معیشت، اپوزیشن اور عوام

280

ہے کسی کو فکر کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندوں کا فورم ہے، آئین نے اسے قانون ساز ادارے کا درجہ دے کر بالاتر بنایا ہوا ہے اور اسے قانون سازی کا اختیار بھی ایسا کہ ایوان میں کی جانے والی کسی بات پر کوئی حکومت مقدمہ نہیں بنا سکتی، ایوان میں اظہار خیال کرنے پر حکومت کسی کو گرفتار نہیں کر سکتی، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی رولنگ ملک کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں جا سکتی، اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر عوام کے نمائندے عوام کے لیے پارلیمنٹ میں کیوں نہیں بولتے، انہیں خوف اور ڈر کس بات کا ہے؟ اگر کسی ایم این اے یا سینیٹر سے اس موضوع پر بات کی جائے تو ریکارڈ پر اپنی بیسیوں تقاریر کا حوالہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش ضرور کرے گا۔ ہمیں پارلیمنٹ کا اور پارلیمنٹ کے ہر رکن کا احترام ہے مگر ملک کی معیشت بیٹھ رہی ہے اس کے لیے نمائندے ایوان میں کیوں کھڑے نہیں ہوتے؟ تازہ تازہ ارشاد ہے کہ اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرحِ سود میں ڈیڑھ فی صد (1.5) اضافہ یعنی بنیادی شرحِ سود کو 7.25 فی صد سے بڑھا کر 8.75 فی صد کردیا ہے اسٹیٹ بینک کے مطابق اس کی وجہ ملک میں مہنگائی اور ادائیگیوں کے توازن میں پیدا ہوتے خطرات تھے، کسی کو معلوم ہے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ پہلا اثر یہ کہ ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے دور بجائے یہ کہ سود ہی ختم کردیا جائے سود کی شرح بڑھ رہی ہے، یہ کیسا دعویٰ ہے؟ اس فیصلے کا دوسرا بڑا اثر یہ ہوگا کہ ملکی قرضوں میں اضافہ ہوجائے گا، قرض بڑھے گا تو معیشت پر دبائو آئے گا اور بوجھ عوام ہی برداشت کریں گے۔ جن میں اب یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کی سکت نہیں رہی، عوام کے نمائندوں کا کیا ہے؟ انہیں تو ہر ماہ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار روپے تنخواہ مل جاتی ہے، اور مجلس قائمہ کے چیئرمین ہر ماہ دو لاکھ اٹھارہ ہزار روپے تنخواہ پارہے ہیں، انہیں کیا فکر؟ ٹھا ٹھ باٹھ الگ سے ہے، سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی کیا فکر، ان کے ملک گیر دورے، بیرون ملک دورے ہر وقت تیار رہتے ہیں، ان کے ویزوں کے لیے قطار میں لگنے کا موئی موقع ہے اور نہ یہ ایسی صورت کہ ٹکٹ کے لیے پیسے نہیں ہیں، ان کے لیے وسائل ہر وقت تیار ہیں یہ پیسہ غریب کارکن کا ہے جو اپنی پارٹی کو چندہ کرتے ہیں، انہیں کوئی فکر نہیں کہ پٹرول کتنا مہنگا ہوا ہے؟ ان کے لیے ہر جگہ پروٹوکول ہے۔
مشیر خزانہ فرماتے ہیں کہ ایل این جی بر وقت منگوانے کا فیصلہ نہیں ہوسکا، اس لیے بحران ہے، کیا وزیر اعظم سمیت کسی نے اس کا نوٹس لیا؟ اب عوام بے چارے پریشان ہیں، انہیں حکم دیا جارہا ہے کہ بجلی استعمال کریں اور بجلی کے ریٹ بھی بڑھ رہے ہیں، کبھی کبھی خبر مل جاتی ہے کہ وزیر اعظم نے اوگرا کی بھیجی ہوئی سمری مسترد کرکے پٹرول کی قیمت میں صرف چند روپے ہی اضافہ کیا ہے، اس سے بڑا قوم سے مذاق اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ ملک میں دیگر ملکوں کی نسبت مہنگائی کم ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ناقدری مسلسل بڑھ رہی ہے اور کوئی اس بات کا جواب نہیں دے رہا ہے کہ روپے کی قدر میں سٹے بازی ہورہی ہے یہ خزانے میں کسی بڑی رقم کے آئے بغیر روپے کی قدر کم ہوجانا اور پھر اوپر چڑھ جانا یہ سب کچھ کیا ہے؟ حکومت کے علم میں ہونا چاہیے بلکہ ہوگا کہ روپے کی قدر میں سٹے بازی ہورہی ہے سٹے باز ایک بڑی رقم ڈالر پر لے جارہے ہیں۔ روپے کی ڈالر کے مقابلے حقیقی شرح مبادلہ 164 روپے ہونا چاہیے آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیلات عام نہ ہونے سے یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں، حکومت عوام کے مسائل چاہے حل نہ کرے مگر روپے کی قدر میں سٹے بازی کرنے والے بینکوں کے خلاف تو کارروائی کرے، حکومت، اپوزیشن اور ارکان پارلیمنٹ اس پر کچھ تو بولیں۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی ہو یا زرِمبادلہ پالیسی، کیا ان سے عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں یا پھر نہیں؟ کیا ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ اسٹیٹ بینک کی زرِمبادلہ پالیسی اور زری پالیسی ایک دوسرے کی متضاد ہیں، صرف سٹے بازوں کے مزے ہیں اور عام پاکستانی کی قوت خرید متاثر ہورہی ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، مگر پارلیمنٹ خاموش ہے۔