حیدر آباد، پولیس سرپرستی میں مضر صحت اشیا کی تیاری اور فروخت

62

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) حیدر آباد کی مارکیٹوں میں گٹکا، مین پوری اور ماوا کی تیاری میں استعمال ہونے والی مضر صحت اشیا کی کھلے عام فروخت جاری، شہر میں قائم ہول سیل مارکیٹوں میں چھالیہ، کتھا، چونا سمیت خام مال کے ذریعے گٹکا، مین پوری اور ماوا کی تیاری جاری، پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کی ہفتہ وار مبینہ رشوت کے عوض سرپرستی جاری۔ حیدر آباد کے مصروف کاروباری علاقے فقیر کاپڑ، مارکیٹ ٹاور اور قرب وجوار میں مین پوری بنا نے کے خام مال کی دکانوں پر فروخت جاری ہے، اس غیرقانونی کاروبار کو تھانہ فورٹ اور تھانہ مارکیٹ کے ایس ایچ اوز، انٹیلی جنس آفیسرز اور ہیڈ محرر نے ہفتہ اور ماہانہ کی بنیاد پر کھلے عام چھوٹ دے رکھی ہے، جس پر مین پوری فروخت کرنے والے ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو آزاد ہو کر مین پوری فروخت اور تیار کرکے گلیوں محلوں میں نوجوان نسل کو کینسر جیسی موذی بیماری بیچ رہے ہیں اور تھانہ فورٹ اور تھانہ مارکیٹ پولیس اس غیر قانونی دھندے کی سرپرست ہے۔ پولیس کی جانب سے مین پوری فروشوں کے خلاف دکھاوے کے لیے کارروائیاں کی جاتی ہیں، جو ان کو ہفتہ یا ماہانہ نہیں پہنچاتا، اس کو تھانے لاکر ایس ایچ او کے رکھے ہو ئے پرائیویٹ آدمی ساز باز کرکے منتھلی یا ہفتہ سیٹ کرتے ہیں اور ان کو بھاری رقم لے کر چھوڑا جاتا ہے۔ ایس ایس پی حیدرآباد بڑی جانفشانی اور تندہی سے مین پوری اور گٹگاکیخلاف سخت کارروائی کررہے ہیں، مگر ایس ایچ او فورٹ اور ایس ایچ او مارکیٹ ایس ایس پی حیدرآباد کی کاوشوں کو بھاری رشوت لے کر سبوتاژ کرنے میں مصروف ہیں۔ شہریوں نے ایس ایس پی حیدر آباد سے مطالبہ کرتے ہو ئے کہا کہ ایس ایچ او فورٹ اور ایس ایچ او مارکیٹ کا تبادلہ کیا جائے جو جرائم کے خاتمے کے بجائے جرائم کی سرپرستی میں مصروف ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.