سمیہ بنت عبدالرحمان

1 بلاگ 0 تبصرے

یوم آزادی، جذبوں کا لازوال دن 

پاکستان14 اگست 1947کو جناب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح،ڈاکٹر علامہ محمد اقبال،جناب لیاقت علی خان،سر سید احمد خان، دیگر حریت راہنماں،محب وطن،اور محب...

اہم بلاگز

امیر معذرت قبول کیجیے

میں اپنے حواسوں کو مجتمع کرنے میں ناکام ہوں۔ الفاظ تو ہوتے ہی اہم ہیں، مگر اس وقت یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آنسو اہم ہوتے ہیں یا الفاظ؟ شرمندگی کے آنسو پیہم بہے چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے۔ چھوٹی چھوٹی تکالیف ہماری حوصلہ شکنی کرتی رہی ہیں۔ ہم جو خود کو بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں۔ بات بات پر صلہ مانگتے ہیں۔ دیتے کچھ نہیں ہیں۔ ہم تو اپنی زبان ڈھنگ سے نہیں بول سکتے۔ ہم تو گھریلو معاملات نہیں سلجھا سکتے۔ ہم تو اندرونی مسائل کو ہی تفصیل سے نہیں جانتے۔ ہم اپنی ذات کے بھنور میں گم لوگ۔ آج جس شخص کو رو رہے ہیں۔ کیا اسے رونے کا حق رکھتے ہیں؟ وہ جو خدمت کا پیکر تھا۔ ہم میں نہیں رہا۔ تو کیا ہم میں اس کا کوئ گن آیا۔ جس کو اتنی ساری زبانوں پر عبور حاصل کہ ہم اس کے سامنے گونگے کہلائیں،مگر عاجزی کا منبع،خیر کا منبع وہ شخص۔ اور ہم ذرا ذرا سی خاصیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے۔ خود کو بڑا سمجھنے والے۔ کیسے اس مقام پر پہنچیں گے کہ جب بین الاقوامی امور خارجہ طے کر سکیں؟ نہیں نہیں ہم کہاں وہ کہاں؟ یہ کام اکڑفوں ،بلند بانگ دعوے کرنے والے لوگ نہیں کر سکتے۔ یہ کام تو ایسے ہی لوگ کر سکتے ہیں جو تسلیم و رضا کے پیکر ہوں۔ جو میدان جہاد میں چنے گئے ہوں۔ فرد تو وسیلہ ہوتا ہے ورنہ ایسے بندے تو خدا کے برگزیدہ ہیں۔ جو ثمردار ہیں،جن کے پھل رہتی دنیا تک لوگ کھایا کریں گے۔ ہم بے ثمر کہاں اس لائق؟ وہ جن کی بات لکھتے ہوئے انگلیاں جل اٹھی ہیں۔ وہ جن کا نام پکارتے ہوئے دہن کانپ اٹھا۔ وہ جن کو روتے ہوئے آنسو بھی پشیمان ہیں۔ کہ ہم حقیر سا ذرہ ہیں ،وہ کوہ کوہسار ہیں۔ ہم بوند ہیں وہ سمندر ہیں،ایسا ساکت سمندر جس کے اندر بہت سے خیر کے طوفان موجزن ہیں،دنیا کو بدلنے کی لگن،دنیا کو کچھ دے جانے کی لگن۔ ہمارے اندر کیا ہے؟بس پانے کی اور سب اکیلے کھا جانے کی لگن؟ وہ جو بولیں تو لفظ فولاد کی طرح دشمن کے سینے پر جا لگیں۔ وہ جو بولیں تو اپنوں کے قلب پر شبنم گرنے لگے۔ وہ جو بولیں تو محاذ بدل دیں۔ وہ جو بولیں تو رائے عامہ ہموار کردیں۔ وہ جو بولیں تو پھول جھڑتے ہیں۔ وہ جو بولیں تو لفظ ہنستے ہیں۔ وہ جو بولیں تو فیصلے طے پاتے ہیں۔ وہ خاموش ہوجائیں تو وقت کی رفتار تھم جاتی ہے،فیصلے اٹک جاتے ہیں۔ وہ جن کی آنکھوں نے امید کے چراغ جلائے۔ بے بس مجبور اور کمزور کی امید بن کر آنے والی حسین دنیا کا نقشہ دکھایا۔انشاء اللہ الفاظ موتیوں کی طرح تسبیح میں پروتے ہوئے جو رب کے حضور ایسے جا ملیں کہ کشاں کشاں،سبک سبک قدموں سے، مطمئن،نہ خوف،نہ رنج نہ آزردگی۔ سوشل میڈیا،الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا سب ہی آپ کی عظمت کے گن گا رہے ہیں۔ آپ کے متعلق اپنی یادداشتیں سناتے ہوئے لوگ جیسے گواہی دے رہے ہوں کہ آپ جنت کے مکیں ہیں۔ فرشتے آپ کا استقبال کریں گے۔ اب آپ حسین جنتوں کے وارثین میں شامل ہوجائیں گے۔ آپ کے نام کا پہلا حصہ بندگی ہے،آپ کے نام کا دوسرا حصہ بڑا بخشنے والا ہے،آپ بخشنے والے کے بندے بن کر بخشش کی صفات...

تفہیم متن وعبارت کے سات موثر طریقے

متن کی تفہیمی حکمت عملیاں (Comprehension Strategies)بلاشبہ شعوری منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔یہ چند ایسے ہدایات واقدامات پر مبنی ہوتی ہیں جن سے قارئین نہ صرف اپنے مطالعہ پر قابو پاسکتے  ہیں بلکہمتن میں پوشیدہ رمز و کنائیوں سے آگاہ ہوکر بامراد اخذ فہم کے لائق  ہوجاتیہیں۔ذیل میںبیان کردہ متن کی  سات تفہیمی حکمت عملیاں طلبہ میں بامقصد،فعال اور منظم مطالعے کو پروان چڑھانے میں مددگارثابت ہوئی ہیں۔ 1۔فہم متن کی نگرانی(Monitoring Comprehension) فہم متن کی نگرانی سے مراد ، دوران مطالعہ ایسے نکات پر توجہ مرکو ز کرنا ہوتا ہے جس کے لئے سبق یا متن کا مطالعہ کیا جارہا ہو۔فہم کی نگرانی سے لیس طلبہ دوران مطالعہ ادراک فہم، اخذ فہم اور اکتساب کے پہلوئوں سے  شعوری طور پر واقف ہوتے ہیں۔مواد،مضمون و متن کے مطالعے سے قبل ہی وہ مواد و متن کے اکتسابی ماحصل (Learning Outcomes) معلوم کرلیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اخذواکتساب ا ور فہم میں حائل مسائل و مشکلات کے ازالے میں معاون حکمت عملیوں اور ان کے مناسب استعمال سے بھی آگاہی حاصل کر لیتے ہیں۔ماہرین تعلیم و نفسیات کے مطابق ابتدائی درجات سے فہم کی نگرانی میں معاون ہدایات پر عمل آوری سے طلبہ میں فعال،باقابو( کنڑولڈ) فہم اور اخذ واکتساب کو پروان چڑھا نا ممکن ہے۔ فہم کی نگرانی میں معاون ہدایات پر عمل پیرا ئی سے طلبہ متن کے قابل فہم نکات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ متن کے ناقابل فہم نکات سے شناسائی ہوجاتی ہے۔ افہام و تفہیم میں حائل مشکلات اور اس کے سدباب میں معاون حکمت عملیوں کے کارگر استعمال سے بھی واقف ہوجاتے ہیں۔ 2۔مابعد ادراک (میٹا کاگنیشن)Metacognition مابعد ادراک (میٹا کاگنیشنMetacognition) سے مراد فکر کی فکر گیری(Thinking about thinking)ہے۔اچھے قارئین اپنے مطالعہ پر غور وفکر اور کنٹرول کے لئے مابعد ادراک (میٹاگنیشن Metacognition) کی حکمت عملیوں کو برؤے کار لاتے ہیں۔مطالعہ متن سے قبل نہ صرف وہ مطالعے کے مقاصد سے واقف ہوتے ہیں بلکہ مواد کا عمدگی سے پیشگی جائز ہ بھی لیتے ہیں ۔دوران مطالعہ اپنے فہم کی نگرانی کے علاوہ متن و عبارت کے تفہیمی اشکالات کے تعین و ازالے کی خاطر مطالعے کی مناسب رفتار کی ترتیب و تعین سے کا م لیتے ہیں۔میٹاکاگنیشن سے متصف قارئین مابعد مطالعہ پڑھے گئے مواد کی تفہیم کی جانچ و پڑتال کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔طلبہ فہم کی نگرانی کے لئے متعد د حکمت عملیوں کو استعمال کرسکتے ہیں۔ (a)مطالعہ متن میں جہاں جہاں مشکلات پیش آرہی ہو ںان مقامات کی نشاندہی کرلیں۔ مثلا ’’مجھے صفحہ نمر 88کا دوسرا پیراگراف سمجھ میں نہیں آیا‘‘ (b)دوران مطالعہ آپ کو کیا مشکل پیش آرہی ہے اس کی بھی نشاندہی کرلیں۔ جیسے مجھے مصنف کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ  ’’یورپ پہنچنا میری دادی کی زندگی کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔‘‘ (c) متن کے مشکل حصوں(پیراگراف)،مشکل جملوں اور الفاظ کو اپنے آسان الفاظ و جملوں میں تحریر کرلیں۔ جیسے’’اوہ، اچھا مصنف کے کہنے کا مطلب ہے کہ یورپ آنا ان کی دادی کی زندگی کا ایک بہت اہم واقعہ تھا۔‘‘ (d)بہتر تفہیم کے لئے متن کے پچھلے حصہ پر نگاہ ڈالنا "مصنف نے دوسرے  باب میں معظم سلطان کے بارے میں بات کی تھی ،...

بیٹی ثنا توبہ مبارک ہو

بالی ووڈ اداکارہ اور بگ باس 6 فیم ثناء خان کا فلم انڈسٹری کو خیر باد کہنے کا اعلان ہم جیسے بہت سے لوگوں کے لیے اطمینان اور خوشی کا باعث ہوا ہے _ عزّت ، شہرت ، دولت اور انڈسٹری کی چکاچوند آدمی کو کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی _ ایسے میں اگر کوئی گلیمر کی دنیا کو الوداع کہہ کر آئندہ تقویٰ ، پاکیزگی اور پرہیزگاری کی زندگی گزارنے کا اعلان کرے تو اس کی عزیمت کو سلام کرنے کا جی چاہتا ہے۔ ثنا خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اردو ، ہندی اور انگریزی میں ایک لمبا نوٹ تحریر کیا ہے ، جس میں اس نے اپنے پاکیزہ جذبات کا اظہار کیا ہے _ اس نے لکھا ہے : ” کیا انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اسے کسی بھی وقت موت آ سکتی ہے ؟ اور مرنے کے بعد اس کا کیا بننے والا ہے؟ اس سوال کا جواب میں نے اپنے مذہب میں تلاش کیا تو مجھے پتا چلا کہ کہ دنیا کی یہ زندگی اصل میں مرنے کے بعد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہے اور وہ اسی صورت میں بہتر ہوگی جب بندہ اپنے پیدا کرنے والے کے حکم کے مطابق زندگی گزارے اور صرف دولت و شہرت کو اپنا مقصد نہ بنائے ، بلکہ گناہ کی زندگی سے بچ کر انسانیت کی خدمت کرے اور اپنے پیدا کرنے والے کے بتائے ہوئے طریقے پر چلے _ اس لیے میں آج یہ اعلان کرتی ہوں کہ آج سے میں اپنے شوبز (فلم انڈسٹری) کی زندگی چھوڑ کر انسانیت کی خدمت اور اپنے پیدا کرنے والے کے حکم پر چلنے کا پکّا ارادہ کرتی ہوں ۔” اس نے مزید لکھا ہے : ” تمام بہنوں ، بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ میرے لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری توبہ قبول فرمائے اور مجھے اپنے خالق کے احکام اور انسانیت کی خدمت میں گذارنے کے اپنے عزم کے مطابق زندگی گزارنے کی حقیقی صلاحیت عطا فرمائے اور مجھے استقامت عطا کرے ۔ “ آخر میں اس نے لکھا ہے : ” تمام بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ شوبز کے کسی بھی کام کے سلسلے میں مجھ سے مشورہ نہ کریں ۔” صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے _ توبہ کا دروازہ زندگی کی آخری سانس تک کھلا رہتا ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جاں کنی کے عالم میں غرغرہ نہ لگ جائے _” (ترمذی:3537، ابن ماجہ :2253 ) انسان خطاؤں کا پُتلا ہے _ زندگی میں چھوٹی بڑی خطائیں ، لغزشیں ، غلطیاں اور گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ، لیکن توبہ ان سب پر خطِ نسخ پھیر دیتی ہے اور انہیں مٹادیتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو _“ (ابن ماجہ :4250)...

علم سے اخلاق سے اور ہمت سے اپنی منزل حاصل کریں

ملک کا غدّار ہے امریکہ کا جو یار ہے، ہائے ہائے امریکہ، بائے بائے امریکہ.  اور اس جیسے کتنے ہی نعرے سن کر میں جوان ہوا۔ افغانستان جنگ کے بعد تو گویا آگ ہی لگ گئی، امریکہ کی ہر چیز سے دشمنی، نام سے، جھنڈے سے، اعمال سے، تقریروں سے۔ اگر بس چلے توشاید حروفِ تحجّی سے وہ حروف ہی نکال دیں جن سے امریکہ بنتا ہو۔ ملک عزیز میں ہونے والی ہر بری چیز کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کی سازش ۔ حبُّ الوطنی کا ثبوت پیش کرنا ہو تو امریکہ اور امریکیوں کو گالی دے دیں، گویا آسمان سے گواہی آ گئی کہ آپ اور آپ کی لال ٹوپی حبُّ الوطنی کی واحد ضامن ہیں۔   ڈاکٹر عافیہ صدیقی ، ریمنڈ ڈیوِس اور تابوت میں آخری کیل ملالہ یوسف زئی، امریکہ کا نام لینا بھی گالی بن گیا اور کسی نے اگر امریکہ وزٹ بھی کر لیا تو گویا شرابی، زانی اور ملحد و کافر تو ہوا ہی، ساتھ میں سی آئی اے کا ایجنٹ بھی ہو گیا۔ اب آسمان سے وحی آئے تو خلاصی ہو ورنہ جس نے جہاں جو کہہ دیا وہ مرتے دم تک آپ کے نصیب پر کالک ملتا رہے گا۔   ’’اِخلاق باختگی اور فحاشی کے گہوارے‘‘ میں جب میں پڑھنے آیا تو بلا مبالغہ سینکڑوں ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں جن کے بارے میں ہمارے ملک میں جھوٹ کہا جاتا ہے، اخلاق اور ان کو قانونی شکل دے دینا، انسانیّت اور عزّتِ نفس کی رکھوالی صرف انہی دو کی مثال لے لیں تو امریکہ دنیا بھر میں ممتاز ٹھہرے۔ میں اس بات سے بحث نہیں کر رہا کہ کون صحیح ، کون غلط۔ کس نے کب کب کیا کیا؟ اور کس نے پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔   میں تو صرف اپنے گریبان میں جھانکنے کا کہتا ہوں۔ دنیا میں دو اصول ہمیشہ سے کاربند دیکھے ’’منزل علم و ہمّت کی محتاج ہے‘‘ اور ’’ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ ۔   آج امریکہ بلاِ شرکت غیرے سائنس اور فنونِ لطیفہ میں سرِ فہرست ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیاں دنیا بھر کے اہلِ علم کی پیاس بجھاتی ہیں۔ یہاں کے سائنسدانوں کی ایجادات پوری دنیا کو نفع دیتی ہیں۔ خواہ وہ کوئی نئی ویسکسین ہو یا خلائی سیّارہ ، زراعت ہو یا ڈی این اے کا نقشہ اور انگریزی زبان علم و ثقافت میں اوّل نمبر پر آتی ہے۔ تو آخر ایسا کیوں کر ممکن ہو کہ ہم امریکہ اور انگریزی کا بائیکاٹ کر دیں اور دنیا میں آگے بڑھ سکیں؟   تنقید کا حق ضرور رکھیئے ، برائیوں پر بات بھی کریں مگر جو اچھائیاں ہیں ، جو تعریف کا حق ہے ، جو شکر و احسان کی سنَد ہے اُسے بھی تو قبول کریں۔ مگر ہمیں تاریخ کے دسترخوان پہ حرا م خوری سے فرصت ملے تو عملی اورعلمی دنیا میں کچھ کریں نا   بھائی، دنیا اسباب سے چلتی ہے، حضرت مریم ؑ کو کجھوروں کے لئے درخت ہلانا پڑا تھا، حضرت مسیح ؑ دمشق میں مسجد کے بارہ فٹ اونچے مینار سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اتریں گے اور اگر کل سائبروار چھڑ گئی تو اذانیں دینے سے انٹرنیٹ پروٹوکول...

جماعت اسلامی کا اپوزیشن سے الگ رہنے کا فیصلہ درست یا غلط؟

اپنے ہوں یا غیر، بہت سے لوگ، جماعت اسلامی کے موجودہ حکومت مخالف اکٹھ سے دوری کو غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ اپنوں کے نزدیک یہ ایک سیاسی غلطی ہے جس سے جماعت مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گی، جب کہ غیروں کے نزدیک ، ایسا،کسی کے" اشارے" پر کیا گیا ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا زاویہءِ نگاہ ہے لہٰذا اسے وہی کچھ نظر آتا ہے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ جب کہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہوتی ہے، وہ کسی کے زاویہءِ نگاہ اور مخصوص سوچ کی محتاج نہیں ہوتی۔ میری ناقص رائے میں، جماعت بہت عرصے بعد ٹریک پر آ رہی ہے اور اس کے متعدد فیصلے درست سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں سوائے اس کے کہ ابھی تین چار ہفتے قبل امیر جماعت نے دیگر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر آرمی چیف سے، ان کی دعوت پر ملاقات کی جو کہ گلگت بلتستان کے حوالہ سے بتائی گئی تھی ۔ میری ناقص رائے میں، سراج الحق صاحب کو اس ملاقات سے صاف طور پر انکار کر دینا چاہیے تھا اور واضح اور دو ٹوک جواب دینا چاہیے تھا کہ ایسے سیاسی فیصلے، آئین کی رو سے عوام کے منتخب نمائندے، ایوان میں بحث و مباحثہ کے بعد کرنے کے مجاز ہیں نہ کہ ملکی افواج۔ ہماری قومی سیاسی تاریخ کا لب لباب چند الفاظ میں یہ ہے کہ 73 برسوں میں سے جنرل ایوب کے گیارہ برس، جنرل یحیٰ کے دو برس، جنرل ضیاءالحق کے دس برس، جنرل پرویز مشرف کے نو برس، جو کہ کل ملا کر 32 برس بنتے ہیں، اگر نکال دیے جائیں تو باقی کے 32 برسوں میں جو حکومتیں آئیں، جو بظاہر جمہوری تھیں مگر اصل میں وہ بھی مانگے تانگے کی ہی تھیں جو، شرائط کے ساتھ ملکی و بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پروجود میں آئی تھیں ۔ یہی حقیقت،کپتان کی موجودہ حکومت کی بھی ہے جس میں ایک وزیراعظم تک کی لائیور تقریر سینسر ہو جاتی ہے مگر اتنی بڑی خبر، خبر تک نہیں بنتی کہ "خبر" بھی چھلنیوں سے ہو کر گزرتی ہے۔ نواز شریف کی سیاسی ولادت میرے سامنے ہوئی ہے، بلکہ یوں کہیے کہ جماعت اسلامی جب اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ تھی تو میں نے خود نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کے لیے پوسٹر بھی لگائے ہیں تو کنوینسنگ بھی کی ہے۔ اللہ میری اس غلطی کو معاف فرمائے۔ نوازشریف نے وزیراعظم بننے کے بعد سب سے پہلا دھوکہ یہ دیا کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت کو، نون لیگ کی حکومت بنا لیا اور اپنے اتحادیوں سے جان چھڑا لی۔ ان کے امیرالمؤمنین بننے کے بعد کے بھرم اور ضیاءالحق مرحوم کی تقلید میں ہفتہ وار جذباتی خطابات سن سن کر جوانی گزاری ہے۔ ان کی تمام وعدہ خلافیاں، حلیفوں سےباربار کی دغابازیاں، قوم اور امت مسلمہ کو دیے گئے دھوکے اور طوطا چشمی ۔۔۔۔۔ سب میری آنکھوں کے سامنے کی باتیں ہیں۔۔۔اور جس طرح آرس نے ارطغل ڈرامے میں سلطان کے دربار میں سعادتین کوپیک کو کہا تھا کہ: " میں نے اپنی پوری زندگی میں تم جیسا دھوکہ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ہم ہیں پاکستانی

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو دیوار پر ہی لکھ دیتے ہیں کہ دیوار پر لکھنا منع ہے پاکستان بڑا ہی دلچسپ ملک ہے بلکہ اتنا تو پاکستان دلچسپ نہیں جتنا اس کی عوام اور عوام بھی وہ جنہوں نے رائی کا پہاڑ بنانے میں ایم-ایس-سی، بے جا خوف پھیلانے میں ایم-فل، اور ہوائی خبریں اڑانے میں پی-ایچ-ڈی کر رکھی ہے۔ یہ کچھ پچھلے دنوں کی ہی بات ہے کہ اپنی گلی میں سے گزر ہوا تو محلے کی ایک آنٹی عمر تقریباً پچاس کے لگ بھگ میرے پاس آئیں دوپٹہ ایک طرف سے کان کے پیچھے اڑس رکھا تھا پہلے ایک نظر دائیں جانب کی گلی میں ڈالی پھر دوسری نظر بائیں جانب کی گلی میں ڈالی اور انداز ایسا تھا کہ جیسے انڈرورلڈ ڈون کے بارے میں معلومات دینے آئی ہوں، نہایت رازداری سے میرے قریب ہوئیں ''بیٹا میں نے جو سنا ہے کہ تیل گروپ آیا ہوا ہے کیا یہ بات سچ ہے'' اب ادھر اپنا تو یہ حال تھا کہ یوں سمجھا کوئی گروپ آیا ہوا ہے جو تیل بیچتا پھرتا ہے یا پھر شاید کوئی غربیوں کا گروپ آیا ہے پاکستان میں تیل کا کارخانہ لگانے  پھر خیال آیا کہ کل خبروں میں ذکر چل رہا تھا ''حکومت گئی تیل لینے'' تو کہیں یہ وہی تیل تو نہیں جو حکومت ہمارے لیے لینے گئی تھی ایک لمحے کے لیے تو تشکر سے آنکھیں بھر گئیں اور دل حکومت کے گیت گانے لگا خیر دو دن کے بعد ہی جو تیل گروپ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو پتہ چلا کہ بھئی ان تلوں میں تیل نہیں، تیل گروپ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ شہر میں چوروں کا کوئی گروہ آیا ہوا تھا جو چوریاں کرنے کی وجہ سے تو اتنا مشہور نہیں ہوا جتنا تیل کے استعمال سے، کمبخت لگتا تھا کہ تیل کے کنویں میں نہا کر باہر نکلے ہوں اور جب تیل لگانے کی وجہ معلوم ہوئی تو عش عش کر اٹھے بے ساختہ پاکستانی قوم کے لیے دل سے نکلا ''دنیا گول اے۔۔۔۔تے تیرا علاج چھترول اے'' تو مطلب یہ ہوا کہ عوام بے چاری رو رو کر سوکھ گئی کہ تیل نہیں ہے ملک میں اور حکومت بیچاری بھی نکل پڑی تیل کی کھوج میں تو آخر یہ تیل گیا کہاں؟، اب بھانڈا پھوٹا کہ کمبخت تیل تو جسم پر لگا کر چوریاں کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے چوروں نے بھی سوچا بھئی ہم تو نہ پکڑے جائیں گے لو تمہارے ہاتھوں سے ایسے پھسلیں گے جیسے کوئی آنٹی بارش میں، جیسے کوئی انکل کیچڑ میں، جیسے کوئی بچہ کیلے کے چھلکے پر، کون کہتا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس عقل نہیں ہے لو دیکھ لو عقل اور عقل کا استعمال۔ پھر میں دوسری طرف دیکھتی ہوں کہ ترکیوں کا ایک ڈرامہ ''دیریلیش ارتغرل'' پاکستان میں آیا اور کیا خوب چھایا، اتنا تو بنانے والوں نے نہ دیکھا ہو گا جتنا کہ پاکستانیوں نے،  گھر میں دیکھا تو منظر کچھ یوں نظر آیا کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، یہ قطار لگی پڑی ہے سب کی...

کالی مرچیں

پُرتگال کے دارالحکومت لزبن میں کچھ پولش مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے، پولش باہم مل کر ساتھ پکاتے اورساتھ  کھاتے جب کہ انڈین الگ سے اپنا پکاتا اور کھاتا۔ ایک دن انڈین شخص چھٹی پر انڈیا گیا ادھر پولش مزدوروں کو سالن میں ڈالنے والے مصالحہ جات کی ضرورت پڑی، پولش مزدوروں  نے انڈین شخص کے مصالحہ جات سے ہاتھ صاف کرنا بازار جانے کی نسبت آسان سمجھا۔ چند ماہ بعد انڈین واپس آیا، پولش دوستوں سے ملا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا، کچھ دیر بعد وہ گھبرایا ہوا بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے سے نکلا پولش دوستوں نے پوچھا کیا ہوا؟ انڈین کہنے لگا میں کمرے میں داخل ہوا تو میرا ابا کمرے سے غائب تھے؟ پولش حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بیک زبان پوچھا کہ تم تو کہتے تھے تیرا ابا کئی سال پہلے فوت ہوگیا ہے؟ بھارتی کہنے لگا جی والد تو کئی سال پہلے فوت ہوئے تھے ہم نے اس کی ارتھی بھی جلائی تھی ابا کے شریر کی راکھ سے تھوڑی سی میں ایک برتن میں اپنے ساتھ لے آیا تھا اور مصالحہ جات والے ڈبوں کے ساتھ رکھی تھی وہ راکھ غائب ہے، پولش پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے کہ مطلب وہ کالی مرچیں نہیں تھیں؟

چابی والا چوہا

رفعت جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو گھبراہٹ کے مارے چیخنے چلانے لگی۔ بچاؤ بچاؤ امی! امی ی ی ی ی… کیا مسئلہ ہے؟ رفعت ایسے کیوں چلا رہی ہو، یہ چڑیا گھر نہیں ہے۔ آپی نے آتے ہی اپنی شیر جیسی نظریں رفعت پر گاڑ دیں۔ میں نے امی کو آواز دی تھی آپ کیوں اتنا جل بھن رہی ہیں، وہ منہ لٹکا کر بولی۔ اوہ ہو! اب تمہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ امی بازار گئی ہیں اور ان کے آنے تک گھر کی سربراہی میرے ذمے ہے۔ چلو شاباش جلدی سے بتاؤ کیا مسئلہ ہے، آپی نے بیتابی سے پوچھا۔ ہونہہ، مسئلہ نہیں تکلیف ہے اور وہ بھی آپ کے اس بھائی کو، اس نے منہ بسورتے ہوئے پلنگ کے نیچے اشارہ کیا۔ کیا کہا تم نے؟ آپی نے اپنی آنکھیں ابلے ہوئے انڈے کی طرح باہر نکالیں۔ خبردار جو آئندہ تم نے میرے معصوم سے بھائی کے بارے میں کچھ اول فول کہا۔ وہ سیخ پا ہوگئیں۔ اچھا چلیں چھوڑ دیں غصہ، رفعت نے مسکرا کر کہا تو آپی بھی مسکرا گئیں۔ اچھا بتائیں کیا ہوا؟ آپی کے اصرار پر وہ چپ نہ رہ سکی۔ وہ پلنگ کے نیچے چوہا ہے، اس نے بمشکل تھوک نگلتے ہوئے کہا۔ کیا کہا چوہا، ارے بدھو! یہ بات اب نہیں پہلے بتانی تھی۔ آپی گرج دار آواز نکال کر دھاڑیں۔ اب کیا کریں گے؟ رفعت معصومیت سے بولی۔ اوہ ہو! تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس نے بھول پن سے نفی میں سر ہلادیا۔ اب منہ پر انگلی رکھو اور بھاگو، یہ سننے کی دیر تھی کہ رفعت بے توقیر ایسے دوڑ لگائی جیسے مقابلہ بازی ہورہی ہو۔ اب کبھی رفعت آگے آپی پیچھے تو کبھی آپی آگے اور رفعت پیچھے، صحن سے برآمدہ اور پھر کچن کی طرف ان کی دوڑ مسلسل جاری تھی، دوڑ دوڑ کر جب کمزور اور لاغر ٹانگوں نے جواب دینا چاہا تو رفعت کے دماغ میں ایک طریقہ آیا، اس نے صحن میں پڑی حمدان کی سائیکل پر آپی کو سوار کیا اور خود سائیکل چلانی شروع کردی، آپی بھی بھولے شاہ کی طرح سائیکل کے پیچھے رونی صورت بنائے بیٹھی رہیں۔ اتنے میں گھر کا مرکزی دروازہ کھلا، دونوں کی نظریں دروازے پر ٹھہر گئیں۔ سامنے چیزوں سے لدے پھدے شاپر تھامے امی آتے ہوئے دکھائی دیں۔ آپی کے چہرے کی سرخ وسپید رنگت زرد ہوتی دیکھی تو وہ بھی حیرت سے دنگ رہ گئیں۔ یا اللہ خیر، کیا ہوگیا میری بچیوں کو، یہ پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں، امی دروازے پر کھڑی کھڑی ہی ان کا جائزہ لینے لگیں۔ امی! چچ۔۔۔ چو۔۔۔ چوہا۔ آپی سے اتنا ہی کہا گیا۔ ارے شرم سے ڈوب مرو، اپنی ماں کو چوہا کہہ رہی ہو۔ امی نے مصنوعی خفگی ظاہر کی۔ اوہ ہو امی آپ چوہا نہیں، ہمارے گھر میں چوہا ہے۔ انہوں نے اپنا ماتھا پیٹا۔ ہائے اللہ! چوہا وہ بھی ہمارے گھر میں، امی بیساختہ منممائیں۔ اب یہ غیر مہذب قوم آنے سے پہلے اجازت نامہ لینے سے تو رہی، آپی کے نفرت سے اپنی ناک سکیڑی۔ تمہارے ابا سے کہہ کر...

مچھر

دو سال پہلے کی تحریر کہنے کو اڑتا ہوا کاٹنے والا کیڑا یا اڑ کر کاٹنے والا کیڑا ۔ اڑتے تیر کی طرح ہی سمجھ لیں ہماری اپنی وجہ سے ہی کاٹتا ہے ۔ یہ گندی جگہ پیدا ہوکر صاف جگہ پر کاٹتا ہے ، یاد رہے صاف جگہ پر ، مگر اب اس کو شکایت ہے کہ صاف جسم مل نہیں رہا ۔ یہ سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتا ہے اور جاگتے ہوؤں کو سونے نہیں دیتا ۔ یعنی مچھر زیادہ ہوں تو قوم جاگ جائے گی ، ویسے اب قوم جو جاگی ہے مچھروں کی بھن بھن سے جاگی ہے ۔ مچھر کی خوبی یہ ہے کہ اگر نر ہو تو بیمار نہیں کرتا اگر مادہ ہو تو بیمار کر دیتی ہے مگر تیمارداری اور بیماری کے بعد خدمت نہیں کرتی ۔ ہماری مادائیں یا مادامائیں بیمار کرکے خدمت بھی کرتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے (یعنی خوردبین سے) تو مچھر میں حسن بھی ہے اس کے جسم پر ہلکی ہلکی نرم ریشمی زلفیں بھی ہوتی ہیں ، کبھی ریشمی زلفوں میں انگلیاں ڈال کر سنواریں بہت مزہ آتا ہے ۔ ہم جب کنوارے تھے تو زلفیں بکھیر کر سنوارا کرتے تھے ۔ (اپنی زلفیں) مچھر کی زلفوں میں انگلیاں نہیں پھیری جاسکتی ہیں وہ مر جائے گا ۔ ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرنے سے آپ بھی مارے جاسکتے ہیں ، اگر کسی کے بھائی زیادہ ہوں ، مچھر کافی کمزور کیڑا ہے تالی سے مر جاتا ہے ۔ آپ بھی تالی کے بیچ میں منہ ڈال کر دیکھیں کافی سیلز مر جاتے ہیں ۔ ہمیں اس بات پر اختلاف ہے کہ "ایک مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے" اگر ایسا ہوتا تو آفریدی کے چھکوں پر تالیاں بجانے والے کروڑوں لوگ ہیجڑے ہوتے ، شادی کے گیتوں پر تالیاں بجانے والے بھی ہیجڑے ہوتے ، ہاں کسی کے نقصان پر تالیاں بجانے والے ہیجڑے ہوتے ہیں ۔ اور ویسے بھی مچھر انسانی جان کا دشمن ہے ، جنگ اور محبت میں سب جائز ہے ، دشمن کو تالی سے مارا جائے یا محبت کو تالی بجا کر حاصل کیا جائے جائز ہے ۔ اس میں ہیجڑا کہنا صحیح نہیں ۔ مچھر پالتو کیڑا نہیں ہے ، مگر گھر میں بنا اجازت پل جاتا ہے آپ کے ہمارے خون پر ۔ مچھر خون پیتا ہے چاہے کسی انسان کا خون سفید ہوگیا ہو ، چاہے کالا ہو ۔ مچھر کسی کو کاٹنے میں تعصب نہیں برتتا ہے ، یہ رنگ و نسل دیکھے بغیر خون پیتا ہے ۔ اس میں امریکہ والی کوالٹی ہیں ، امریکہ بھی جب کاٹتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ چپٹا ، کالا ، گورا کون ہے سامنے ۔ مچھر کی عمر ایک سے ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے اس تھوڑے سے عرصے میں وہ بغیر قرضے اور امداد کے اپنی زندگی گذار لیتا ہے ۔ مچھر سے بچنے کے لیے لوگ اسپرے کرتے ہیں بلدیہ والے بھی اسپرے کرتے ہیں اس اسپرے کے بعد اور مچھر بڑھ جاتے ہیں ۔ ہمارے پاس دستیاب اسپرے کے مچھر عادی ہوچکے ہیں ان کو اسپرے کے بعد نشہ چڑھ جاتا ہے اور وہ مزید کاٹتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، نشے کے بعد زیادہ بھوک لگتی ہے...

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

جب آپکی طبعیت لکھنے پر مائل نہ ہو تو آپ کچھ بھی نہیں لکھ سکتے کیونکہ لکھنے کیلئے صرف کاغذ قلم نہیں چاہئیے ہوتا ہے بلکہ وہ احساس جذبات اور کفیت بھی چاہئیے ہوتی ہے جس موضوع پر آپ لکھنا چاہتے ہوں,الفاظ کا بھی ایک تقدس ہوتا ہے یوں ہی تو نہیں ہوتا ناں وہ کہ بس قلم اٹھایا اور صفحات کا پیٹ بھر دیا۔  میری طبعیت بھی عمران خان کے بیانات کی طرح دن میں کئی دفعہ یو ٹرن لیتی ہے کبھی خوشی کبھی غم جیسی کفیت ہوتی ہے جب آپ زمانے کی کارستانیوں میں پھنسے ہوئے ہوں تب پھر اگر آپکو فرصت کے لمحات میسر آ بھی جائیں تو تب الفاظ یوں دور بھاگتے جیسے پولیس کو دیکھ کر چور۔ خیر میں لکھنے کیلئے کبھی مصنوعی سہاروں کا سہارا نہیں لیتا (مطلب طبیعت پر زبردستی نہیں کرتا) اور میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی ذات کیلئے وہ کام ضرور کرنا چاہئیے جس میں وہ اپنی ذات کا ذہنی سکون اور راحت محسوس کرتا ہو تو "میں" لکھنے میں بھی راحت محسوس کرتا ہوں دوسرا میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے بیٹا دنیا مُشکلات کی دلدل ہے اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو قانونی اور قلم کی نوک سے عبور کرنا اس بات کا مطلب آج بابا کے جانے کے بعد یقیناً احساس دلاتا  ہے کہ بابا نے ایسا کیوں کہا تھا۔ آج ڈپریشن ہو چاہے وہ نجی زندگی کے معاملات ہوں یا کاروباری معاملات کی جھنجٹ اُس سے چھُٹکارہ پانے کے لئے میرا قلم ہی بہترین ہتھیار ہے۔ بابا کے جانے ک بعد بہت ساری دنیاوی مشکلات کے سمندر میں غوطہ زن ہوں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کشتی کنارے پر کب پہنچے گی لیکن میرا قلم مُجھے میرے قارئین سے جوڑے رکھتا ہے, یہ قلم ہی ہے جو مُجھے بدترین ذہنی دباؤ سے نکلنے میں میری مدد کرتا ہے اور مجھے راحت کا احساس دلاتا ہے۔ انہی درج بالا نکات کیوجہ سے لکھتے لکھتے دوستوں کی نظر میں ہم لکھاری بنتے گئے حالانکہ میں لکھاری آج بھی خود کو نہیں مانتا دو چار لائینز سے کورے کاغذ کو کالی سیاہی سے بھر دینے کو رائیٹر نہیں کہتے خیر آج بھی جب اپنے پسندیدہ موضوع پر لکھنے کا سوچتا ہوں تو منیر نیازی نے صرف دیر کی تھی مگر میں بہت دیر کر دیتا ہوں بہرحال دیر آید درست آید پر مصداق آ جاتے ہیں جب سر خلیل احمد صاحب(کالمسٹ, آر جے) جیسے  غلطیاں نکالنے والے استاد ملیں تو شاگردوں کی تو گویق چاندی ہی ہو جاتی ہے اور سر نے میری مختلف تحاریر پڑھنے کے بعد نیوز پیپر میں لکھنے کا مشورہ دیا تھا (جو ابتک جاری و ساری ہے) ۔ محترمہ بہن تہمینہ رانا صاحبہ Tahmina Rana (سینئیر جرنلسٹ نیوز اینکر کالم نگار نوائے وقت )جیسی استاد کی راہنمائی اور پذیرائی ملے تو حوصلے زمین سے آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔  الحمداللہ جب بھی آج تک جو بھی آرٹیکل کسی پروفشنل اخبار یا بلاگ میں بھیجا تو اشاعت کی سند پا گیا جو میرے لئیے اعزاز کی بات ہے۔  میں تعمیری تنقید کو...

ہمارے بلاگرز