۔50 لاکھ گھر اعلان سے نہیں بنیں گے ،پھر کہتے ہیں تبدیلی آگئی،چیف جسٹس 

98

اسلام آباد(آن لائن) عدالت عظمیٰ نے کچی آبادی سے متعلق تیار کردہ قانونی مسودہ چاروں صوبوں کو دینے کا حکم دیتے ہوئے تجویز کردہ قانونی مسودے پر وفاق سمیت چاروں صوبوں سے جواب طلب کر لیا ہے ، کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی حالت بہتر کرنا انتظامیہ کا کام ہے،اگر انتظامیہ یہ کام نہیں کرتی تو عدالت معاملے کو دیکھے گی، اگر سہولیات فراہم نہیں کر سکتے تو ان کا متبادل انتظام کریں، اسلام آباد اور چاروں صوبے اس معاملے میں شراکت دار ہیں،ہمیں اس حوالے سے کوئی قانون یا پالیسی بتائی جائے، کچی آبادیوں میں تعفن پھیل رہا ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں کہ وزیر اعظم سے پتا کریں کہ انہیں کب فرصت ہے،یہ اہم مسئلہ ہے اس کو دیکھا جائے،ہم وزیر اعظم کو حکم نہیں دے رہے لیکن وہ اس مسئلے کو دیکھیں، اگر ہم گھر میں مرغیوں یا کبوتروں کا پنجرہ بھی بنائیں تو اس کے لیے بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں، مردم شماری کی ہوگی لیکن اسلام آباد کیلیے بھی کچھ کیا جائے،ہم ایک کچی آبادی کی سوسائٹی کو ماڈل بنائیں گے،پھر تمام سوسائٹیوں کو اس ماڈل کے مطابق بنایا جائیگا،سوسائٹی میں ضروریات زندگی کی تمام سہولیات موجود ہونگی،سندھ حکومت کی کچی آبادی بھی دیکھ لیں گے، وزیر اعلیٰ اور گورنر کے ساتھ سندھ کی کچی آبادی کا دورہ کروں گا،دیکھیں گے کہ سندھ حکومت نے بھٹو کے قانون پر کتنا عمل کیا، وزیر اعظم کو جاکر بتادیں کہ 50 لاکھ مکان بنانے میں ہمیں کوئی شبہ نہیں جب تک وہ نہیں بنتے تب تک کچی آبادیوں کاکچھ کریں،لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمے داری ہے،کچی آبادی سے متعلق فلم ہچکی دیکھ لیں،خیبر بختونخوا میں بھی کچی آبادیوں سے متعلق کوئی اقدامات نہیں ہوئے، ہمیں بتائیں انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے میں کتنا وقت لگے گا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کی پالیسی بنائی ہے،کچی آبادیوں کے لیے سی ڈی اے نے جگہ مخصوص کر رکھی ہے،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معلوم نہیں کہ یہ 50 لاکھ گھرکب تک تعمیر ہونگے، ابھی تو پی سی ون بنے گا فنڈ کا مسئلہ ہوگا اور بھی کئی مسائل ہونگے، فوری طور پر ان لوگوں کیلیے کچھ کرنا ہوگا،عدالت نے سماعت 4 ہفتوں کیلیے ملتوی کر دی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ