حیا کی عظمت سنبھال رکھنا

146

پروین رئیس
’’حضور اکرم ؐ نے حیا کو اسلام کا جز قرار دیا ہے ‘‘ حجاب مسلمان عورتوں پر فرض کیا گیا ہے ۔ یہ امت مسلمہ کا شعار ہے ہمارا فخر ہے ، امتیاز ہے ،پردہ قرآن پاک کا حکم ہے ۔
’’سورۂ احزاب‘‘ میں آیت نمبر 33 اور 35 میں اللہ نے اپنے پاکیزہ بندوں کو حکم دیا نبی ؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب ہے اس آیت کو آیت حجاب کہتے ہیں ۔ اس آیت کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیے پھر آہستہ آہستہ تمام مسلمان گھرانوں میں اس کی تقلید کی گئی ۔
’’سورۃ البقرہ‘ اور سورۂ النور‘‘ میں پردے کے اور معاشرے کی پاکیزگی کے احکامات نازل ہوتے رہے نظریں جھکا کربات کرنے کا حکم دیا گیا۔ عورت کا بنائو سنگھار صرف مرد کے لیے ہے اورجسم کو چادر سے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا پردہ ہماری ناموس کی حفاظت کاضامن ہے۔
’’خاتون کی حیا کا لبادہ ہے یہ حجاب
اسلام کے وقار کا مظہر ہے یہ حجاب‘‘
اقوام عالم نے آج اسے ایک مسئلہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ آج جبکہ انسان مغربی قوتوں کی زد میں آگیا ہے اور شیطان کی چال کو ترقی سجھتے ہوئے بے حیائی کو اپنا لیا تو زندگی کے مسائل اور بے راہ روی بڑھتی گئی ،بڑوں کا ادب و احترام جاتا رہا خاندان کا نظم و ضبط ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ۔
آج دنیا کے مسلمان کالی بھیڑوں کی چالوں میں آ کر بے سکون اور بے حجاب ہوتے جار ہے ہیں اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ہمیں جان لینا چاہیے کہ اللہ پاک کے عطا کردہ پردے اور حجاب میں کتنی پاکیزگی اور توقیر پنہاں ہے عورتوں کی ذمہ داری گھر کے اندر بچوں کی تربیت ، امور خانہ داری اور شوہر کے فرائض اور مال کی حفاظت قرار پائی جبکہ شوہر کو باہر کے کاموں کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔ عورت کو حکم دیا اگر باہر نکلو تو پردے میں تاکہ معاشرہ میں انتشار پیدا نہ ہو ۔ تاریخ شاہد ہے جب تک مرد و عورت نے اللہ کے نازل کردہ قوانین کا پاس رکھا معاشرہ شیطان کی چالوں سے محفوظ رہا ۔ اللہ اور رسول ؐ کا بتایا ہوا راستہ پاکیزگی اور حیا کا حامل ہے ۔ عورت نے پردہ میں رہتے ہوئے ایسے باکردار سپوت تیار کیے جو فخر انسانیت ہیں عورت کا یہ حجا ب کبھی بھی ترقی کی راہ میں حائل نہ ہوا ۔ آج پڑھی لکھی با حجاب عورت میڈیکل کی تعلیم اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ پوزیشن لا رہی ہیں ۔ پردہ میں رہ کر درس و تدریس کے فرائض ملک میں اور ملک سے باہر انجام دے رہی ہیں۔ مغربی ممال ممالک حجاب سے جتنا خوفزدہ ہیں اتنا ہی حجاب ان کے لیے اہم بنتا جا رہا ہے فرانس نے 2003ء میں خواتین کے اسکارف پرپابندی لگائی یہ اسلام کے بنیادی قوانین کے منافی تھا جس کے مقابلے کے لیے خواتین سرگرم عمل ہوئیں اور اس قانون کے خلاف آواز بلند کی اور ہر سال 4 ستمبر کو یوم حجاب منانے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ پابندیاں ختم کروائی جا سکیں ۔ بے پردگی ،بے حیائی اور فحاشی پھیلاتی ہے جبکہ مسلمان عورت اسلامی حیثیت سے ایک عظیم اور شفیق ہستی ہے بیٹی کے روپ میں اطاعت گزار، فرمانبردار اور بیوی کے روپ میں وفا دار رفیق حیات ہے ۔ مغرب یہ کہہ سکتا ہے کہ مغربی ثقافت نے خواتین سائنسدان ، پولیس ، وکیل اور حساب داں پیدا کی ہیں ۔لیکن مغرب نے شفیق مائیں ، اطاعت گزار بیٹیاں اور وفا دار بیویاں کم ہی پیدا کی ہیں ۔ رسول پاک ؐ’’ اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ‘‘(سورۃ المائدہ2)
اللہ کے جوبندے اللہ کی عظمت کا علم رکھتے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں ۔ ایک مسلمان جب اپنی اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیمات سے واقف ہوتا جاتا ہے تو وہ رب سے قریب ہوتا جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ میرا رب میرے کسی عمل سے ناراض نہ ہو اور یہی خیال اسے برائیوں سے روکتا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے کہ :
’’ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں‘‘(سورۃ الفاطر:28)خوف خدا مومنین کی نشانی ہے :
خالص مومن وہی ہے جس کے دل ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کے عطا کردہ حجاب نبی ؐ کی سنت اور تہذیب اسلامی کے پاکیزہ وقار کی سر بلندی کے لیے کوشاں رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ