محبوب الٰہی مخمور

1 بلاگ 0 تبصرے
محبوب الٰہی مخمور نامور قلم کار ہیں ،دوشیزہ،سچی کہانیاں،مسرت،ماہنامہ ریشم اور دیگر رسائل و جرائد کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ان دنوں کراچی سے شایع ہونے والے ماہ نامہ انوکھی کہانیاں کے مدیر ہیں۔

خون کی سیج

اگر آپ کی یادداشت بہت اچھی ہے تو مجھے یقین ہے کہ آج سے پندرہ سال پہلے چھپنے والی ایک خبر ابھی تک آپ...

اہم بلاگز

روشن ستارے

یہ معاذ کہاں چلا گیا؟ پارک میں بیٹھی سارہ کو اپنا بیٹا معاذ کچھ دیر سے نظر نہ آیا تو فکرمندی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ تھوڑا ڈھونڈنے کے بعد اسے دور معاذ کھڑا دیکھائی دے رہا تھا، اس کے ساتھ کچھ اور بچے بھی تھے اور وہ کسی بات کے بارے میں تجسس میں لگ رہے تھے۔ سارہ بھی ان کے پاس چلی گئی اور جا کر پتہ چلا وہاں کسی پرندے کا گھونسلہ ہے اور اس میں پرندے کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ معاذ اور اس کے ابھی کچھ دیر پہلے پارک میں بنے دوست اس پرندے کے بچوں کو اپنی تفریح کا سامان بنائے بیٹھے ہیں اور تو اور وہ پرندہ جب اپنے گھونسلے میں آنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اسے بھگا دیتے ہیں، معاذ سارہ کے پوچھنے پر چہک چہک کر اسے اپنی کارگزاری کی روداد سنا رہا تھا۔ سارہ نے گھونسلے کو دیکھا تو چڑیا کے پچے انسان کے بچوں کے رویے سے پریشان شور مچا رہے تھے اور چڑیا بھی دور بیٹھی بے بسے سے دیکھ رہی تھی اور قریب آنے کی کوشش میں بار بار پیچھے بھگا دی جاتی تھی۔ سارہ نے سب بچوں کو اگٹھا کیا اور ان سے کہا آپ لوگ کب سے اکیلے کھیل رہے ہیں اب ہم سب مل کر ایک ایکٹیویٹی کرتے ہیں۔۔۔ بچوں نے بھی خوشی سے خامی بھر لی۔ سارہ نے بیگ سے بسکٹ کا ایک پیکٹ اور پانی کی بوتل نکالی، جلدی سے بسکٹ کا چورا بنایا، اور پیکٹ کھول کر ایک بچے کے حوالے کیا، بوتل کے ڈھکن میں پانی ڈالا،  معاذ کو دیا اور ان دونوں سے کہا یہ لے جائیں اور گھونسلے کے پاس رکھ کر آئیں، وہ دونوں رکھ کر وآپس آئے تو سارہ سب بچوں کو لے کر تھوڑا فاصلے پر بیٹھ گئی اور سب بچوں کو دیکھنے کا کہا۔۔۔ بچوں کے گھونسلے کے قریب سے ہٹنے پر چڑیا فوراً سے گھونسلے پر آ گئی، چڑیا کو دیکھ کر اس کے بچے بھی خوش ہوئے، پھر چڑیا نے وہاں سے پانی لیا اور بسکٹ کا چورا بھی خود بھی کھایا اور بچوں کو بھی دیا یہ سارا منظر سب بچے انہماک سے دیکھ رہے تھے، چڑیا کے پانی اور بسکٹ لینے پر ایک خوشی بچوں کے چہرے پر دوڑ جاتی۔ اب وہ حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اتنے میں معاذ نے آواز لگائی،، وہ دیکھو! چڑیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور سمائیل بھی کر رہی ہے وہ شاید ہمیں تھینک یو  بول رہی ہے۔ سب کے پھول سے جیسے چہروں پر معصومیت اور خوشی بکھری تھی۔ سارہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب سے پوچھا اب بتاؤ؟ ایسے چڑیا کی مدد کر کے اچھا لگ رہا ہے یا اسے تنگ کر کے اچھا لگ رہا تھا؟ سب بچے یک زبان بولیں تھے چڑیا کی ہیلپ کر کے۔ سارہ مسکرا دی تھی۔۔۔ اچھا تو اس سے ریلیٹڈ آپ سب کو ایک واقعہ سناؤں؟؟ جی۔۔۔۔۔ سب بچوں نے کہا تھا۔ اچھا تو آپ سب کو پتہ ہے ہمارے آئیڈیل کون ہیں؟ معاذ آپ بتاؤ؟ ہمارے آئیڈیل ہمارے پیارے نبی صلی...

تحریکی منہج، اسلام اور سیدؒ کی فکر‎

بیسويں صدی مسلمانان برصغیر پر جہاں بہت سارے امتحانات کی صدی ہے وہیں اس صدی میں بہت سی عالمگیر شخصیات نے تعلیم یافتہ طبقہ پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ جن میں سید مودودیؒ ،حضرت علامہ اقبالؒ ، ڈاکٹر اسراراحمدؒ ، اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی آواز اور فکر نے تحریک اسلامی کو بہت جلا بخشی ہے۔ ہمارے ہاں بن دیکھی ،دوسروں سے سنی بات کو ریفرنس بنانے کا کلچر بہت زور پکڑ رہا ہے، حقیقت پسندی اور تحقیق سے کوسوں دور اس قوم نے بہت نقصان اٹھایا ہے پوری دل جمعی سے اگر اسلام کا جامع تصور سامنے رکھا جائے تو ان دور اندیش اصلاح کاروں کو بھولنا کسی بڑ ی حماقت سے کم نہیں ہے۔ ان تمام حضرا ت نے اسلامی تشخص و تہذیب ، احیائے دین اور اندھی مغرب پرستی سے عوام الناس کو بیدار کیا ہے، ہمارا بہت سااعلی تعلیم یافتہ طبقہ مکمل طور پر مغر بی تہذیب کا دلد ادہ ہو چکا ہوتا اگر، یہ لوگ اسلا م کو چند رسو ما ت تک محد و د رکھتے، جمود کو جو کاری ضرب انکی فکر سے لگی پورا مغر ب آج بھی اس سے حواس باختہ ہے،یہ وہ حقیقت ہے جسے کسی صورت انکار نا ممکن ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک فہم اسلام کیا تھا؟ اور وہ کونسا اسلام غا لب دیکھنا چاہتے تھے؟ کیا اسلام صرف چند عقائد ، عبا دا ت ، اور رسم ادا کر دینے کا نام ہے ؟ قرانی فکر ، سیر ت پاک ، اور 30 سالہ خلافت راشد ہ کا تھوڑا سا بھی فہم رکھنے والا انسان سچا اور کھرا جواب جانتا ہوگا کہ:نہیں، بلکل بھی نہیں ۔۔!!!اسلام تو انسانی زندگی میں تحریک پیدا کرنے والا پورا ضا بطہ حیات ہے جو ایمانیات ، عبادات ، اخلاقیات ، معاملات ، سماجی معاشی و سیاسی معاملات کا پورا کامل رہنما ہے۔ زند گی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں پر اسلام انسانی فطرت کے مطابق راہِ ہدایت نہ ہو۔ یہی فکر سید مو دو دیؒ نے اصل فہمِ دین کے ساتھ لوگوں میں دوبارہ اجا گر کرنے کی عملی کوشش کی، اسلام کے تصور حیات کو واضح کیا، ایک شاندار تحریک کا آغاز کیا، قرآن کو عام فہم کیا ، (جدید دور میں اصل فکر) قرآن سے لوگوں کو ہم آہنگ کیا ، عمرانی فکر بھی دی تاکہ شد ت پسندی ، اور جمہوری روایات اسلام سے ایک اسلامی جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے۔ وطن عزیز میں 70 سال تک اسی فکر کو اسلامی تحریکو ں نے عام لوگوں تک پہنچا نے کی زبردست تگو دو کی، بشر ی تقا ضے کے پیش نظر کچھ کمی کوتاہی قابل قبول بات ہے مگر حق و صداقت کے چراغ کبھی گل نہیں ہو کرتے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب چاہے اکتسا بی بنیادوں پر ہویا خالص روحانی بنیاد پر جمو د ٹوٹ رہا ہے،تحرّک پل بڑھ رہا ہے، اس خوش آئند بات کوقدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ حق کی تمام ندیا ں کبھی کسی صورت جدا نہیں رہ سکتیں، آخر جب مقا صد...

جوش ملیح آبادی کی نظم رشوت کا تجزیاتی مطالعہ

جوش ملیح آبادی ہمارے اردو ادب کے ایک اہم شاعر تصور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو شاعر شباب اور شاعر انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔جوش کے کلام میں آہنگ، نغمگیت، موسیقیت، عظمت انسانی کے پہلوں، کردار نگاری کی بہترین مثالیں، انسانی نفسیات اور معاشرے کی پھلی ہوئی برائیوں کی ترجمانی دیکھنے کو ملتی ہے۔آپ کا شمار ترقی پسند شاعروں میں کیا جاتا ہے۔اس لیے جوش نے عام انسان کے درد و غم اور اس کے استحصال کی بھی ترجمانی کی ہے۔ ان کے کلام میں تشبیہات اور استعارات کی ایک نئی دنیا دیکھنے کو ملتی ہے۔ جوش نے اپنی نظموں میں ایسے ایسے کمالات دیکھائے ہیں جس کا مطالعہ کرنے کے بعد عقل حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتی ہے۔یہ ہی وہ خصوصیت ہیں جو ان کو اپنے ہم عصر شعراء میں منفرد پہچان دیلاتی ہے۔ یوں تو جوشؔ نے بہت سی شاہکار نظمیں تخلیق کی ہیں لیکن ان کی نظم'' رشوت'' ایک الگ ہی نوعیت کی حامل ہے آئیے اس مضمون میں ان کی نظم'' رشوت'' کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں۔ جوش نے اپنی اس نظم میں رشوت خوری کے ساتھ ساتھ سماج کی نابرابری ظلم و جور استحصال مہنگائی کی مار اور انسانی نفسیات و خواہشات کی شاندار مرقع کشی کی ہے اور سماج کے جھوٹے رسم و رواج پر طنز کیا ہے۔ جوشؔ اس بات کی طرف بھی قاری کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ کس طرح رشوت خوری کا بازار معاشرے میں گرم ہے اور کیسے کیسے جرائم اس کے سبب جنم لے رہے ہیں۔ جوش نے اس نظم میں ایک ایسے نظام کی عکاسی کی ہے کہ کس طرح رشوت نے اپنا قبضہ معاشرے میں جمع رکھا ہے۔جب وہ رشوت لینے والے کو غیرت دلاتیہیں۔ تو وہ نئے نئے بہانے بنانے لگتا ہے اس کو جائز بتاتا ہے۔ جوشؔ کی نظم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ایک رشوت لینے والا کہتا ہے لوگ ہم سے کہتے ہیں رشوت لینے کی عادت کو ترک کر دیں رشوت لینا چھوڑ دیں رشوت خوری انسان و انسانیت کے لئے ٹھیک نہیں۔ اس سے توبہ کر لیں یہ ایسی تجارت ہے جو سماج کو برباد کر رہی ہے اور اخبارات میں بھی اس کی برائی کے بارے میں پڑھنے کو ملتا ہے۔  کیوں  کہ یہ سماج کے لئے ایک بری عادت ہے تصور کی جاتی ہے۔لیکن اگر ہم رشوت نہ لیں تو پھر اس مہنگائی کے دور میں اپنے آخراجات کو کس طرح پورا کریں۔ اگر رشوت کے نظام کو ختم کرنے کے لیے ہم رشوت لینے والوں کو قید کر لیں اور ان کو سزایں بھی دیں تب بھی وہ اپنی   عادت سے باز نہیں آتے ہیں۔ کیوں کہ آج کے دورمیں جس طرح اس مہنگائی نے سر اٹھا رکھا ہے اور ایک ادنیٰ سی دیکھنے والی رائی کی قیمت پہاڑ کے جیسی  بلندی چھو رہی ہے یعنی مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہے۔ رشوت کے ساتھ ساتھ کالابزاری بھی اہم ہے کیوں کہ کالابزاری کے سبب ہی چیزوں کے دام بڑھے ہیں چاہے وہ مل والے ہوں،دکاندار ہوں یا ساہوکار ہوں سب کے سب چور و...

اردو زبان اور مسئلہ تذکیر و تانیث

میں خود اور میرے بہت سے دوست ایسے ہیں جو روز مرہ اردو تکلم میں تذکیر و تانیث میں کئی دفعہ تردد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر جو لوگ شروع سے انگلش بولتے ہوں یا پشتو  ان کی مادری زبان ہو تو ان کے ساتھ یہ معاملہ اور بھی سنجیدگی اختیار کر جاتا ہے۔میں نے اپنی تحریر میں ان دو زبانوں کا تخصیص سے ذکر اس لئے کیا کیوں کہ میری محدود نظر صرف ان ہی کا اندازہ لگا سکی۔ انگلش تکلم کی نظیر کے طور پر میں ملک کی ایک سیاسی شخصیت کو پیش کرنا چاہتا ہوں، اگر ٹی وی پر ان کی پریس کانفرنس یا کسی جلسہ سے خطاب چل رہا ہوتو میں اسے سننے کے بجائے اگلے روز اخبار میں پڑھنے کو ترجیح دیتا ہوں، یوں میری اردو سے محبت پر ان کی تقریر براہ راست اثر انداز ہونے سے بچ جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ بھی پڑا جو مادری زبان پشتو یا کوئی اور ہونے کے باوجود اردو ایسی شُستہ بولتے کہ اردو تکلم والے بھی ان کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب کثرت مطالعہ ہی کا کمال تھا۔ جہاں تک اپنی قومی زبان اردو کے مسئلہ تذکیر و تانیث کی بات ہے تو غور کرنے پر اس کی کچھ مشابہت عربی کے ساتھ بھی سمجھ آتی ہے۔ اگرچہ عربی تکلم میں تذکیر و تانیث کا ایسا مسئلہ نہیں ہے، لیکن ایک اور معاملہ میں عربی زبان اور اردو مشترک دکھائی دیتی ہیں۔ جن حضرات کا عربی سے کبھی واسطہ پڑا ہو تو وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی زبان میں ”ثلاثی مجرد افعال‘‘ کے چھ ابواب ہیں۔ لیکن کون سا ”فعل‘‘ کس” باب‘‘ سے ہے؟ اس واسطے عربی میں کوئی خاص ضابطہ وضع نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ حضرات نے فصحاء و بلغاء کے کلام سےدلیل پکڑتے ہوئے کچھ افعال کو کچھ ابواب کے ساتھ خاص کر دیا ہے ۔ لیکن کوئی ”قاعدہ کلیہ‘‘ کہ آپ کے سامنے فعل آئے اور آپ اس قاعدہ کے پیش نظر اس فعل کا باب بیان کر دیں ، ایسا نہیں ہے۔ ہاں البتہ کچھ ایسی علامات ضرور ہیں جن سے آپ چند افعال کو چند ابواب کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ جب ہمیں یہ سبق پڑھایا جارہا تھا تو استاد محترم نے ایسی بہت سی باتیں ہمیں ذہن نشین کرانے کے بعد کہا: بقیہ افعال کےابواب پرکھنے کا ذریعہ صرف ”سماع‘‘ہے۔ یعنی جس فعل کو آپ اہل لسان سےجس باب میں سنیں اسے،اسی باب میں شمار کر لیں۔ بالکل یہی حل اردو زبان کے مسئلہ تذکیر و تانیث کا بھی ہو سکتا ہے۔ کہ کون سالفظ مذکر ، کون سا مؤنث ہے اس میں ”سماع ‘‘ ہی مدد گار ہوگا۔کیونکہ اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی کوئی قاعدہ کلیہ (ہر جگہ فٹ ہونے والا) نہیں ہے۔ ہاں البتہ اکثری ضابطہ ہو سکتا ہے؛ جیسے مثال کے طور پر جس لفظ کے آخر میں ”الف‘‘ ہو وہ اکثر مذکر ہوتا ہے جیسے: لڑکا، کھمبا،،مرغا، ڈنڈا، گدھا وغیرہ۔ اورجس کے آخر میں چھوٹی ”ی‘‘ ہو...

تدریسی دباؤ کے بھنور اور اساتذہ اکرام

غیر معمولی چوکسی،آگہی اور توجہ کے ذریعہ ایک معمولی زندگی کو غیر معمولی بنایا جا سکتا ہے۔تدریسی فرائض کی بہترانجام دہی کے لیے اساتذہ کا ذہنی رویوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔دباؤ کے باعث اساتذہ منفی رویوں کا اظہارکرتے ہیں ۔دباؤ سے اساتذہ کی صحت تباہ ہونے کے علاوہ ان کے تدریسی معیارمیں بھی گراوٹ واقع ہوتی ہے جس کے مضر اثرات طلبہ کی اکتسابی صلاحیتوں پربھی مرتب ہوتے ہیں۔اکثر دباؤ کا منبع اساتذہ کی اپنی ذات ہی ہوتی ہے۔ ابترگھریلوحالات، ہمت و حوصلے کو پست کردینے والے واقعات ، فرائض کی ادائیگی میں بے قاعدگی،تدریسی افعال کی غیر مناسب تنظیم و ترتیب ، خود اعتمادی کا فقدان،تدریس عمل میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں سے اساتذہ کا ہم آہنگ نہ ہونا دباؤ کا باعث ہوتا ہے۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی سے اساتذہ ہر قسم کے دباؤ کو یقینا نہیں نکال سکتے ہیں لیکن اپنی فکر و سوچ پر قابو پاتے ہوئے دباؤ کے اثرات سے خود کو اور اپنی تدریسی صلاحیتوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔اساتذہ اپنے ذہن پر قابوکے زریعے ہر دباؤ کا آسانی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک آدمی اپنے ذہن پر فتح حاصل نہیں کر لیتا ہے تب تک دباؤ کے حملے اس کی جذباتی اور نفسیاتی کارکردگی میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہتے ہیں۔ پیشہ وارنہ زندگی میں دباؤ پرور حالات و واقعات سے اساتذہ کو نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ لائقِ ستائش ہیں وہ اساتذہ جو ہمت و حوصلے سے دباؤ پرور حالات کا بہتر و مثبت نظریات کے زریعے جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہیں اور حالات کو اعتدال کی طر ف گامزن کرتے ہیں۔دباؤ سے مزاحمت کر تے ہوئے اساتذہ اگر ناکام بھی ہوجائیں تب بھی وہ کم از کم دباؤ کے نتائج کی سنگینی کو کم کرنے میں ضرور کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والے عوامل دباؤ کی تشخیص اور اس سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کو دباؤ کے عمومی وجوہات کا علم ضروری ہوتاہے۔ اپنا وقت ،توانائی اور فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے دباؤپرور حالات کی آگہی کے زریعے اساتذہ دباؤ سے گلوخلاصی حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ متبادل حالات اور زندگی کے لیے مہلک بننے والے ہر قسم کے دباؤ پر قابو پانے کی وہ حکمت عملیاں وضع کر سکتے ہیں۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والے واقعات اور حالات میں اکثر فرق پایا جا تا ہے۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والی چند وجوہات کو جو جسمانی و ذہنی صحت کے مسائل کا موجب بنتی ہیں ذیل میں درج کیا گیا ہے۔  (1) اساتذہ پر جب حد سے زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جاتاہے اور فرائض کی تکمیل کے لیے بہت کم وقت فراہم کیا جاتا ہے تو وہ ذمہ داریوں کی بروقت عدم تکمیل کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ (2) تعریف و توصیف ہر انسان کے لیے محرکہ کا باعث ہوتی ہے اور ہر انسان اپنے کام کی انجام دہی پر تعریف کی تمنا کرتا ہے۔ جب اساتذہ کی خدمات کو نظرانداز کردیاجاتا ہے اور فرائض کی ادائیگی پر ان کی ستائش نہیں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز