سیرت مصطفی ؐ اسوۂ کامل

56

نبئ رحمتؐ کی زندگی کا ہر لمحہ رحمت وہدایت ہے۔ آپؐ پر ہر طرح کے حالات آئے۔ اللہ تعالیٰ نے خوشیاں بھی دیں اور غم والم سے بھی آزمایا۔ جنگ کے میدانوں سے بھی آپؐ گزرے اور امن کے ایام بھی نصیب ہوئے۔ دوستوں سے بھی معاملات کیے اور دشمنوں سے بھی! ہر جگہ آپ اخلاق وکردار اور رہنمائی وقیادت کی بلند ترین چوٹی پر ہی نظر آتے ہیں۔ ایسی جامعیت آپؐ کے علاوہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ جو واقعہ بھی نظر سے گزرتا ہے دامن دل کو کھینچ لیتا ہے۔
جنگ بدر کفر اور اسلام کے درمیان پہلا اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ جنگ بدر کے دن نبی اکرمؐ نے صحابہ سے خطاب فرمایا۔ نہایت ہی پراثر، جامع مختصر اور دل نشین! جنت کی وسعتوں کا تذکرہ اور اس کی غیرفانی نعمتوں کا بیان۔ صف بندی بھی کی اور جنگ کے دوران حکمتِ عملی اختیار کرنے کے لیے ہدایات بھی دیں۔ صف بندی کا طریقہ پہلی مرتبہ نبی پاکؐ ہی نے دنیا کی حربی تاریخ میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد سے آج تک یہ مختلف انداز میں رائج چلا آرہا ہے۔
صف بندی کے بعد آپؐ نے صفوں کا معاینہ کیا۔ آپؐ کے ہاتھ میں لکڑی کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ نے دیکھا کہ سواد بن غزیہؓ صف سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ آپؐ نے انھیں صف میں سیدھے کھڑے ہونے کا حکم دیا اور لکڑی سے ان کے پیٹ پر ٹھونکا بھی لگایا۔ سواد بن غزیہؓ نے کہا: ’’یارسول اللہ! خدا تعالیٰ نے آپ کو حق وعدل کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ مجھے آپؐ اس کا بدلہ (قصاص) دیں۔‘‘ نبی اکرمؐ نے وہ لکڑی سواد کی طرف بڑھائی اور فرمایا: ’’یہ لو اور لے لو بدلہ۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: ’’میرا تو پیٹ ننگا تھا، آپ کے پیٹ پر کرتہ ہے۔‘‘ اس پر رسالت مآبؐ نے کرتہ مبارک بطن سے اٹھایا۔ سواد آگے بڑھے، لکڑی ایک جانب پھینکی اور نبی اکرمؐ کے بطن مبارک کو بوسہ دیا اور پھر آپؐ سے لپٹ گئے۔
نبی پاکؐ نے پوچھا: ’’اے سواد! تم نے یہ کیا کیا ہے؟‘‘ انھوں نے جواب میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ! جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کوچ کا وقت آیا چاہتا ہے۔ میں نے چاہا کہ جانے سے پہلے آخری عمل آپ کو بوسہ دینا اور آخری لمس جسدِ اطہر سے چھونا نصیب ہوجائے۔ سو میں نے یہ تمنا پوری کرلی۔‘‘ نبی اکرمؐ نے ان کے اس جذبۂ صادق اور خلوصِ عمل کو دیکھ کر ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔ (اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابہ)
آپؐ کے جس خطاب کا ہم نے تذکرہ کیا ہے وہ حدیث کی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ سیدابوالحسن علی ندویؒ نے اپنی عربی تالیف السیرۃ النبویہ کے صفحہ 190-191 پر یہ خطاب زادالمعاد اور سیرت ابن کثیر کے حوالے سے لکھا ہے۔ ہم نے بھی اپنی کتاب رسول رحمتؐ تلواروں کے سائے میں جلد اول میں عمیر بن حمامؓ کی شہادت کے حوالے سے اس کے کچھ حصے نقل کیے ہیں جن کے مطابق آپؐ نے ایک موثر خطاب فرمایا اور کہا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے، آج تم میں سے جو شخص بھی استقامت اور پامردی کے ساتھ رضائے الٰہی کی نیت سے اور آگے بڑھ کر دشمن سے لڑے گا اور پیٹھ نہیں پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے جنت میں داخل فرمادے گا۔‘‘ (البدایۃ والنھایۃ)
جب آپؐ نے دشمن کا حملہ روکنے اور حق کا دفاع کرنے کے لیے صحابہؓ کو آگے بڑھنے کا حکم دیا تو وہ ان تاریخی الفاظ میں تھا: ’’اٹھو اور اس جنت کی جانب پیش قدمی کرو جس کی وسعتیں زمین وآسمان کو محیط ہیں۔‘‘ جس لمحے آپؐ نے یہ حکم دیا اس وقت عمیر بن حمامؓ کی مٹھی میں چند کھجوریں تھیں۔ انھوں نے نبی اکرمؐ سے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ایسی جنت جس کی وسعتیں زمین وآسمان جیسی فراخ ووسیع ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں بالکل۔‘‘ عمیر بن حمامؓ یہ سن کر ’’واہ واہ‘‘ کہنے لگے۔ آپؐ نے پوچھا: ’’تم کس بات پر واہ واہ کررہے ہو؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: اس امید پر کہ شاید میں بھی اس جنت کا مستحق بن جاؤں۔ اس پر رسالت مآب نے ارشاد فرمایا: بے شک تم اہلِ جنت میں سے ہو۔
نبی اکرمؐ کی زبان اقدس سے اس بشارت کا سننا تھا کہ سیدنا عمیرؓ کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ ہاتھ کی کھجوریں پھینکتے ہوئے کہا: ’’پھر ان کھجوروں کے کھانے کا انتظار بھی عبث ہے۔ اب تو جنت ہی میں جاکر کھجوریں کھاؤں گا۔‘‘ دشمن سے مردانہ وار لڑے اور جامِ شہادت نوش کرکے داخلِ جنت ہوگئے۔
سیدنا عمیرؓ کی شہادت کے بعد نبی پاکؐ نے صحابہ سے کہا کہ عمیرؓ نے اپنا عہد نبھا دیا، اللہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اس کی خدمت میں جنت کی کھجوروں کے تازہ خوشے پیش کردیے گئے ہیں اور وہ ان میں سے چن چن کر کھارہا ہے۔ (اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابہ)
آپؐ نے جنگی حکمت عملی کے لیے جو ہدایات دی تھیں ان میں اہم باتیں یہ تھیں کہ نظم وضبط اور جرأت کا مظاہرہ کیا جائے۔ جنت کا حصول پیش نظر اور رضائے الٰہی مقصود ہو۔ تیر اس وقت چلایا جائے جب دشمن اس کی مار میں ہو۔ کوئی ایک تیر بھی اس طرح نہ چلایا جائے کہ وہ ضائع ہوجائے۔ دشمن کے قریب آنے کے وقت نیزے کا استعمال کرنا اور پھر جب دشمن بالکل رُودر رُو آجائے تو تلوار سے کام لینا اور جان رکھنا کہ جو بندہ گھمسان میں صبروہمت اور ثابت قدمی واستقامت دکھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا کردیتا ہے اور غم سے نجات عطا فرماتا ہے۔
اسلحے اور تعداد کی کمی کے پیش نظر نبی اکرمؐ کی یہ ہدایات نہایت مفید، جامع اور بہترین حکمت عملی کا حسین مرقع ہیں۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ نبی اکرمؐ نے اپنے عریش کو بطور آپریشن روم یا کمان پوسٹ کے استعمال کیا، مگر مستشرقین کا یہ خیال کہ آپؐ عملاً میدان جنگ سے مجتنب رہے، درست نہیں ہے۔ آپؐ دشمن سے لڑائی کے وقت میدانِ جنگ میں موجود تھے۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی معروف تاریخ البدایۃ والنہایۃ میں سیدنا علی بن ابی طالبؓ کا قول نقل کیا ہے: ’’یوم بدر میں ہم نے دیکھا کہ سخت لڑائی کے وقت آپؐ ہم میں سے سب سے آگے تھے اور دشمن پر حملہ کررہے تھے۔ ہم جب بھی اپنے آپ کو مشکل میں پاتے آپ کے سائے میں پناہ لیتے تھے۔‘‘ یہ تھا نبئ رحمتؐ کا کمالِ شجاعت اور عظمت کردار!

Print Friendly, PDF & Email
حصہ