بیت المقدس میں یہودی آبادکاری کا نیا اسرائیلی منصوبہ

70
مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج فلسطینی نوجوانوں کو باب رحمت کے احاطے سے نکال کر شناخت پریڈ کررہی ہے
مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج فلسطینی نوجوانوں کو باب رحمت کے احاطے سے نکال کر شناخت پریڈ کررہی ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزارت برائے ہاؤسنگ اور آباد کاری نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید سیکڑوں مکانات کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے گھروں کی تعمیر کا اعلان انتخابی معرکے کا حصہ ہے۔ ان میں سے بعض مکانات گرین لائن سے باہر تعمیر کیے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت نے گرین لائن سے باہر بسغات زئیو اور راموت یہودی آباد کاروں کے لیے 700 مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی الفی منشیہ، عمانویل اور آدام، بیت اریہ اور معالیہ افرایم میں 260 مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ادھر اسرائیلی وزیر خزانہ موشے کاحلون کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے جن علاقوں میں مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ان میں پچھلے کچھ عرصے سے تعمیرات پر پابندی تھی، مگر اب وہاں پر بھی مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیموں نے مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی ریشہ دوانیوں کے خلاف اور مقدس مقام کے تاریخی اور اسلامی تشخص کے دفاع کے لیے ملک بھر میں نفیرعام کا اعلان کیا ہے۔ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی، غرب اردن، بیت المقدس اور اندورن فلسطین میں دفاع قبلہ اول ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں شہریوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینیوں کی نوجوانوں کی نمایندہ جماعتوں کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے باب رحمت میں صہیونی فوج کی یلغار اور وہاں پرفلسطینیوں کو نماز کی دائیگی سے محروم رکھنے کی سازش، قبلہ اول کو یہودیانے اور مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کی روز مرہ بے حرمتی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔