نصرت یوسف

1 بلاگ 0 تبصرے

ادا تیری

کوئی معمولی کام تو اس نے بھی نہ کیا۔ گراں ترین خرچہ برداشت کرتے ہوئے ابا جی کے مدرسہ کے لیے سولر پینلز لگوا...

اہم بلاگز

صحافت ایک ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق بنایا جس میں متضاد صلاحتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں نیکی اور بھلائی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے اور شر اور برائی کی طرف میلان بھی۔ وہ اپنے بہتر کردار کے ذریعہ گلشنِ انسانیت کوسنواربھی سکتا ہے اور اپنی بدکرداری کے ذریعہ اسے خزاں رسیدہ بھی بنا سکتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیت و استعداد کے لحاظ سے دو دھاری تلوار ہے۔ شریعت کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ اس کی صلاحتیں خیر کے کاموں میں استعمال ہوں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صرف اس بات کی تلقین نہیں فرمائی کہ وہ اچھا عمل کرے، بلکہ اس بات کو بھی واجب قرار دیا کہ دوسروں کو حسنِ عمل کی دعوت دے اور انہیں نیکی کی طرف بلائے۔ نیز برائی سے بچنا کافی نہیں ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو برائی سے روکے۔ نیکیوں کو پھیلانے کے لیے قرآن نے امر بالمعروف اور برائیوں سے روکنے کو نہی عن المنکر سے تعبیر کیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک ہی طریقہ نہیں ہے۔ زمانہ اور حالات کے لحاظ سے ان کے ذرائع بدل سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کو اس سلسلے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ خیر کی دعوت اور شر کی اشاعت دونوں کے لیے سب سے موثر ذرائع ہیںتو بیجا نہ ہو گا۔ ابلاغ کے بعض ذرائع وہ ہیںجو ناظرین تک تصویر اور آواز کو پہنچاتے ہیں اور یقینا دیکھنے والوں پر اس کا خاص اثر پڑتا ہے۔ دوسرا ذریعہ اشاعتی صحافت کا ہے جو تحریری شکل میں قارئین تک پہنچتا ہے۔ اگرچہ بصری وسائل انسان کے ذہن و فکر پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیںلیکن ان کا اثر چند لمحات سے زیادہ نہیں رہتا۔ تحریر کے ذریعہ جو پیغام انسان تک پہنچتا ہے وہ فوری طور پر انسان کے جذبات کو مہمیز نہیں کر پاتا۔ وہ دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان میں تقریر سے زیادہ تحریر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لیے آسمانی کتابیں بھیجی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صحافت دل و دماغ کو فتح کرنے کا سب سے موثر ہتھیار ہے ۔ اس سے قوموں کی تقدیر وابستہ ہو گئی ہے۔ صحافی بنیادی طور پر معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔ صحافی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا صحافی حکمرانوں اور عوام کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ صحافی معاشرے کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے مگر گزشتہ کچھ عرصے سے صحافت میں جو انقلاب آیا ہے، اس سے صورت حال کافی بدل گئی ہے۔ آج ہزاروں اخبارات اور چینل وجود میں آ چکے ہیںمگر جو صحافت کی اصل روح تھی وہ اب بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ افسوس کہ دورِ حاضر میں صحافت اپنے مقصد سے کوسوں دور بھٹک رہی ہے۔ اب صحافت کی حیثیت انڈسٹری جیسی ہے۔اس کا مقصد خبریں فروخت کرنا ہے۔مادہ پرستی اور مال و دولت کی حرص میں ہم صحافت کے تقدس کو روز...

علامہ اقبال کا خواب اور حقیقت حال

بروز جمعۃ المبارک اسلامی مہینے ذی قعد کی 3 تاریخ اور انگریزی مہینے نومبر کی نو تاریخ  1877ء  کو جب سیالکوٹ کی فضا میں ابھی فجر کی آذانیں بلند ہونا شروع ہوئیں تھیں۔ اس وقت شیخ نور محمد کے گھر میں ایک سرخ و سپید، پیارے، گول مٹول سے کشمیری بچے نے آنکھ کھولی۔   والدہ امام بی بی نے بڑی محبت سے اپنے بیٹے کا نام محمد اقبال رکھا۔ اس وقت کون جانتا تھا  کہ ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہونے والا اقبال  آنے والے دنوں میں آفتاب بن کر افق عالم پر چمکے گا اور پوری دنیا میں اس کی شہرت کا طوطی بولے گا۔یہ گراں قدر جوہر عالم اسلام کے لئے ایک رہنما کی حیثیت اختیار کرے گا۔اس کا کلام سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کا سبب بنے گا۔ جس کے نتیجے میں نقشہ دنیا میں ایک بڑا اسلامی خطہ ابھرے گا۔ اس کے کلام کو مومن کا لہو گرمانے کے لیے اکسیر کا درجہ حاصل ہوگا۔ مثال کے طور پر ہم علامہ محمد اقبال کی وہ نظم ہی لے لیتے ہیں جو ہم نے شعور کی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے ہی  اپنی سکول اسمبلیوں میں لہرا لہرا کر پڑھنی شروع کر دی تھی۔  بے شک  اس وقت  ہمیں ان اشعار کے معنی اور مہفوم کی کوئی خاص سمجھ نہ تھی لیکن حرف حرف یاد ضرور تھی۔ میرے خیال میں کوئی پاکستانی ایسا نہیں ہوگا جو علامہ محمد اقبال سے عقیدت و محبت نہ رکھتا ہو بلکہ پوری دنیا میں شاعری سے شغف رکھنے والے علامہ محمد اقبال کو جانتے اور ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ محبت کا پہلا تقاضا ہی اطاعت و فرمانبرداری ہوتا ہے۔ عظیم اقبال نے ہمیں ہمارے بچپن میں ہی سکھا دیا کہ ہم نے کیسا انسان بننا ہے؟ آپ نے فرمایا! لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔ علامہ محمد اقبال نے  ہمیں صرف تصور پاکستان ہی نہیں دیا بلکہ ہمیں یہ ماڈل بھی سمجھا دیا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں ہم نے کیسا انسان بن کر رہنا ہے؟ اس مقدس ارض پاک پر جاہلیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے مکینوں نے صرف ایک دوسرے کے لئے ہی معاون و رہنمائی کا کام نہیں کرنا بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے امامت کا ذمہ سنبھالنا ہے۔ انہوں نے اپنے وطن کی پہچان اور زینت بننا ہے۔ علم سے محبت کی شمع اپنے دلوں میں جلانی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی قوم علم و عمل کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ اپنے دلوں کے اندر ایثار کی دولت پیدا کرکے معاشرے کے محروم لوگوں کو بھی اپنے ساتھ چلانا ہے اور ان کا معاون و مددگار بننا ہے۔  اپنے پیدا کرنے والے سے ہر پل صراط مستقیم کا طلبگار رہنا ہے۔ علامہ محمد اقبال سے محبت کرنے والے پاکستانیو! اب ہم ذرا اپنے احوال بھی دیکھ لیں۔ جو دعا ہم اپنے ننھے ننھے ہاتھ اٹھا کر اسکول اسمبلی میں روزآنہ مانگتے تھے۔ کیا اسے کبھی اپنے روز و شب پر بھی نافذ کرنے کی کوشش کی ہے؟ سود، کسادبازاری، رشوت...

خودکشی آخر کیوں ؟

      " خود کشی آخر کیوں ؟ " یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے اور اس سوال کا سامنا ہم سب کو اپنی زندگی میں کئی بار کرنا پڑتا ۔ ہمیں اپنے ملک میں آئے روز خودکشی کے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ہر خودکشی کرنے والا جو سوال چھوڑ جاتا وہ سوال یہ ہے کہ آخر اس خودکشی کی وجہ کیا تھی ؟  اپنے ہوش وحواس میں اپنی جان لینے کا نام خودکشی ہے اور انگریزی میں اسے " Suicide " کہا جاتا ہے ۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہر ملک اس مسئلے کو  ختم کرنے میں ناکام ہوا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا ہر چالیس سیکنڈ میں ایک خود کشی کا واقعہ رپورٹ ہوتا ہے اور ہر سال آٹھ لاکھ سے سولہ لاکھ تک لوگ خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کے چراغ گل کر دیتے ۔       عہد حاضر میں خودکشی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ خودکشی کا تعلق ذہنی تناؤ سے ہے انسان جب پریشان ہوتا ہے کسی چیز کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے تب اسے خودکشی کے خیالات آنے لگتے ۔ خودکشی کرنےوالے افراد احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار بنانے میں ہمارا معاشرہ منظم ہوا ہے ہمارے ہاں ایک شخص کو دوسرے شخص سے تقابل کیا جاتا دوسرے کو حقیر سمجھا جاتا اور چھوٹی سے چھوٹی بات پر تمسخر اڑایا جاتا ہے جس سے لوگ ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر اس لعنت کی آگ میں کود جاتے ۔       دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ تناسب نوجوان طبقے کا ہے اس کے بعد متوسط یا نچلے طبقے کے لوگ خودکشی کرتے اور پھر امیر لوگ بھی اس لعنت سے آزاد نہیں ۔ خودکشی کا تعلق انسانی سوچ اور دماغی حالت پر ہے اور معاشرے کے محرکات اس پر اثرانداز ہوتے ۔ نوجوان طبقہ محبت میں ناکامی ملنے پر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے اور پھر خودکشی کو ترجیح دیتے اس کے علاوہ متوسط طبقے کے لوگ بڑھتی مہنگائی ، اخراجات اور افلاس سے تنگ آ کر موت کو گلے لگا لیتے ۔     خودکشی کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری، غربت، تنہا پسندی، رشتوں میں عدم توازن، منشیات کا استعمال، مہلک یاناقابل علاج بیماری، ادویات کا بے دریغ استعمال ، گھریلو جھگڑے ، کردار پر تہمت ، تشدد ، غیرت کے نام پر قتل ، امتحانات میں ناکامی ، عدم تحفظ، خوف، مایوسی سمیت دیگر عوامل ہیں۔ اس دنیا میں سب سے مشکل فن ہر حال میں مسکرانا ہے اور یقینا ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے اس نے ہمارے لیے اچھا سوچ کر رکھا ہوتا اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔ ناامیدی ، مایوسی کے عالم میں خودکشی کر لینا کسی مسئلے کا حل نہیں ۔       اگر خودکشی جیسی لعنت سے اپنے معاشرے کو پاک رکھنا ہے تو اس میں اساتذہ، علماء، سیاست دان، صحافی، ڈاکٹرز، ماہرین نفیسات، وکلا، شعرا و ادبا و دیگر  شعبوں کو اپنا مثبت کردار...

دو ٹکے کا وزیر

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ  اسلام کے نام پر وجود میں آیا اگر  اس  کے نام سے لفظ اسلام کو نکال دیا جائے یا اس زمانے میں جب کہ اس کی جدو جہد جاری تھی  اگر اسلام کا لفظ نکال دیا جاتا تو  قیامت تک برصغیر کے مسلمانوں کو  پاکستان کی آزادی کے لیے جمع نہ کیا جاسکتاتھا  اور پاکستان کو کبھی وجو د نہ ملتا مگر اسلام ہی وہ واحد نظریہ تھا جس کی قوت سے پاکستان کو وجود  کو وجود ملا اسلام ہی نے مسلمانان برصغیر کو وہ تحرک بخشا کہ وہ پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے پر آمادہ ہوئے اور ایسی قربانیاں پیش کی کہ اس صدی کے اندر اس کی کوئی ایک مثال بھی تاریخ دینے سے عاجز ہے ۔ اسلام کی پوری عمارت توحید و رسالتؐ پر قائم ہے بلکہ توحید کی معرفت اور پورا اسلام بھی رسالتؐ محمدیﷺ کے طفیل ملا ہے یہ جو پور ی دنیا میں آج مسلمانان عالم کی محبت حضور ﷺ کے ساتھ ہے وہ اسی احسان کی وجہ سے ہے کہ جو حضورﷺ نے  انسانیت کے اوپر کیا ہے  آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو اللہ کی معرفت کرائی اور پھر اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ پر نبوت کو ختم فرماکر ساری انسانیت کو بتا دیا کہ اب جو بھی کامیابی چاہے وہ آخری کتاب اور خاتم النبیین ﷺ کی سیرت پر عمل کرے اور ان سے محبت کرے تو کامیاب ہوسکتاہے ۔ یہ تمہید اس پس منظر میں باندھی گئی ہے کہ  آج کل ملک بھر میں سیاسی ماحول  کافی گرم ہے اور ہونا بھی چاہیئے یہ ایمان کا تقاضا ہے ۔ پوری دنیا میں تو اسلام پر اور ناموس رسالتؐ پر حملے ہوہی رہے ہیں جس پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں ۔یہ حملے دو طرح سے ہورہے ہیں ایک وہ حملہ ہے جس کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے جس طرح فرانس میں ناموس رسالتﷺ پر حملہ ہوا اس کوفرانس کی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔جب فرانس کی حکومت کی سرپرستی ایسی ذلیل حرکت پر حاصل ہورہی ہے  تو  دیگر چھپے ہوئے غلیظ ذہینت رکھنے والے انسان نما حیوان بھی ایسی حرکات میں بے باک ہوتے جارہے ہیں ۔ کریلا اور اس پر نیم چڑا کے مصداق ہمارے وزیر  اعظم  صرف زبانی جمع خرچ کررہے ہیں اصولا سرکاری سطح پر کی جانے والی اس حرکت پر حکومت پاکستان کا  جواب ، اینٹ کا جواب پتھر سے آنا چاہئیے تھا مگر پھسپھسا سا مداہنت سے پر جواب آیا جس سے لاچاری، مفلسی ، بزدلی  جھلک رہی تھی  ۔ جس پر عوامی ردعمل آنا ایک فطری بات تھی ۔عوام کا ردعمل اس بات کا مظہر ہے کہ آج بھی اس احسان کا  احساس عشق کی صورت میں  امت کے قلب میں موجود اور زندہ ہے جو آنحضورﷺ نے انسانیت پر کیا مسلمان اپنی ہر چیز سے زیادہ عزیز  ناموس رسالتﷺ کو رکھتاہے ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ناموس رسالت ﷺ پر حملے کا جواب ہیں اگرچہ جس کا جواب حکومت وقت کو دینا لازم تھا ۔ اس معاملے کا تعلق دین و ایمان سے ہے اس وجہ سے یہ مسئلہ...

رمضان اور متزلزل ایمان

ماہ مبارک رمضان کورونا کی احتیاطی تدابیر کیساتھ رواں دواں ہے اور پچھلے سال کی نسبت کہیں بہتر انتظامات کیساتھ مساجد میں عبادات کا اہتمام جاری ہے۔ تاحال موسم اتنا سخت نہیں کے روزہ داروں کیلئے کسی مشکل کا سبب بن رہا ہو، البتہ ملک کے داخلی حالات تشویشناک دیکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان جمہوری تحریک تو دم توڑتی دیکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف فرانس میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخی کے بدلے فرانسسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا چلا جا رہا ہے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے کہ کسی مغربی ملک نے ہمارے ایمان کی سلامتی کو جھنجھوڑا ہواور اسکے لئے ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ہو۔ ایک مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی تکلیف دہ بات نہیں ہوسکتی اور وہ مسلمان جو نبی پاک ﷺ سے ناصرف سچی محبت رکھنے کا دعویدار ہو بلکہ عملی طور پر بھی آپ ﷺ کی طرز کی ریاست بنانے کا خواہشمند ہو، ایسی خواہش ہمارے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب بارہا ساری دنیا کے سامنے دہراتے رہے ہیں اور جہاں تک ممکن ہورہا ہے اسکے لئے عملی اقدامات کرتے بھی دیکھائی دے رہے ہیں۔  فرانس نے تاریخ میں پہلے بھی ایسی گستاخیاں کی ہیں،سلطان عبدالحمید کے نام سے تو تقریباً قارئین واقف ہی ہونگے اور اکثریت کی واقفیت بطور عاشق رسول ﷺ کے ہوگی۔ ہمیں بھی سلطان عبدالحمید سے عقیدت حب رسول ﷺ سے منسوب واقعات جان کر ہوئی۔ سلطان عبدالحمید کے دور میں بھی ایک ایسا ہی واقع رونما ہوا، یہ وہ دور تھا جب عظیم خلافت ِ عثمانیہ کا چراغ گل ہونے سے قبل ٹمٹما رہا تھا لیکن عاشقِ رسول ﷺ کا جذبے کی شدت میں کوئی کمی نہیں تھی فوری طور پر فرانس کے سفیر کو بلواکر اس پر دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ وہ اپنے حکمران تک یہ بات پہنچا دے کہ اگر گستاخی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو پھر جنگ کیلئے تیار ہوجائے، یہ سچے عاشق ﷺکی گرج تھی جس نے یقینافرانس کے محلات کی بنیادیں ہلادیں اور فرانس کو اپنے کئے پر معافی مانگنی پڑی۔ یو ں سلطان عبدالحمید تاریخ میں ایک سچے عاشق ﷺ سے پہچانے جانے لگے اور ایک روشن ستارے کی طرح تاریخ کے اوراق میں جڑ دیئے گئے۔ دنیا کے مسلمان اس بات کی برملا گواہی دینگے کہ پاکستان وہ واحد مملکت ہے کہ جس کے باشندوں یعنی پاکستانیوں کی اپنے نبی ﷺ سے محبت لازوال ہے۔ اگر مسلمان زمینی حقائق کی بات کریں اور ایک ایسے مسلئے پر جس کی وجہ سے ہمارا ایمان کو ہی خطرہ لاحق ہوجائے تو پھر کیا کرینگے۔ ۹۶۹۱میں ایک اسلامی تنظیم کا قیام عمل میں آیا اور اسکا موجودہ نام اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC)ہے، ستاون ۷۵ مسلم ممالک اسکا رکن ہیں اور صدر مقام سعودی عرب میں ہے۔ جس کے وجود کا تذکرہ کتابوں میں تو ملتا ہے لیکن عملی کردار پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کہ وہ کس اسلام کے دفاع کی تنظیم ہے اورکہاں اپنا کردار ادا کر...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

محکمہ پولیس میں اخلاقی فقدان

گردش ایام ،تلخی وقت،بے روزگاری ،بے لگام مہنگائی اور ناقص غذائوں نے چھوٹی عمراں وچ کی کی روگ لادتے نے آپ زیادہ نہیں آج سے دس پندرہ سال پیچھے چلے جائیں تو یقین کریں بلڈ پریشر ،شوگر، ہارٹ اٹیک جیسی مہلک اور موذی امراض اس قدر نہ تھیں جس برق رفتاری سے یہ امراض آج بڑھ رہی ہیں پہلے یہ امراض زیادہ تر بڑھتی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب نوجوان ان کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ نبی رحمت سرکار دوعالم ؐکی حدیث کے مطابق قرب قیامت وبائوں کا پھوٹنا اور اچانک اموات کا ہونا لازم ہے ۔ویسے تو الحمدللہ ،اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہر بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طر ح کی روحانی جسمانی بیماریوں ،عذابوں،وبائوں، آفتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ۔ چند عرصہ سے امراض معدہ اور ذہنی تنائو کا شکار ہوچکا ہوں۔ایک بات کو مسلسل سوچتے رہنا اور پھر خود سے خوفزدہ رہنا عجیب سی الجھنیں ہیں کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور انکی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے کیونکہ ایک مسلمان جس کے پاس قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت اور کامیاب زندگی کے لیے نبی رحمت ؐ کے فرامین موجود ہوں وہ مسلمان کبھی بھی ان الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان سے روگردانی نہ کرلے ،منہ نہ موڑ لے۔اور یقینا ایسا ہی ہے کہ فکر معاش نے فکر الٰہی سے غافل کردیا ہے۔ چندروز قبل ہفتہ کے دن شام سات بجے کے قریب لوہاری سے BP Operatorلینے کے لیے گیا تو واپسی پر فرمان بیگم پر عملدرآمد کرتے ہوئے شاہ عالمی سے پلاسٹک کے ڈبے لینے کے لیے داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی ایک ملازم نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا فوراً سے پہلے بائیک روکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک ملازم نے آئی ڈی کارڈ مانگا فوراً پیش کیا موبائل نمبر پوچھا فوراً بتایا ایک Profarmaپر سب کچھ لکھ لیا۔ادھر کیا لینے آئے ہو؟ عرض کی کہ پلاسٹک کے ڈبے۔تمہیں نہیں پتا کہ ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے عرض کہ اکثر شام کے وقت چند لوگ زمین پر سستی چیزوں کی سیل لگاکربیٹھے ہوتے ہیں یہی سوچ کر ادھر کارخ کرلیا ۔اتنے میں ڈرائیونگ سیٹ کی دوسری جانے بیٹھے صاحب بولے توں کی کردا اے؟عرض کی کہ قلم کا مزدور ہوں ۔سیدھی طرح دس عرض کی کالم نگار (صحافی )یہ بات سننی تھی کہ اعلیٰ حضرت ایک موٹی گالی کے ساتھ بولے یہ صحافی تو ہوتے ہی (یہاں وہ گالی لکھنا مناسب نہیں کیونکہ میری زبان اور قلم مجھے زیب نہیں دیتا)ایسے ہیں ۔انتہائی ادب سے عرض کی کہ جناب کہ میرے پیشے کوگالی نہ دیں قلم کی حرمت پامال مت کریں کیونکہ صحافت پیغمبری پیشہ ہے ۔آپ نے جو مانگا حضور کو پیش کردیا پھر گالی دینا اچھی بات نہیں بس یہ بات سننی تھی کہ جناب کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک دم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا دساں تینوں ایتھے...

پکوڑوں کا مہینہ

رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات  کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری سے پیار ہے*۔ رمضان کے سحری و افطار کے کیا ہی کہنے۔ اسی سلسلے میں  خواتین رمضان سے پہلے ہی بہت سی چیزیں بنا کر فریز کر رہی ہیں جن میں کئی قسم  رول، سموسے، بڑے ، شامی کباب،  پراٹھے، پائے وغیرہ شامل ہیں تاکہ رمضان میں وقت اور محنت بچائی جا سکے اور دھیان روزے پر ہی رہے۔  رمضان میں ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق میں ہیں اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔  مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے ان کو رمضان کا برانڈایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پکوڑے کا وجہ تسمیہ کے بارے  میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں ۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی "خبرگیری" کے لئے جانے سے پہلے ، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا  اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا ۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا  اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے  بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا۔مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں"ڑ" کا بکثرت استعمال پایا جاتاہے۔ کچھ مورخین  کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ ’پکوڑا‘ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔  ادبی حیثیت  سے  اس  1780 ء کو "کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا...

ہمارے بلاگرز