گرے لسٹ کی تلوارلٹکی رہے گی – میاں منیر احمد

124

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے حالیہ اجلاس میں ایشیا پیسفک گروپ رپورٹ پر پاکستان کو مزید ایک سال کے لیے گرے لسٹ میں اور مانیٹرنگ کا حصہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اور تسلیم کیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26سفارشات کی تکمیل کرلی ہے، لیکن اسے اب بھی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائوں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو نیا ایکشن پلان دیا ہے، تاہم گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔

ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں جو فیصلہ ہوا حکومت کم و بیش اس سے واقف تھی۔ یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ کوئی اور ملک ہوتا تو کب کا گرے لسٹ سے نکل چکا ہوتا۔ ایف اے ٹی ایف نے تین سال قبل بھارت کی ایما پر جون 2018ء میں ہمیںگرے لسٹ میں ڈال کر 27 شرائط کے ساتھ ایک انتہائی مشکل پلان دیا تھا کہ اس پر عمل درآمد کیا جائے، اور پاکستان کو جون 2020ء تک کا وقت دیا تھا۔ اس مدت تک پاکستان 14 اہداف پورے کرچکا تھا۔ رواں سال فروری کے اجلاس میں 27 میں سے 24نکات پر مکمل اور تین پر جزوی عمل درآمد کی رپورٹ جاری کی گئی، اب مزید تقاضا کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کچھ طاقتیں ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود حکومت کیوں سورہی ہے؟ اس کی وزارتِ خارجہ کیا کررہی ہے، پاکستان کے لیے مزید چار شرائط، مقبوضہ کشمیر کی جیلوں سے باہر غیرمقبول کشمیری سیاسی قیادت سے مودی کی ملاقات، امریکی صدر بائیڈن کا افغانستان کا مستقبل بالواسطہ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے فوجی تعاون جاری رکھنے کا اعلان، یہ سب کچھ پاکستان کے لیے ایک امتحان ہے، ان اقدامات کا مقصد صرف یہی ہے کہ امریکی لابی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان کو مشکل میں رکھا جائے، کابل پر قبضہ رہنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر دہلی کے کنٹرول سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ یہ تینوں فیصلے پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں، اسی لیے گرے لسٹ کی تلوار لٹکائے رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اب سمجھ میں آرہا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ کا ٹیکنیکل عالمی ادارہ اب سیاسی ادارہ بن گیا ہے۔ ان فیصلوں کو اگر G-7کے بارے میں چین کے ردعمل کو ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ہمیں اس خطے میں پاکستان اور چین کے خلاف سوچ کا علم ہوجانا چاہیے، جبکہ کھلے بازار میں بھارتی یورینیم کی خرید و فروخت کسی کو نظر نہیں آرہی۔ کہا گیا کہ کورونا کے بعد اسے دیکھا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ بھارت کو بے نقاب کرنے کے لیے عمران حکومت کیا کر رہی ہے؟ بھارت میں دھندا تو سرعام پکڑا گیا ہے مگر ایف اے ٹی ایف کیوں متحرک نہیں ہوا؟

تحریک انصاف کی حکومت تین سال گزار چکی ہے، ان تین سال میں چور چور کے شور کے سوا اس نے کچھ نہیں کیا۔ اسے علم تھا کہ ملک کس بحران میں گھرا ہوا ہے، افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے حالات، ایران سمیت اس خطے کے حالات پوری طرح عیاں تھے۔ حکومت چاہتی تو کایا پلٹ سکتی تھی، اندرون ملک اور بیرون ملک سب جگہ سپہ سالار نے محاذ سنبھالے رکھا، اس کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت اس ملک کو کچھ نہیں دے سکی۔ وزارتِ خارجہ کی ناکامی پوری طرح عیاں ہوچکی ہے۔ اس کی بے سمت پالیسی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ سی ڈی اے کو ایک سمری بھجوائی گئی کہ اسلام آباد کی کسی ایک سڑک کو احمد شاہ مسعود سے منسوب کیا جائے۔ یہ سمری مسترد ہوچکی ہے کہ کسی سربراہِ مملکت کے سوا کوئی سڑک کسی نام سے منسوب نہیں ہوسکتی۔ احمد شاہ مسعود کا نام نہ جانے کیوں دیا گیا؟ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ وزیراعظم عمران خان نے اگرچہ کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امریکہ کو فوجی اڈے نہیں دے گا، اور افغان طالبان کے خلاف فوجی ایکشن نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلے درست ہیں، مگر ایسے فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ سے کیوں توثیق نہیں کرائی جاتی؟ وزیراعظم عمران خان اس خدشے کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ اگر افغانستان کے مسئلے کا ایسا سیاسی حل نہ نکالا گیا جو طالبان کے لیے بھی قابلِِ قبول ہو، تو افغانستان میں خونریز خانہ جنگی ہوسکتی ہے۔

صدر بائیڈن جولائی میں انخلاء چاہتے ہیں، صرف چھ سات سو امریکی فوجی سفارتی عملے کی حفاظت پر مامور رہیں گے۔ سیکورٹی، معاشی، انٹیلی جنس اور تربیتی امداد جاری رہے گی۔ سیکورٹی کے لیے 3.3 ارب ڈالر و دیگر امداد دی جائے گی۔ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق افغان حکومت بمشکل چھ ماہ گزار پائے گی اور افغانستان خانہ جنگی کی نذر ہوجائے گا۔ افغانستان کے 419 اضلاع میں سے 81 پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے، اور افغان فوج اور مقامی ملیشیائوں کے ساتھ جنگ کا دائر وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت افغانستان کی صورتِ حال یہ ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ سے طالبان کے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکے ہیں، جنگ بندی بھی نہیں ہوئی اور طالبان بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کابل پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ طالبان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کابل پر قبضہ نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے کہا؟ وہ سامنے تو آئے۔ افغانستان کی صورتِ حال بہت پیچیدہ بن رہی ہے، اور جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات بھی سادہ نہیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں معروضی حالات جاننے کے لیے کچھ مغالطوں اور غلط مفروضوں سے نکلنا ہوگا۔ یہ بات طے ہونی چاہیے کہ امریکہ معاشی، فوجی اور سیاسی نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا، جب کہ اس نے اپنے تمام اہداف پورے کیے ہیں۔ امریکی اور اتحادی افواج کی مہم جوئیوں پر سرمایہ کاری اب کون کرے گا؟ اور کیا یہ بات درست ہے کہ امریکہ اس خطے کو مزید بدامنی میں جھونکنے کے لیے انخلاء کا ڈراما رچا رہا ہے تاکہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے، خاص طور پر سی پیک میں رکاوٹیں پیدا ہوں اور کابل میں بدامنی بڑھ جائے؟ امریکی انخلا کے بعد کابل میں قبضے کے لیے کس کے مابین جنگ ہوگی؟ حقائق کا تجزیہ یہی ہے کہ مستقبل قریب کا منظرنامہ کچھ اچھا نظر نہیں آرہا۔ پارلیمنٹ میں ملک کی تمام سیاسی قوتیں مل کر باہمی فیصلے کریں، پاکستان کی سیاسی صورت حال، کابل کی ممکنہ شکل اور اس خطے کے حالات کے پس منظر میں اگر ملک کی معیشت اور آئی ایم ایف کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو کاسہ لیسی کا ایک نیا باب ہمیں کھلتا ہوا مل رہا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے اور دعویٰ کررہی ہے کہ ملک کی معاشی سمت درست ہوگی اور تخفیف ِغربت میں مدد حاصل ہوگی، لیکن گزشتہ ہفتے تین اہم واقعات دہلی، پیرس اور واشنگٹن میں ایسے ہوئے ہیں جن کے مضمرات پاکستان کے لیے نہایت دوررس ہوں گے۔ واشنگٹن میں صدر بائیڈن اور افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کی ملاقات ہوئی، دہلی میں مودی حکومت نے 5 اگست 2019ء کے اقدامات کے 22 ماہ بعد کشمیر کی آٹھ جماعتوں کے 14 رہنمائوں کا اجلاس طلب کرکے اپنا روڈ میپ دے دیا ہے، فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی بھی شریک تھیں۔ یہ سب جماعتیں وہاں انتخابی عمل چاہتی ہیں۔ اجلاس میں مودی حکومت نے ازسرنو حلقہ بندیوں، سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی سرگرمیوں کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ لداخ کو یونین علاقہ برقرار رکھتے ہوئے جموں و کشمیر کو صوبائی درجہ دینے کا منصوبہ پیش کیا، جبکہ آرٹیکل 370 اور 35-A کے معاملے کو زیر بحث نہیں لانے دیا گیا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اور سب نے اسے قبول کیا۔ صرف حلقہ بندیوں پر اعتراض اٹھایا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مودی نے کشمیری قیادت کو صوبے پر راضی کرلیا ہے جس میں کشمیری قیادت صرف مقامی سول سروس اور 35-A کے تحت کشمیر کی نسلی نوعیت کے تحفظ پر مُصر ہے۔ یہ وہی عمل دہرایا گیا جو جواہر لعل نہرو نے 1949ء میں کیا تھا۔ اب یہاں اصل سوال یہ ہے کہ عمران حکومت نے بھارت سے بات چیت کے لیے آرٹیکل 370 اور 35-A کو بحال کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی شرائط کیوں عائد کی تھیں؟ پاکستان نے سرکاری طور پر کبھی بھی ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا، ہوسکتا ہے وہ حلقے مطمئن ہوں جو گلگت بلتستان کو صوبہ بنا چکے ہیں اور آزاد کشمیر کو سابقہ فاٹا کی سطح پر رکھنا چاہتے ہیں۔ کہیں یہ کشمیر کو باہم تقسیم کرنے کا منصوبہ تو نہیں؟ کم و بیش یہی لاہور میں نوازشریف اور اٹل بہاری واجپائی اور جنرل پرویزمشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے بیچ چار نکاتی فارمولے کی صورت طے پایا تھا۔

نواز شریف کے مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کیس میں نہایت دلچسپ فیصلہ دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں سزائوں کے خلاف سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی اپیلیں خارج کردی ہیں۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی کی عدالت سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نوازشریف کو سزا سنائی جس کے خلاف اپیل میں سزا معطل کرکے انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل سماعت کے لیے مقرر ہونے سے انہیں قانونی تقاضے پورے کرکے اشتہاری قرار دیے جانے تک وہ اس عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ نوازشریف مفرور ہیں اس لیے ان کی درخواستیں خارج کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ فیصلے میں پرویزمشرف سمیت چار عدالتی فیصلوں کا حوالہ شامل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ قانون کا مفرور حقِ سماعت کھو دیتا ہے، نوازشریف کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا اور وہ ضمانت پر ہونے کے باوجود بیرون ملک گئے، کئی تاریخوں پر غیر حاضر رہے، اس لیے عدالت کے پاس نوازشریف کی اپیلیں خارج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ نوازشریف واپس آئیں یا پکڑے جائیں تو وہ اپیل کی بحالی کی درخواست دے سکتے ہیں۔

اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوا کہ ہائی کورٹ میں نوازشریف کی اپیل کی سماعت ہوگی، اور جب وہ واپس آئیں گے انہیں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی رجوع کریں گے۔

(This article was first published in Friday Special)