ایسوسی ایشن کے جھگڑوں سے ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے‘صوبائی وزیر کھیل

61
صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹرجنید علی شاہ اسپورٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹرجنید علی شاہ اسپورٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر سید جنید علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے نگراں حکومت کی اپنی وزارتوں میں جو زیادہ سے زیادہ عوام کی خدمت کرسکتے تھے۔ انہیں پوری ایمانداری اور محنت سے کرنے کی کوشش کی ہے اور اس پریس کانفرنس کے ذریعے اُنہیں آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں۔ ڈاکٹر سید جنید علی شاہ نے اسپورٹس ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور عہدے داروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں متوازی ایسوسی ایشنوں کا مسئلہ حل کرنا اور اُنہیں آئینی حیثیت میں لانا بہت ضروری تھا ۔ جس کے بغیر صوبے میں کھیل کے شعبے میں ترقی نہیں ہوسکتی تھی جسکی وجہ سے صوبے میں کھلاڑیوں کا بھی نقصان ہورہا ہے اور کھلاڑی مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے جھگڑوں کی وجہ سے ٹیلینٹ بھی ضائع ہورہا ہے وزیر کھیل جنید علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں کھیلوں کے معاملات کو دیکھنے کیلئے ایسے قانون سازی کردی گئی ہے ۔ جس کے تحت تمام کھیلوں کی ایسوسی ایشنز پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی ایسوسی ایشنز کو سندھ اسپورٹس بورڈ سے رجسٹرکرائیں تا کہ انہیں گورنمنٹ کا فنڈ بھی مل سکے اور وہ اپنی ایسوسی ایشنز کے ذریعے اپنے کھلاڑیوں کو قومی مقابلوں سمیت عالمی مقابلوں کے لئے بھی تیار کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون بن جانے کے بعد اتھارٹی ایسوسی ایشن کا احتساب بھی کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جن کھیلوں کے میدان پر شادی لان بنے ہوتے تھے اُس کے لئے کمیٹی بنائی گئی جن نے ایسے 46 گراؤنڈ شارٹ لسٹ کیئے تھے جن میں آٹھ گراؤنڈ کی نشاندہی جن پر شادی لان بنے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی ہورہی ہے رولز اور ریگولیشن بننے کے بعد صرف CM کے دستخط کے بعد یہ قانون سازی کیلئے بھیج دیا جائیگا۔ نگراں حکومت ختم ہونے کے بعد بھی میں اُسے نافذ ہونے تک فالو کرتا رہوں گا۔ میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر سید جنید علی شاہ نے کہا کہ سندھ بھر کے کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کی یہ مجبوری بن جائیگی کہ قانونی طور پر وہ اپنی ایسوسی ایشنز کو سندھ اسپورٹس بورڈ سے رجسٹر کرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سندھ میں پہلی بار مدرسے کے بچوں اور اسکولوں کے بچوں کے درمیان 3 روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرایا ۔ سندھ اسپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں 8 دینی مدارس کو شامل کیا گیا جبکہ 8 ٹیمیں اسکول کے طلباء پر مشتمل تھیں۔ پریس کانفرنس میں مختلف ایسوسی ایشنز کے نمائندے ، عہدیداران، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداران موجود تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ