خلیجی ممالک میں پاکستانی محنت کشوں کے شب و روز

دبئی: شہر کا رات کا ایک منظر، عقب میں برج خلیفہ نمایاں ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت، یہ وہ عرب ممالک ہیں جنھیں اکثر و بیشتر پاکستانی محنت کش خود یا ان کے گھر والے خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہیں اور بہتر مستقبل کی آس لگائے وہاں ملازمت کے لئے ہزاروں جتن کرتے ہیں۔ ایجنٹوں کی بھاری بھر فیسیں پوری کرنے کے لئے قرضے اٹھاتے ہیں، زمین، زیور، مکان تک بیچ دیتے ہیں، اور اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی اکثر ایجنٹ دو، تین سال ویزہ آنے کے انتظار میں چکر پہ چکر لگواتے رہتے ہیں۔ پھر بہت سے ایجنٹ رقم بٹورنے کے بعد یا تو غائب ہو جاتے ہیں یا پھر وزٹ ویزہ پر وہاں بھیج کر تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ جاؤ اب خود ملازمت ڈھونڈو۔ پھر ان میں سے کوئی کوئی ہی اتنا خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسے وزٹ ویزہ پر ملازمت مل جائے، زیادہ تر کو تو واپس ہی آنا پڑتا ہے۔ جن خوش نصیبوں کو ایجنٹ وہاں ملازمت لگوا دیتے ہیں ان میں سے بھی کچھ بیچارے ایسے ہوتے ہیں کہ یہاں پاکستان میں تنخواہ اور بتائی ہوئی ہوتی ہے اور وہاں جا کر جو معاہدہ کیا جاتا ہے اس میں تنخواہ کم ہوتی ہے۔

خیر اتنی مشکلات کے بعد جو لوگ وہاں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے بارے یہاں پاکستان میں گھر والے، رشتہ دار، محلےدار، دوست احباب اور عزیزواقارب یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جیسے ان کا جوان وہاں کا کوئی بہت بڑا افسر لگ گیا ہے۔ اس کے ارد گرد درختوں پر گویا کھجوروں کی بجائے درھم، ریال اور دینار اگتے ہوں گے۔ وہاں رہنے کے لئے اسے کوئی عالییشان وِلا دیا گیا ہو گا۔ کبھی ٹیلی وژن پر ان عرب ممالک کی کوئی جھلک نطر آ جائے تو سب خوشی سے پکار اٹھتے ہیں کہ ہمارا منڈا ادھر ہی ہوتا ہے، اور وہ بیچارہ محنت کش گھر سے دور، پردیس میں نجانے کتنے دکھ جھیل رہا ہوتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی وہ پردیسی کسی کو پاکستان میں اپنی تکالیف بتاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن کے آرام کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کر رہا ہے، وہ رو پڑیں۔

گھروں سے ہزاروں میل دور غیروں کے دیس میں ان محنت کشوں میں مزدور، مستری، بڑھئی، الیکٹریشن، اےسی ٹیکنیشن، پلمبر، سٹیل فکسر، ڈرائیور، کلینرز، کرین آپریٹر، سیکورٹی گارڈز، سیل مینز اور دیگر بہت سارے لوگ شامل ہیں۔ 

پردیس میں ہمارے پردیسی بھائی آپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ ان سب کی پہچان صرف ان کا ملک یعنی پاکستان ہوتا ہے۔ ان کے غم بھی ساجھے ہوتے ہیں اور ان کی خوشیاں بھی ساجھی ہوتی ہیں اگرچہ خوشیاں وہاں کم ہی میسر آتی ہیں۔ ان کے کام کرنے کے اوقات اتنے طویل اور کٹھن ہوتے ہیں کہ کام کے بعد ان کو آرام کے لئے بھی بس اتنا ہی وقت ملتا ہے کہ بمشکل کل کے لئے تازہ دم ہو کر پھر سے محنت مزدوری پر جا سکیں۔

اوور ٹائم ملا کر کم از کم بارہ گھنٹے روزانہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہاں عملی طور پر اوور ٹائم لازمی بھی ہے کیونکہ اوور ٹائم کے بغیر تنخواہ بہت کم بنتی ہے۔ عام طور پر بارہ، بارہ گھنٹے کی دو شفٹوں میں کمپنیاں کام کرتی ہیں۔ ان بارہ گھنٹوں کے کام کے علاوہ رہائشی لیبر کیمپ سے کام کی جگہ آنے جانے کا وقت الگ ہوتا ہے جو ایک سے دو گھنٹے تک کا ہوتا ہے۔ آنے جانے کا مسئلہ کوئی نہیں ہوتا کیونکہ خلیجی ممالک کے قوانین کے مطابق ورکرز کو لانے لےجانے کی ذمہ داری کمپنی کی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر ورکر کی ہیلتھ انشورنس بھی متعلقہ کمپنی پر لازم ہے۔ یعنی کام پر آنے جانے یا علاج معالجہ کی کوئی پریشانی نہیں وہاں۔دوران کام ورکرز کی حفاظت کا بھی خاطر خواہ انتظام رکھا جاتا ہے۔کھانا اگر کمپنی دے تو اس کے پیسے الگ کاٹ لئے جاتے ہیں۔ کپڑے دھونا ورکرز کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ورکرز ڈیوٹی شفٹ مکمل ہونے کے بعد ورک سائٹ سے لیبر کیمپ جاتے ہوئے

رہائش کے لئے شہر سے دور لیبر کیمپ بنائے گئے ہیں لیکن یہ لیبر کیمپ روز مرہ کی تمام سہولتوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ رہائشی کمروں میں اےسی لازمی لگائے جاتے ہیں جوکہ بلا تعطل چلتے ہیں جبکہ ورکرز کی تنخواہ میں سے اس مد میں کوئی کٹوتی بھی نہیں ہوتی۔ قصہ مختصر یوں سمجھئے کہ اہل عرب سہولتیں بھی بہت دیتے ہیں لیکن کام بھی ٹکا کے لیتے ہیں۔

ورکرز کے رہائشی کیمپ کا ایک منظر

ہاں رہائش میں جو مسئلہ عام ہے وہاں وہ یہ ہے کہ ہر کمرے میں پانچ، پانچ ڈبل ڈیکر چارپائیاں ہوتی ہیں۔ کل دس لوگ عام طور پر ایک کمرے میں رہ رہے ہوتے ہیں جو کہ بہت محدود سامان کے ساتھ بھی رہیں تو بھی بہت تنگ جگہ رہنے کے لئے ہوتی ہے۔

ان کٹھن شب و روز کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو بہت ستاتا ہے وہ چھٹی کا ہے۔ قوانین کے مطابق سال بعد ایک مہینہ چھٹی ہر ورکر کا حق ہے لیکن عملی طور پر چھٹی دو، تین سال بعد ہی ملتی ہے۔ اب تو گھر رابطہ کے لئے واٹس ایپ، سکائپ اور کئی اور انٹرنیٹ ذرائع آ چکے ہیں لیکن پہلے تو بذریعہ ڈاک خط و کتابت ہی ہو سکتی تھی۔ غیروں کے دیس میں جب اپنوں کی یاد ستاتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے میں ہر کوئی اپنے دل کو ایک ہی تسلی دیتا ہے کہ جیسے ہی کسی چھوٹے سے کاروبار کے لئے پیسے اکھٹے ہو جائیں گے، میں بھی اک دن گھر لوٹ جاؤں گا۔ کوئی اپنے بچوں کی تصویریں چومتا رہتا ہے تو کوئی چھپ چھپ کر آنسو بہاتا ہے۔ کوئی ملک کے حکمرانوں کا رونا روتا ہے کہ اپنے وطن کے حالات اچھے ہوتے اور وہیں روزگار مل جاتا تو دیس کی آدھی روٹی بھی پردیس کی پوری روٹی سے بہتر تھی۔

عید کا موقع ہو تو بھی اکثر پردیسی اس دن بھی کام پر محنت مزدوری کرتے رہتے ہیں اور چاند کو دیکھ کر بس اتنا ہی سوچتے ہیں:

ہم تو ہیں پردیس میں

دیس میں نکلا ہو گا چاند

ہاں البتہ اہل عرب کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ رمضان کریم، عید اور دیگر اہم دنوں میں کام کا اضافی معاوضہ بھی دیتے ہیں۔

جب یہ ہمارے بھائی وطن واپسچھٹی پر آنے والے ہوں تو ان کے دوست، رشتہ دار، عزیزواقارب موبائل، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ اور دیگر فرمائشوں کی اتنی لمبی فہرست ان کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جیسے کہ شائد وہاں دو، چار تیل کے کنویں ہر پردیسی کی ملکیت ہوں اور درختوں پر کھجوروں کی بجائے موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ خود بخود ہی لگتے رہتے ہوں۔ کسی کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہاں ان دکھیاروں کو اکثر آرام کرنے کا مناسب وقت تک نہیں مل پاتا۔ حفیظ جونپوری نے اپنے اس شعر میں کتنی گہری بات کہہ ڈالی تھی، یہ وہی جان سکتا ہے جس نے پردیس کاٹا ہو۔

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

سالہا سال پردیس میں مزدوری کرنے کے بعد جب یہ ہمارے بھائی وطن واپس لوٹ آتے ہیں کہ اب یہیں کوئی کاروبار کریں گے تو پردیسیوں کو دیسی ایسے ایسے چکر دے جاتے ہیں کہ بہت سارے لوگ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ عرب ممالک سے واپسی پر یہ لوگ پاکستان میں بھی ایمانداری، دیانتداری اور محنت سے کام کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ پردیس میں کرتے رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے ملک میں اکثر پرانے کاروباری حضرات اور سرکاری افسران جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت اور بددیانتیکے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ وطن پلٹ دیانتدار لوگوں کو کام کرنے ہی نہیں دیتے، اور ہر گھٹیا طریقے سے ان کا سرمایہ ضائع کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ہم ان کو دیکھتے ہوئے خود بھی ایمانداری، دیانتداری اور محنت کو اپنائیں اور ان کے دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔

ہو کے حالات سے مجبور چلے جاتے ہیں

بیٹے اپنی ماؤں سے دور چلے جاتے ہیں

گھر کے آنگن میں پیار سے پلنے والے

بن کر پردیس میں مزدور چلے جاتے ہیں

حصہ
mm
چکوال کے رہائشی جواد اکرم نے بین الاقومی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے اور عالمی امور پر لکھتے رہتے ہیں۔ملک کے اردو اور انگریزی اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل میں ان کے تجزیے شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں