نگہت انوار

1 بلاگ 0 تبصرے

اقدار اور تہذیب کی بقا، عورت سے

ایک دن لاجونتی کے پودےنے عورت سے کہا میں اتنا شرمیلا ہوں کہ مجھے کوئی ہاتھ لگائے تو مرجھاجاتا ہوں۔ عورت نے سنا تو...

اہم بلاگز

مولانا مودودیؒ کی پاکستان مخالفت!

آج سیدیؒ کو ہم سے بچھڑے 41 برس ہو گئے ہیں لیکن وہ بچھڑ کر بھی نہین بچھڑے ان کی تحاریر آج بھی کسی شفیق بزرگ کی طرح انگلی پکڑ کر ساتھ ساتھ لئے چلتی ہیں کوئی انہیں مدبر کوئی مفسر اور کوئی مفکر مجدد کے طور پر جانتا ہوگا ۔ میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو بیسویں صدی کے فکری محاذ کے گوریلا کمانڈر کے طور پر جانتا ہوں ایسا کمانڈر جس کے پاس شائستگی ،متانت ،سنجیدگی ،استدلال کردار اور حسن اخلاق کے ہتھیاروں اور تکنیک کی کمی نہ تھی انہوں نے الحاد کی جڑوں پر وار کیا اور لادینیت کے جمتے قدم اکھاڑ دیئے۔ میں حیران ہوتا ہوں جب کچھ لوگوں کو ان پر پاکستان کی مخالفت کا الزام دھرتا دیکھتا ہوں انہوں نے پاکستان کی نہیں قائداعظم کی جیب میں پڑے کھوٹے سکوں اور مسلم لیگ کی تیار لاری میں چڑھنے والے ان مسافروں کی نشاندہی کی تھی جن کے ارادے ٹھیک نہ تھے آج پاکستان جہاں ہے وہ ان کے خدشات وسوں پر مہر تصدیق ہی تو ثبت کرتا ہے ۔ اورپھر اس پاکستان مخالف کو دیکھیں کہ جب 1964 میں انہیں ایوب خان اٹھا کر جیل میں ڈالتا ہے تو 9  ماہ بعد عدلیہ کے حکم سے رہائی ملتی ہے اور چند ماہ بعد ہی 65ء میں جنگ چھڑ جاتی ہے ایوب خان سب کو ایک صف میں کھڑے ہونے کی اپیل کرتا ہے اور دوسرے ہی دن یہ ’’پاکستان مخالف ‘‘ خود کو جیل میں ڈالنے والے سے ملنے کے لئے موٹر کار پر چل پڑتا ہے کہ پاکستان مشکل میں ہے اور پاکستان کے لئے ہم سب آپکے ساتھ ہیں آج سیدی ساتھ نہیں مگر ان کی فکر آج بھی تاریکیوں میں لائٹ ہاؤس ہے اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان سے خوب راضی رہے

نکاح کو آسان بنائیے۔۔۔۔۔۔

گزشتہ ۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ بروز ہفتہ برادر محترم جاوید علی کی بیٹی کا نکاح پڑھانے کا موقع ملا ،انھوں نے تقریباً 3 ہفتہ پہلے سے کہہ رکھا تھا ، درمیان میں کچھ کچھ وقفے سے یاد دہانی کراتے رہے۔ جاوید صاحب مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ، ان سے تعلق اس وقت سے ہے جب انھوں نے آج سے تقریباً 35 برس قبل ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ میں تصنیفی تربیت کا کورس کیا تھا _ ، میرے دہلی منتقل ہونے کے بعد اس تعلق میں مزید اضافہ ہوا، _ انھوں نے خواہش کی کہ میں نکاح پڑھانے کےساتھ مختصر تقریر بھی کروں۔ میں نے اپنی تقریر میں عرض کیا کہ مختلف متمدّن سماجوں میں خاندان کی تشکیل نکاح کے ذریعے ہوتی ہے ، لیکن افسوس کہ ان میں نکاح کے ساتھ خطیر مصارف وابستہ کردیے گئے ہیں،  کسی شخص کی دو تین لڑکیاں ہوں تو ان کی پیدائش کے وقت سے وہ ان کے نکاح کے وقت کے لیے پیسے بٹورنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔افسوس کہ اس دوڑ میں مسلمان بھی پیچھے نہیں ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا تو ایک وصف قرآن مجید میں یہ بیان کیا گیا ہے : ” ’’وہ لوگوں سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو انھوں نے خود پر لاد لیے تھے اور وہ بیڑیاں اور طوق کاٹتا ہے، جن میں انھوں نے خود کو جکڑ لیا تھا‘‘۔ _” (الاعراف :157 ) لیکن افسوس کہ آپ کی امت نے اپنی مرضی سے دوبارہ خود کو رسوم و روایات کی بیڑیوں میں جکڑ لیا ہے اور بھاری بوجھ اپنے اوپر لاد لیے ہیں۔ خاص طور سے نکاح کے موقع پر منگنی ، جہیز ، تلک اور دیگر ناموں سے مُسرفانہ رسوم کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے اور سادہ انداز میں اس کے انعقاد کی تاکید کی ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’تم میں جو بغیر جوڑے والے ہوں ان کے نکاح کراؤ _”‘‘(النور : 32) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” بہترین نکاح وہ ہے جو سہولت سے انجام پاجائے _” (صحیح ابن حبان : 4072 ) عہد نبوی میں اس کی بہت سی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ غریب سے غریب لڑکے یا لڑکی کا نکاح بہت آسانی سے ہوگیا،  عورت چاہے مطلّقہ ہو یا بیوہ ، بہت آسانی سے اس کا نکاح ہوجاتا تھا۔ ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نوجوان یا دوشیزہ یا ادھیڑ عمر کے مرد یا عورت نے نکاح کا ارادہ کیا ہو اور مصارف فراہم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نکاح نہ ہوپایا ہو۔ میں نے عرض کیا کہ اصلاحِ معاشرہ اور نکاح آسان بنانے کے موضوع پر تقریریں ہوتی رہتی ہیں ، لیکن عمل کا جذبہ مفقود ہوتا ہے ،جو لوگ تقریریں کرتے ہیں اور دوسروں کو آسان نکاح پر ابھارتے ہیں ، وہ خود اپنے بیٹے یا بیٹی کے نکاح کے موقع پر مُسرفانہ رسوم سے باز نہیں آتے ، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ...

ذلّت کے گڑھے

یوں تو  دستور پاکستان کے نام سے ہی  سیکولر اور لبرل  طبقے کے  پیٹ میں مروڑ  اٹھنا شروع ہوتاہے ۔اور کیوں نہ ہو ۔۔۔ وہ دستور جوکہ اسلامی دستور ہے ۔ دستور کے مطالبے ،دستور کے بننے  کے اور اس کی منظوری  کے پہلے لمحے سے ہی اس کے  خلاف ان کی   ایک منظم جدوجہد شروع ہوچکی ہے ۔ اور اس  کے پیچھے اور کبھی منظر عام پر یہی سیکولر  ازم اور لبرل ازم کے  علم بردار گماشتے ہوتے ہیں ۔ یہ پرلے درجے کے جھوٹے اور دغا باز ہیں انہوں نے ہمیشہ دنیا کو فریب دیا ہے ۔یہ کسی دلیل کو نہیں مانتے ۔ کیونکہ یہ عالمی بے ضمیر انسانوں کا  گروہ ہے ۔ یہ انسانوں کو سبز باغ دکھا نے  کے ماہر ہوتے ہیں۔ قرآن کے مطابق:  جب  ان سے کہاجاتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ  ہم تو صرف اصلاح کر نے والے  ہیں ۔ (سورہ البقرہ) دیا گیا حوالہ اس پس منظر میں ہے کہ  یہ فسادی گروہ عوام کو ایک بار پھر فریب دینے میں کامیاب  ہوگیا روٹی ،کپڑا اورمکان  ،قرض اتارو ملک سنوارو  ، نیا پاکستان ، تبدیلی آ نہیں رہی آگئی ہے  اور مدینے کی ریاست کے  سبز باغ دکھانے والے ایک بار پھر مسند اقتدار پر قابض ہیں یہ بظاہر  ایک دوسرے سے لڑتے نظر آتے ہیں  اور اقتدار کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے ہیں  مگر اسلام کے خلاف ان کا ایجنڈا مشترکہ ہے یہ ظالموں کے ساتھی ،فحاشی و بے حیائی کے رسیا ، جرائم کے پشت بان ہیں ا۔بھی حال ہی میں اس کی مثال  انہوں نے ماضی کی اپنی  روش کے مطابق پیش کی کہ  جناب وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ عورتوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو چوک پر پھانسی دینی چاہیئے یا  ان کی آختہ کاری کردینی چاہئیے۔سوال یہ ہے کہ کیا آئین پاکستان میں اس جرم کی سزا موجود نہیں ہے  کہ اس طرح کے واقعات  کی روک تھام کی جائے اور مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے ؟ نہیں بلکہ ایسا نہیں ہے  بلکہ قانون موجود ہے ۔مسئلہ  قانون پر عمل درآمد کا ہے ۔روزانہ  پیش آنے والے ان واقعات  نے ایک طرف تواس بات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ پاکستا ن میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے  تو دوسری طرف یہ بھی واضح کردیا ہے کہ   یہاں  امیروں کو ان کی مرضی کا  انصاف مل سکتاہے  مگر غریب کو  انصاف کے لیے قیامت کے دن کا انتظار کرنا ہوگا  کیونکہ وہاں  مالک یوم الدین پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا۔ دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ مجرموں کو چوکوں پر لٹکایا جائے یا ان کی آختہ کاری کردی جائے  ۔ یہ بات  کس حوالے سے وزیر اعظم صاحب کہ گئے کیونکہ شریعت میں ایسے تمام جرائم کی سزا  بہت وضاحت کے ساتھ موجود ہے  ۔شرعی قوانین کی موجودگی میں  اپنی منطق  ہانکنا کہا ں کی عقلمندی ہے ۔جب کہ آئین پاکستان کی رو سے کوئی ایسا قانون  نہیں بنا یا جاسکتاجو قرآن و سنت سے ٹکرا تا...

سانحہ موٹروے اور سزائے موت

لاہور موٹروے پر ہونے والا ڈکیتی اور زیادتی کا انتہائی دردناک واقعہ قابل مذمت اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اس واقعے کے بعد زبردست عوامی احتجاج اور غصہ دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں قلیل مدت میں پولیس نے مجرموں کو پکڑ لیا اب جب کہ مجرم اعتراف جرم کر چکے ہیں  حکام کا اولین فرض ہے کہ ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ زنا بالجبر کی سزا انصاف کے مطابق دی جائے۔ ایسا کرنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور اس قسم کے واقعات میں کمی آئے گی جیسا کہ ایک عرصہ سے زیادتی اور قتل کے واقعات ہورہے ہیں خاص طور پر بچوں سے زیادتی  اور ان کے قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ  واضح طور پر مجرموں کو سزا نہ دینا ہے ۔ ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس کی جرات نہ کر سکے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے یہ اور بھی ضروری ہے کہ  مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا دی جائے اور انصاف کو یقینی بنایا جائے اس ضمن میں کچھ تنظیمیں  پھانسی اور سزائے موت کو انسانی حقوق کے  خلاف قرار دے رہی ہیں  تو  ان کے لیے یہ واضح ہو کہ قرآن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے" ایک قاتل کو سزائے موت دینا  کئی انسانی جانوں کو تحفظ دینے کے مترادف ہے  اسی طرح ایک زانی کو سزا دینا کئی عصمتوں کو محفوظ کرنے کے برابر ہے قرآن میں سورہ نور میں اس کے بارے میں واضح احکام ہیں، مجرموں سے ہمدردی سے منع کیا گیا ہے اور سر عام سزا کا حکم دیا گیا ہے تاکہ  لوگ عبرت حاصل کریں۔ ان  احکام  کےآگے اپنی بات کرنا، دوسری  سزائیں تجویز کرنا اور تاویلیں تراشنا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا  لہٰذا موٹروے پر ہونے والے واقعے اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام سزائے موت دینی چاہیے تاکہ آئندہ ہمارے ملک میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں اس کے ساتھ ہی ایسے عوامل کا سدباب بھی ضروری ہے جو ان جرائم کا سبب بن رہے ہیں معاشرے میں حیا اور حجاب کو عام کریں میڈیا پر بھی بے پردگی کو مسترد کریں تاکہ معاشرے میں حیاداری اور پاکیزگی کو فروغ ملے.

لکھاری کی سرمایہ کاری

لکھاری کا تعلق لکھنے کے شعبے سے ہے۔ لکھنے کے لیے خیالات اور الفاظ چاہیے ہوتے ہیں۔ خیالات کے لیے سوچ اور تفکر لازمی امر ہے جبکہ الفاظ کے لیے مطالعہ۔ مطالعہ اچھا ہو تو سوچ اچھی بنتی ہے، سوچ اچھی ہو تو خیالات بھی اچھے ہونگے۔ گفتگو میں نکھار پیدا ہوگا اور الفاظ میں جادو۔ آپ بات کریں گے اور لوگ سننے کے لیے بیٹھ جائیں گے الفاظ ادا کیے جائیں تو یہ صوتی شکل ہے اور اگر لکھاری قلمکاری کردے تو یہ مکتوبی۔ اچھے الفاظ تو دیپ ہیں جو روشن ہوجاتے ہیں۔ یہ نوک زبان سے ادا کیے جائیں یا نوک قلم سے بیاں، یہ اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ دیپ روشن ہوجاتے ہیں یہ لکھاری کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔ یہ لکھاری کی سوچ کو عیاں کرتے ہیں، یہ لکھاری کے مطالعہ کا پتہ دیتے ہیں۔اس نفسا نفسی کے دور میں دیپ جلانا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں۔ مشکل کام ہے؟ کیونکہ یہ دیپ گُل کردیے جاتے ہیں، بجھا دیے جاتے ہیں۔ ادھر آپ ایک دیپ جلائیں وہاں حضرت انساں اسے گُل کرنے کی ہزاروں ترکیبیں لیے بیٹھے ہیں۔ دیپ جلانے والے کو مار دیا جاتا ہے جو اپنے خون سے دیپ روشن کرتا ہے۔ اس کے الفاظ کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے فاقوں سے مرنے کی سزا دی جاتی ہے۔اسے طنزاّ فلاسفر، اور مفکر کے نام سے راہ چلتے بے عزت کیا جاتا ہے۔ اس کے جلائے ہوئے دیپ سے روشنی حاصل کرنے کے باوجود اسے بےقدری و بے توقیری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بظاہر لگتا ہے یہ گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لفظوں کی سرمایہ کاری کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک الجھی ہوئی قوم کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اپنے خون سے جلائے گئے دیپ سے روشنی دینا چاہتا ہے، لکھاری بھی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

مچھر

دو سال پہلے کی تحریر کہنے کو اڑتا ہوا کاٹنے والا کیڑا یا اڑ کر کاٹنے والا کیڑا ۔ اڑتے تیر کی طرح ہی سمجھ لیں ہماری اپنی وجہ سے ہی کاٹتا ہے ۔ یہ گندی جگہ پیدا ہوکر صاف جگہ پر کاٹتا ہے ، یاد رہے صاف جگہ پر ، مگر اب اس کو شکایت ہے کہ صاف جسم مل نہیں رہا ۔ یہ سوتے ہوئے لوگوں کو کاٹتا ہے اور جاگتے ہوؤں کو سونے نہیں دیتا ۔ یعنی مچھر زیادہ ہوں تو قوم جاگ جائے گی ، ویسے اب قوم جو جاگی ہے مچھروں کی بھن بھن سے جاگی ہے ۔ مچھر کی خوبی یہ ہے کہ اگر نر ہو تو بیمار نہیں کرتا اگر مادہ ہو تو بیمار کر دیتی ہے مگر تیمارداری اور بیماری کے بعد خدمت نہیں کرتی ۔ ہماری مادائیں یا مادامائیں بیمار کرکے خدمت بھی کرتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے (یعنی خوردبین سے) تو مچھر میں حسن بھی ہے اس کے جسم پر ہلکی ہلکی نرم ریشمی زلفیں بھی ہوتی ہیں ، کبھی ریشمی زلفوں میں انگلیاں ڈال کر سنواریں بہت مزہ آتا ہے ۔ ہم جب کنوارے تھے تو زلفیں بکھیر کر سنوارا کرتے تھے ۔ (اپنی زلفیں) مچھر کی زلفوں میں انگلیاں نہیں پھیری جاسکتی ہیں وہ مر جائے گا ۔ ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرنے سے آپ بھی مارے جاسکتے ہیں ، اگر کسی کے بھائی زیادہ ہوں ، مچھر کافی کمزور کیڑا ہے تالی سے مر جاتا ہے ۔ آپ بھی تالی کے بیچ میں منہ ڈال کر دیکھیں کافی سیلز مر جاتے ہیں ۔ ہمیں اس بات پر اختلاف ہے کہ "ایک مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے" اگر ایسا ہوتا تو آفریدی کے چھکوں پر تالیاں بجانے والے کروڑوں لوگ ہیجڑے ہوتے ، شادی کے گیتوں پر تالیاں بجانے والے بھی ہیجڑے ہوتے ، ہاں کسی کے نقصان پر تالیاں بجانے والے ہیجڑے ہوتے ہیں ۔ اور ویسے بھی مچھر انسانی جان کا دشمن ہے ، جنگ اور محبت میں سب جائز ہے ، دشمن کو تالی سے مارا جائے یا محبت کو تالی بجا کر حاصل کیا جائے جائز ہے ۔ اس میں ہیجڑا کہنا صحیح نہیں ۔ مچھر پالتو کیڑا نہیں ہے ، مگر گھر میں بنا اجازت پل جاتا ہے آپ کے ہمارے خون پر ۔ مچھر خون پیتا ہے چاہے کسی انسان کا خون سفید ہوگیا ہو ، چاہے کالا ہو ۔ مچھر کسی کو کاٹنے میں تعصب نہیں برتتا ہے ، یہ رنگ و نسل دیکھے بغیر خون پیتا ہے ۔ اس میں امریکہ والی کوالٹی ہیں ، امریکہ بھی جب کاٹتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ چپٹا ، کالا ، گورا کون ہے سامنے ۔ مچھر کی عمر ایک سے ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے اس تھوڑے سے عرصے میں وہ بغیر قرضے اور امداد کے اپنی زندگی گذار لیتا ہے ۔ مچھر سے بچنے کے لیے لوگ اسپرے کرتے ہیں بلدیہ والے بھی اسپرے کرتے ہیں اس اسپرے کے بعد اور مچھر بڑھ جاتے ہیں ۔ ہمارے پاس دستیاب اسپرے کے مچھر عادی ہوچکے ہیں ان کو اسپرے کے بعد نشہ چڑھ جاتا ہے اور وہ مزید کاٹتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، نشے کے بعد زیادہ بھوک لگتی ہے...

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

جب آپکی طبعیت لکھنے پر مائل نہ ہو تو آپ کچھ بھی نہیں لکھ سکتے کیونکہ لکھنے کیلئے صرف کاغذ قلم نہیں چاہئیے ہوتا ہے بلکہ وہ احساس جذبات اور کفیت بھی چاہئیے ہوتی ہے جس موضوع پر آپ لکھنا چاہتے ہوں,الفاظ کا بھی ایک تقدس ہوتا ہے یوں ہی تو نہیں ہوتا ناں وہ کہ بس قلم اٹھایا اور صفحات کا پیٹ بھر دیا۔  میری طبعیت بھی عمران خان کے بیانات کی طرح دن میں کئی دفعہ یو ٹرن لیتی ہے کبھی خوشی کبھی غم جیسی کفیت ہوتی ہے جب آپ زمانے کی کارستانیوں میں پھنسے ہوئے ہوں تب پھر اگر آپکو فرصت کے لمحات میسر آ بھی جائیں تو تب الفاظ یوں دور بھاگتے جیسے پولیس کو دیکھ کر چور۔ خیر میں لکھنے کیلئے کبھی مصنوعی سہاروں کا سہارا نہیں لیتا (مطلب طبیعت پر زبردستی نہیں کرتا) اور میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی ذات کیلئے وہ کام ضرور کرنا چاہئیے جس میں وہ اپنی ذات کا ذہنی سکون اور راحت محسوس کرتا ہو تو "میں" لکھنے میں بھی راحت محسوس کرتا ہوں دوسرا میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے بیٹا دنیا مُشکلات کی دلدل ہے اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو قانونی اور قلم کی نوک سے عبور کرنا اس بات کا مطلب آج بابا کے جانے کے بعد یقیناً احساس دلاتا  ہے کہ بابا نے ایسا کیوں کہا تھا۔ آج ڈپریشن ہو چاہے وہ نجی زندگی کے معاملات ہوں یا کاروباری معاملات کی جھنجٹ اُس سے چھُٹکارہ پانے کے لئے میرا قلم ہی بہترین ہتھیار ہے۔ بابا کے جانے ک بعد بہت ساری دنیاوی مشکلات کے سمندر میں غوطہ زن ہوں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کشتی کنارے پر کب پہنچے گی لیکن میرا قلم مُجھے میرے قارئین سے جوڑے رکھتا ہے, یہ قلم ہی ہے جو مُجھے بدترین ذہنی دباؤ سے نکلنے میں میری مدد کرتا ہے اور مجھے راحت کا احساس دلاتا ہے۔ انہی درج بالا نکات کیوجہ سے لکھتے لکھتے دوستوں کی نظر میں ہم لکھاری بنتے گئے حالانکہ میں لکھاری آج بھی خود کو نہیں مانتا دو چار لائینز سے کورے کاغذ کو کالی سیاہی سے بھر دینے کو رائیٹر نہیں کہتے خیر آج بھی جب اپنے پسندیدہ موضوع پر لکھنے کا سوچتا ہوں تو منیر نیازی نے صرف دیر کی تھی مگر میں بہت دیر کر دیتا ہوں بہرحال دیر آید درست آید پر مصداق آ جاتے ہیں جب سر خلیل احمد صاحب(کالمسٹ, آر جے) جیسے  غلطیاں نکالنے والے استاد ملیں تو شاگردوں کی تو گویق چاندی ہی ہو جاتی ہے اور سر نے میری مختلف تحاریر پڑھنے کے بعد نیوز پیپر میں لکھنے کا مشورہ دیا تھا (جو ابتک جاری و ساری ہے) ۔ محترمہ بہن تہمینہ رانا صاحبہ Tahmina Rana (سینئیر جرنلسٹ نیوز اینکر کالم نگار نوائے وقت )جیسی استاد کی راہنمائی اور پذیرائی ملے تو حوصلے زمین سے آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔  الحمداللہ جب بھی آج تک جو بھی آرٹیکل کسی پروفشنل اخبار یا بلاگ میں بھیجا تو اشاعت کی سند پا گیا جو میرے لئیے اعزاز کی بات ہے۔  میں تعمیری تنقید کو...

اُف! یہ آن لائن پڑھائی

مس کیا میں پانی پی لوں؟؟؟؟ پہلی جماعت کے طالب علم نے استانی صاحبہ سے پوچھا ۔تو استانی کہنے لگیں ۔کہ جی پی لیں۔اب بچہ نے کہا کہ مس کون سے بٹن کو دبانا ہے کہ پانی آئے؟؟؟  اب لمحہ بھر کے لیے تواستانی صاحبہ کو بھی نہ سمجھ آسکا کہ یہ بچہ کیا کہ رہا ہے!!!!! پھر وہ گویا ہوئیں اور کہنے لگیں۔کہ آپ جائیں اور پانی پی لیں۔اب بچے کا وہی سوال تھا۔اور کہنے لگا کہ لیپ ٹاپ کے کونسے بٹن کو دبانا ہے پانی پینے کے لیے؟؟؟؟؟ استانی نے یہ جملہ کہنے سے اپنے آپ کو روکا یہ کہنے سے “کہ بیٹا یہ ٹیکنالوجی کی اس حد تک ہم ابھی نہیں پہنچے ہیں “۔اور پیار سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگیں کہ آپ اٹھ کر جائیں اور پانی پی لیں کہ لیپ ٹاپ میں ایسا کوئی بٹن نہیں کہ جہاں سے پانی آسکے۔ دراصل بچہ یہ سمجھ رہا تھا کہ جب کلاس آن لائن ہورہی ہے تو سارے ہی کام آن لائن کرنے ہوں گے۔ تھوڑی دیر بعد استانی نے کہا کہ بیٹا ہاتھ کھڑا کریں ۔سارے بچہ ہاتھ کھڑا کرنے لگے کہ انھوں نے کہا کہ بیٹا یہ جو اسکرین پر ہاتھ بنا آرہا ہے ۔اسے کھڑا کرنا ہے۔بچے اپنا ہاتھ اسکرین کے قریب لا کر کھڑا کرنے لگے ۔اب استانی نے پھر بڑے پیار سے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا  کہ جو پیلے رنگ کا ہاتھ اسکرین پر نظر آرہا ہے اسے کلک کریں۔ اب کچھ بچوں کو تو سمجھ میں آیا اور کچھ کو نہیں۔ اور اس کے بعد اب باری تھی کہ استانی کچھ پڑھا رہی تھیں اور سلائیڈ دکھا رہی تھیں کہ استانی کی تصویر نظر آنا بند ہوگئ ۔اب تو بچوں نے بھیں بھیں کرنا شروع کر دیا اور ساتھ کہ دیا کہ ہمیں نہیں پڑھنا۔ ساتھ بیٹھی بچوں کی امی کو تو غصہ آیا کہ تم لوگوں کو ایک تو میں ساتھ بیٹھ کر پڑھا رہی ہوں اور تمھارے نخرے ختم نہیں ہورہے ۔سامنے اسکرین پر دیکھو۔ لیکن وہ بچہ ہی کیا جو ماں کی ایک سُن لے۔اسکرین کو دیکھنے سے صاف منع کر دیا کہ نہیں دیکھنا اسکرین پر جب تک استانی نظر نہ آئیں۔ ماں نے بھی اپنے آپ کو کنٹرول کیا اور ابھی وہ کچھ سمجھاتیں کہ استانی کی شکل اسکرین پر نظر آگئ ۔اب کچھ لمحات ہی گزرے ہوں گے کہ انٹر نیٹ کے کنکشن میں مسئلہ ہوا اور اب اسکرین پر نہ تو تصویر آرہی تھی اور نہ ہی کوئی سلائیڈ۔ اور بچہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ یہ تو اب کھیلنے کا وقت ہے۔ ماں نے پھر کوششیں کرنا شروع کیں اور بالآخر نیٹ بحال ہوا تو ماں باورچی خانہ سے آتی تیز جلنے کی بو پر وہاں سے بھاگی ۔مگر اس وقت تک وہ بڑی محنت ومشقّت سے پکائے  گئےسالن سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں۔ دو آنسو آنکھوں سے نکلے اور اس نے دوبارہ سے پیاز چھیلی و کاٹی۔اب یہ پیاز چھیلنے و کاٹنے کے بعد وہ بچہ کو دیکھنے گئیں تو وہ بچہ یو ٹیوب کھولے بیٹھا تھا۔ اور یہ دیکھ کر ماں کی یہ حالت کہ شاید وہ کچھ اٹھا کر ہی بچہ...

فاصلہ رکھیئے ورنہ محبت ہو جائیگی

عموماً ہم جب کہیں محو سفر ہوتے ہیں تو گاڑیوں کے پیچھے طرح طرح کے قیمتی جُملے یا اشعار ہماری نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ مُجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں سے ٹکر لینے کی بجائے ڈر کے مارے ٹرکوں کے پیچھے چُھپنے کو ہم ترجیح دیتے تھے , اک تو ٹھنڈی ہواؤں سے محفوظ رہتے دوسرا ٹرکوں کے عقب میں لکھے اشعار سے محظوظ ہوتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی یہ فضول شاعری (جسے ہم سمجھتے ہیں) بہت کام آ جاتی ہے، درج ذیل شعر میں نے تازہ تازہ ٹرک کے پیچھے سے پڑھا تھا۔آگے کلاس میں جا کر ہماری اُردو کی میم محترمہ شازیہ سجاد صاحبہ نے گاڑی پر سفر کی آب بیتی لکھنے کو کہا تو درج ذیل شعر میں نے لکھ ڈالا تھا اوپر سے خوشخطی کے الگ نمبر مجھے میم کی طرف سے پورے دس کے دس نمبر ملے تھے۔ آج پھر میری گاڑی کے سامنے میرا یار آیا خوشی تو بہت  ہوئی  رونا بھی  بار بار آیا پاکستان میں‌کسی بھی شاہراہ پر چلے جائے وہاں آپ کوبہت سی ایسی گاڑیاں ملیں گی جن کے پیچھے بے حد مزاحیہ اور عشقیہ اور عجیب و غریب فقرے لکھے ہوئے ملیں گے اور کچھ تو بہت پتے کی باتیں‌بھی لکھی ہوئی ملتی ہیں آج ہم آپ کو پاکستان میں موجود رکشوں اور بڑی گاڑیوں پر لکھی گئی شاعری کے کچھ نمونے دکھانے جارہے ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گے اگر کوئی دلچسپ جملہ آپکی نظر سے بھی گزرا ہو تو ضرور لکھیں ....... " رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے"........ گلوکار ملکو نے یقیناً اپنے اس گانے کا مکھڑا کسی ٹرک کے پیچھے سے ہی لیا تھا۔ کیونکہ یہ جملہ ٹرکوں اور رکشوں پر محفوظ ادب کا ہی ایک شاہکار ہے۔ دوران سفر ہمیں سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے ایسے ہی دلچسپ اشعار اور جملے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ ذرائع آمد ورفت اور خاص کر ٹرک کے پیچھے لکھی دلچسپ عبارتیں ۔۔ جسے ڈرائیور استاد اوران کا 'چھوٹا یعنی کلینر 'شاعری کہتے ہیں۔۔ بہت دفعہ آپ کی نظر وں سے گزری ہوگی۔ دراصل یہ عبارتیں ٹرک کے اندر بیٹھے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ جبکہ ڈرائیورز کا اپنا کہنا یہ ہے کہ ان کی لائف گھر میں کم اور سڑکوں پر زیادہ گزرتی ہے۔ بس سفر ہی سفر۔۔ اور تھکن ہی تھکن۔۔ ایسے میں اگر ایک ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو اپنے جذبات سے آگاہ کرے بھی تو کیسے۔۔۔ پھر چلتے چلتے دوسروں کو ہنسنے اور خود کو ہنسانے کے لئے یہ عبارتیں مفت کا ٹانک ہیں۔ نواں آیاں ایں سوہنیا؟،۔۔۔ “فاصلہ رکھیے ورنہ محبت ہو جائے گی”،” شرارتی لوگوں کے لیئے سزا کا خاص انتظام ہے”،”ساڈے پچھے آویں ذرا سوچ کے”،”دیکھ مگر پیار سے”،”پیار کرنا صحت کے لیئے مضر ہے”،” صدقے جاؤں پر کام نہ آؤں”،” باجی انتظار کا شکریہ”۔۔۔! دانشوری کے ان اعلیٰ نمونوں کو پڑھ کر ایک بارتو بندا مُسکرا ہی اٹھتا ہے...... ؎ہماری 'سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری ہے، دیکھ تو اے دوست...

صلائے’’آم‘‘ہے یارانِ۔۔۔۔۔۔

مسئلہ فیثا غورث کی طرح میرے لئے یہ مسئلہ بھی ابھی تک مشکل اور حل طلب ہے بلکہ ایک معمہ ہے کہ آم کھایا جاتا ہے یا چوسا کم چوپا جاتاہے۔ایک دانشور دوست سے دست بستہ ہوا تو بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں اس طرح گویا ہوئے کہ آم کھائو گٹھلیاں نہ گنو۔جواب تسلی بخش نہ پا کر تشفی قلب کے لئے محلہ کے پرانے بزرگ شیخ صاحب سے معمہ کے حل کے لئے عرض کیا تو انہوں نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں شیخانہ حل بتایا کہ دیکھو بیٹا اگر تو اپنے ’’پلے‘‘ سے خریدا جائے تو کھایا جاتا ہے وگرنہ ’’چوپا جاتا ہے۔مجھے حیران و ششدر دیکھتے ہوئے خود ہی تفصیل بتانے لگے کہ دیکھو بچے جب آپ اپنے گھر سے کھاتے ہو تو بڑی احتیاط سے اور کم کم کھاتے ہو لیکن جب کسی دوست کی شادی پر کھاتے ہو تو کیا حساب رکھتے ہو؟بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دوست تو اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک معدہ اور آنکھیں بند نہ ہو جائیں۔اسی لئے آم خریدیں ہوں تو کھائے جائیں گے وگرنہ ’’چوپے‘‘جائیں گے۔آئی بات سمجھ میں۔اگر دوستو!آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے تو نکل پڑو ایسے سفر پر جس کا اختتام ملتان میں کسی دوست کے ہاں ہوتا ہو۔کیونکہ میں نے تو اس دن سے یہ فلسفہ پلے باندھ لیا ہے اور جب کبھی بھی مینگو پارٹی ہو تو آم کھاتا نہیں چوپتا ہوں،گھٹلیوں کا حساب دوست احباب لگا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں آم اور سیب کے کھانے میں فرق صرف تہذیب کا ہوتا ہے۔آم واحد پھل ہے جسے جس قدر بدتمیز ہو کر کھایا جائے اتنا ہی مزہ آتا ہے۔آم کھانے کے انداز نے تو بڑے بڑوں کے پول کھول دئے ہیں اب آپ چچا غالب کی شائستگی کا ہی اندازہ لگا لیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا مرغوب پھل کون سا ہے؟تو کہنے لگے کہ آم ،مگر دو شرطوں پہ۔وہ کون سے سرکار، تو کہنے لگے کہ میٹھا ہو اور ڈھیر سارا ہو۔جب کبھی بھی دوستوں کی طرف سے آم کا ’’چڑھاوا‘‘آتا تو آستین اوپر چڑھا لیتے اور خوب جی بھر کر کھاتے۔اسی لئے غالب آموں کے موسم میں اکثر بدتمیز ہی دکھتے ۔شکر ہے غالب میاں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ملتان میں ہوتے تو صاحبِ دیوان ہونے کی بجائے ’’صاحبِ گلشن آم‘‘ہوتے اور بہت ہی ’’عام‘‘ ہوتے۔حیات غالب کا ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میاں غالب اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر چبوترے پر تشریف فرما تھے کہ ایک گدھا آم کے چھلکوں کے ڈھیر تک گیا،اسے سونگھا اور چلتا بنا۔دوستوں نے ازراہِ تفنن غالب پہ جملہ کسا کہ دیکھو غالب میاں’’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘۔غالب برجستہ بولے کہ ’’جی ہاں واقعی گدھے ہی آم نہیں کھاتے‘‘۔ لو جی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،غالب تک تو بات ٹھیک تھی میں نے تو ایک کتاب میں یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال کو بھی اس افضل الاثمار یعنی آم سے رغبتِ خاص تھی۔ایک سال حکیم صاحب نے علامہ صاحب کو ہدائت فرمائی کہ آموں سے...

ہمارے بلاگرز