جواد اکرم

mm
10 بلاگ 0 تبصرے
چکوال کے رہائشی جواد اکرم نے بین الاقومی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے اور عالمی امور پر لکھتے رہتے ہیں۔ملک کے اردو اور انگریزی اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل میں ان کے تجزیے شایع ہوتے رہتے ہیں۔

خلیجی ممالک میں پاکستانی محنت کشوں کے شب و روز

دبئی: شہر کا رات کا ایک منظر، عقب میں برج خلیفہ نمایاں ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت، یہ وہ...

رجب طیب اردگان اور ہمارے رہنما

کبھی کبھی دل میں ایک خیال سا آتا ہے کہ 2016 میں ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت...

وکیلوں کے دیس میں کوئی منصف بھی تو ہو

ہمارے دیس میں عوام کی جذباتی وابستگی اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں سے اس قدر زیادہ ہے کہ ہر ووٹر اپنے لیڈر کا وکیل دکھائی...

کیا واقعی بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے؟

پاکستان میں سیاستدانوں کو یہ قول کہ "بد ترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے" اتنا پسند ہے کہ وہ دن رات بھی اس...

کاش ڈھاکہ آج بھی ہمارا ہوتا

 سولہ دسمبر 1971 کا دن جس نے سب کچھ بدل دیا۔ وقت کی سانسیں گویا تھم سی گئیں ہوں اس دن جیسے۔ سقوط ڈھاکہ؛ ایک...

”نظریاتی ووٹر” یا ”شخصیاتی ووٹر”

آج کل کے ہمارے پاکستانی سیاسی کلچر میں ''نظریاتی ووٹر'' ہونے کے دعویدار تو بہت نظر آتے ہیں لیکن اس لفظ کا حقیقی مفہوم...

اپنے عشاق سے بھلا ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

ماہ دسمبر ہر سال پاکستان کی تاریخ پر لگے شدیدترین زخموں کو تازہ کر دیتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ ایک ایسا المیہ ہے جسے کوئی...

آخر یہ لبرل حلقے چاہتے کیا ہیں

آج کل ہمارے ملک پاکستان میں ایک اصطلاح "لبرلزم"(آزاد خیالی) بہت عام ہو گئی ہے۔ گو کہ یہ اصطلاح نئی نہیں ہے لیکن جتنا...

ُپی آئی اے : ایک عظیم قومی اثاثے کا عروج وزوال

چند دن پہلے حکومت کی طرف سے قومی ائیرلائن، پاکستان انٹرنیشنل ا ئیر لائنز کو 13.6 عرب روپے کے بیل آؤٹ پیکج دینے کے...

سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ اوربادشاہت

یوں تو پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ملٹری ڈکٹیٹر شپس پر برانگیختہ نظرآتے ہیں لیکن اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کے...

اہم بلاگز

نکاح کو آسان بنائیے۔۔۔۔۔۔

گزشتہ ۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ بروز ہفتہ برادر محترم جاوید علی کی بیٹی کا نکاح پڑھانے کا موقع ملا ،انھوں نے تقریباً 3 ہفتہ پہلے سے کہہ رکھا تھا ، درمیان میں کچھ کچھ وقفے سے یاد دہانی کراتے رہے۔ جاوید صاحب مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ، ان سے تعلق اس وقت سے ہے جب انھوں نے آج سے تقریباً 35 برس قبل ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ میں تصنیفی تربیت کا کورس کیا تھا _ ، میرے دہلی منتقل ہونے کے بعد اس تعلق میں مزید اضافہ ہوا، _ انھوں نے خواہش کی کہ میں نکاح پڑھانے کےساتھ مختصر تقریر بھی کروں۔ میں نے اپنی تقریر میں عرض کیا کہ مختلف متمدّن سماجوں میں خاندان کی تشکیل نکاح کے ذریعے ہوتی ہے ، لیکن افسوس کہ ان میں نکاح کے ساتھ خطیر مصارف وابستہ کردیے گئے ہیں،  کسی شخص کی دو تین لڑکیاں ہوں تو ان کی پیدائش کے وقت سے وہ ان کے نکاح کے وقت کے لیے پیسے بٹورنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔افسوس کہ اس دوڑ میں مسلمان بھی پیچھے نہیں ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا تو ایک وصف قرآن مجید میں یہ بیان کیا گیا ہے : ” ’’وہ لوگوں سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو انھوں نے خود پر لاد لیے تھے اور وہ بیڑیاں اور طوق کاٹتا ہے، جن میں انھوں نے خود کو جکڑ لیا تھا‘‘۔ _” (الاعراف :157 ) لیکن افسوس کہ آپ کی امت نے اپنی مرضی سے دوبارہ خود کو رسوم و روایات کی بیڑیوں میں جکڑ لیا ہے اور بھاری بوجھ اپنے اوپر لاد لیے ہیں۔ خاص طور سے نکاح کے موقع پر منگنی ، جہیز ، تلک اور دیگر ناموں سے مُسرفانہ رسوم کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے اور سادہ انداز میں اس کے انعقاد کی تاکید کی ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’تم میں جو بغیر جوڑے والے ہوں ان کے نکاح کراؤ _”‘‘(النور : 32) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” بہترین نکاح وہ ہے جو سہولت سے انجام پاجائے _” (صحیح ابن حبان : 4072 ) عہد نبوی میں اس کی بہت سی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ غریب سے غریب لڑکے یا لڑکی کا نکاح بہت آسانی سے ہوگیا،  عورت چاہے مطلّقہ ہو یا بیوہ ، بہت آسانی سے اس کا نکاح ہوجاتا تھا۔ ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نوجوان یا دوشیزہ یا ادھیڑ عمر کے مرد یا عورت نے نکاح کا ارادہ کیا ہو اور مصارف فراہم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نکاح نہ ہوپایا ہو۔ میں نے عرض کیا کہ اصلاحِ معاشرہ اور نکاح آسان بنانے کے موضوع پر تقریریں ہوتی رہتی ہیں ، لیکن عمل کا جذبہ مفقود ہوتا ہے ،جو لوگ تقریریں کرتے ہیں اور دوسروں کو آسان نکاح پر ابھارتے ہیں ، وہ خود اپنے بیٹے یا بیٹی کے نکاح کے موقع پر مُسرفانہ رسوم سے باز نہیں آتے ، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ...

ذلّت کے گڑھے

یوں تو  دستور پاکستان کے نام سے ہی  سیکولر اور لبرل  طبقے کے  پیٹ میں مروڑ  اٹھنا شروع ہوتاہے ۔اور کیوں نہ ہو ۔۔۔ وہ دستور جوکہ اسلامی دستور ہے ۔ دستور کے مطالبے ،دستور کے بننے  کے اور اس کی منظوری  کے پہلے لمحے سے ہی اس کے  خلاف ان کی   ایک منظم جدوجہد شروع ہوچکی ہے ۔ اور اس  کے پیچھے اور کبھی منظر عام پر یہی سیکولر  ازم اور لبرل ازم کے  علم بردار گماشتے ہوتے ہیں ۔ یہ پرلے درجے کے جھوٹے اور دغا باز ہیں انہوں نے ہمیشہ دنیا کو فریب دیا ہے ۔یہ کسی دلیل کو نہیں مانتے ۔ کیونکہ یہ عالمی بے ضمیر انسانوں کا  گروہ ہے ۔ یہ انسانوں کو سبز باغ دکھا نے  کے ماہر ہوتے ہیں۔ قرآن کے مطابق:  جب  ان سے کہاجاتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ  ہم تو صرف اصلاح کر نے والے  ہیں ۔ (سورہ البقرہ) دیا گیا حوالہ اس پس منظر میں ہے کہ  یہ فسادی گروہ عوام کو ایک بار پھر فریب دینے میں کامیاب  ہوگیا روٹی ،کپڑا اورمکان  ،قرض اتارو ملک سنوارو  ، نیا پاکستان ، تبدیلی آ نہیں رہی آگئی ہے  اور مدینے کی ریاست کے  سبز باغ دکھانے والے ایک بار پھر مسند اقتدار پر قابض ہیں یہ بظاہر  ایک دوسرے سے لڑتے نظر آتے ہیں  اور اقتدار کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے ہیں  مگر اسلام کے خلاف ان کا ایجنڈا مشترکہ ہے یہ ظالموں کے ساتھی ،فحاشی و بے حیائی کے رسیا ، جرائم کے پشت بان ہیں ا۔بھی حال ہی میں اس کی مثال  انہوں نے ماضی کی اپنی  روش کے مطابق پیش کی کہ  جناب وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ عورتوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو چوک پر پھانسی دینی چاہیئے یا  ان کی آختہ کاری کردینی چاہئیے۔سوال یہ ہے کہ کیا آئین پاکستان میں اس جرم کی سزا موجود نہیں ہے  کہ اس طرح کے واقعات  کی روک تھام کی جائے اور مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے ؟ نہیں بلکہ ایسا نہیں ہے  بلکہ قانون موجود ہے ۔مسئلہ  قانون پر عمل درآمد کا ہے ۔روزانہ  پیش آنے والے ان واقعات  نے ایک طرف تواس بات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ پاکستا ن میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے  تو دوسری طرف یہ بھی واضح کردیا ہے کہ   یہاں  امیروں کو ان کی مرضی کا  انصاف مل سکتاہے  مگر غریب کو  انصاف کے لیے قیامت کے دن کا انتظار کرنا ہوگا  کیونکہ وہاں  مالک یوم الدین پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا۔ دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ مجرموں کو چوکوں پر لٹکایا جائے یا ان کی آختہ کاری کردی جائے  ۔ یہ بات  کس حوالے سے وزیر اعظم صاحب کہ گئے کیونکہ شریعت میں ایسے تمام جرائم کی سزا  بہت وضاحت کے ساتھ موجود ہے  ۔شرعی قوانین کی موجودگی میں  اپنی منطق  ہانکنا کہا ں کی عقلمندی ہے ۔جب کہ آئین پاکستان کی رو سے کوئی ایسا قانون  نہیں بنا یا جاسکتاجو قرآن و سنت سے ٹکرا تا...

سانحہ موٹروے اور سزائے موت

لاہور موٹروے پر ہونے والا ڈکیتی اور زیادتی کا انتہائی دردناک واقعہ قابل مذمت اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اس واقعے کے بعد زبردست عوامی احتجاج اور غصہ دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں قلیل مدت میں پولیس نے مجرموں کو پکڑ لیا اب جب کہ مجرم اعتراف جرم کر چکے ہیں  حکام کا اولین فرض ہے کہ ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ زنا بالجبر کی سزا انصاف کے مطابق دی جائے۔ ایسا کرنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور اس قسم کے واقعات میں کمی آئے گی جیسا کہ ایک عرصہ سے زیادتی اور قتل کے واقعات ہورہے ہیں خاص طور پر بچوں سے زیادتی  اور ان کے قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ  واضح طور پر مجرموں کو سزا نہ دینا ہے ۔ ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس کی جرات نہ کر سکے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے یہ اور بھی ضروری ہے کہ  مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا دی جائے اور انصاف کو یقینی بنایا جائے اس ضمن میں کچھ تنظیمیں  پھانسی اور سزائے موت کو انسانی حقوق کے  خلاف قرار دے رہی ہیں  تو  ان کے لیے یہ واضح ہو کہ قرآن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے" ایک قاتل کو سزائے موت دینا  کئی انسانی جانوں کو تحفظ دینے کے مترادف ہے  اسی طرح ایک زانی کو سزا دینا کئی عصمتوں کو محفوظ کرنے کے برابر ہے قرآن میں سورہ نور میں اس کے بارے میں واضح احکام ہیں، مجرموں سے ہمدردی سے منع کیا گیا ہے اور سر عام سزا کا حکم دیا گیا ہے تاکہ  لوگ عبرت حاصل کریں۔ ان  احکام  کےآگے اپنی بات کرنا، دوسری  سزائیں تجویز کرنا اور تاویلیں تراشنا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا  لہٰذا موٹروے پر ہونے والے واقعے اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام سزائے موت دینی چاہیے تاکہ آئندہ ہمارے ملک میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں اس کے ساتھ ہی ایسے عوامل کا سدباب بھی ضروری ہے جو ان جرائم کا سبب بن رہے ہیں معاشرے میں حیا اور حجاب کو عام کریں میڈیا پر بھی بے پردگی کو مسترد کریں تاکہ معاشرے میں حیاداری اور پاکیزگی کو فروغ ملے.

لکھاری کی سرمایہ کاری

لکھاری کا تعلق لکھنے کے شعبے سے ہے۔ لکھنے کے لیے خیالات اور الفاظ چاہیے ہوتے ہیں۔ خیالات کے لیے سوچ اور تفکر لازمی امر ہے جبکہ الفاظ کے لیے مطالعہ۔ مطالعہ اچھا ہو تو سوچ اچھی بنتی ہے، سوچ اچھی ہو تو خیالات بھی اچھے ہونگے۔ گفتگو میں نکھار پیدا ہوگا اور الفاظ میں جادو۔ آپ بات کریں گے اور لوگ سننے کے لیے بیٹھ جائیں گے الفاظ ادا کیے جائیں تو یہ صوتی شکل ہے اور اگر لکھاری قلمکاری کردے تو یہ مکتوبی۔ اچھے الفاظ تو دیپ ہیں جو روشن ہوجاتے ہیں۔ یہ نوک زبان سے ادا کیے جائیں یا نوک قلم سے بیاں، یہ اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ دیپ روشن ہوجاتے ہیں یہ لکھاری کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔ یہ لکھاری کی سوچ کو عیاں کرتے ہیں، یہ لکھاری کے مطالعہ کا پتہ دیتے ہیں۔اس نفسا نفسی کے دور میں دیپ جلانا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں۔ مشکل کام ہے؟ کیونکہ یہ دیپ گُل کردیے جاتے ہیں، بجھا دیے جاتے ہیں۔ ادھر آپ ایک دیپ جلائیں وہاں حضرت انساں اسے گُل کرنے کی ہزاروں ترکیبیں لیے بیٹھے ہیں۔ دیپ جلانے والے کو مار دیا جاتا ہے جو اپنے خون سے دیپ روشن کرتا ہے۔ اس کے الفاظ کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے فاقوں سے مرنے کی سزا دی جاتی ہے۔اسے طنزاّ فلاسفر، اور مفکر کے نام سے راہ چلتے بے عزت کیا جاتا ہے۔ اس کے جلائے ہوئے دیپ سے روشنی حاصل کرنے کے باوجود اسے بےقدری و بے توقیری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بظاہر لگتا ہے یہ گھاٹے کا سودا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لفظوں کی سرمایہ کاری کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک الجھی ہوئی قوم کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اپنے خون سے جلائے گئے دیپ سے روشنی دینا چاہتا ہے، لکھاری بھی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔

تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ

اس معاشرے کا غیر تعلیم یافتہ طبقہ اکثر و بیشتر تعلیم یافتہ طبقے اور اس کی تعلیم کو تربیت میں کمی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ اس کی وجہ حقیقت کا صحیح سے ادارک نہ کرنا یا کسی قسم کی احساس کمتری کا شکار ہونا ہے۔ اکثر یہ تبصرے اور باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ تعلیم یافتہ ہونے میں اور تربیت یافتہ ہونے میں فرق ہے۔ وہ تعلیم کس کام کی جو انسان کی تربیت نہ کر سکے۔ ان اداروں میں پڑھ کر کیا کرنا جب یہ تربیت نہیں کر سکتے اور وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں بھی ٹھیک ہیں لیکن یہاں پر ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں پروفیشنل ادارے ہیں۔ جہاں پر پروفیشنل تعلیم دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم جو کہ بی۔ ایس فا ئنینس کر رہا ہے۔ تو سارا دن یونیورسٹی اس کو کوسٹ اکاؤنٹنگ اور مینیجیرئیل اکاؤنٹنگ سیکھانے میں مصروف ہے۔ ایک طب کا طالب علم سارا دن جس نصاب میں سے گزر رہا ہے وہ ہیومن فزیالوجی اور ادویات پر مشتمل ہے۔ ایک کیمیکل انجینئر کو ادارے میں کیمکل پلانٹ کیسے چلایا جاتا اس کے متعلق تعلیم اور سکلز دیے جارہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کو ایک بہتر انسان بنانے کے لیے اور تربیت دینے کے لیے قرآن اور حدیث پڑھائی جا رہی ہے یا شیخ سعدی کی حکایات سنائی جا رہی ہیں۔ اس طرح ایک انسان سے یہ توقع کرنا کہ وہ ریاضی کی کتاب پڑھے گا اور سچ بولنا سیکھ جائے گا۔ سائنس کی کتاب پڑھنے سے اس میں ایمانداری، عہد کی پابندی اور شائستگی جیسی خوبیاں پیدا ہو جائیں گی۔ تو اس قسم کی توقعات بلاشبہ ایک حماقت ہے۔ پروفیشنل  ادارے انسان کو پروفیشنل تعلیم اور سکلز سیکھا سکتے ہیں۔ ان میں پروفیشنل عادات جیسا کہ وقت کی پابندی کرنا، پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن انسان کو تربیت یافتہ بنانے کے لیے ان کی تربیت کرنا ضروری ہے۔ اس تربیت کی سب سے بڑی ذمہ داری دین الہٰی نے والدین پر ڈالی ہے نا کہ اساتذہ اور اداروں پر۔ لیکن والدین نے یہ سمجھ لیا ہے کہ چونکہ ہم بہترین اداروں میں اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں، بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں تو تربیت کا بیڑا بھی انہی اداروں کو اٹھانا چاییے۔ والدین کی ذمہ داری تو صرف اچھے پروفیشنل ادارے کا انتخاب اور تعلیمی اخراجات پورے کرنا ہے۔ لیکن اگر پروفیشنل تعلیمی ادارے طلبہ کی تربیت کا بندوبست بھی کر رہے ہیں تو یہ والدین کے ساتھ ایک تعاون ہے۔ اس تعاون کی دستیابی سے والدین پر عائد ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ آپ کا بچہ ایک وکیل ہے اور اس نے ادارہ ہذا سے وکالت کی ڈگری اور تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کی غلط تربیت کا ذمہ دار اس کی ڈگری کو قرار دینا یا تعلیمی ادارے پر تنقید کرنا سراسر اپنی ذمہ داری سے جی چرانا ہے۔ فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا     اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ نہ ہو تو...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

جب آپکی طبعیت لکھنے پر مائل نہ ہو تو آپ کچھ بھی نہیں لکھ سکتے کیونکہ لکھنے کیلئے صرف کاغذ قلم نہیں چاہئیے ہوتا ہے بلکہ وہ احساس جذبات اور کفیت بھی چاہئیے ہوتی ہے جس موضوع پر آپ لکھنا چاہتے ہوں,الفاظ کا بھی ایک تقدس ہوتا ہے یوں ہی تو نہیں ہوتا ناں وہ کہ بس قلم اٹھایا اور صفحات کا پیٹ بھر دیا۔  میری طبعیت بھی عمران خان کے بیانات کی طرح دن میں کئی دفعہ یو ٹرن لیتی ہے کبھی خوشی کبھی غم جیسی کفیت ہوتی ہے جب آپ زمانے کی کارستانیوں میں پھنسے ہوئے ہوں تب پھر اگر آپکو فرصت کے لمحات میسر آ بھی جائیں تو تب الفاظ یوں دور بھاگتے جیسے پولیس کو دیکھ کر چور۔ خیر میں لکھنے کیلئے کبھی مصنوعی سہاروں کا سہارا نہیں لیتا (مطلب طبیعت پر زبردستی نہیں کرتا) اور میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی ذات کیلئے وہ کام ضرور کرنا چاہئیے جس میں وہ اپنی ذات کا ذہنی سکون اور راحت محسوس کرتا ہو تو "میں" لکھنے میں بھی راحت محسوس کرتا ہوں دوسرا میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے بیٹا دنیا مُشکلات کی دلدل ہے اپنی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو قانونی اور قلم کی نوک سے عبور کرنا اس بات کا مطلب آج بابا کے جانے کے بعد یقیناً احساس دلاتا  ہے کہ بابا نے ایسا کیوں کہا تھا۔ آج ڈپریشن ہو چاہے وہ نجی زندگی کے معاملات ہوں یا کاروباری معاملات کی جھنجٹ اُس سے چھُٹکارہ پانے کے لئے میرا قلم ہی بہترین ہتھیار ہے۔ بابا کے جانے ک بعد بہت ساری دنیاوی مشکلات کے سمندر میں غوطہ زن ہوں یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کشتی کنارے پر کب پہنچے گی لیکن میرا قلم مُجھے میرے قارئین سے جوڑے رکھتا ہے, یہ قلم ہی ہے جو مُجھے بدترین ذہنی دباؤ سے نکلنے میں میری مدد کرتا ہے اور مجھے راحت کا احساس دلاتا ہے۔ انہی درج بالا نکات کیوجہ سے لکھتے لکھتے دوستوں کی نظر میں ہم لکھاری بنتے گئے حالانکہ میں لکھاری آج بھی خود کو نہیں مانتا دو چار لائینز سے کورے کاغذ کو کالی سیاہی سے بھر دینے کو رائیٹر نہیں کہتے خیر آج بھی جب اپنے پسندیدہ موضوع پر لکھنے کا سوچتا ہوں تو منیر نیازی نے صرف دیر کی تھی مگر میں بہت دیر کر دیتا ہوں بہرحال دیر آید درست آید پر مصداق آ جاتے ہیں جب سر خلیل احمد صاحب(کالمسٹ, آر جے) جیسے  غلطیاں نکالنے والے استاد ملیں تو شاگردوں کی تو گویق چاندی ہی ہو جاتی ہے اور سر نے میری مختلف تحاریر پڑھنے کے بعد نیوز پیپر میں لکھنے کا مشورہ دیا تھا (جو ابتک جاری و ساری ہے) ۔ محترمہ بہن تہمینہ رانا صاحبہ Tahmina Rana (سینئیر جرنلسٹ نیوز اینکر کالم نگار نوائے وقت )جیسی استاد کی راہنمائی اور پذیرائی ملے تو حوصلے زمین سے آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔  الحمداللہ جب بھی آج تک جو بھی آرٹیکل کسی پروفشنل اخبار یا بلاگ میں بھیجا تو اشاعت کی سند پا گیا جو میرے لئیے اعزاز کی بات ہے۔  میں تعمیری تنقید کو...

اُف! یہ آن لائن پڑھائی

مس کیا میں پانی پی لوں؟؟؟؟ پہلی جماعت کے طالب علم نے استانی صاحبہ سے پوچھا ۔تو استانی کہنے لگیں ۔کہ جی پی لیں۔اب بچہ نے کہا کہ مس کون سے بٹن کو دبانا ہے کہ پانی آئے؟؟؟  اب لمحہ بھر کے لیے تواستانی صاحبہ کو بھی نہ سمجھ آسکا کہ یہ بچہ کیا کہ رہا ہے!!!!! پھر وہ گویا ہوئیں اور کہنے لگیں۔کہ آپ جائیں اور پانی پی لیں۔اب بچے کا وہی سوال تھا۔اور کہنے لگا کہ لیپ ٹاپ کے کونسے بٹن کو دبانا ہے پانی پینے کے لیے؟؟؟؟؟ استانی نے یہ جملہ کہنے سے اپنے آپ کو روکا یہ کہنے سے “کہ بیٹا یہ ٹیکنالوجی کی اس حد تک ہم ابھی نہیں پہنچے ہیں “۔اور پیار سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگیں کہ آپ اٹھ کر جائیں اور پانی پی لیں کہ لیپ ٹاپ میں ایسا کوئی بٹن نہیں کہ جہاں سے پانی آسکے۔ دراصل بچہ یہ سمجھ رہا تھا کہ جب کلاس آن لائن ہورہی ہے تو سارے ہی کام آن لائن کرنے ہوں گے۔ تھوڑی دیر بعد استانی نے کہا کہ بیٹا ہاتھ کھڑا کریں ۔سارے بچہ ہاتھ کھڑا کرنے لگے کہ انھوں نے کہا کہ بیٹا یہ جو اسکرین پر ہاتھ بنا آرہا ہے ۔اسے کھڑا کرنا ہے۔بچے اپنا ہاتھ اسکرین کے قریب لا کر کھڑا کرنے لگے ۔اب استانی نے پھر بڑے پیار سے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا  کہ جو پیلے رنگ کا ہاتھ اسکرین پر نظر آرہا ہے اسے کلک کریں۔ اب کچھ بچوں کو تو سمجھ میں آیا اور کچھ کو نہیں۔ اور اس کے بعد اب باری تھی کہ استانی کچھ پڑھا رہی تھیں اور سلائیڈ دکھا رہی تھیں کہ استانی کی تصویر نظر آنا بند ہوگئ ۔اب تو بچوں نے بھیں بھیں کرنا شروع کر دیا اور ساتھ کہ دیا کہ ہمیں نہیں پڑھنا۔ ساتھ بیٹھی بچوں کی امی کو تو غصہ آیا کہ تم لوگوں کو ایک تو میں ساتھ بیٹھ کر پڑھا رہی ہوں اور تمھارے نخرے ختم نہیں ہورہے ۔سامنے اسکرین پر دیکھو۔ لیکن وہ بچہ ہی کیا جو ماں کی ایک سُن لے۔اسکرین کو دیکھنے سے صاف منع کر دیا کہ نہیں دیکھنا اسکرین پر جب تک استانی نظر نہ آئیں۔ ماں نے بھی اپنے آپ کو کنٹرول کیا اور ابھی وہ کچھ سمجھاتیں کہ استانی کی شکل اسکرین پر نظر آگئ ۔اب کچھ لمحات ہی گزرے ہوں گے کہ انٹر نیٹ کے کنکشن میں مسئلہ ہوا اور اب اسکرین پر نہ تو تصویر آرہی تھی اور نہ ہی کوئی سلائیڈ۔ اور بچہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ یہ تو اب کھیلنے کا وقت ہے۔ ماں نے پھر کوششیں کرنا شروع کیں اور بالآخر نیٹ بحال ہوا تو ماں باورچی خانہ سے آتی تیز جلنے کی بو پر وہاں سے بھاگی ۔مگر اس وقت تک وہ بڑی محنت ومشقّت سے پکائے  گئےسالن سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں۔ دو آنسو آنکھوں سے نکلے اور اس نے دوبارہ سے پیاز چھیلی و کاٹی۔اب یہ پیاز چھیلنے و کاٹنے کے بعد وہ بچہ کو دیکھنے گئیں تو وہ بچہ یو ٹیوب کھولے بیٹھا تھا۔ اور یہ دیکھ کر ماں کی یہ حالت کہ شاید وہ کچھ اٹھا کر ہی بچہ...

فاصلہ رکھیئے ورنہ محبت ہو جائیگی

عموماً ہم جب کہیں محو سفر ہوتے ہیں تو گاڑیوں کے پیچھے طرح طرح کے قیمتی جُملے یا اشعار ہماری نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ مُجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں سے ٹکر لینے کی بجائے ڈر کے مارے ٹرکوں کے پیچھے چُھپنے کو ہم ترجیح دیتے تھے , اک تو ٹھنڈی ہواؤں سے محفوظ رہتے دوسرا ٹرکوں کے عقب میں لکھے اشعار سے محظوظ ہوتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی یہ فضول شاعری (جسے ہم سمجھتے ہیں) بہت کام آ جاتی ہے، درج ذیل شعر میں نے تازہ تازہ ٹرک کے پیچھے سے پڑھا تھا۔آگے کلاس میں جا کر ہماری اُردو کی میم محترمہ شازیہ سجاد صاحبہ نے گاڑی پر سفر کی آب بیتی لکھنے کو کہا تو درج ذیل شعر میں نے لکھ ڈالا تھا اوپر سے خوشخطی کے الگ نمبر مجھے میم کی طرف سے پورے دس کے دس نمبر ملے تھے۔ آج پھر میری گاڑی کے سامنے میرا یار آیا خوشی تو بہت  ہوئی  رونا بھی  بار بار آیا پاکستان میں‌کسی بھی شاہراہ پر چلے جائے وہاں آپ کوبہت سی ایسی گاڑیاں ملیں گی جن کے پیچھے بے حد مزاحیہ اور عشقیہ اور عجیب و غریب فقرے لکھے ہوئے ملیں گے اور کچھ تو بہت پتے کی باتیں‌بھی لکھی ہوئی ملتی ہیں آج ہم آپ کو پاکستان میں موجود رکشوں اور بڑی گاڑیوں پر لکھی گئی شاعری کے کچھ نمونے دکھانے جارہے ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گے اگر کوئی دلچسپ جملہ آپکی نظر سے بھی گزرا ہو تو ضرور لکھیں ....... " رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے"........ گلوکار ملکو نے یقیناً اپنے اس گانے کا مکھڑا کسی ٹرک کے پیچھے سے ہی لیا تھا۔ کیونکہ یہ جملہ ٹرکوں اور رکشوں پر محفوظ ادب کا ہی ایک شاہکار ہے۔ دوران سفر ہمیں سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے ایسے ہی دلچسپ اشعار اور جملے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ ذرائع آمد ورفت اور خاص کر ٹرک کے پیچھے لکھی دلچسپ عبارتیں ۔۔ جسے ڈرائیور استاد اوران کا 'چھوٹا یعنی کلینر 'شاعری کہتے ہیں۔۔ بہت دفعہ آپ کی نظر وں سے گزری ہوگی۔ دراصل یہ عبارتیں ٹرک کے اندر بیٹھے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ جبکہ ڈرائیورز کا اپنا کہنا یہ ہے کہ ان کی لائف گھر میں کم اور سڑکوں پر زیادہ گزرتی ہے۔ بس سفر ہی سفر۔۔ اور تھکن ہی تھکن۔۔ ایسے میں اگر ایک ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو اپنے جذبات سے آگاہ کرے بھی تو کیسے۔۔۔ پھر چلتے چلتے دوسروں کو ہنسنے اور خود کو ہنسانے کے لئے یہ عبارتیں مفت کا ٹانک ہیں۔ نواں آیاں ایں سوہنیا؟،۔۔۔ “فاصلہ رکھیے ورنہ محبت ہو جائے گی”،” شرارتی لوگوں کے لیئے سزا کا خاص انتظام ہے”،”ساڈے پچھے آویں ذرا سوچ کے”،”دیکھ مگر پیار سے”،”پیار کرنا صحت کے لیئے مضر ہے”،” صدقے جاؤں پر کام نہ آؤں”،” باجی انتظار کا شکریہ”۔۔۔! دانشوری کے ان اعلیٰ نمونوں کو پڑھ کر ایک بارتو بندا مُسکرا ہی اٹھتا ہے...... ؎ہماری 'سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری ہے، دیکھ تو اے دوست...

صلائے’’آم‘‘ہے یارانِ۔۔۔۔۔۔

مسئلہ فیثا غورث کی طرح میرے لئے یہ مسئلہ بھی ابھی تک مشکل اور حل طلب ہے بلکہ ایک معمہ ہے کہ آم کھایا جاتا ہے یا چوسا کم چوپا جاتاہے۔ایک دانشور دوست سے دست بستہ ہوا تو بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں اس طرح گویا ہوئے کہ آم کھائو گٹھلیاں نہ گنو۔جواب تسلی بخش نہ پا کر تشفی قلب کے لئے محلہ کے پرانے بزرگ شیخ صاحب سے معمہ کے حل کے لئے عرض کیا تو انہوں نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں شیخانہ حل بتایا کہ دیکھو بیٹا اگر تو اپنے ’’پلے‘‘ سے خریدا جائے تو کھایا جاتا ہے وگرنہ ’’چوپا جاتا ہے۔مجھے حیران و ششدر دیکھتے ہوئے خود ہی تفصیل بتانے لگے کہ دیکھو بچے جب آپ اپنے گھر سے کھاتے ہو تو بڑی احتیاط سے اور کم کم کھاتے ہو لیکن جب کسی دوست کی شادی پر کھاتے ہو تو کیا حساب رکھتے ہو؟بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دوست تو اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک معدہ اور آنکھیں بند نہ ہو جائیں۔اسی لئے آم خریدیں ہوں تو کھائے جائیں گے وگرنہ ’’چوپے‘‘جائیں گے۔آئی بات سمجھ میں۔اگر دوستو!آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے تو نکل پڑو ایسے سفر پر جس کا اختتام ملتان میں کسی دوست کے ہاں ہوتا ہو۔کیونکہ میں نے تو اس دن سے یہ فلسفہ پلے باندھ لیا ہے اور جب کبھی بھی مینگو پارٹی ہو تو آم کھاتا نہیں چوپتا ہوں،گھٹلیوں کا حساب دوست احباب لگا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں آم اور سیب کے کھانے میں فرق صرف تہذیب کا ہوتا ہے۔آم واحد پھل ہے جسے جس قدر بدتمیز ہو کر کھایا جائے اتنا ہی مزہ آتا ہے۔آم کھانے کے انداز نے تو بڑے بڑوں کے پول کھول دئے ہیں اب آپ چچا غالب کی شائستگی کا ہی اندازہ لگا لیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا مرغوب پھل کون سا ہے؟تو کہنے لگے کہ آم ،مگر دو شرطوں پہ۔وہ کون سے سرکار، تو کہنے لگے کہ میٹھا ہو اور ڈھیر سارا ہو۔جب کبھی بھی دوستوں کی طرف سے آم کا ’’چڑھاوا‘‘آتا تو آستین اوپر چڑھا لیتے اور خوب جی بھر کر کھاتے۔اسی لئے غالب آموں کے موسم میں اکثر بدتمیز ہی دکھتے ۔شکر ہے غالب میاں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ملتان میں ہوتے تو صاحبِ دیوان ہونے کی بجائے ’’صاحبِ گلشن آم‘‘ہوتے اور بہت ہی ’’عام‘‘ ہوتے۔حیات غالب کا ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میاں غالب اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر چبوترے پر تشریف فرما تھے کہ ایک گدھا آم کے چھلکوں کے ڈھیر تک گیا،اسے سونگھا اور چلتا بنا۔دوستوں نے ازراہِ تفنن غالب پہ جملہ کسا کہ دیکھو غالب میاں’’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘۔غالب برجستہ بولے کہ ’’جی ہاں واقعی گدھے ہی آم نہیں کھاتے‘‘۔ لو جی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،غالب تک تو بات ٹھیک تھی میں نے تو ایک کتاب میں یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال کو بھی اس افضل الاثمار یعنی آم سے رغبتِ خاص تھی۔ایک سال حکیم صاحب نے علامہ صاحب کو ہدائت فرمائی کہ آموں سے...

پیزا، کتا اور مہمان

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئیں تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔ صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے۔ " میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈالے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر ضروری ہیں تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز۔ توڑ لو"۔ خاتون خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟" صاحب بولے؛ دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زہریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔ خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لئے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دئیے۔ دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا امی ہمارا موتی مر گیا"۔ خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لئے پریشان نہیں ہوئیں۔ جلدی سےاسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لئے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔ تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔ رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بیدم پڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں؟ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رُکا۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔ تو میری بہنوں آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

ہمارے بلاگرز