مسلمان دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ

11 جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کی آبادی اس وقت 7.8 ارب ہے۔ دنیا کی آبادی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ برسوں میں چین کی آبادی ایک ارب 46 کروڑ ہو گی جبکہ بھارت کی آبادی ایک ارب 47 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی موجودہ سات ارب 70 کروڑ کی آبادی میں سنہ 2050 تک دو ارب نفوس کا اضافہ ہوگا اور وہ تیس برس میں 9 ارب 70 کروڑ پرپہنچ جائے گی۔

اسلام عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ 2010 کے جائزہ کے مطابق دنیا بھر میں مسلم آبادی 1.92 بلین افراد پر مشتمل ہے، اس لحاظ سے دنیا کی 29 فیصد آبادی صرف سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 میں دوگنے ہو چکے ہوں گے۔

یورپ اور امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بش نے 9/11 کے بعد کہا تھا کہ دنیا 9/11 کے بعد بالکل مختلف ہو گی۔ اور یہ بات درست ہے۔ اسی واقعے کے بعد بہت سے غیر مسلموں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور مسلمان ہوئے۔ اللہ تعالی ہر شر سے خیر نکالنے پر قادر ہیں۔

سابق فرانسیسی صدر فرانسس متراں سے اُن کے دور حکومت میں ایک فرانسیسی صحافی نے سوال کیا کہ ’’فرانس میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ مستقبل میں فرانس اسلامی مملکت بن جائے، آپ اس خطرے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟‘‘ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’اگر ایسا ہوا تو میں بھی مسلمان ہو جائوں گا۔‘

نہ صرف فرانس بلکہ یورپ اور امریکہ میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم اسلام میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اور جب ان کو اسلام کی حقانیت پر شرح صدر ہو جاتا ہے تو اسلام میں داخل ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔

لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’’یورپ کو فتح کرنے کیلئے مسلمانوں کو کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں کیونکہ یورپ کے 50 ملین سے زائد مسلمان صرف چند دہائیوں میں یورپ کو اسلامی خطے میں تبدیل کر سکتے ہیں اور اس طرح وہ دن دور نہیں جب مسلمان کسی جنگ و جدل کے بغیر یورپ میں اسلامی پرچم لہرائیں گے۔‘‘ معمر قذافی کے مذکورہ دعوے کا یورپی ممالک نے سخت برا منایا اور بعد میں معمر قذافی کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن امت کی کثرت پر فخر کریں گے۔ ہم میں سے کون ہے جو یہ سعادت حاصل کرنا نا چاہتا ہو کہ ہماری کثرت تعداد نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فخر کا باعث ہو۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم قابل فخر بننے کی کوشش بھی کریں۔ ہمیں صرف تعداد کا زعم رہے اور عمل سے ہمارے دامن خالی ہوں۔۔

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں

اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی بہت خوفزدہ کرنے والی ہے۔

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔“ تو کہنے والے نے کہا: کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں“ بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے، لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں «وهن» ڈال دے گا۔“ پوچھنے والے نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! «وهن» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔“

یہ فکر اور خوف کا مقام ہے۔

آج ہم دنیا کے نقشے پر دیکھیں تو آبادی کے لحاظ سے اسلامی ممالک دوسرے مذاہب سے کہیں آگے ہیں۔ مگر یہ بھی المیہ ہے کہ آج مسلمان ہر جگہ پس رہے ہیں، وہ کشمیر ہو، فلسطین ہو، شام ہو یا افغانستان ہو۔

اس کی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے۔ قرآن و سنت کو چھوڑ دینا ہے۔ جس دین نے عرب و عجم مسلمانوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے تھے، جب تک دین کو مضبوطی سے تھامے رہے کامیاب رہے۔ اور جب دین کو چھوڑا تو سارے عالم کی رسوائی مقدر بنی۔

جواب چھوڑ دیں