ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا

201

جماعت اسلامی سید منّورحسن مرحوم و مغفور کے الفاظ ہیں۔جب افغانستان پر زمینی اور فضائی حملوں میں بیالیس ممالک کی کیل کانٹوں سے لیس فوجیں افغانستان پر حملو ں میں مصروف تھیں اور بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ بقول سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ہم چند ہفتوں میں افغانستان پر مکمل کنڑول حاصل کرلیں گے۔لیکن مومن کی فراست بین آنکھیں دیکھ رہی تھیں اور دنیا والوں کو بتارہی تھی کہ ایک دن امریکہ اور اس کے حواریوں کا تکّبر خاک میں ملنے والاہے۔بھول جانا انسان کی ایسی بیماری ہے جس پر آج تک قابو نہیں پایا جاسکا اس دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب بہت کمزور اور تعداد میں قلیل گروہ اپنے سے طاقتور اور تعداد میں زیادہ بڑے گروہ پر فتح مند ہوجاتے ہیں۔ایسا کیونکر ہوتا ہے ،ظلم کی تاریخ رقم کرنے والے بیشمار گروہ اس زمین کے سینے پر ابھرے اور طاقت کا لوہا منوانے کی کوشش میں پیوندخاک ہوگئے شاید بہت سو ں کے نام تک باقی نہیں۔ اس کی وجہ ان گروہوں کا ظلم کی بیساکھی کا سہارا لیناہے۔ظلم کے بازا ر کو گرم رکھنے کے لیے مظلوموں کا ایندھن استعمال کرنا لیکن سیاہ رات جتنی سیاہ ہوتی جاتی ہے صبح روشن اتنی ہی قریب آلگتی ہے۔اس وقت تمام دنیا کے اینکر پرسن ، تھنک ٹینک اور ٹی وی ٹاک شوز طالبان کو دہشت گرد ،دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ، تہذیب سے نا آشنا ،عورتوں کی آزادی کا دشمن باور کرارہے تھے اس کے برعکس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو امن کاپرچارک ، تہذیب کی علامت ،انسانی حقوق کے علمبردار اور آزادی نسواں کے چیمپئن دنیا کو باور کرارہے تھے۔کہتے ہیں کہ” نادان کی دوستی جی کا جنجال “سابق صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹیٹر ایوب خان کے پاک امریکا دوستی کی پینگیں ہمارے لیے اسی محاورے کی مصداق ثابت ہوئی اس آکاس بیل نے ہمیں اب بری طرح جکڑ لیا ہے ہمارے حکمران اس آکاس بیل میں جکڑے امریکہ کی غلامی اور کاسہ لیسی میں اپنی زندگی گزارنے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ابھی اس تقریر کی گونج فضاؤں میں باقی ہے کہ ہم پرائی جنگ میں کود رہے ہیں ۔آج وہی وزیر اعظم صاحب کابیانیہ بن چکا ہے کہ ہم نے پرائی جنگ میں کود کر بڑی غلطی کی تھی اب ہم اس غلطی کو دہرا نہیں سکتے۔ایک زمانہ تھا جب پاک افغان بارڈر پر ہمارا کوئی سپاہی نہیں ہوتاتھا دونوں طرف امن تھا مگر آج ہم باڑھ لگانے پر مجبور ہیں۔آج یہ دوستی ہمارے لیے جی کا جنجال بن چکی ہے۔پچاس ساٹھ ہزار نہتے طالبان نے جب امریکا کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا اور مقابلے پر کمر بستہ ہوئے تو کچھ زیرک معاملہ فہم چالاک لوگ ان سے ملنے گئے اور ان کو سمجھانے لگے اس وقت ایک جملہ ملا عمر کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا ” آ پ نے ہتھیار اٹھائے نہیں اور ہم نے ہتھیار رکھے نہیں “آج دنیا میں پھر ثابت ہوگیا ہتھیار رکھ کرسونے والے چھوٹی سی صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف متحدہ عرب طاقت پارہ پارہ ہوگئی اور شکست ان کا مقدر بنی اور غلیل سے لڑنے والے فلسطینیوں کو رب کریم نے عزت سے ہمکنار کیا اور کیل کانٹے سے لیس غاصب صہیونی ریاست ساری دنیا میں ذلیل و رسوا ہوگئی۔
دنیا میں سفارت کاروں کی تعلیم و تربیت اور آداب سفارت کاری سیکھانے کے لیے ایک ادارہ ہے جہاں سفارت کاروں کی تعلیم و تربیت کیلیے جو دنیا کے سفارتی عمل میں وقوع پزیر ہوتے ہیں ان کو زیر بحث لایا جاتاہے۔ یہ بڑا معتبر ادارہ ہے اس کا نام “فلیچرا سکول آف ڈپلومیسی “ہے اور یہ بوسٹن میں واقع ہے۔ دوسرا ادارہ “رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ” ہے یہ ادارہ برطانیہ میں 1801 میں قائم ہوا اس میں اعلٰی عسکری قیادت کے اندر جنگی صلاحیت کو بڑھا یاجاتا ہے۔جنگی حکمت عملی سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے او ر ایسے تمام جنگی حالات و واقعات زیر بحث بھی آتے ہیں جو آج کی دنیا میں وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پر لڑی جانے والی بیالیس ممالک کی سب سے مہنگی اس جنگ میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی شکست کے بعد اب رائل کالج سینڈہرسٹ میں طالبان کی جنگی حکمت عملی زیر بحث لائی جائے گی اور ان کے نصاب میں امریکہ طالبان جنگ کا اضافہ ہوگا دوسری طرف فلیچر اسکول آف ڈپلومیسی کے نصاب میں بھی اب طالبان سفارتی عمل زیر بحث لایا جائے گا ۔افغانستان جنگ میں شکست کے اس زخم سے برسوں خون رستا رہے گا اور اس زخم سے اٹھنے والی ٹیسوں سے امریکہ اور مغرب برسوں بے قرار رہیں گے تمام امریکہ ،مغرب اور ہندوستان سر جوڑ کربیٹھنے پر مجبور ہوگے کہ کیسے اس شکست کا بدلہ لیا جائے مگر اب تو یہ نوشتہ دیوار ہے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک