پروفائل پر گہری نظر‘ صارفین کی گفتگو پر کان نہیں دھرتے‘ فیس بک

101

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے حکام نے مختلف آلات کے مائیکروفونز کے ذریعے صارفین کی گفتگو سننے اور اس کی بنیاد پر انہیں متعلقہ اشتہارات بھیجنے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ فیس بک کے شعبہ اشتہارات کے نائب صدر، روب گولڈ مین نے یہ بات ٹیکنالوجی پوڈ کاسٹ کے ایک میزبان کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے کہی ہے۔
حیران کن طور پر کئی لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے فیس بک پر ایسے اشتہارات دیکھے ہیں جو ان کی حال ہی میں کی جانے والی گفتگو سے متعلق تھے۔ ٹیکنالوجی پوڈ کاسٹ کے میزبان پی جے ووگٹ نے ان مخصوص اوقات کی تفصیل پوچھی۔ جس کے جواب میں گولڈمین نے لکھا ’میں فیس بک پر اشتہار چلاتا ہوں۔ ہم نے کبھی بھی اشتہار کے لیے مائیکروفون کا استعمال نہیں کیا۔ یہ سچ نہیں ہے۔
جب ایک اور ٹوئٹر صارف نے ان سے پوچھا کہ کیا اس میں انسٹا گرام بھی شامل ہے، جس کی مالک کمپنی بھی فیس بک ہے تو گولڈمین کا جواب اثبات میں تھا۔ پی جے ووگٹ کی ابتدائی ٹوئٹ پر سیکڑوں جوابات موصول ہوئے۔
ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ یہ میرے ساتھ رواں سال کے دوران ہی ہوا جب میں کام کر رہا تھا۔ کافی بنانے والے کے طور پر کام کرتے ہوئے میں جل گیا اور میں نے اپنے ساتھی سے اس بارے میں بات کی۔ ٹارگٹ نامی دکان گیا، وہاں سے کریم خریدی اور فیس بک پر اسی کریم کا اشتہار دیکھا جو میں نے خریدی تھی۔
2016ء میں فیس بک کی ویب سائٹ پر دیے گئے ایک بیان میں ادارے نے مائیکرو فون کے ذریعے گفتگو سننے کے بارے میں انکار کیا تھا۔ فیس بک کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کی دلچسپی اور ان کی پروفائل میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر اشتہار لگاتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر نہیں جس کے بارے میں آپ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ اشتہارات سے کسی فرد کا تعلق بن جانا اتفاقی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اشتہار پہلے بھی سامنے آیا ہو لیکن اس وجہ سے اس کا نوٹس نہ لیا گیا ہو کہ وہ موقع کی مناسبت سے نہیں ہو۔

حصہ