عطیہ نثار

1 بلاگ 0 تبصرے

جہاں آرا آپا (میری مربی۔میری رہنماء)۔

قیم ضلع کورنگی اجمل وحید صاحب کی والدہ تنظیم اساتذہ پاکستان کے سابق سر براہ حافظ وحید اللہ خان  صاحب مرحوم کی اہلیہ کا...

اہم بلاگز

اردو زبان اور مسئلہ تذکیر و تانیث

میں خود اور میرے بہت سے دوست ایسے ہیں جو روز مرہ اردو تکلم میں تذکیر و تانیث میں کئی دفعہ تردد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر جو لوگ شروع سے انگلش بولتے ہوں یا پشتو  ان کی مادری زبان ہو تو ان کے ساتھ یہ معاملہ اور بھی سنجیدگی اختیار کر جاتا ہے۔میں نے اپنی تحریر میں ان دو زبانوں کا تخصیص سے ذکر اس لئے کیا کیوں کہ میری محدود نظر صرف ان ہی کا اندازہ لگا سکی۔ انگلش تکلم کی نظیر کے طور پر میں ملک کی ایک سیاسی شخصیت کو پیش کرنا چاہتا ہوں، اگر ٹی وی پر ان کی پریس کانفرنس یا کسی جلسہ سے خطاب چل رہا ہوتو میں اسے سننے کے بجائے اگلے روز اخبار میں پڑھنے کو ترجیح دیتا ہوں، یوں میری اردو سے محبت پر ان کی تقریر براہ راست اثر انداز ہونے سے بچ جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ بھی پڑا جو مادری زبان پشتو یا کوئی اور ہونے کے باوجود اردو ایسی شُستہ بولتے کہ اردو تکلم والے بھی ان کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب کثرت مطالعہ ہی کا کمال تھا۔ جہاں تک اپنی قومی زبان اردو کے مسئلہ تذکیر و تانیث کی بات ہے تو غور کرنے پر اس کی کچھ مشابہت عربی کے ساتھ بھی سمجھ آتی ہے۔ اگرچہ عربی تکلم میں تذکیر و تانیث کا ایسا مسئلہ نہیں ہے، لیکن ایک اور معاملہ میں عربی زبان اور اردو مشترک دکھائی دیتی ہیں۔ جن حضرات کا عربی سے کبھی واسطہ پڑا ہو تو وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی زبان میں ”ثلاثی مجرد افعال‘‘ کے چھ ابواب ہیں۔ لیکن کون سا ”فعل‘‘ کس” باب‘‘ سے ہے؟ اس واسطے عربی میں کوئی خاص ضابطہ وضع نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ حضرات نے فصحاء و بلغاء کے کلام سےدلیل پکڑتے ہوئے کچھ افعال کو کچھ ابواب کے ساتھ خاص کر دیا ہے ۔ لیکن کوئی ”قاعدہ کلیہ‘‘ کہ آپ کے سامنے فعل آئے اور آپ اس قاعدہ کے پیش نظر اس فعل کا باب بیان کر دیں ، ایسا نہیں ہے۔ ہاں البتہ کچھ ایسی علامات ضرور ہیں جن سے آپ چند افعال کو چند ابواب کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ جب ہمیں یہ سبق پڑھایا جارہا تھا تو استاد محترم نے ایسی بہت سی باتیں ہمیں ذہن نشین کرانے کے بعد کہا: بقیہ افعال کےابواب پرکھنے کا ذریعہ صرف ”سماع‘‘ہے۔ یعنی جس فعل کو آپ اہل لسان سےجس باب میں سنیں اسے،اسی باب میں شمار کر لیں۔ بالکل یہی حل اردو زبان کے مسئلہ تذکیر و تانیث کا بھی ہو سکتا ہے۔ کہ کون سالفظ مذکر ، کون سا مؤنث ہے اس میں ”سماع ‘‘ ہی مدد گار ہوگا۔کیونکہ اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی کوئی قاعدہ کلیہ (ہر جگہ فٹ ہونے والا) نہیں ہے۔ ہاں البتہ اکثری ضابطہ ہو سکتا ہے؛ جیسے مثال کے طور پر جس لفظ کے آخر میں ”الف‘‘ ہو وہ اکثر مذکر ہوتا ہے جیسے: لڑکا، کھمبا،،مرغا، ڈنڈا، گدھا وغیرہ۔ اورجس کے آخر میں چھوٹی ”ی‘‘ ہو...

تدریسی دباؤ کے بھنور اور اساتذہ اکرام

غیر معمولی چوکسی،آگہی اور توجہ کے ذریعہ ایک معمولی زندگی کو غیر معمولی بنایا جا سکتا ہے۔تدریسی فرائض کی بہترانجام دہی کے لیے اساتذہ کا ذہنی رویوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔دباؤ کے باعث اساتذہ منفی رویوں کا اظہارکرتے ہیں ۔دباؤ سے اساتذہ کی صحت تباہ ہونے کے علاوہ ان کے تدریسی معیارمیں بھی گراوٹ واقع ہوتی ہے جس کے مضر اثرات طلبہ کی اکتسابی صلاحیتوں پربھی مرتب ہوتے ہیں۔اکثر دباؤ کا منبع اساتذہ کی اپنی ذات ہی ہوتی ہے۔ ابترگھریلوحالات، ہمت و حوصلے کو پست کردینے والے واقعات ، فرائض کی ادائیگی میں بے قاعدگی،تدریسی افعال کی غیر مناسب تنظیم و ترتیب ، خود اعتمادی کا فقدان،تدریس عمل میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں سے اساتذہ کا ہم آہنگ نہ ہونا دباؤ کا باعث ہوتا ہے۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی سے اساتذہ ہر قسم کے دباؤ کو یقینا نہیں نکال سکتے ہیں لیکن اپنی فکر و سوچ پر قابو پاتے ہوئے دباؤ کے اثرات سے خود کو اور اپنی تدریسی صلاحیتوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔اساتذہ اپنے ذہن پر قابوکے زریعے ہر دباؤ کا آسانی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک آدمی اپنے ذہن پر فتح حاصل نہیں کر لیتا ہے تب تک دباؤ کے حملے اس کی جذباتی اور نفسیاتی کارکردگی میں رکاوٹیں پیدا کرتے رہتے ہیں۔ پیشہ وارنہ زندگی میں دباؤ پرور حالات و واقعات سے اساتذہ کو نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ لائقِ ستائش ہیں وہ اساتذہ جو ہمت و حوصلے سے دباؤ پرور حالات کا بہتر و مثبت نظریات کے زریعے جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہیں اور حالات کو اعتدال کی طر ف گامزن کرتے ہیں۔دباؤ سے مزاحمت کر تے ہوئے اساتذہ اگر ناکام بھی ہوجائیں تب بھی وہ کم از کم دباؤ کے نتائج کی سنگینی کو کم کرنے میں ضرور کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والے عوامل دباؤ کی تشخیص اور اس سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کو دباؤ کے عمومی وجوہات کا علم ضروری ہوتاہے۔ اپنا وقت ،توانائی اور فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے دباؤپرور حالات کی آگہی کے زریعے اساتذہ دباؤ سے گلوخلاصی حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ متبادل حالات اور زندگی کے لیے مہلک بننے والے ہر قسم کے دباؤ پر قابو پانے کی وہ حکمت عملیاں وضع کر سکتے ہیں۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والے واقعات اور حالات میں اکثر فرق پایا جا تا ہے۔ اساتذہ میں دباؤ پیدا کرنے والی چند وجوہات کو جو جسمانی و ذہنی صحت کے مسائل کا موجب بنتی ہیں ذیل میں درج کیا گیا ہے۔  (1) اساتذہ پر جب حد سے زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جاتاہے اور فرائض کی تکمیل کے لیے بہت کم وقت فراہم کیا جاتا ہے تو وہ ذمہ داریوں کی بروقت عدم تکمیل کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ (2) تعریف و توصیف ہر انسان کے لیے محرکہ کا باعث ہوتی ہے اور ہر انسان اپنے کام کی انجام دہی پر تعریف کی تمنا کرتا ہے۔ جب اساتذہ کی خدمات کو نظرانداز کردیاجاتا ہے اور فرائض کی ادائیگی پر ان کی ستائش نہیں...

نئے اراضی قوانین : کشمیر برائے فروخت

نومبر کا مہینہ تھا اور سال ۱۹۴۷، مسلم اکثریتی صوبہ جموں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ہی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (جس کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی آج بھارت میں سرکار ہے) کی قیادت میں اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کی فوج نے مل کر انٹرنیٹ پر موجود مختلف اعدادو شمار کے مطابق دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ہارس الکذینڈرکی جانب سے ’دی سیپیکٹیٹر‘ میں شایع مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ: "دو لاکھ کے قریب مسلمان مارے گئے جبکہ ۵ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو پاکستان کی جانب دھکیل دیا گیا"۔ تب جموں میں ۶۱ فیصد مسلمانوں کی آبادی اور ہندو ۳۱ فیصد تھے۔ لیکن اس قتل عام کے بعد مسلم آبادی گھٹ کر ۳۵ فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اور اب ۷۳ سال بعد صوبہ کشمیر میں بھی ایسی ہی آبادی کو بدلنے کی ایک خوف کی لہر عوام میں دوڑ گئی ہے جب گزشتہ ماہ بھارتی سرکار کی جانب سے اراضی قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے مطابق اب بھارت کی کسی بھی ریاست کا باشند ہ جموں و کشمیر کے کسی بھی علاقے میں غیر زرعی زمین خرید سکتا ہے اور وہاں بس بھی سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتہ میں بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق غیر ریاستی شہری اب جموں کشمیر میں زمین خریدنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا تاہم قانون کے مطابق زرعی اراضی پر تعلیمی ادارے اور طبی سہولیات کے ڈھانچے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ دلی کی گدّی پر ۲۰۱۴ ؁ء سے قابض بھارتہ جنتا پارٹی کا لگ بھگ پچھلی تین دہائیوں سے ہی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنا اپنے انتخابی منشورات میں شامل رہا ہے، اور ہوا بھی وہی۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار میں آنے کے بعد بھاجپا نے یہ وعدہ ۵ اگست ۲۰۱۹؁ء کو پورا کر دیا۔ ہند نواز سیاسی جماعتیں جو آج تک دلی میں موجود سرکاروں کے گُن گاتی پھر رہی تھیں وہ بھی آج اسے دھوکے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی ، فاروق عبداللہ جیسے لیڈران بھی چلا رہے ہیں کہ یہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ۵ اگست ۲۰۱۹؁ء کے بعد بھاجپا کی جانب سے کشمیریوں کی نوکریوں اور زمین کی حفاظت دینے کے وعدے بھی کیے گئے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے خود کہا "کشمیریوں کی زمین کوئی نہیں چھینے گا"۔ رواں سال اپریل میں کشمیریوں کی دلجوئی کیلئے ڈومیسائل قانون بنایا گیا جس کے تحت ۱۵ سال تک جموں کشمیر میں اپنی زندگی گزارنے والا ہی یہاں کا شہری بن سکتا ہے تو غیر ریاستی باشندے جو یہاں کئی سالوں سے جموں کشمیر میں موجود ہیں ڈومیسائل سرٹیفیکٹ حاصل کرنے لگے۔ لیکن اب قانون کی بھی کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ اور وہی ہوا جس کا کشمیریوں کو ڈر تھا۔ کشمیر میں آبادی کو بدلنے کا منصوبہ...

سرکلر ریلوے کا خواب،خواب نہ بن جائے

ایک زمانہ تھا جب کراچی میں لوکل ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔ پہلے پہل ان کا آخری اسٹیشن لانڈھی ہوا کرتا تھا۔ جب پاکستان اسٹیل تعمیر ہونا شروع ہوا تو اس کا دائرہ بن قاسم اسٹیشن تک بڑھا دیا گیا جس کا پرانا نام پپری تھا۔ بعد میں اسے دھابیجی تک وسعت دیدی گئی۔ یہ ٹرینیں وقت کی پابندی کے ساتھ چلا کرتی تھیں اور ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ اس میں سفر کرنے والے اکثر مسافر پورے پورے مہنے کا پاس تک بنوالیا کرتے تھے، یوں انھیں روز روز قطاروں میں کھڑے ہوکر ٹکٹ لینے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑ تی تھی۔ یہ مقامی یا لوکل ٹرینیں سٹی اسٹیشن سے ریلوے کے اس ٹریک پر چلا کرتی تھیں جس پر کراچی سے پشاور جانے والے "اپ ڈاؤن" ساری ریل گاڑیاں چلا کرتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ریلوے نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ سرکلر ریل بھی کراچی میں چلائی گئی۔ یہ ٹرینیں کراچی سٹی اسٹیشن سے وزیر مینشن، بلدیہ، سائٹ مل ایریا، اورنگی، ناظم آباد، گلشنِ اقبال، کراچی یونیورسٹی اور اولڈ ایریا سے گزرتے ہوئے ڈرگ روڈ اسٹیشن سے آکر ملا کرتی تھیں اور پھر دوبارہ سٹی اسٹیشن کی جانب رواں ہو جایا کرتی تھیں اس طرح یہ شہر کے سارے گنجان آباد علاقوں کو کور کر لیا کرتی تھیں۔ لوکل ٹرینیں ہوں یا کراچی سرکلر ریلوے، ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ ان میں بیٹھنے کی تو کجا، بعض اوقات کھڑے ہونے تک کی جگہ بصد مشکل ملا کرتی تھی۔ بے حد رش والے یہ اوقات زیادہ تر دفتری یا کار و باری اوقات ہوا کرتے تھے لیکن باقی اوقات میں چلنے والی یہ دونوں ٹرینیں ہمیشہ مسافروں سے بھری ہی چلا کرتی تھیں۔ یہ تو ہے ایک مختصر سے تمہید جو کراچی لوکل ٹرینوں اور سرکلر ریلوے کی متعلق باندھی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سروسز اتنی کامیابی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک فراہم کی جاتی رہیں وہ اچانک کس بنیاد پر بند کردی گئیں۔ خاص طور سے کراچی سرکلر ریلوے کو آخر کیوں بند کیا گیا کیونکہ اس کو بلا تعطل چلائے رکھنے کیلئے شہر میں کئی اوور ہیڈ برج ایسے بنائے گئے تھے جو بہت طویل اور محض کراچی سرکلر ریلوے کی وجہ سے بنانے پڑے تھے جن کی مالیت آج کے دور کے لحاظ سے کھربوں روپے بنتی ہے۔ ان پلوں کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی میں تو بہتری آئی لیکن جہاں جہاں بھی ان کو تعمیر کیا گیا وہاں وہاں شہری علاقے روڈ کے دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ لوکل ٹرینیں اورسرکلر ریلوے کے بند ہوجانے سے وہ لاکھوں افراد جو تقریباً 24 گھنٹے اس میں سفر کیا کرتے تھے وہ اس زمانے میں چلنے والی سرکاری اور پرائیویٹ بسوں میں سفر کرنے یا اپنی اپنی حیثیتوں کے مطابق ذاتی گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس طرح ایک جانب مسافر بسوں پر بے تحاشہ دباؤ بڑھا تو دوسری جانب سڑکوں پر ٹریفک کا اضافہ ہونا شروع ہوا۔ اس وقت سڑکوں پر جتنی بھی سرکاری و نجی بسیں...

کراچی میں بڑھتےجرائم کاذمہ دارکون؟

روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر کےمطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جو بہت ہی تشویشناک بات ہے۔ 10 ماہ کے دوران 322 افراد کا قتل ہوجانا اور 18000 لوٹ مار کی واداتیں ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس کو کسی بھی لحاظ سے نظر انداز کیا جا سکے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو کہ رپورٹ ہوئے جبکہ بیشمار واقعات ایسے ہیں جن کی رپورٹ درج کرائی ہی نہیں جاتی۔ تفصیل کے مطابق قتل کی 322 واداتوں کے علاوہ 18 ہزار موبائل فون کا چھینا جانا، 1300 گاڑیوں کا چوری ہونا یا چھینا جانا اور شہریوں کا 30 ہزار سے زائد موٹر سائیکلوں سے محروم ہوجانا مذکورہ واداتوں کے علاوہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں شہروں اور شہریوں کی حفاظت کا اصل ذمہ دار پولیس کا محکمہ ہی ہوا کرتا ہے اس لحاظ سے کراچی میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی واداتوں کی اصل ذمے داری کراچی کی پولیس پر ہی آتی ہے لیکن یہ بات بھی ہر شخص کے علم میں ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جس میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ایک طویل عرصے سے ہزاروں کی تعداد میں رینجرز بھی تعینات ہے۔ کراچی کو ہر قسم کے جرائم سے پاک صاف رکھنے کیلئے کئی قسم کے فوجی آپریشنوں کا سامنا بھی رہا ہے اور جنرل راحیل شریف کے دور میں قانون سازی کرکے پورے ملک اور خصوصاً کراچی کیلئے رینجرز کو وسیع تر اختیارات بھی سونپے گئے ہیں۔ گو کہ یہ قوانین ایک محدود مدت کیلئے بنائے گئے تھے لیکن اس میں مسلسل 90 دن کی توسیع کرتے کرتے آج تک ان خصوصی اختیارات کو ہی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر 90 دن کے اختتام پر مزید 90 دن کی توسیع دینے یا نہ دینے کا اختیار صوبائی حکومت کا ہی ہے اور قانونی طور پر صوبہ سندھ کو کلی اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان اختیارات کو استعمال کرنے کی مزید اجازت دے اور چاہے نہ تو نہ دے۔ اختیارات کے مزید استعمال کی اجازت دینا یا نہیں دینا اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ بالآخر امن و امان کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت ہی کی بنتی ہے ناکہ ان فورسز کی جو صوبائی حکومت کی معاونت کیلئے ہمہ وقت موجود ہیں۔ جیسا کہ پوری دنیا میں معمول کے حالات میں شہر اور شہریوں کی حفاظت پولیس ہی کا کام ہوا کرتا ہے۔ ہر ایسا معاملہ جس میں امن و امان، شہریوں کی جان اور مال کو کوئی خطرہ لاحق ہو یا کہیں ہنگامے پھوٹنے کا خدشہ ہو تو پولیس بر وقت کارروائی کر کے حالات کو اپنے معمول پر لیکر آجاتی ہے البتہ صورت حال کے غیر معمولی ہوجانے پر دیگر فورسز کی مدد بھی طلب کر لی جاتی ہے۔ جب صورت حال معمول پر آجائے تو دیگر فورسز واپس اپنے اپنے فرائض پر لوٹ جایا کرتی ہیں اور پولیس دوبارہ شہر کو سنبھال لیتی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز