بریگزٹ بحران کے باعث برطانوی وزیر دفاع بھی مستعفی

73
مستعفی ہونے والے برطانوی وزیر دفاع گوٹو بیب کی فائل فوٹو
مستعفی ہونے والے برطانوی وزیر دفاع گوٹو بیب کی فائل فوٹو

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے اعلان کے بعد وزیراعظم تھریسا مے کی کابینہ میں اختلافات اور وزرا کے استعفوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے وزیر مملکت برائے دفاع گوٹو بیب نے بھی وزارت کے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ بیب کی جانب سے استعفا کسٹم سے متعلق بل میں ترمیم کے خلاف رائے شماری پر دیا گیا ہے۔ بل میں ترمیم کے خلاف رائے شماری برطانیہ کی پوری یونین سے علاحدگی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار گوٹو بیب نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ قانون بریگزٹ کے بعد برطانیہ کو یورپی یونین کی مصنوعات پر کسٹم ٹیکس لاگو کرنے سے روک دے گا۔ گزشتہ روز برطانوی پارلیمان میں ترمیم کے حق میں ہونے والی رائے شماری میں معمولی اکثریت کے ساتھ ترمیم منظور کر لی گئی۔ واضح رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے معاملے کے لیے مقرر کردہ وزیر ڈیوڈ ڈیوس اور سابق وزیر خارجہ بوریس جونسن بھی وزیراعظم تھریسا مے کی بریگزٹ کے بعد یورپی یونین سے مضبوط اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے پر بہ طور احتجاج استعفا دے چکے ہیں۔ قبل ازیں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے اپنی جماعت کے قانون سازوں کو خبردار کرچکی ہیں کہ بریگزٹ کے لیے ’چیکرز منصوبے‘ کا کوئی متبادل موجود نہیں، اس لیے پارٹی کا باغی دھڑا بھی اس منصوبے کی حمایت کرے، دوسری صورت میں بریگزٹ کا عمل خطرے میں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ