قائمہ کمیٹی  توانائی کی عبادت گاہوں کے بلوں سے ٹیکس ختم کرنے کی سفارش

225

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے مساجد سمیت تمام عبادتگاہوں کے بجلی کے بلوں سے ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کردی جبکہ حکومت سے ہزارہ الیکٹرک کمپنی کے قیام سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کمیٹی کو بتایا کہ جون میں استعمال ہونے والے یونٹس کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے اگست میں بل زیادہ آئے،  اس کے بعد سے ہم نے اپنی مینجمنٹ بھی بہتر کی ہے، ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ مہنگے ایندھن کو کم سے کم چلایا جائے۔

 فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو کم سے کم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ڈسکوز میں خالی آسامیاں کو فوری طور پر پر کیا جائے،  وزیر اعظم کو جو پروپوزل بھیجا ہے اس کے مطابق جو ریکروٹمنٹ ہو گی وہ ڈسٹرکٹ وائز ہوگی۔

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سردار ریاض محمود خان مزاری کی صدارت  میں ہوا ، اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان رکن اسمبلی مولانا  عبدالاکبر چترالی نے مساجد  اور اقلیتوں کی عبادتگاہوں کے بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جتنی بھی عبادتگاہیں ہیں ان میں لوگ صرف عبادت کے لئے آتے ہیں وہاں سے وہ انکم نہیں کماتے۔

مولانا  عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ  ٹیکسز کس مد میں مسجد سے لے رہے ہیں؟حکومت کا کام ہے کہ مساجد کی جملہ ضروریات کو پورا کرے ،مسجد سے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس لینا تو ظلم ہے، بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ، وہاں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کا کیاکام ہے، تمام ٹیکس ختم کئے جائیں۔

 سیکریٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں مساجد کے  دو لاکھ 54ہزار بجلی  کے کنکشن ہیں، اس میں کے الیکٹرک کے کنکشن شامل نہیں ہیں  ، وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم کمیٹی سے مکمل تعاون کریں گے،جون میں استعمال ہونے والے یونٹس کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے اگست میں بل زیادہ آئے۔

 سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ کاسٹنگ وغیرہ کر رہے ہیں جس کے بعد  وزیر اعظم کو سمری بھیج دیں گے ، کمیٹی نے معاملے سے متعلق تفصیلی جواب طلب کر لیا۔