انعام

52

مریم شہزاد کراچی

میں نے تمہارے لئے لڑکی پسند کرلی ہے “بقرعید کے بعد رشتہ لے کر جاؤگی،
امی نے گویا حسام کے سر پر ایٹم بم پھاڑ دیا،
“کیا مطلب، کونسی لڑکی؟ کس کو پسند کرلیا؟ ” اس نے اپنے حواس جمع کرتے ہوئے بمشکل پوچھا
“انکل سکندر کی بیٹی، شزا، ” انہوں نے مختصر جواب دیا
…………
“شزا”اْف اب ایٹم بم نہیں بلکہ ڈرون حملہ تھا اسکی نظروں میں شزا گھوم گئی دبلی پتلی خوبصورت مگر۔——– انتہائی نازک مزاج، جس سے ماچس بھی نہیں جلائی جاتی تھی وہ کھانا کیا بنا سکے گی، کیا ہوگیا ہے امی کو، وہ خود اتنی سگھر اور شزا، پتا نہیں اس کو کیسے پسند کرلیا
ایک لمحے کو “پاکیزہ اس کی نظروں کے سامنے آگئی
کیا کروں؟؟
امی تو اپنی بات کر کے اٹھ گئی مگر وہ الجھ گیا
شزا، اس کی سوچ آگے بڑھنے پر راضی نہیں تھی
……………
ارے یار پتا نہیں، کیا ہوگیا ہے امی کو شزا کو بہو بنانے کا سوچ رہی ہیں ،” حسام نے مرتضیٰ سے بیزاری سے کہا
اوہو، مزے آگئے جناب کے، کروڑ پتی پارٹی ہے، مرتضیٰ نے بھونڈے پن سے چھیڑا
“بھاڑ میں جائیں کروڑ پتی ،خود کما سکتا ہوں ،اور بھائی مجھے بیوی چاہئے ماڈل نہیں ”
تو کوئی ہے نظر میں؟ اس نے پوچھا
ہے بھی، اور نہیں بھی ،حسام نے کہا
“ہے بھی اور نہیں بھی، اس بات کا کیا مطلب ہوا؟
مطلب یہ کہ مجھے سمجھ تو آتی ہے وہ مگر آج تک کچھ کہا نہیں کہ میرا خیال تھا کی امی اس کو ہی پسند کریں گی، حسام نے کہا
تو اب بتا دو امی کو، ” مرتضیٰ نے مشورہ دیا
دیکھتا ہو ابھی تو عید کے بعد کی بات ہے
…………
بقرعید کی آمد آمد تھی حسام کے گھر بھی گائے اور بکرے آگئے تھے
برابر میں احسان صاحب کے ہاں بھی قربانی کے جانورآگئے تھے اور پاکیزہ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ہر دم سرگرم نظر آرہی تھی اسی طرح عید آگئی
عید کے دن شام کو انکل سکندر اپنی فیملی کے ساتھ عید ملنے آئے تو آج بھی حسام گائے اور بکرے کے پاس ہی تھا اس نے کچھ سوچ کر وہیں سے آواز لگائی
“آؤشزا، دیکھو کیا زبردست گائے ہے پھر تو تکہ بوٹی ہی ملے گی”
مگر شزا نے گھبرا کر ٹشو ناک پر رکھا اور جلدی سے اندر کی طرف چلدی اور وہ اس کی اس حرکت پر مسکرا دیا
“کیا ہوا شزا، ” امی نے اس کو یوں گھبرایا ہوا دیکھا تو پوچھا
“اوہ آنٹی، یہ حسام کیسے اتنی گندگی میں کھڑا ہے، اور مجھے بھی بلا رہا تھا، اْف کتنی بدبو ہے آنٹی، آپ نے کہیں اور کیوں نہیں باندھے بکرے؟ ” اس نے بْرا سا منہ بنا کر کہا
بْری بات ہے بیٹا، ایسے نہیں کہتے قربانی کے جانور کی خدمت کا بہت ثواب ہوتا ہے اور کچھ دن کی تو بات ہوتی ہے بس اللہ راضی ہو جائیں تو گھر کا کیا ہے وہ تو صاف ہو ہی جاتا ہے ”
نو آنٹی، از ٹو مچ میں تو کبھی بھی ابو کو بکرے گھر لانے نہیں دیتی اور یہاں تو گائے بھی۔۔۔
مسز سکندر نے بات سنبھالنے کی کوشش کی “میں تو بہت کہتی ہوں مگر اس کو قے vomit ہونے لگتی ہے
“اچھا آپ لوگ بیٹھیں تو ،آج تو اصل میں ایک ہی بکرا ہوا ہے تو میں بھی جلد ہی فارغ ہوگئی ”
اتنے میں پاکیزہ گوشت کی پلیٹ لئے آگئی جس کو دیکھ کر شزا نے ایک بار پھر ناک پہ ٹشو رکھ لیا حسام جو اسی وقت اندر آیا تھا یہ دیکھ کر ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی ،
پاکیزہ نے حسام کی امی کو سلام کیا اور پلیٹ آگے بڑھائی کہ امی نے بھجوائی ہے
“ایک منٹ بیٹا، پلیٹ خالی کر رہی ہوں لیتی جانا ” وہ ان کے پیچھے پیچھے کچن میں ہی آگئی
” ارے واہ، آنٹی کلییجی،! چکھ لوں میں؟ ”
اس نے پوچھا
کیوں نہیں، انہوں نے کہا
“آپ بھی کہیں گی کہ کیسی ندیدی ہو رہی ہے، اصل میں ہمارے بکرے کی کلیجی خراب نکلی ہے اور مجھے بہت پسند ہے، واہ آپ کے ہاتھ کی تو بہت مزے کی ہے، ویسے بھی قربانی کے گوشت کا الگ ہی مزا ہوتا ہے، ”
ٹھیک کہہ رہی ہو، اور لے لو نا کوئی غیر تھوڑی ہو،
” نہیں آنٹی بس چلوں گی، سارا گوشت پھیلا ہوا ہے، امی اکیلے لگی ہوئی ہیں، اب چلتی ہوں، آپ بھی اپنے مہمانوں کو دیکھیں ” پاکیزہ نے کہا
وہ ٹرے میں کلیجی، بریانی اور چانپیں لے کے باہر آئیں اور سب کو سرو کرنے لگیں کہ مسز سکندر نے پوچھا “سوری بہن، مگر برا نہیں مانیے گا ،ہمارے ہاں قربانی کا گوشت کوئی بھی نہیں کھاتا” بلکہ ہم تو باہر کے باہر ہی سب بانٹ دیتے ہیں ”
ارے نہیں ، مجھے معلوم ہے، یہ سب تو میں نے ڈیپ فریزر سے نکالا ہے پہلے ہی منگوا کر رکھ لیتی ہوں میں تو، انہوں نے دل ہی دل میں کھولتے ہوئے کہا
سب اطمینان سے گوشت پر ہاتھ صاف کرنے لگے اور حسام کا اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ امی کو داد دے رہا تھا کہ کیسے مزے سے سب کو قربانی کا گوشت کھلا رہی تھی
ان کے جانے کے بعد سے وہ مستقل سوچ میں تھیں مگر عید کی مصروفیات میں ان کو ٹائم ہی نہیں ملا کہ کسی سے بات کریں
۔اب عید کے بعدآج پہلا اتوار تھا سب کھانے کی میز پر جمع تھے کہ اسلم صاحب نے پوچھا،
“کیا ہوا بیگم،! آپ تو سکندر کے ہاں چل رہی تھی حسام کا رشتہ لے کر، آج چلیں؟ ”
حسام نے بوکھلا کرامی ابو کی طرف دیکھا کہ امی نے پوچھا
“میں کچھ ڈانواڈول ہو رہی ہوں۔۔۔ اگر حسام تم کو شزا بہت پسند ہے تو میں جاؤں؟ ”
“مجھے؟ نہیں امی بس وہ میری دوست ہے، اور شادی اس سے نہیں ” حسام جلدی سے بولا
” اور کوئی تو پسند نہیں “؟ انہوں نے پوچھا
اس نے پاکیزہ کا نام لینا چاہا مگر کچھ کہہ نہیں سکا اور نہ میں گردن ہلادی
اب وہ اسلم صاحب کی طرف متوجہ ہوئی ” یہ برابر والے احسان صاحب کی فیملی کیسی ہے ؟” انہوں نے پوچھا
” اچھے لوگ ہیں ، سیدھے سادے، بناوٹ سے پاک، ”
” ان کی بیٹی پاکیزہ کے لئے بات کروں ”
انہوں نے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا
“میرا خیال ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ”
حسام نے چور نظروں سے امی ابو کو دیکھا کہ اس کے دل کا چور پکڑنے میں کامیاب تو نہیں ہوگئے اس سے خوشی سنبھالے نہیں جا رہی تھی اس نے دل میں کہا “واہ اللہ میاں جی واہ، آپ نے تو میرے دل کی سن لی”
ٹھیک ہے پھر دیر کس بات کی آج شام کو ہی چلتے ہیں ،کیوں برخوردار ؟ ،ابو نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
وہ ایک دم گربڑا گیا ” جیسے آپ لوگ کی مرضی، آپ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، ” اس نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے کہا
اور پھر جلد ہی پاکیزہ اس کی دلہن بن کر اس کے گھر آگء اور وہ اللہ کے اس انعام پر سرشار ہوگیا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.