھر اس غلطی کی اصلاح کے بجائے اس کے دفاع میں ڈٹ گئے پھر دباؤ پڑا تو فیصلہ واپس لے لیا ۔ اسی دوران قدرتی گیس کے نرخوں میں اضافے کے پرانے فیصلے کی توثیق کی گئی اچانک دباؤ میں اضافہ ہوا تو فیصلہ واپس لے لیا گیا ۔ اب ایک اور اہم قومی مسئلے میں ٹانگ پھنسا لی گئی ہے ۔ وزیر اعظم کے مشیر تجارت کے حوالے سے برطانوی اخبار میں خبر شائع ہوئی ہے پاکستان سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کرے گا ۔ اس خبر کے مطابق جو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے شائع کی تھی مشیر تجارت نے اطلاع دی ہے کہ اقتصادی راہداری معاہدے سے نقصان پہنچ رہا ہے ۔ چینی کمپنیاں ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ گزشتہ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مشیر تجارت نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومت نے معیشت کے بر خلاف ٹیکس چھوٹ دی تھی ۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد پاکستان اور چین میں کھلبلی مچ گئی ۔ چین اور پاکستان کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ایک تبصرہ یہ کیا گیا کہ چینی وزیر خارجہ اور سعودی وزیر خارجہ کے دوروں میں اس انٹر ویو کے حوالے سے ممکنہ رد عمل پر گفتگو ہوئی ۔ یہ تو سیاسی الزام ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کے مشیر کو اس قسم کے غیر ذمے دارانہ بیانات دینے کی کیا ضرورت تھی ۔ اب ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ برطانوی اخبار نے میرے انٹر ویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے ۔ اگر ایسا ہی ہے تو عبدالرزاق داؤد کو برطانوی اخبار کے خلاف مقدمہ کر دینا چاہیے کیونکہ یہ معاملہ محض پاکستان کے وزیر کے انٹر ویو کا نہیں ہے بلکہ پاکستان ، چین اور درجنوں ممالک اس منصوبے سے منسلک ہیں ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ کوئی بھی حکومت سابقہ حکومتوں کے منصوبوں پر نظر ثانی کر سکتی ہے لیکن سی پیک ایسا منصوبہ نہیں ہے جس کو ایک نئی حکومت کسی جائزے، کسی تجزیے اور مباحثے کے بغیر تبدیل کر سکتی ہو ۔ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ پاکستانی قوم اب تک سی پیک کی شرائط سے آگاہ نہیں ہے 56 ارب ڈالر کن شرائط پر مل رہے ہیں چین اتنی بڑی سرمایہ کاری کیوں کر رہا ہے کہیں پاکستانی علاقے گوادر کا وہی حال نہ ہو جو سری لنکن جزیرے کا ہوا تھا کہ جب قرض ادا نہ کیا جا سکا تو چین نے سری لنکا کے جزیرے کو معاہدے کے تحت اپنے کنٹرول میں لے لیا ۔ اب پاکستانی تاجر برادری نے بھی بیان داغا ہے کہ سی پیک ایسٹ انڈیا کمپنی ہے حکومت کی جانب سے معاہدے کے از سر نو جائزے کی حمایت کرتے ہیں ۔ سراج قاسم تیلی تاجر برادری کا ایک بڑا نام ہے انہوں نے ایک بہت بڑی پریس کانفرنس میں الزامات عائد کیے کہ سی پیک کا جو کام پاکستان میں ہو رہا ہے اس میں پاکستانیوں کو نوکری نہیں مل رہی ہے اس کے بر عکس چین کی جیلوں سے قیدیوں کو لا کر یہاں ملازمت دی گئی ہے ۔ سراج تیلی کی پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم معاہدے کے از سر نو جائزے کی حمایت کرتے ہیں ۔۔۔ گویا حکومت اس حوالے سے کوئی نظر ثانی کرنا چاہ رہی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ سراج قاسم تیلی کی پریس کانفرنس صبح ہوئی اور حکومت پاکستان اور چین کی جانب سے سی پیک میں تبدیلی یا نظر ثانی کے عزائم کی تردید شام کو کی گئی ۔ ممکن ہے تیلی صاحب کی وضاحتی تردید بھی آ جائے کہ میری پریس کانفرنس کے بعض حصوں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا گیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سابقہ حکومت کی بد انتظامیوں اور غلط فیصلوں کو عوام کے سامنے لانے کی خواہش اور جلد بازی میں کوئی بڑاکام کرنے کی دھن اس سے کوئی بڑا کام خراب کروا دے گی ۔ فی الحال تو حکومت کسی منظم منصوبے کے بجائے بڑے کام کی دھن میں ہے اور بڑا کام خود نہیں کیا جاتا اس کی سعادت اللہ دیتا ہے ۔ اگر بھٹو کے نصیب میں قادیانیوں کے مسئلے کا آئینی فیصلہ کرانا تھا تو بھٹو نے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔ اسی طرح میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کا پہلے سے پروگرام نہیں بنا رکھا تھا اللہ نے حالات ایسے پیدا کیے کہ ایٹمی دھماکے ان کے دور میں ہو گئے ۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ روز مرہ کے کام بھی نہیں سنبھالے جار ہے ۔ ایف بی آر جیسے ادارے میں اپیل کمشنر کے تربیتی کورس پر جانے کے21 روز بعد بھی متبادل افسر کا تقرر نہیں ہو سکا۔ ایف بی آر کے نئے چیئرمین کو اس کا علم بھی ہے یا نہیں کہ اپیل کمشنر کیا کرتا ہے ۔ سیکڑوں اپیلیں معلق ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے اکاؤنٹس بند ہور ہے ہیں یا انہیں پریشانی ہو رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے سی پیک کو متنازع بنانے کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف نے اسے سی پیک کو منجمدکرنے کی سازش قرار دے دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا موقف سی پیک کے دشمنوں جیسا ہے ۔ ہم پوری قوم کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے خلاف سازش کو ناکام بنادیں گے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سی پیک پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے توسب سے پہلے اس کی شرائط سے خود بھی آگاہی حاصل کرے اور قوم کو بھی بتائے پھر ان کا جائزہ پارلیمنٹ میں لیا جائے اور وہاں جو فیصلہ ہو اس کو آگے بڑھایا جائے ۔ سی پیک اپنی جگہ ملک کے اندر بھی تیزی سے متفقہ امور کو چھیڑنے سے حکومت کو بھی نقصان ہو گا اور قومی یکجہتی بھی متاثرہو گی حکومت کی جانب سے مدارس کا نظام نیکٹ کے حوالے کرنے کی تجویز خطرناک ہے ۔ اس کے نتیجے میں مدارس حکومت کے لیے مسئلہ پیدا کریں گے ۔ فی الحال حکومت کے لیے ایک مشورہ ہے جو وزیر اعظم سمیت ان کی ٹیم کو ایک اپوزیشن لیڈر نے دیا ہے کہ وہ یقین کر لیں کہ وہ حکومت میں آ گئے ہیں اور حکومت پانچ سال کے لیے آتی ہے اس اعتبار سے جو کام بھی کیا جائے خوب سوچ سمجھ کر کیا جائے ۔ حکومت اپنے ایجنڈے کو ایک بار پھر سامنے رکھے اپنی صفوں کو منظم کرے اور پھر پیش قدمی کرے۔۔۔ جو وعدے کیے ہیں ان کو سامنے رکھے ۔ جلد بازی میں وعدے بھی بھول رہے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ