قومی اسمبلی‘ نااہل نواز کی پارٹی سربراہی کیخلاف بل مسترد

128

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) قومی اسمبلی میں نااہل شخص کی پارٹی سربراہی پرپابندی کے لیے پیش کردہ پیپلز پارٹی کے بل کو حکمران اتحاد نے اکثریتی بنیاد پر مسترد کر دیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے یہ بل پیش کیا جس کا متن تھا کہ نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہا کہ فرد واحد کے لیے قانون سازی سے نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ،چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ شاید یہ یا اس کے بعد ہونے والا اجلاس اس اسمبلی کا آخری اجلاس ہو۔ اگر یہ بل آج یہاں سے مسترد ہوتا ہے تو مشترکہ اجلاس میں جائے گا،وہاں پر بھی حکومت کو اپنی عددی برتری ثابت کرنا ہوگی۔وزیرقانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دراصل بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے 2000 ء میں پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس جاری کیا۔بعد ازاں اسپیکر ایاز صادق نے بل کی حمایت اور حمایت کرنے والے اراکین کو کھڑا کرکے گنتی کرائی ۔ رائے شماری کے مطابق 98 ووٹ بل کے حق میں آئے اور 163 اراکین نے اس بل کی مخالفت کی۔ سابق وزیراعظم میرظفر اللہ جمالی نے حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود اپوزیشن کا ساتھ دیا اور حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔اس اہم اجلاس کے دوران ن لیگ کے 22اراکین غیر حاضر رہے۔ دوران اجلاس حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان لفظی جنگ ہوئی ۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے زاہد حامد پر ترس آ رہا ہے کہ پرویز مشرف کا دفاع کرنے والا آج نواز شریف کا دفاع کررہا ہے۔ تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے وزیر ریلوے سعد رفیق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بل سینیٹ سے آیا ہے اور اسے اپوزیشن نے پیش کیا ہے لیکن وزیر موصوف ماحول خراب کررہے ہیں۔ قانون میں شرط تھی کہ نا اہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا، آئین میں نا اہل قرار دیے گئے شخص پر یہ قدغن لگانے کی پس پردہ منطق تھی لیکن آپ پر طاقت کا گھمنڈ غالب ہے اور آپ سوچنا نہیں چاہتے۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بل کی مخالفت میں کہا کہ لوگ اونچا بول کر تاریخ کو بدل نہیں سکتے۔ جو وقت آج مسلم لیگ (ن) پر آیا ہے پیپلز پارٹی پہلے اس کا شکار ہو چکی ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت کا فیصلہ سیاسی جماعت کا کارکن کرے گا،ملک میں جمہوریت کی جنگ لڑی جارہی ہے،یہ جنگ ہم نے ہی نہیں پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی لڑی۔ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تجاوزات کھڑی کی گئیں لیکن ہم چند لوگوں کا فیصلہ نہیں مانیں گے اور انہیں 21 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کا حق نہیں دیں گے۔آزاد رکن جمشید دستی نے بولنے کی کوشش کی جس پر اسپیکر نے ان پر برہمی کا اظہار کیا اور بیٹھنے کی تاکید کی۔بعدا زاں اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

حصہ