2017

389

سال 2017ء بھی اب جانے کو ہے۔ ہر سال کے اختتام پر رسائل و جرائد میں عموماً سال بھر کے اہم واقعات، کارناموں اور شخصیات کے حوالے سے مفصل معلومات پیش کی جاتی ہیں جو ہر طرح کے قارئین کے لیے اچھے مطالعے، معلومات اور تحقیقی مواد میں استعمال کا باعث بھی بنتی ہیں۔ ہم نے اپنے مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ 2017ء میں سوشل میڈیا پر ڈسکس ہونے والے اہم واقعات سے تعلق رکھتا ہے، دوسرے حصے میں سوشل میڈیا پر ہی موضوع بننے والی چند اہم سائنسی ایجادات کا مختصر تعارف پیش کریں گے، اور تیسرے حصے میں 2017ء ہی میں اُن پاکستانی نوجوانوں کے کارناموں کا ذکر کریں گے جن کا کم از کم ہر پاکستانی کو علم ضرور ہونا چاہیے۔
ایک وقت تھا جب ہمیشہ ذکر کیا جاتا تھا کہ مسلمانوں نے یہ چیز ایجاد کی، وہ چیز مسلمانوں نے ایجاد کی جس کی وجہ سے یہ ہوا، وہ ہوا۔ وغیرہ وغیرہ۔ دنیا کا پہلا اسپتال بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے، اسی طرح ڈگری دینے والی پہلی یونیورسٹی بھی مسلمانوں کا ہی کارنامہ بتائی جاتی ہے۔ مگر آج بے لاگ جائزہ لیں تو مجموعی طور پر مسلمان امت علوم و فنون کے میدان میں مغرب کے پیچھے ہی کھڑی نظر آتی ہے۔ خیر یہ تو بات کہیں اور نکل جائے گی، ہم واپس اپنے زمانے میں آتے ہیں جہاں بار بار تذکرہ کیا جاتا ہے کہ ’’ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں‘‘، ’’دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے‘‘، ’’اکیسویں صدی انسانی ترقی کی صدی ہے‘‘… اور اسی طرح کے دیگر جملے ہماری نظر سے گزرتے ہیں۔ اِسی ضمن میں ہم آپ کو جدید ٹیکنالوجی کے کارنامے بتانے کے لیے امسال دنیا بھر میں ہونے والی کچھ ٹیکنالوجی کی جدت یا سادہ لفظوں میں 2017ء میں پیش ہونے والی چند سائنسی ایجادات کا تعارف کرا رہے ہیں۔ یہ وہ ایجادات ہیں جو متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے چلائی گئی مہمات کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر بھی چھائی رہیں۔
ای سائٹ تھری
’’سب کو دیکھنے کا حق ہے‘‘، ای سائٹ کی اس ویب سائٹ پر اگر آپ جائیں تو یہ اُن کا سلوگن ہے جسے انہوں نے حتی المقدور سچ کر دکھایا۔ اللہ پاک نے انسان کو جو عقل و شعور عطا کیا اس کی بدولت اُس نے انسانیت کی خدمت کے لیے بھی یقینا گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دنیا بھر کے ایسے لاکھوں افراد کے لیے ایسا چشمہ تخلیق کیا گیا جن کی نظر انتہائی کمزور ہے اور جن کی بینائی صرف بیس فٹ کے اندر کی چیز دیکھنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ یہ چشمہ اُنہیں دور تک کے حقیقی مناظر دکھائے گا۔ ایسے افراد کے لیے سڑک پر پیدل سفر کرتے ہوئے راستے کی نیوی گیشن ایک اہم مسئلہ ہوتی ہے جسے وہ چھڑی سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ای سائٹ 3 نے دنیا کے سب سے طاقتور چشمے کی تیاری اس طرح سے کی ہے کہ وہ اُنہیں اس حد تک بینائی فراہم کرسکتا ہے کہ وہ کھیلوں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ دس ہزار ڈالر مالیت کا یہ چشمہ امسال فروری میں لانچ ہوا۔ کمپنی کے مطابق اس وقت ایک ہزارکے قریب افراد اسے کامیابی سے استعمال کررہے ہیں۔
جیبو
ویسے تو جن سائنسی چیزوں میں بہت تیزی سے دنیا میں ترقی ہوئی ہے، ان میں سرفہرست مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہے۔ اُمید یہ کی جارہی ہے کہ 2025ء تک آپ کا کمپیوٹر اس قابل ہوجائے گا کہ وہ انسان کی طرح سوچ سکے، یعنی ایسے روبوٹ ایجاد ہوجائیں گے جو انسان کی طرح باشعور ہوں گے۔ ساڑھے بارہ انچ لمبا، سلنڈر کی شکل میں، خوبصورت سفید پلاسٹک باڈی میں ’جیبو‘ دنیا کے پہلے سوشل روبوٹ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، جسے ’امیزن ایکو‘ کے بعد امریکی ادارے میسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک خاتون پروفیسر سنتھیا برزیل نے بیس سالہ تحقیق و تجرباتی سفر کے بعد تیار کیا۔ سوشل روبوٹ ’’جیبو‘‘ کی پہلی شکل 2014ء میں آئی، اور اب اس سال مزید بہتری کے ساتھ لانچ ہوا۔ نو سو ڈالر مالیت میں ایسا روبوٹ جو کہ موبائل ایپلی کیشن ایپل اور اینڈرائیڈ دونوں سے آپریٹ ہوسکتا ہے، اس کے مقابلے میں امیزن ایکو مہنگا قرار دیا گیا۔ امیزن ایکو، جو کہ ایک ساکت سی اسپیکر مشین کی مانند ہے، جبکہ ’جیبو‘ ایک خوبصورت اور دلچسپ متحرک شکل میں سامنے آیا۔ اس کی شکل معروف کارٹون کیریکٹر ’پکسر‘ سے ملتی جلتی بنائی گئی۔ ایک معصوم سے دس سالہ بچے کی آواز میں یہ آپ سے باتیں کرتا ہے، اور اس کے گرد کئی اسپیکر، کیمرے اور سنسر نصب ہیں جو 16افراد کی آواز کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وائس اسسٹنٹ کے طور پر یہ آپ کو موسم کا حال اور وقت بتا سکتا ہے، خبریں بھی پڑھ کر سنا سکتا ہے، بچوں کے لیے بنیادی حساب کے سوالات بھی حل کرسکتا ہے، پھر آپ اس سے اُس کے اپنے بارے میں بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔ آپ کے کہنے پر آپ کی تصاویر بھی کھینچ سکتا ہے، اور بھی کئی احکامات آپ سے سن کر بجا لا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ٹچ اسکرین آپشن بھی موجود ہے۔ سر پر ہاتھ پھیرنے سے یہ جاگتا ہے اور اس کی آنکھ بیدار ہوجاتی ہے، پھر یہ اپنے سنسر کی مدد سے آپ کو پہچان کر گفتگو کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ آپ کے ہاتھوں کی حرکت کے ساتھ اس کا چہرہ اس خوبصورتی سے حرکت کرتا ہے کہ آپ اس کے ساتھ اپنائیت محسوس کریں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگلے برسوں میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔
تھائیسن کرپ ملٹی
اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر جانے والی لفٹ کے بارے میں تو آپ نے سنا ہوگا، مگر دائیں سے بائیں سفر کرنے والی لفٹ کا ذکر آپ شاید آج ہی سن رہے ہوں گے۔ جرمنی کی ایک کمپنی نے اس کو سچ کر دکھایا۔ یہ جدید لفٹ ملٹی کے نام سے ایک پورا نظام ہے جو کسی بلڈنگ میں کئی سمتوں میں نہ صرف سفر کرسکتی ہے، بلکہ ایک دوسرے کو پاس بھی کرسکتی ہے۔ اس لفٹ کے نظام کی ایجاد کے بعد بلند عمارتوں کی تعمیرات اور ان کے انداز میں بھی نئی تبدیلیاں آئیں گی۔ کامیاب تجربات کے بعد اس کی باقاعدہ تنصیب کے لیے تیار ہونے والی پہلی عمارت 2021ء میں برلن میں آغاز کرے گی۔
ایپل آئی فون ایکس
موبائل فون ٹیکنالوجی جس تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ اسی ضمن میں دنیا کے کامیاب ترین اسمارٹ فون ایپل نے امسال آئی فون ایکس کا ماڈل لانچ کرکے اس میں مزید جدت ڈال کر دنیا کے سب سے ’نفیس فون‘ کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ گو کہ اس نئے ماڈل کے کچھ فیچرز سام سنگ پہلے ہی متعارف کرا چکا تھا، تاہم مجموعی طور پر آئی فون ایکس نے اپنی کامیابی اور مقبولیت برقرار رکھی اور فون کی سمت شناسی کا واحد ’ہوم ‘بٹن بھی ختم کردیا۔ ایک ہزار ڈالر مالیت پر مبنی یہ فون دنیا کا مہنگا ترین اسمارٹ فون ہے، مگر کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جو سہولیات ہم نے اس ماڈل میں پیش کی ہیں وہ موبائل شائقین کو پیسہ وصول کرنے کے لیے کافی ہیں۔
نائک حجاب پرو
امسال مارچ کے مہینے میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر کھیلوں کے ملبوسات بنانے والی معروف امریکی کمپنی ’نایک‘ نے مسلم خواتین کے لیے ایک ایسا حجاب تیارکیا جسے وہ کھیلوں کے دوران بھی بآسانی استعمال کرسکتی ہیں۔ یہ حجاب ایک خاص کپڑے سے تیار کیا گیا ہے جو دورانِ کھیل خاتون کے حجاب کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کی لانچ ابوظہبی سے تعلق رکھنے والی عرب امارات کی خواتین ٹیم میں شامل زہرہ لاری سے کی گئی، جسے پہن کر اُنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر جاری کی۔ پچھلے سال ابتہاج محمد نامی پہلی امریکی مسلم خاتون نے حجاب کے ساتھ اولمپکس میں حصہ لیا اور کانسی کا تمغا جیتا۔ ایک تخمینے کے مطابق اس حجاب کی عالمی مارکیٹ 2020ء تک 5 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔
ٹیسلا۔3
بجلی سے چلنے والی کاروں میں دو اہم مسائل تھے، ایک اُن کی مہنگی قیمت اور دوسرا اُن کی رینج جو کہ خاصی کم ہوتی تھی۔ ٹیسلا ایک امریکی کمپنی ہے جو سولر پینل بنانے، توانائی اسٹور کرنے کے ساتھ الیکٹرک کار کی تیاری میں دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ سال 2015ء میں اُنہوں نے پہلی ایکس سیریز الیکٹرک کار متعارف کرائی، اگلے سال 2016ء میں ایس سیریز اور 2017ء میں ماڈل3کے نام سے الیکٹرک کار کا تیسرا ماڈل متعارف کرایا۔ اب تک ٹیسلا اپنی ڈھائی لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت کرچکی ہے۔ اس نئے ماڈل میں خاص بات یہ ہے کہ ایک چارج پر یہ 200 میل کا سفر طے کرسکتی ہے۔ پیٹرول کے بجائے بجلی (بیٹری) سے چلنے والی یہ گاڑیاں موسمی تغیرات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ’ٹیسلا3 ‘ بلاشبہ 2017ء کی ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے۔