ایٹمی پروگرام خطرے میں

346

 

آخری حصہ

اسرائیلی جاسوس صحافی یوسی میلمن لکھتا ہے موساد کے سابق چیف شابتائی شاوت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قتل کرنے کے لیے ایک ٹیم پاکستان بھیجی تھی۔ کیونکہ انہوں نے لیبیا اور ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔ موساد نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تواتر سے مشرق وسطیٰ کا درہ کرتے ہیں لیکن موساد ان کے ایٹمی پھیلائو کے نیٹ ورک کا سراغ نہیں لگا سکا۔ (اگر اس نیٹ ورک کا وجود ہوتا تو ملتا اس کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا)۔ تقریباً 15 سال پہلے یہ انکشاف موساد کے سربراہ نے اسرائیلی صحافی سے کیا تھا کہ نہ صرف موساد بلکہ امن (اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس) بھی ڈاکٹر خان کی سرگرمیوں کا سراغ نہیں لگا سکی وہ یہ نہیں جان سکے کہ ڈاکٹر خان مشرق وسطیٰ میں کس لیے دورے کررہے ہیں۔ لیکن محض شبہے کی بنیاد پر کہ انہوں نے ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی موساد کی ٹیم انہیں قتل کرنے کے لیے روانہ کردی گئی۔ کیونکہ موساد یہ سمجھتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے باواآدم ہیں بلکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بھی ’’گاڈ فادر‘‘ ہیں۔ مزید کہا گیا پاکستان کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ریٹائرڈ ہوکر غیر معمولی طور پر نجی کاروبار شروع کردیا۔ جبکہ موساد کو کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہا گیا کہ انہوں نے پاکستان کے سینٹری فیوج پی ون اور پی ٹوکے ڈیزائن ایرانی سائنس دانوں کو بیچ دیے۔ ایرانی سائنس دانوں کی اس ٹیم کی سربراہی ڈاکٹر محسن فاخر زادے کررہے تھے جن کو حال ہی میں موساد کے ایجنٹوں نے قتل کیا ہے انہوں نے ایران کے اپنے سینٹری فیوج آئی آر ون اور آئی آر ٹو بنائے ہیں۔ اس کے بعد وہ لیبیا کا ذکر کرتا ہے اور پرویز مشرف کی اس غلیظ اور ناپاک حرکت کا حوالہ دیتا ہے جس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو متنازع بنایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے 1998 میں جب کامیاب ایٹمی دھماکے کیے تو دنیا بھر میں پاکستان کی دھاک بیٹھ گئی تھی، دھماکے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اور بر وقت جواب تھے۔ ان دھماکوں پر بھارت پر پاکستان کا ایک رعب قائم ہوگیا تھا، بھارت نے بھی تسلیم کرلیا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسی کو تسلیم کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے لاہور میں مینار پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ امریکا کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ خطے میں امن ہو۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل پر خفیہ طور پر جنگ چھیڑ دی اور کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ اس کی گواہی خود آئی ایس پی آر کے سابق ڈائرکٹر کرنل (ر) اشفاق حسین نے اپنی کتاب ’’وٹ نیس ٹو بلنڈر‘‘ میں دی ہے جسے اردو میں انہوں نے ’’جنٹلمین استغفر اللہ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کارگل آپریشن ہر لحاظ سے ایک ناکام آپریشن تھا۔ جس کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ یہ 120 کلو میٹر سے بھی بڑے محاذ پر پھیلا ہوا تھا، وزیر اعظم اورکابینہ کی دفاعی کمیٹی کے علم میں لائے بغیر شروع کیا گیا تھا۔ بھارت نے نہ صرف محاذ جنگ پر اس کا بھر پور جواب دیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی وہ زبر دست مہم چلائی کہ اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف کے ماتحت کام کرنے والے ’’4 کے ٹولے‘‘ کو اس کا جواب دینا مشکل ہوگیا۔ اس آپریشن کے منصوبہ سازوں کا یہ مفروضہ کہ سویلین محب وطن نہیں ہوتے اور یہ کہ وہ اس آپریشن کی خبریں افشا کردیں گے، درحقیقت انتہائی غلط تھا۔ جنرل مشرف کا یہ موقف کہ ہر شخص باخبر تھا، حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم (نواز شریف) کبھی اس کارروائی میں فریق نہیں بن سکتے تھے جو ان مثبت نتائج پر پانی پھیر دے جو انہوں نے بھارت سے امن مذاکرات کے ذریعے حاصل کیے تھے۔
یہ بات ابھی تک پردہ راز میں ہے کہ کارگل آپریشن کس کے اشارے پر کیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت سیاسی منظر یہ تھا کہ پاکستان ایک بار پھر فخر سے کھڑا تھا۔ عالم اسلام ان ایٹمی دھماکوں کو اپنی کامیابی سمجھ رہا تھا۔ بھارت پاکستان سے برابری کی سطح پر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ لیکن وہ کون سی قوت تھی جسے خطے میں طاقت کا توازن قبول نہیں تھا، ظاہر ہے کہ وہ امریکا ہی ہے جسے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے سامنے اٹھ کھڑی ہونے والی ہر قوت کو کچل دینا چاہتا ہے۔ افغانستان سے وہ طالبان مجاہدین کی 20 سال کی مزاحمت کے نتیجے میں فرار ہونے پر مجبور تو ہوگیا ہے لیکن خطے میں اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پرویز مشرف نے امریکا کے اسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اقتدار پر قبضہ کیا اور امریکا کے نائن الیون کے ڈرامے کے بعد ایک فون کال پر ڈھیر ہونے کا سوانگ رچایا، کیونکہ یہ شک ہے کہ طے شدہ اسکرپٹ کے تحت یہ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جو الزامات لگائے گئے اور ان سے جبری اعتراف کروایا گیا وہ سب اسی کھیل کا حصہ تھا جس کا خاکہ امریکا نے لکھا تھا۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی اور سینٹری فیوج کو منتقل کرنے کا عمل کسی بھی حکومت کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا تھا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی نگران پاک فوج رہی ہے لہٰذا اس کی ساکھ پر حرف آتا تھا اس لیے پرویز مشرف کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکا کے حوالے کرنے سے روکا گیا نجانے کس قیمت پر اس نے یہ سودا کیا تھا۔ کاش پرویز مشرف ایک کتاب اور لکھے جس میں اس بات کا اعتراف کرے کہ اس نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام سبوتاژ کرنے کے لیے کتنی رقم وصول کی۔ اسرائیل کو یہ خوف تھا کہ 1990 میں پاکستان نے اپنا بیلسٹک میزائیل حتف 5 / غوری 1 تیار کرلیا تھا جس کی مارایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ تل ابیب تک تھی۔