عمران خان کا وزیراعظم ہاؤس کے لیے22سال کا سفر

139

نعمان اعوان

عمران خان بائیس برس کی کوشش کے بعد بالآخر مسند اقتدار پر پہنچ گئے یا پہنچا دیے گئے (کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی) لیکن کوئی کچھ بھی سمجھے اس مقام تک پہنچنے کے لیے عمران خان کی انتھک محنت اور بڑی قربانیاں ہیں میں ان کی ازدواجی قربانیوں کا ذکر ہر گز نہیں کر رہا بلکہ اصولوں اور نظریات کی بات کررہا ہوں جن کا راگ وہ بائیس برس الاپتے رہے، بائیس برس قبل جب عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو اس وقت ان کی جماعت میں کوئی الیکٹ ایبل تھا اور نہ ہی بظاہر کوئی کرپٹ سیاست دان تھا کیوں کہ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ نظام کے خلاف علم بغاوت لے کر اٹھے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ نہ نظریات رہے نہ اصول رہے ان کو سمجھا دیا گیا یا سمجھ گئے کہ پرانے نعروں کے ساتھ جو جماعت اسلامی کرپشن سے پاک قیادت اور کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 70سال سے لگا رہی ہے آگے نہیں آسکو گے پھر وہی ہوا کہ (خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی، نہ تو تو رہا، نہ تومیں رہا)۔ لہٰذا عمران خان کا سانس صرف بائیس برس ہی میں پھول گیا اور شاید یہ ان کی بڑھتی عمر کا بھی تقاضا تھا اور عمران جلد ازجلد ایوان وزیراعظم پہنچنا چاہتے تھے۔
عمران خان جس جوش وجنوں سے 1996 میں ملک کا نظام بدلنے اور کرپشن ختم کرنے کے لیے اٹھے تھے وہ صرف 1996 اور پھر 2002 کے الیکشن میں شکست سے ہی پانچ برس میں ٹھنڈا پڑگیا۔ عمران خان نے طالع آزما جنرل پرویزمشرف کے 30اپریل 2002 کے ریفرنڈم کی حمایت کی اور ان کے حق میں ووٹ ڈال ڈالا۔ جس کے بعد پرویز مشرف نے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے آئین کی بحالی اور انتخابات سے پہلے صدر پاکستان کی سیٹ پر قبضہ جما لیا۔ اس بڑی حمایت اور عمران خان کو اکتوبر 2002 کے انتخابات میں مشرف سے سوسیٹوں کی فرمائش کے باوجود عمران خان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ مشرف کے بیان کے مطابق عمران خان نے سو سیٹیں مانگیں لیکن وہ دس سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں ہوئے، عمران خان الیکشن میں صرف اپنے آبائی علاقے میانوالی سے اپنی نشست جیت سکے جس کے بعد اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیابات دینے شروع کر دیے، بھارت میں ایک انٹرویو میں تو عمران خان نے 2002 کی شکست کا ذمے دار فوج کو قرار دیا اورکہا ہمارا مقابلہ ڈکٹیٹر سے ہے ایک اور بیان میں کہا جب جنرل پاور میں ہوتے ہیں تو اپنے کتوں کو سامنے لاتے ہیں، اس وقت مرکز میں ق لیگ کی حکومت تھی جو کل تک عمران خان کی نظر میں جنرل کے کتے اور کرپٹ تھے آج ان کے اتحادی اور پنجاب اسمبلی میں ممکنہ اسپیکر ہیں۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔
عمران خان انیس ترانوے ہی میں اقتدار تک پہنچنے کے راستے کا راز جان چکے تھے لیکن باقاعدہ طور پر اس راہ پر وہ مشرف کے دور میں گامزن ہوئے۔ ایدھی کی سوانح حیات کے مطابق 1993 میں ملک کے معروف مرحوم سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بے نظیر حکومت کے خلاف پریشر گروپ جس میں عمران خان بھی تھا میں شمولیت کی پیش کش کی گئی تاہم ایدھی نے انکار کر دیا۔ اگلے ہی برس لندن میں ایدھی کو عمران خان نے خود بھی پریشر گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی ایدھی نے انہیں نصیحت کر ڈالی کہ ہمیں اپنے فرائص پر توجہ دینی چاہیے پریشر ڈالنے کا اس سے کوئی بہتر طریقہ نہیں۔
بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے اور نوازشریف اور بے نظیر کی این آر او کے ذریعہ وطن واپسی کے بعد عمران خان کو علم تھا کہ ان کی رہی سہی سیاست بھی گئی اور انتخابات میں جیتنے کا کوئی چانس نہیں اس لیے 2008 میں انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ بادشاہ گرنے بھی انہیں احساس دلا دیا تھا کہ ان کے مہروں کے بغیر وہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس کا اعتراف وہ جیو ٹی وی کے اینکر حامد میر کو 2006 میں دیے گئے انٹریو میں کر چکے ہیں۔ جس میں عمران خان نے بتایا کہ ایک آئی ایس آئی جنرل نے انہیں الیکشن سے پہلے کہا کہ جنرل مشرف کی پارٹی کا حصہ بن جائیں۔ جب نام بتائے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نامور چور اور ڈاکو اس پارٹی (ق لیگ) میں ڈال دیے ہیں، انٹرویو میں عمران خان مزید کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ خود غلط لوگوں کو منتخب کرتی اور اپنے فائدے کے لیے اوپر لاتی ہے۔آج وہی نامور چور اور ڈاکو عمران خان کی پارٹی کا حصہ اور ان کا سربراہ اتحادی ہے۔ انتخابات کے بعد عمران خان اس راہ پر باقاعدہ گامزن ہوئے جس کا اشارہ انہیں مل چکا تھا اور جس کا خواب وہ 1993میں دیکھ چکے تھے۔ انتخابات کے بعد مرکز میں پی پی اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بنی۔ 2011 میں عمران کی سیاست میں یوٹرنز کا آغاز ہوا۔ شاہ محمود قریشی کی صورت میں پہلے الیکٹ ایبل نے 27نومبر 2011 کو پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی، جس کی پیش گوئی عمران خان پہلے ہی کر چکے تھے۔ شاہ محمود قریشی پی پی حکومت میں وزیر خارجہ تھے اور لاہور میں امریکی ایجنٹ ریمنڈڈیوس کی جانب سے دو شہریوں کو سرعام گولیاں مارنے کے واقعہ کے بعد شاہ محمود نے مقتدر قوتوں کے اشارے پر استعفا دے دیا اوراس وقت کے صدر آصف زرداری پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے پارٹی بھی چھوڑ دی۔
شاہ محمود قریشی کے بعد تو جیسے تحریک انصاف میں الیکٹ ایبلز کی برسات ہوگئی اور جن کو عمران خان کل تک چور اور ڈاکو کہہ رہا تھے اسی جماعت یعنی ق لیگ کی اکثریت پی ٹی آئی میں شامل ہو گئی۔ 2012 میں لودھراں کے جہانگیر ترین تیس ق لیگیوں کے ہمراہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے جن میں اویس لغاری، جمال لغاری، سکندر حیات بوسن جیسے بڑے نام شامل تھے یہ تمام افراد ڈکٹیٹر مشرف کی جماعت اور بقول عمران خان کے جنرل کے کتے تھے ا کو عمران خان نے خوشی سینے سے لگایا کیوں کہ یہ ہی اقتدار تک پہنچنے کا راستہ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچنے کا راز 2013 کے انتخات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرنے کے بعد اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے میں کھلا جس میں عمران خان روز امپائر کی انگلی اٹھنے کا اعلان کرتے تھے۔ دھرنے کے دوران ہی پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑ دی اور اس کی بعد نیوز کانفرنس میں اسٹیبلشمنٹ کی دھرنے کی پشت پناہی کا راز فاش کر دیا۔ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس تک پہنچنے کے لیے ایک اور روایتی راستہ اختیار کیا اور جن آزاد امیدواروں پر وہ تنقید کرتے رہے اور ان پر اپنی بولی لگوانے کا الزام لگاتے رہے جہانگیر ترین کے ذریعہ ان کی بولی لگائی اور ان کو خرید لیا یہی نہیں کراچی میں اپنے کارکنوں کی قاتل جماعت ایم کیو ایم سے بھی ہاتھ ملا لیا۔
ملکی تاریخ گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کبھی کسی حکومت کو مضبوط نہیں ہونے دیا اور اس مقصد کے لیے اسے میر جعفر اور میرصادق وافر مقدار میں مل جاتے ہیں جنہیں حکومت کی صفوں میں شامل کروا کر لولی لنگڑی جمہوریت قائم کی جاتی ہے جب کبھی کسی نے طالع آزماؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں تو اس کو بزور طاقت رخصت کر دیا اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اس کی قانونی سند عدلیہ کے میر جعفروں اور میر صادقوں کے ذریعہ حاصل کر لی۔ عمران خان کو بھی ایک ایسی ہی حکومت دی جا رہی ہے جو مرکز میں بھی آزاد ارکان، ماضی کے موسمی مینڈکوں اور لوٹوں اور پیسے کے پجاریوں پر مشتمل ہے اور پنجاب میں تو صورت حال اس سے بھی نازک ہے حال یہ ہوگا کہ آج گئی کہ کل گئی جب کہ سندھ میں پی پی کی مضبوط حکومت جو لاکھ مفاہمت کا بادشاہ کہلانے والے زرداری کے زیر اثر ہوگی لیکن مرکزکی ناک میں دم کرے گی۔ رہ گئی کے پی حکومت تو جہاں مطلق طاقت ہو وہاں معاملات حکمت سے چلائے جاتے ہیں جب کہ کے پی میں اختلافات کی خبریں ابھی سے آنے لگی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان نے عوام کو جو حسین خواب دکھائے ہیں وہ بیساکھیوں، لوٹوں، چوروں، ڈاکوؤں اور بقول عمران کے اسٹیبلشمنٹ کے مہروں پر کھڑی حکومت میں کیسے پورے ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ