’’وارث شاہ‘‘ کے جنڈیالہ شیر خان کی فضا سوگوار ہے۔۔۔

87

محمدشاہد نسیم چودھری

جنڈیالہ شیر خان تحصیل و ضلع شیخوپورہ کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، لیکن تاریخی اور ادبی اعتبار سے یہ قصبہ بہت بڑا اور اپنی الگ حیثیت کا حامل ہے، پنجاب کے مشہور قصے ہیر رانجھا کے خالق، برصغیر پاک و ہند کے پنجابی زبان کے عظیم شاعر سید وارث شاہ کا تعلق اور جائے پیدائش اسی جنڈیالہ شیر خان سے ہے، وارث نہ کر مان وارثاں دا۔۔۔ رب بے وارث کر ماردا اے، وارث شاہ کو پنجابی ادب کا شیکسپئیر بھی کہا جاتا ہے، پنجابی زبان کے لیے وارث شاہ کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں، لیکن آج ہم ذکر کریں گے جنڈیالہ شیر خان میں اس اندوہناک، شرمناک واقعے کی جسے جان کر انسانیت بھی شرما گئی، اور محسوس یہ ہوا کہ وارث شاہ کے جنڈیالہ شیر خان میں انسانیت ہار گئی اور حیوانیت جیت گئی، اسی قصبے کا ذوہیب کلاس چہارم کا نو سالہ معصوم بچہ اپنے دوست کے ہمراہ مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے گیا، نماز کی ادائیگی کے بعد ذوہیب مسجد کی گلی ہی میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہا تھا، اتنے میں مسجد کا امام رفیع اللہ ولد عطا محمد قوم پٹھان اور رکن مسجد انتظامیہ اشفاق ولد منظور قوم مغل گلی میں آئے اور ذوہیب کو بلا کر مسجد میں لے گئے، مسجد میں داخل ہوتے ہی اس نو سالہ معصوم ذوہیب پر دونوں نے تھپڑوں، مکوں اور ٹھڈوں کی بارش کر دی اور کہا کہ تم نے جو پیسے مسجد کے گلے /بکس سے چرائے ہیں وہ کہاں ہیں، اس معصوم نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا، جو مرضی قسم لے لیں، لیکن اس معصوم ذوہیب کی بات کا ان دونوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور مسجد میں اپنی عدالت لگا لی، وہ اس کو مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور کہتے رہے مان جاؤ کہ تم نے پیسے چرائے ہیں، ذوہیب نہیں مانا، اس کے بعد ان دونوں جلادوں کا جب جی ٹھنڈا نہ ہوا، تو ذوہیب کو ننگا کر کے مسجد میں ہی الٹا لٹکا دیا، اس جلاد امام اور انتظامیہ کے رکن نے مسجد کے تقدس، وقار اور احترام کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا، انتہائی گرمی اور حبس کے موسم میں ننھے ذوہیب کے نازک اعضاء پر پلاسٹک کے پائپ مارتے رہے، زوہیب چیختا چلاتا رہا، دہائیاں دیتا رہا معافیاں مانگتا رہا ان سے بار بار پانی پینے کی فریاد کرتا رہا، لیکن ان جلادوں کو اس معصوم پر کوئی ترس نہ آیا، اور قہقہے لگاتے رہے، ان جلادوں نے کربلا کی یاد تازہ کردی، اور وہ اس کے نازک اعضاء پر پلاسٹک کے پائپ برساتے رہے، یہاں تک کہ اس معصوم کی پیٹھ سے سرخ رنگ کی بوٹیاں نکل آئیں، اور ننھا معصوم ذوہیب بے ہوش ہوگیا، اسی اثنا میں اطلاع ملنے پر ذوہیب کا والد زاہد محمود، تایا سیف اللہ اور تایا زاد بھائی شاہ زیب جب مسجد پہنچے تو دونوں جلاد مسجد سے فرار ہو گئے، ان کا لخت جگر مسجد میں بے ہوش الٹا لٹکا ہوا تھا، ایسے لگ رہا تھا جیسے بکرے کو ذبح کر کے کھال اتارنے کے لیے لٹکایا ہوا ہو، اس کی پیٹھ کی بوٹیاں باہر آئی ہوئی تھیں اور زخموں سے خون رس رہا تھا، اپنے لخت جگر کا حال دیکھ کر اس کے والد سیف اللہ کی حالت غیر ہو گئی، انہوں نے بچے کو نیچے اتارا، اسپتال لے جا کر فرسٹ ایڈ دلوائی اور اس کا میڈیکل کرایا، اللہ کا شکر ہے کہ اس کو ہوش آگیا، ذوہیب کا والد انتہائی غریب اور اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتا ہے، دو وقت کی روٹی بمشکل پوری ہوتی ہے، اس واقعے کی اطلاع جب متعلقہ تھانہ صدر شیخوپورہ دی گئی تو یہ امر قابل ذکر ہے کہ تھانہ صدر کی پولیس نے متاثرہ خاندان سے مکمل تعاون کیا ڈیوٹی پر موجود اے ایس آئی شہباز نجمی کھانا کھا رہے تھے واقعہ کی بابت علم ہونے پر ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے، اور متاثرہ خاندان کو تسلی دی اور فوری طور پر ان کی ایف آئی آر بجرم 337L(2) ت پ، 342 ت پ، 3 28 ت پ، 34ت پ درج کی، جس کا نمبر 526/18 مورخہ 18.07.18 ہے۔
راقم نے اس بچے پر تشدد کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھی تھیں، محسوس یہ ہو رہا تھا کہ پولیس نے کسی جرم میں تشدد کیا ہے، لیکن اصل واقعہ کا صحیح علم نہیں ہورہا تھا کہ اس پر تشدد کس نے اور کیوں کیا ہے کوئی لنک نہیں مل رہا تھا؟ لیکن اگلے دن FM103 کے اینکر عزیر رشید نے انتہائی کرب میں اسی بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے عزیر رشید کی تڑپ کو محسوس کیا جاسکتا تھا، اسی ویڈیو میں معصوم بچے کے نازک اعضاء سے نکلی ہوئی بوٹیوں، رستے ہوئے زخم اور عزیر رشید کی معصوم بچے کے لیے ’’تڑپ‘‘ کو دیکھ کر راقم نے قلم اٹھایا اور حالات و واقعات کو قرطاس ابیض پر اتارتے ہوئے اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی، معلومات حاصل کرنے پر علم ہوا کہ اس نو سالہ بچے پرکن جلادوں نے تشدد کیا، جلاد صفت امام مسجد رفیع اللہ کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ محکمہ اوقاف میں بطور مالی کام کر رہا ہے، اور اس کے علاوہ مسجد جنڈیالہ شیر خان میں امامت بھی کروا رہا ہے، یہ سب محکمہ اوقاف کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے، متاثرہ خاندان انتہائی غربت کا حامل ہے، ذوہیب کا والد اینٹوں والے بھٹے پر کام کر رہا ہے جس کی آمدن سے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہو رہی ہے، معصوم ذوہیب پر تشدد ہوئے آج تقریبا بیس دن ہو گئے ہیں، لیکن ابھی تک ذوہیب کے زخم نہیں بھرے، وہ آج تک سیدھا نہیں بیٹھ سکتا، ابھی بھی اس کا سہم ختم نہیں ہوا، میں نگران حکومت اور ارباب اختیاران سے پوچھنا چاہتا ہوں!! کیا جلاد امام اور اس کے ساتھی کا مسجد میں اپنی عدالت قائم کرنا ٹھیک ہے؟ کیا مسجد میں بچے کو ننگا کر کے الٹا لٹکا کر تشدد کرنے سے مسجد کا تقدس اور وقار مجروح نہیں ہوا؟ کیا جلاد امام ایک ہی وقت میں محکمہ اوقاف میں بطور مالی اور امامت کے فرائض انجام دے سکتا ہے؟، اس واقعے کے بعد سے آج تک واث شاہ کے جنڈیالہ شیر خان کی فضا سوگوار ہے….، پورے قصبے کی نظریں چیف جسٹس سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں، کہ اس واقعہ پرکب ازخود نوٹس لیا جاتا ہے؟، اور کب ان ’’جلادوں‘‘ کو کیفر کردار پر پہنچایا جاتا ہے۔۔۔؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ