خفیہ حکومت کیا ہے؟

410

خفیہ حکومت یا پوشیدہ حکومت  جسے انگریزی میں Shadow Government کہا جاتا ہے ایک ایسے نظریے یا ایک ایسی سازش کی بنیاد پر حقیقی اقتدار کا نام ہے جو بظاہر عوامی سطح پر منتخب کردہ نمائندوں یا حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو مگر دراصل پوشدہ اور مخصوص افراد درِپردہ اس اقتدار کا استعمال کررہے ہوں اور جن کے اختیارات کا دائرہ کار تمام حکومتی ضابطوں و اصولوں اور اخلاقیات سے آزاد ہو۔

یہ خفیہ حکومت مرکزی بینک، فری میسن، انٹیلیجنس ایجنسیوں، تھنک ٹینکس، صیہونی یہودیوں یا عیسائیوں، ویٹیکن ، خفیہ سوسائٹیز، جیسوئٹس (تعلیم اداروں و ہسپتال، ریسرچ اور سوشل مینسٹریذ وغیرہ میں تعنات کرنے والے کیتھولک چرچز کے ممبرز)، دولتمندوں کے مفادات، عالمی قانون ساز اتحادی اور قومی مفاد سے بالا تر خفیہ آرگنائزیشنز کے ذریعے تشکیل پاتی ہے جو کہ بین الاقوامی پالیسیوں کو یا تو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے یا ایسے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے جو عوام سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔

ایک نظریے کے مطابق خفیہ حکومت کا جو اولین مقصد ہے وہ ہے نیا عالمی قانون (New World Order) قائم کرنا جو خودمختار قومی ریاستوں کو ہٹا کر اپنی عالمگیر حکومت قائم کرنا ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ تاریخ میں ایسی متعدد بااثر اور اہم شخصیات پر خفیہ حکومت کے کارندے ہونے کا الزام عائد کیا جاچکا ہے کہ وہ مختلف آرگنائزیشنز کے ذریعہ اہم سیاسی اور معاشی پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں جس کے نتیجے میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بحران اور متنازعہ پالیسیاں وجود میں آتی ہیں۔

 

امریکہ کے 26ویں صدر تھیوڈور روزویلٹ کا خفیہ حکومت کے بارے میں کہنا تھا کہ،

“بظاہر نظر آنے والی حکومت کے پیچھے ایک ایسی حکومت کارفرما ہوتی ہے جسے کسی بھی قوم یا ملک کے مفادات و نقصان سے سروکار نہیں ہوتا اور وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتی۔”

تعلقات عامہ (Public Rerations) کے بانی ایدورڈ برنے نے اپنی کتاب ‘ُPropaganda’ میں لکھا ہے کہ،

“جمہوری حکومت میں خفیہ طریقے سے عوام کے اذہان، نظریات و عادات اور ملک کی پالیسیوں کی حسبِ منشاء تبدیلی کے ذمہ دار نامعلوم ادارے یا افراد کسی بھی حکومت کا اہم جُز ہوتے ہیں۔ اور یہی جُز دراصل کسی بھی ملک میں اقتدار کے حقیقی مالک ہوتے ہیں۔ ہم پر وہ افراد حکومت کرتے ہیں اور ہمارے نظریات و عادات میں تغیر اُن لوگوں کے اشاروں پر ہوتا ہے جن کا نام تک ہم نہیں جانتے۔”

خفیہ حکومت کا ایک اہم جُز فری میسن ہے جسے (illuminati) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد 18ویں صدی میں جرمنی میں رکھی گئی تھی اور یہی فری میسن 1 ڈالر کے نوٹ پر بنے اہرام اور اُس کے اوپر ایک آنکھ کے ڈیزائن کی ذمہ دار ہے۔ اس فری میسن کا عالمی تسلط قائم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ممالک کے درمیان جنگوں کو اتنا بھڑکایا جائے کہ تمام ممالک ایک ہی حکومت کی تشکیل پر مجبور ہوجائیں اور پوری دنیا ایک ہی حکومت کے زیرِ تسلط آجائے جسکی باگ ڈور ظاہری بات ہے کہ فری میسن کے ہاتھ میں ہوگی۔

2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے سے پہلے سابق امریکی نمائندے رون پال نے کہا تھا کہ،

“یہ بات ہمیں ماننی پڑے گی کہ کوئی خارجی قوت ہے جسے ہم خفیہ حکومت یا مخفی ریاست (Deep State) کا نام دے سکتے ہیں۔ اس کے کارکنان ہماری حکومت اور یہاں تک کہ ملک کے صدر سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور ملک کے ہر معاملات پر اثر انداز ہیں۔