موسمِ سرما اور آپ کی صحت

313

ڈاکٹر ماریہ عندلیبؔ
(گزشتہ سے پیوستہ)
مال روڈ پر سر ہی سر تھے…کوئی شالوں کی شاپ پر، تو کوئی گرم کپڑوںکی دکان پر…کوئی ڈرائی فروٹ لے رہا تھا تو کوئی لابی میں بیٹھا قوس قزح کے رنگوں میں کھویا تھا… کسی کے قدم سردی نے ایسے جما دئیے کہ اپنے resort تک واپسی کے لیے ٹھیلا نما گاڑی کا سہارا لینا پڑا، جسے مزدور گھسیٹ رہے تھے۔ ڈیمانڈ بھی ہائی… گویا اسٹاک ایکس چینج میں تیزی کا رجحان تھا۔ کہیں 300 پر ہیڈ، تو کہیں 400… یعنی جیسی صحت ویسے دام… صحت مند جسم، تو پیسے بھی اچھے اور تگڑے!!
گودا تک جما دینے والی ٹھنڈی ٹھار سردی میں گاڑی میں بیٹھے افراد کو دھکا دے کر اُن کو اُن کے ٹھکانوں تک پہنچانے کی مزدوری ہو رہی تھی۔
یہاں گاڑیوں کے درمیان بل کھاتی، اٹھلاتی، سبک رفتار پیاری سی منی ٹرین کی سہولت بھی دستیاب تھی۔ چیئر لفٹ سے سیاحوں کو لانے والی گاڑی جیسے ہی سی ایم ایچ کے گیٹ کے قریب سے گزری، وہاں موجود لوگوں نے امید و بیم بھری نگاہ گاڑی پرڈالی… سیٹ دستیاب ہے کہ نہیں؟
اور پھر وہی مقدر کے سکندر ٹھیرے جنہیں یہ نعمت میسر آئی۔
بوجھل قدم لیے تھکے ماندہ مسافروں میںگویا کرنٹ دوڑ گیا۔ جھٹ سردی سے لڑتے جھگڑتے وہ اس میں بیٹھ گئے، جس میں موسم کا حسن پوری آب و تاب سے مزا دے رہا تھا اور سفر بھی آسان ہوگیا تھا۔ وہ شکم سیری کو فرائی چکس پر آکے رکے۔ ساتھ ہی کچھ افراد نے عثمانیہ، KFC، ہوٹل فاران کی راہ لی۔
وہ چلتے ہوئے ٹیبل تک آئے اور سب بیٹھ گئے۔ وہ پلٹی، اس نےbowl تھاما اور سلاد لے کر جلدی سے کائونٹر پر ادائیگی کی، اور پھر ٹیبل پر سلاد رکھا۔ پیزا، سافٹ ڈرنک، پانی آرڈر کیا اور پائوں پسار کے بیٹھی اِدھر اُدھر کا نظارہ کرنے لگی۔
کچھ موسم سے چھیڑ چھاڑ کے موڈ میں ٹھنڈی ٹھنڈی میگنم ہیزل نٹ، اور کچھ ڈبل چاکلیٹ لے کر موسم کا مزا لے رہے تھے۔ گرمی گرمی کو… اور یہ ٹھنڈ سے ٹھنڈ کو مار رہے تھے۔
لیکن اس مارا ماری میںگلا ساتھ چھوڑ گیا۔ آواز کی بیٹری سردی سے بیٹھ گئی تھی یا اپنے کرتوتوں سے… انہیں یہ لاجک اب سمجھ آئی تھی کہ گرمی گرمی کو مارتی ہے، سردی سردی کو نہیں… بلکہ سردی انسان کو مار دیتی ہے۔ جما دیتی ہے۔ فریز کردیتی ہے… جیسے ان کی آواز، جسے وہ پوری قوت سے بھی نہیں نکال پا رہے تھے۔ اس لیے اب سر جھکائے بیٹھے تھے۔ نصیحت پر کان نہ دھرنے پر… بڑوں نے ان کی اچھی خاصی کلاس لے لی تھی۔
لیجیے…
مری… برف باری…
موسم کا حسن…
قدرتی حسن کی فیاضیاں…
آسمان کے کینوس پر بکھرے دل فریب و دل کش مناظر… (خالق کی دنیا اتنی حسین ہے تو جنت کتنی خوبصورت ہوگی!) اپنی جگہ… لیکن سردی میں بن بلائے مہمان بننے والی بیماریوں سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں!! رُتیں بدلتی رہتی ہیں۔ موسم کا تغیر اپنے ساتھ تغیرات لاتا ہے۔ سرما اپنے ساتھ بہت سی موسمی بیماریاں اور امکانات کے ساتھ نمودار ہوتا ہے…
ہم ان سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
آتے جاتے موسم کی بیماریوںکے حملوں سے بچائوکے لیے کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں؟
مختلف عارضوں کا شکار بننے والے افراد اس کا علاج کیسے کرسکتے ہیں؟
آج کے شمارے میں ہم موسم سرما میں ہونے والی بیماریوں کے عوامل، ان سے بچائو اور علاج پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔
کوئٹہ کی قید سے نکل کر یخ بستہ سرد ہوائیں شہرِ کراچی پہ دستک دے چکی ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بہت سی بیماریوں کا تذکرہ بھی زبان زدِ عام ہے۔ برسات کی رم جھم میں وائرس اور بیکٹیریا بارش کے برستے قطروں کی طرح لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اس کی زد میں آ بھی چکے ہیں۔ جو بچے ہیں وہ خود کو ان سے بچانے کی تدابیر کررہے ہیں تاکہ خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
یوں تو موسم تبدیل ہوتے ہی ہر شخص اپنے ملبوسات تبدیل کرلیتا ہے، تاہم اس تبدل کے اعتبار سے اپنے روز و شب کا معمول اور غذائی انداز deit plan)) کم افراد ہی بدلتے ہیں۔ نتیجتاً اکثر افراد مختلف وائرل اور بیکٹیریل انفیکشنز کا شکار بن جاتے ہیں۔
دراصل یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انڈوں اور گرم مشروبات (warm beverages) کا بکثرت استعمال کرکے ان بیماریوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ درحقیقت یہ دفاع کے اقدامات تو ہوسکتے ہیں لیکن مکمل دفاع نہیں کرسکتے۔
یہ بات جان کر آپ کو یقینا خوش گوار حیرت ہوگی کہ سردیوں میں پیدا ہونے والے health problems and disordersکے لیے آپ کو اسپتال (pharmacy) کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کے علاج کے لیے درکار اشیاء عموماً ہمارے گھروں (pantry) میں موجود ہوتی ہیں۔
ہمارے ہاں عموماً لوگ سردیوں کے موسم کو پسند کرتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ سردیاں اپنے ساتھ بیماریاں بھی لاتی ہیں۔ درحقیقت تبدیلیٔ موسم بہت سی بیماریوں کے ساتھ ہوتی ہے، مگر ایک ایسی بیماری ہے جس کی آواز موسمِ سرما کی آمد کی خبر دیتی ہے۔ یہ بیماری نزلہ زکام کہلاتی ہے۔ سو سے زائد وائرس دنیا بھر میں عام اس بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف افرادکو مختلف وائرس کی وجہ سے نزلہ زکام ہوجاتا ہے۔
ناک یا حلق کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہی تقسیم ہونے والا یہ وائرس مختلف علاماتِ بد کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً چھینکیں آنا، گلے میں خراش، کھانسی، نزلہ، آنکھوں سے پانی آنا، nasal congestion وغیرہ جیسی شکایات، جو عموماً ایک ہفتے میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ کبھی کبھار ٹمپریچر اور بخار بھی ہوجاتا ہے۔
گو ایلوپیتھک طریقۂ علاج میں اس سے بچائو کی کوئی ویکسین نہیں ہے، البتہ نزلہ زکام سے محفوظ رہنے کے لیے اس میں مبتلا افراد سے دور رہنے اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اور نزلہ زکام کی صورت میں مریض کو غیر ضروری کام سے بچنے، زیادہ آرام، پانی اور مشروبات کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے نزلہ، کھانسی اور زکام کی شدت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ تمام تدابیر مرض سے بچا سکتی ہیں نہ وقتِ مقررہ سے قبل ٹھیک کرنے میں معاونت کرتی ہیں۔
اگر آپ خود کو مندرجہ بالا بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی روٹین کو درست رکھیے۔ متوازن غذا، وقت پہ سونا، سستی اور کاہلی سے پرہیز آپ کو ان بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ علاوہ ازیں نمی کا متناسب توازن خشک ہوا کے باعث، خشک چپچپی جھلیوں سے پیدا ہونے والے عارضوں سے دور رکھتا ہے۔
نزلے کے علاوہ زکام بھی لوگوںکو ٹف ٹائم دیتا ہے۔ وبائی زکام عام افراد کے لیے باعثِ تشویش نہیں ہوتا، البتہ بزرگوں اور (شوگر، امراضِ قلب وغیرہ) chronic مریضوں کی صحت مزید خراب کرسکتا ہے۔
ان کیسز میں بعض اوقات یہ وباء نمونیا جیسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ وائرس کے نتیجے میں بخار میں ہونے والے زکام کی رہنما علامات میں سردی لگنا، تیز بخار، بخار کے ساتھ پٹھوں، کمر اور ٹانگوں میں درد شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ colds اور فلو کی علامات آپس میں ملتی ہیں، البتہ وبائی زکام زیادہ دن تک رہتا ہے۔
واضح رہے زکام وباء کی صورت تیزی سے پھیلتا ایک متاثرہ شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔اسلئے رش کی جگہوں پر جانے اوربلا ضرورت سفر سے حتی الامکان بچا جائے۔کیونکہ دورانِ سفرنا ہی دیا جانے والا کھانا اور ماحول دونوںہی حفظان صحت کے اصولوںسے متصادم ہوتے ہیں۔
ستم بالائے ستم بیماریاں بانٹتے برتن ، جراثیموں سے بھرے ٹاول، گندی آرم چئیرز،ناقص غذااورذہنی دبائومختلف خرابیوں کا باعث بنتے ہیں۔تاہم گھر میں رہناآپکو فلو سے تحفظ کی ضمانت نہیں۔بسااوقات آپ گھر میں رہ کر بھی بیمار ہو سکتے ہیں۔کیونکہ آپ لوگوں سے بچ سکتے ہیں بیماریوں سے نہیں۔مزید براں NIHکے مطابق سردیوں کی خشک ہوا بھی فلوپھیلانے کی وجہ بنتی ہے۔
عموماََلوگ اس انجام سے بچنے کیلئےpopping fish oil capsules کااستعمال کرتے ہیں۔ایسے میں سوپ کا استعمال بھی مفید ہے۔حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چکن سوپ upper respiratory symptomمیں کمی لاتا ہے۔
congestionسے چھٹکارے کیلئےm steaبھی لے سکتے ہیں۔علاوہ ازیںآپ سینیٹایزر کا استعمال اور صفائی کا اہتمام کر کے ایسی کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے سے بچ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)