کراچی کے تمام پارکوں نالوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم

116

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ کسی کو بھی کراچی کی زمین کا اسٹیٹس تبدیل کر کے رہائشی عمارت سے شادی ہال یا میگا اسٹور میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے تجاوزات کے خاتمے کے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ڈی جی ایس بی سی اے، ڈی جی کے ڈی اے ، پیمرااور کے الیکٹرک کے نمائندوں سمیت تمام کنٹونمنٹ بورڈ کے سی سی اوز نے شرکت کی۔اجلاس میں کمشنر کراچی نے تجاوزات کے خاتمے کے خلاف جاری آپریشن کے متعلق بریفنگ دی۔ انہونے بتایا کہ شہر کے 1578 پارکس میں بیشتر میں سے غیرقانونی تجاوزات ہٹادی گئی ہیں اور کچھ پارکوں میں مساجد اور دیگر سافٹ تجاوزات ہیں۔ انہوںنے مزید بتایا کہ شہر کے 34 نالوں سے بھی غیرقانی تجاوزات ختم کردی گئی ہیں۔چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ شہر کے تمام پارکوں، نالوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کیا جائے اور حکومت سندھ نے بھی اپنے دفاتر نیشنل میوزیم سے ہٹائے ہیں کسی کو بھی پارک اور دیگر سرکاری زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجلاس میں میٹروپولیٹن کمشنر نے بتایا کہ شہر میں جگہ جگہ زمینوں کا اسٹیٹس تبدیل کر کے میگا اسٹور کھولے جارہے ہیں اور مختلف اسپتالوں کے آگے میڈیکل اسٹور ہیں جو کسی محکمے سے این او سی نہیں لیتے۔ چیف سیکرٹری سندھ نے کمشنر کراچی اور ڈی جی ایس بی سی اے سے کراچی کے شادی ہال اور میگا اسٹور کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کے شہر میں بننے والے غیرقانونی شادی ہال اور میگا اسٹور سے ٹریفک متاثر ہورہی ہے۔ شہر کے اسپتالوں کے سامنے سے غیرقانونی میڈیکل اسٹور اور دیگر تجاوزات ہٹا دی جائیں۔ انہوںنے سیکرٹری بلدیات سے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی گورننگ باڈی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے۔ ممتاز علی شاہ نے کہا کہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کیبل کی تاروں کو بجلی کے کھمبوں سے ہٹایاجائے، ان تاروں سے نا صرف شہر کی خوبصورتی پر اثر پڑا ہے بلکہ لوگوں کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ انہوںنے کمشنر کراچی افتخار شالوانی کو ہدایت کی کہ کیبل ایسوسی ایشن سے ملاقات کر کے 2 ماہ میں کیبل وائر ہٹانے کے لیے کہا جائے۔