مزدوروں کے لیے جان دے سکتا ہوں‘ منیر خان تنولی

47

کیپٹن پی کیو کیمیکل ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری منیر خان تنولی 30 نومبر 2017ء کو کارخانے سے B ڈیوٹی ساڑھے گیارہ بجے شب کرکے گھر جارہے تھے کہ کیپٹن پی کیو کیمیکل کے قریب سے دو موٹر سائیکل سواروں نقاب پوشوں نے ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔ ایک ہنڈا 70 پر اور دوسرا ہنڈا 125 پر تھا۔ ان دونوں نے منیر خان کو سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا تھانے کے قریب روک کر پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ منیر نے پوچھا کہ آپ بتاؤ کام کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا آپ ارشد عباسی ہو یا منیر خان تنولی۔ جو بھی نام ہے آپ اچھا نہیں کررہے تمہارا انجام خراب ہوگا۔ منیر خان نے جواب دیا کہ وہ جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ مزدوروں کی خدمت کے لیے کررہے ہیں۔ آپ کو جو کرنا ہے کرلو۔ مرنا سب کو ہے لیکن وہ حق کی خاطر جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد نقاب پوش دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔ اس موقع پر کیپٹن پی کیو کیمیکل ایمپلائز یونین کے اجلاس میں منیر خان تنولی نے کہا کہ مذکورہ دھمکیوں کے پیچھے کیپٹن پی کیو کیمیکل کی انتظامیہ کا ہاتھ ہے۔ اگر وہ قتل یا زخمی کردیے گئے تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ جس پر یونین عہدیداروں نے منیر خان کو مزدور جدوجہد میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر منیر خان تنولی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارخانے کی انتظامیہ آگ سے نہ کھیلے اگر ان کو مار دیا گیا تو حق کی خاطر جدوجہد اور تیزی سے چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ شیرکی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور حقوق کی جدوجہد کرنا حق کا راستہ ہے۔ انہوں نے کارخانے کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ منفی رویہ چھوڑ کر پرامن صنعتی تعلقات کو پروان چڑھائے۔ (اس سلسلے میں اگر انتظامیہ اپنا موقف پیش کرے تو اسے بھی شائع کیا جائے گا)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ