زرداری کے پروڈکشن آرڈرکا فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے، اسد قیصر

34

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق صدر مملکت آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرزکے معاملے پرا سپیکر کی قانونی مشاورت مکمل نہ ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈرز کے اجرا پرا سپیکر نے وزارت قانون سے رائے مانگ لی ہے جب کہ اس معاملے پر گزشتہ روز پارلیمنٹ میں میڈیا کے استفسار پر اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، قانونی ماہرین سے مشاورت ہو رہی ہے۔علاوہ ازیںپیپلزپارٹی کی طرف سے سابق صدرآصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے معاملے شدید ردعمل جاری ہے۔سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلزپارٹی سید نیر حسین بخاری نے واضح کیا ہے کہ حکومتیں ذاتی دشمنی سے نہیں وسیع النظری سے چلتی ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی کا آصف علی زرداری ، علی وزیر، محسن داوڑ، خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنا جانبداری کا واضح ثبوت اور طرز عمل ہے ،پروڈکشن آرڈر کا اجرا ارکان کا آئینی حق ہے،اسپیکر پروڈکشن آرڈر جاری کرکے اپنی غیر جابندارا نہ حیثیت بحال کر سکتے ہیں،بجٹ اجلاس چل رہا ہے اور اپوزیشن ارکان کو ایوان میں آنے سے روکا جا رہا ہے،فرد واحد کی ڈکٹیشن پر عمل سے ایوان کا تقدس پامال ہو رہا ہے ،چیئرمین پی پی بلاول زرداری کو2 مرتبہ ایوان میں تقریر کرنے سے روکا گیا،اپوزیشن کی زبان بندی کے نتائج خطرناک ہوںگے۔پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان، پیپلزپارٹی خیبر پختونخواکے صوبائی صدر محمد ہمایوں خان ، پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے اسپیکر قومی اسمبلی سے آصف علی زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کا اجرا اسپیکر کی ذمے داری ہے ۔