پنجاب ہیلتھ کمپنی میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی سامنے آگئی 

25

اسلام آباد (آن لائن) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غریب عوام کو ’’صحت کارڈ‘‘ کی فراہمی کے نام پر حاصل کیے گئے 1 ارب 30 کروڑ روپے سرمایہ کاری پر لگا دیے جبکہ ڈیڑھ ارب روپے کو استعمال بھی نہ کیا جاسکا۔ پنجاب کی وزارت صحت کے تحت قائم ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی میں جاری تحقیقات میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی سامنے آئی ہے اس کمپنی کے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی عامر اور ظہیر عباس ملک کی ماہانہ تنخواہ 7 لاکھ 60ہزار روپے تھی،باقی کرپٹ افسران میں سویرا احمد‘ فیفا مظفر ‘ خرم لودھی ‘ محمد رضا خان‘ محمد منیب اور طارق سکھیرا تھے جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ثاقب ظفر‘ ڈاکٹر اجمل خان‘ ڈاکٹر تراب ‘ نعیم الدین‘ تنویر عالم جوکہ ٹی آر ٹی ایسوسی ایشن کے مالک ہیں، شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے صحت کارڈ اور صحت منصوبوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک کمپنی تشکیل دی تھی اس کمپنی کے افسران نے غریب لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کروڑوں روپے لوٹ کر رفو چکر ہوگئے ہیں ،کمپنی انتظامیہ اسپتالوں کی اصلاحات کے منصوبے کے نام پر 30 کروڑ روپے ڈکار چکی۔ افسران نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نام پر 55 کروڑ روپے نادرا کو ادا کیے تھے جبکہ کمپنی کی مشہوری کے نام پر 1 کروڑ 58 لاکھ روپے اشتہارات پر اڑا دیے ۔ کمپنی انتظامیہ نے قانونی مشاورت کے نام پر لیگل کمپنی وہاب رزاق اینڈ ایسوسی ایٹس شہباز شریف کے قریبی ساتھی کی ملکیت میں ہے کمپنی نے گلبرگ تھری میں پرتعیش بنگلہ کرایہ پر حاصل کر رکھا تھا جس کے مالک کو ایک کروڑ 89 لاکھ روپے غیر قانونی طریقہ سے ادا کیے گئے تھے کمپنی انتظامیہ نے صحت کارڈ کی سرگودھا میں افتتاحی تقریب کے لیے نجی کمپنی کلاک ورک کو50 لاکھ روپے ادا کیے تھے جس کی اب تحقیقات اور بینک ریکارڈ کی چیکنگ جاری ہے۔ کمپنی کا انتظامیہ نے بوگس ڈگریوں کے حامل افسران تعینات کیے تھے جس کو غیر قانونی طور پر 5 کروڑ 25 لاکھ روپے غیر قانونی طریقہ سے ادا کیے گئے ہیں جبکہ کمپنی کے افسران نے الاؤنسز کے نام پر 40 لاکھ روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے کمپنی انتظامیہ نے وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر کمپنی میں تعینات افسران کو 52 ملین روپے ادا کیے گئے۔ شہباز شریف کے دور کے مشہور 56 کمپنیوں کے اسکینڈل میں سے یہ اسکینڈل بھی شامل ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ