سندھ ہائیکورٹ کا کے الیکٹرک میں ریفرنڈم کرانے کا حکم

155

غیر ملکی کمپنی ابراج نے جب سے کے الیکٹرک لمیٹڈ کا انتظام سنبھالا ہے اس کی انتظامیہ نے ظلم و استبداد کی نئی روش کو جنم دیا ہے۔ اس نے پاکستانی شہریوں جو اس ادارے میں سالوں سے ملازمت کررہے تھے گزشتہ ادوار میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ کے نام سے ایک کامیاب و کامران ادارہ تھا اس کا انتظامی ڈھانچہ شاندار اور حقیقی تعلقات کا منصفانہ ماحول مثالی تھا، نجکاری کے بعد اس پر پاکستانی حکمرانوں کی ملی بھگت سے بیرونی آقاؤں کی جانب سے اس ادارے کا استحصال کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ لیکن ابراج کی سامراجانہ اور پاکستانی شہریوں کو غلام تصور کرکے پاکستان کے مقتدر اشخاص اور ادارہ سے وسیع تعلقات کا جھال بچھا اور محنت کشوں کو استحصال کا نشانہ بنایا۔ ہزاروں محنت کشوں کو جبری برطرف، چھانٹی، نام نہاد علیحدگی اسکیم اور بے سروپا الزامات لگا کر یکطرفہ تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنا کر بے روزگاری کی دلدل میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد ابراج سے فیض یافتہ افراد کو نام نہاد ٹھیکیداروں کی بھرمار کردی گئی اور غریب اور نہتے شہریوں کو ٹھیکیداری پر روزگار کے نام سے منظم و مربوط غلامانہ بندوبست کردیا گیا جس کا تدارک آج تک نہ ہوسکا اور کراچی شہر میں یہ ٹھیکیدار من مانی کرکے کراچی کے شہریوں کو یرغمال بنا چکے ہیں کیوں کہ کے الیکٹرک ناجائز دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ناجائز آمدنی کے وسائل کو ناجائز ہتھکنڈوں کے استعمال پر کثیر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ابراج نے پہلے تو پاکستان کے قوانین کو چیلنج کیا، دوسری طرف عدالتی احکامات کو مسترد کردیا اسے اس کی آئینی پٹیشنوں کے مسترد ہونے کا ایک طرف کوئی اثر نہ ہوا اور دوسری طرف اس نے ادارے میں اجتماعی سوداکاری ایجنٹ CBA کی فعالیت مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ریفرنڈم پر دو آئینی پٹیشنوں کے ختم ہونے کے بعد ایک طرف عدالت عظمیٰ میں پٹیشن داخل کردی اور وہ ریفرنڈم جو اگست 2011ء سے التوا کا شکار تھا اسے آئینی پٹیشن ختم ہوجانے کے باوجود ریفرنڈم نہ ہونے دیا۔ مختلف حیلے بہانوں سے ریفرنڈم کی کارروائی رکی رہی لیکن دوبارہ آغاز ہوا تو انصاف ایمپلائز یونین کراچی الیکٹرک کی رجسٹریشن کی آڑ میں دوبارہ آئینی پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں داخل کی اور اسی روز یکطرفہ طور پر حکم امتناع حاصل کرلیا۔ جس نے ریفرنڈم کی کارروائی کو 2014ء سے رکوادیا۔ کمال تو یہ ہے کہ جن فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اس میں تو عدالت عظمیٰ نے حکم امتناع جاری نہیں کیا لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اپنی ہائی کورٹ کی لارجر بنچ کے آرڈر کے باوجود ریفرنڈم پر حکم امتناعی جاری کردیا اور پہلا حکم امتناع 2012ء اور دوسرا حکم امتناع 2014ء سے 15 جنوری 2018ء تک جاری رہا۔ اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اجتماعی معاہدے جو کہ ہر دو سال کے بعد عمل میں آتے ہیں وہ 2012ء سے 2018ء تک مفقود ہیں۔ اور آئندہ کا پتا نہیں کہ اب NIRC کیا رنگ دکھاتی ہے۔ اس پس منظر میں سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ جو جسٹس جناب سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس جناب عدنان الکریم میمن پر مشتمل تھی کے الیکٹرک لمیٹڈ کی آئینی پٹیشن 15 جنوری 2018 کو فیصلہ صادر کیا۔ جس کی رو سے طے ہوچکا ہے کہ کے الیکٹرک لمیٹڈ صرف صوبہ سندھ میں کاروبار کرنے والا ادارہ نہیں
ہے بلکہ صوبہ بلوچستان تک پھیلا ہوا ہے۔ جو صرف صوبائی نہیں بلکہ بین الصوبائی ادارہ ہے۔ یونین کی رکنیت کے تناسب سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ رجسٹرار ٹریڈ یونین کے تقرر میں نہ تو چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کی ضرورت ہے اور نہ ہی یونین کی رجسٹریشن غیر قانونی ہے بلکہ یونین کی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ قانون کے مطابق جاری کیا گیا ہے۔ لہٰذا انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012ء کے مطابق وقت مقرر پر ریفرنڈم ہونا ضروری ہے۔ آئینی پٹیشن میں ان نکات کی بنا پر مداخلت کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی پٹیشنز کا کوئی استحقاق ہے اور نہ ہی ریفرنڈم کو روکنے کی ضرورت ہے۔ آئینی پٹیشن ناقابل سماعت ہے لہٰذا مسترد کردی گئی۔ کے الیکٹرک کی پیروی محمود عبدالغنی ایڈووکیٹ اور انصاف ایمپلائز یونین کی جانب سے ایم اے کے عظمتی ایڈووکیٹ اور لیبر یونین کی طرف سے رشید اے رضوی، فرحت اللہ ایڈووکیٹ نے کی جب کہ وفاق کی طرف سے سلیمان طالب لیبر میں اٹارنی جنرل سلمان طالب الدینپیش ہوئے۔ جس کے بعد انصاف ایمپلائز یونین کے الیکٹرک نے رجسٹرار ٹریڈ یونین سے استدعا کی ہے کہ وہ ریفرنڈم کی کارروائی جہاں حکم امتناع کی بنیاد پر روکی گئی تھی وہاں سے دوبارہ مزید کارروائی کرکے ریفرنڈم کی کارروائی مکمل کرے تا کہ سی بی اے ادارے میں ورکروں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرواسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ