صحت

طلبہ کو دباؤ کے طغیان سے بچانے والے بادبان

مشہورچینی مقولہ ہے "کسی کو تعلیم دینے کا مطلب ہے دوبارہ تعلیم حا صل کرنا" اس قول کی روشنی میں اساتذہ کے لئے تدریس...

تازہ انجیر کے فوائد اور استعمال

انگلش میں فگس ، اردو میں انجیر اور بعض علاقائی زبانوں مثلاً ہندکو میں پھگوڑی، بنگالی میں آنجیر، عربی میں تین، یمنی میں بلس...

کشمیری چائے اور اس کے فوائد

چائے دنیا بھر کے چند پسند یدہ مشروبات کی فہرست میں نمایاں مقام کی حامل ہے اور بعض لوگ اسے بغیر دودھ کے بھی...

ذہنی اختلال

روزِ اول سے ہی ہم نے ذہنی خلل کو آسیب ،سزا اور پاگل پن سے منسوب کیا ہے۔بات اگر ماضی کی ہو تو ذہنی...

۔29اکتوبر فالج سے آگاہی کا عالمی دن

ہر سال 29 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں فالج کے مرض سے آگاہی کا دن منانے کا مقصد عوام میں اس مرض...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک...

بخار کی وجوہات،احتیاطی تدابیراورغذائیں

کسی بھی بیماری یا انفیکشن کی صورت میں بخار جسم کا فطری ردعمل ہے جو قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد کرتاہے۔بخاربیکٹیریا/وائرس /دیگرجراثیم کی...

دماغی صحت کی آگاہی کا عالمی دن۔۔۔اضطراب اور افسردگی

ورلڈ مینٹل ہیلتھ اوئرنس ڈے..اینزائیٹی اینڈ ڈپریشن ٹیکنالوجی  کی اس جدید دور میں جہاں انگلیوں  کی پوروں  پہ ساری دنیا سمائی  ہوئی ہے۔۔رفتار اور انو...

اہم بلاگز

عالمی یومِ ٹیلی ویژن

1996 ء میں باقاعدہ طور پر پہلا عالمی ٹیلی ویژن فورم منعقد ہوا۔ اس فورم کے بعد دسمبر 1996 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں 21 نومبر کو عالمی ٹیلی ویژن ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔موجودہ عالمی منظرنامے میں نجی ٹیلیویژن چینلز نے مواصلات کے وسیع رسد اور اثرات کو قبول کیا اور اسی وجہ سے عالمی ٹیلی وژن ڈے کو نئے قائم ہونے والے میڈیا گروپس میں طاقت کی ایک علامت کے طور پر چناگیا ۔ اقوام متحدہ نے بھی اس دن کو منایا اور دنیا بھر میں 21 نومبر کو اس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کو ٹیلی ویژن کے فیصلہ سازی کے عمل پر بڑھتے ہوئے اثرات کے اعتراف کی وجہ سے نافذ کیا گیا تھا۔ عالمی سطح پر امن و سلامتی کو درپیش تنازعات اور خطرات اور معاشی اور سماجی مسائل سمیت دیگر بڑے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور اس کے ممکنہ کردار کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کیلیے ایسا کیا گیا۔ اس طرح ٹیلی ویژن چینلز کو عوامی رائے پر مبنی فیصلوں کو تبدیل کرنے میں اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔اس کی موجودگی، اثرات اور عالمی سیاست پر اس کے اثرات سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 21 اور 22 نومبر 1996 ء کو اقوام متحدہ نے پہلا ورلڈ ٹیلی ویژن فورم منعقد کیا، جہاں معروف میڈیا شخصیات نے اقوام متحدہ کی سربراہی میں ملاقاتیں کی اور بدلتی دنیا میں ٹیلی ویژن کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا اس کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ وہ اپنے باہمی تعاون کو کس طرح آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل اسمبلی نے 21 نومبر(جس تاریخ کو پہلے عالمی ٹیلی ویژن فورم کا انعقاد کیا گیا تھا) کو عالمی ٹیلی ویژن ڈے منانے کا فیصلہ کیا۔ ٹیلی ویژن کا عالمی دن ویسے تو کسی خاص جذبے یا جوش سے نہیں منایا جاتا لیکن دنیا بھر میں مواصلات اور مواصلاتی عالمگیریت کے لئے ایک علامت کے طور پر گردانا جاتا ہے، اس کے علاوہ بین الاقوامی معیشت، بین الاقوامی مسائل کی تشکیل، اور بین الاقوامی مکالموں کے اصولی فیصلوں میں عالمی مواصلات کا ایک بڑا عنصر رہا ہے۔مواصلاتی ذرائع اور اداروں کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور منظم کی پالیسیوں کو نشر کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عالمی یومِ ٹیلی ویژن اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مواصلات نہ صرف عالمی معیشت سے مطابقت کے لیے بلکہ سماجی اور ثقافتی ترقی کے لئے بھی مرکزی بین الاقوامی مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کو انسانی نوعیت کےمسائل سے نمٹنے کے لئے بڑھتے ہوئے مطالبات پر بھی زور دیتا ہے۔ ٹیلی ویژن آج کے طاقتور ترین ذرائع ابلاغ میں سے ایک ہے اور اسی لیے انسانی حقوق کے تمام تر مسائل کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے ٹی وی چینلز مواصلات کے ایک بڑے پلیٹ فارم کےطورپرقومی اور بین الاقوامی خدشات و خطرات کے سماجی، ثقافتی اور...

سود سے پاک اسلامی معاشرے کی جھلکیاں

ہجرت کے بعد جب ریاست مدینہ بنی اس وقت مدینہ کی معیشت پوری کی پوری یہودیوں کے ہاتھوں میں تھی، وہ سودی قرضے دے کر لوگوں کو قرض کے شکنجے میں اس طرح کس دیتے تھے کہ شہری اس شکنجے سے نکل نہ پاتے، غریب تھے کہ قرض در قرض ۔پھر سودپر سود ۔وہ جائیں تو جائیں کہاں کی مصداق، جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اللہ کی مشیت کو جوش آتا ہے اور مدینہ میں مسلمان ریاست کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ اور پھر وہ انہونی ہوتی ہے کہ رہتی دنیا دانتوں میں انگلی داب کر محو حیرت ہو جاتی ہے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت اسلامی کا نظام قائم کرکے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی بنا کر ایسے محبت کے رشتے میں باندھ دیا کہ کوئی کسی پر بوجھ نہ رہا اور ایسی قربانی سے معاشرے میں وہ انقلاب آیا کہ وہ معاشی فرق ہی ختم ہو گیا۔ مہاجرین مکہ سے آئے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ مدینہ آئے تھے تو نبی مہربان صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہودیوں سے سودی قرض لے لو اور اپنے آپ کو بحال کرو بلکہ بھائی چارہ کا یہ بے مثال رشتہ قائم کردیا اس کے ساتھ ساتھ قرض حسنہ کا نظام قائم فرمایااور بلا سودی قرضوں کے ذریعے سے عملا باہمی امداد کا نظام قائم کیا معاشرے سے سود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اللہ نے حرمت سود کے لئے قانون سازی فرمادی۔سورہ بقرہ میں فرمایا: "جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر حواس باختہ کر دیا ہو یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو سود ہی جیسی چیز ہے حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سےنصیحت پہنچی اور وہ سود خوری سے باز آگیا تو وہ کچھ پہلے کھا چکا سو ہو چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ لیکن جو اس کلمہ کے بعد پھر اس حرکت کا ارادہ کرے تو وہ جہنمی ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اللہ تعالی سود کو بے برکت کر دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل کو پسند نہیں کرتا" "اے ایمان والو خدا سے ڈرو! اور جو کچھ سود تمہارا لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مو من ہو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اگر تم توبہ کرلو (اور سود سے باز آجاؤ )تو تم اصل سرمایہ لینے کے حقدار ہو نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائےتمہارا قرض دار اگر تنگ دست ہو تو اسے کشائش کے حاصل ہونے تک مہلت دو اور اگر تم صدقہ کر دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو اس دن سے ڈرو جس دن تمہیں خدا کی طرف لوٹنا...

انوکھا مسافر

رات کی چاندنی پوری آب و تاب سے روشن تھی ۔ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرا تھا۔سردیوں کی آمد آمد تھی۔ اس لیے سناٹا اس قدر تھا کہ دبے دبے قدموں سے چلنے والے شخص کی آہٹ بھی محسوس ہو سکتی تھی۔اسی اندھیر کے عالم میں ایک 30 سالہ فوجی جوان کیپٹن آصف خان جو کہ (ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر فوج کے ساتھ جنگ کرنے نکلا تھا) اپنے خیمے میں تن تنہا رب کے حضور بے بس غلاموں کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا۔ حقیقت میں وہ چاہے مشکل حالات ہوں یا خوشی کے مواقع۔ وہ اپنے رب کو کبھی نہیں بھولتا تھا۔۔وہ اپنی عبادت میں اس قدر مشغول تھا کہ خیمے کے باہر کھڑے شخص کی خبر تک نہ تھی۔ رب کے آگے وہ اتنا گڑگڑا رہا تھا کہ ایسے لگتا تھا کہ وہ اپنے کسی عزیز کو کھو چکا ہے۔ وہ یہ تک نہ جانتا تھا کہ رب سے کیا فریاد کر رہا ہے۔ یقیناً وہ رب کی عبادت کرتے ہوئے رب تعالیٰ (بادشاہ) کو اپنے قریب محسوس کر رہا تھا۔ در حقیقت میں بادشاہ کے آگے غلام سر جھکائے ہی کھڑا رہتا ہے۔ سلام پھیرتے ہی اسے باہر کھڑے شخص کا سایہ چاند کی سفید روشنی میں نظر آگیا۔۔۔۔۔ داد کا مستحق ہیں وہ نڈر کیپٹن۔۔۔۔ بغیر خوف کے اس نے بلند آواز سے کہا۔۔۔۔کون ہے باہر۔۔۔؟ سامنے آؤ۔ حالانکہ وہ خوف محسوس کر سکتا تھا کہ موت کا پروانہ تو نہیں آ گیا۔ کیونکہ وہ اس وقت دشمن کے بہت ہی قریب خیمہ زن تھے۔ "السلام علیکم عزیز آصف خان۔۔۔۔۔! میں کرنل ابراہیم۔"۔کرنل ابراہیم خیمے میں داخل ہوتے ہی بول اٹھا۔  پریشانی کرنل ابراہیم کے لہجے سے عیاں تھی۔ لیکن وہ اپنے معزز سپاہی کے سامنے قابو کر رہا تھا۔ کیونکہ اس کی پریشانی سے فوج ہمت ہار سکتی تھی۔ " وعلیکم السلام! آئیں سر بیٹھیں۔۔آصف خان اپنی جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ گیا۔ حقیقت میں وہ کرنل ابراہیم کا بہت احترام کرتا تھا۔ اس لیے کرنل ابراہیم۔بھی آصف خان سے دلی محبت رکھتے تھے۔ کافی دیر خیمے میں خاموشی طاری رہی۔ پھر کرنل ابراہیم۔خاموشی کو توڑتے ہوئے گویا ہوئے " عزیز دوست! آصف خان تم جانتے ہو کہ ہم اس وقت کن حالات سے دوچار ہیں۔۔۔۔؟" کرنل ابراہیم گھبرا رہا تھا لیکن آصف خان کی موجودگی اسے کافی حد تک سکون دے رہی تھی۔ " جی سر! جن کے ساتھ اللّٰہ ہو وہ کبھی خوف نہیں کھاتے" ۔آصف خان اب اس صورتحال پر قابو پاچکا تھا کیونکہ وہ ایک شیر تھا،۔ایک اللّٰہ کا مجاہد تھا۔ پھر آصف خان نے کرنل ابراہیم۔کو پانی کا گلاس تھمایا اور پھر گویا ہوا۔۔۔۔۔ " سر آپ کس چیز کی بے سکونی سے دوچار ہیں۔۔۔۔؟" "بھلا میں بھی سکون سے رہ سکتا ہوں ہماری سرحد اس وقت بہت ہی خطرے میں ہے۔ دشمن ہماری ذرا سی کوتاہی کی دیر میں ہے اور تو اور ایک کوتاہی ہماری بربادی کا سامان بن جائے گی۔ دشمن کے مقابلے میں ہماری تعداد صرف 150 ہے اور وہ 500 کی تعداد میں۔ ان کے پاس جدید اسلحہ اور ہمارے پاس صرف پستول۔۔۔۔۔۔" ۔کرنل ابراہیم اپنے دل کی بات کہہ بیٹھا تھا۔ جو...

طلبہ کو دباؤ کے طغیان سے بچانے والے بادبان

مشہورچینی مقولہ ہے "کسی کو تعلیم دینے کا مطلب ہے دوبارہ تعلیم حا صل کرنا" اس قول کی روشنی میں اساتذہ کے لئے تدریس کی انجام دہی سے قبل از سر نو فن تدریس کے اسرار و رموز سے خود کو متصف کرنا لازم ہوجاتا ہے تاکہ ترسیل علم کو موثر اور ممکن بنایا جا سکے۔ تجزیے ،تجربے اور مشاہدے کو بروئے کا ر لائے بغیر اساتذہ کی فطری صلاحیتوں میں جمودیقینی امر ہے۔جدیدتعلیمی تحقیقات کے مطابق جبر و تسلط پر مبنی تعلیمی نظام پڑھے لکھے جاہلوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کر رہا ہے جن کے پاس ڈگریاں تو ہیں لیکن وہ معروضی حقیقت کے ادراک سے بے بہرہ اور نا آشناہیں۔ یہ بات اساتذہ ذہن نشین کر لیں کہ جو کچھ ان کو یونیورسٹی اور کالجوں میں فن درس و تدریس کے ضمن میں سکھایا جاتا ہے وہ مکمل تعلیم نہیں ہوتی ہے بلکہ فن تعلیم و تربیت کا صرف ایک ادنی ذریعہ ہوتی ہے۔اساتذہ کا محض تھوڑے سے علم پر قناعت کرنا درست نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ذہن کو وسعت و کشادگی سے ہمکنار کر یں۔مشہور فلسفی و ماہر تعلیم برٹرینڈرسل کا کہنا ہے کہ ’’ تعلیم میں جبر سے طالب علموں کی صلاحیتوں اور دلچسپی کا خاتمہ ہوجاتا ہے‘‘۔ دور حاضر کے طلبہ کشیدہ ماحول کی وجہ سے ذہنی انتشار و دباؤ کا شکارہو رہے ہیں۔دباؤ طلبہ کی جسما نی و ذہنی،جذباتی نشوونما کے لئے سم قا تل ہے۔دباؤ حصول علم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دباؤ میں گرفتار طلبہ والدین اور اساتذہ کی مد د کے بغیر اس اندھے کنویں سے ہر گز باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔طلبہ میں ذہنی دباؤ کے زیر اثر کئی مضر اثرات پرورش پانے لگتے ہیں۔طلبہ کے رویوں اور طرزعمل سے بخوبی ان علامات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نوخیز ذہن دباؤ کی آندھی میں اپنے آپ کو بے بس و بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے ترقی کی راہیں بھی مسدود ہوجاتی ہیں اور شخصیت بھی مجروح ہوجاتی ہے۔ دباؤ کے دردناک شکنجے میں محروس طلبہ اپنی نو عمری و نوخیزی کی وجہ سے دباؤ پیدا کرنے والے اسباب سے نا آشنا ہوتے ہیں۔دانش اور تجربہ کی کمی کے باعث ان حالات کا سامنا کرنے کا بھی خود کو اہل نہیں پاتے ہیں۔ اسی لئے طلبہ کو دباؤ پیدا کرنے والے عناصر و اسباب سے آگا ہ کر نا اور ساتھ ہی ساتھ دباؤ کے انسداد و تدارک کے طریقہ کار سے ان کو واقف کر نا اساتذہ کا فرض عین ہے۔ تدریس کو دباؤ سے پاک کرنے کے فن سے عدم آگہی تدریس کو اغلاط کا مرکب بنادیتی ہے ۔طلبہ کی ہمہ جہت ترقی و نشوونما کے لئے سعی و کوشش کرنے والے اساتذہ دباؤ پیداکرنے والے اسباب و عوامل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور طلبہ کو دباؤ پرور حالات سے نبرد آزما ہونے کے فن سے لیس کردیتے ہیں۔اپنے فرائض سے پہلو تہی کے بجائے فرض شناس اساتذہ طلبہ کو دباؤ کاجواں مردی سے سامنا کرنے اور اس کے کامیاب سدباب کا حوصلہ بھی عطا کرتے ہیں۔دباؤ کا منبع و مرکز اکثر...

صبر و برداشت اور اسلامی تعلیمات

برداشت کو عربی میں تحمل کہا جاتا ہے، اس کے لغوی معنی بوجھ اٹھانے کے ہیں۔ یہ وہ صفت ہے جس سے انسان میں قوت  اور طاقت پیدا ہوتی ہے، جس کے سبب وہ غصے،  جوش، اشتعال اور انتقام کے جذبے کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتا ہے اور اپنے آپ کو قابو میں  رکھتا ہے۔ جب کہ عدم برداشت سے مراد وہ منفی رویہ ہے کہ جو کسی  کی رائے، سوچ، رویّے یا نقطہ نظر سے آپ متفق نہ ہونے  اور فکرو نظر کے اس اختلاف کو برداشت نہ کر پانے اور  نامناسب ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا اس وقت عدم برداشت کے ایسے دھارے پر کھڑی ہے جہاں کوئی کسی کو برداشت کرنا ہی نہیں چاہتا۔ جب کہ اسلام نے اختلافِ رائے کی بھی حدود متعین کی ہیں۔ اسلام بدلے کا اتنا ہی حق دیتا ہے جتنا کسی کے ساتھ ظلم کیا گیا ہو۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام زندگی اپنے اوپر کی گئی کسی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا، بجز اس کے کہ خدائی حرمت کو پامال کیا گیا ہو، پس اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سختی سے مواخذہ فرماتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری)۔ قرآن میں برداشت کرنے والوں کی کئی مقامات پر  تعریف کی ہے۔ والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس۔ (آل عمران: 134) (اور وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے جس معاشرے میں مبعوث فرمایا اس معاشرے  تصویر کشی مولانا حالی نے مسدس حالی میں کیا ہی خوب کی ہے۔ چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ ہر اک لوٹ مار میں تھا یگانہ فسادوں میں کتنا تھا ان کا زمانہ   نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے   درندے ہوں جنگ میں بے باک جیسے دوسری جگہ عفوودرگز ر سے عاری اس قوم کی باہمی جنگوں اور قبیلوں کے قبیلے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا نقشہ کچھ یوں کھینچتے ہیں۔ کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا  کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا لب جو کبھی آنے جانے پہ جھگڑا کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا یونہی روزہوتی تھی تکرار ان میں یونہی چلتی رہتی تلوار ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے معاشرے کی اصلاح فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے تیرہ سال ہر طرح کی اذیتیں برداشت کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی و ذہنی اذیت دینے میں اہل مکہ نے کوئی کثر نہ اٹھا رکھی۔ مگر آپ نے ہر ظلم و زیادتی کو برداشت کیا۔ طائف کے سفر میں آپ لہولہان ہو گئے، مگر اہل طائف کو پہاڑوں کے فرشتے کی عرض پر بھی معاف کر دیا۔نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ عام مسلمانوں پر بھی ظلم و ستم کی پہاڑ توڑے گئے۔ جب  مسلمان ہجرت کر کے حبشہ گئے تو وہاں بھی مشرکین نے انہیں چین نہ لینے کا تہیہ کیا اور نجاشی کے پاس  پہنچ گئے۔ اس موقعہ پر حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی نے نجاشی کے دربار میں جن الفاظ میں اپنی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

چکنی مٹی کے لوگ‎

آج کل جگہ جگہ ایک مذہبی وسیاسی  جماعت کے بینرز لگے ہوئے ہیں،  ایک بینر پر لکھا  تھا"قوم کو لاہور اورنج ٹرین،پنڈی میٹرو بس،ملتان میٹرو بس اور پیشاور میڑو سروس مبارک،کراچی والوں ٹیکس دیتے رہو اور دھکے کھاتے رہو" اطلاعا  عرض ہے کہ کراچی کے عوام کو دھکے کھانےمیں بہت مہارت حاصل ہے، چاہے وہ رکشے کے ہوں یا بس کے، گدھا گاڑی کے ہوں یا کھلی سوزوکی کے،سڑکیں اتنی لہراتی اور بل کھاتی کے کمر کا درد بلکل ٹھیک ہوجائے،دس نمبر لیاقت آباد کی سڑک(بکرا منڈی کے سامنے والی)میں جو دھکے کھاتے جھولا جھولنے کا مزہ عوام کو دس سال تک آیا وہ بیان سے باہر ہے،  کئی بار خواہش ہوئی کہ سابق مئیر اور وزیراعلی صاحب کو بھی یہاں کے دھکوں کی سیر کرائی جائے، پھر خیال آیا نجانے کراچی میں ایسی کتنی ہی سڑکیں ہونگی وہ بچارے کہاں کہاں کے دھکوں کا مزہ لینگے۔ اب آتے ہیں کراچی والوں  کی طرف۔ یہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب اور فرقوں  کے لوگ آباد ہیں جن کو اپنے حقوق کی سمجھ ہی نہیں ہے،مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور سرکارکو کوئی سروکار ہی نہیں روڈ صاف ستھرے اور خوب صورت ہو یا  ٹرانسپورٹ کا نظا م اچھا ہواشرافیہ  کو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے ، حالیہ بارشیں ہوئیں  توسوچا اس قوم کو اب تو اپنے حقوق کی سمجھ آ گئی ہوگی اور غصے میں بھرے گورنر ہاؤس یا وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے،  لیکن ان کا حال تو ویسا ہی ہوا جیسا ایک بادشاہ کی رعایا کا تھا ۔ "ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کو آزمانے کے لیے پہلےان کا کھانا بند کیا،  پھر پانی و دیگر مراعات لیکن عوام کچھ نہ بولی،  پھربادشاہ نے حکم دیا کہ کام پر آنے جانے والے راستوں پر ہر آدمی کو چانٹا مارا جائے،  کچھ عرصے یہ چیز چلتی رہی آخر کار ایک دن رعایا محل کے باہر میدان میں جمع ہوگئی،  بادشاہ خوش ہوا کہ چلو اب ان کو اپنے حقوق کا خیال تو آیا-عوام نے کہا بادشاہ سلامت ہمیں کام پر جاتے ہوئےدیر ہو جاتی ہےآپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی  آپ چانٹا مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم وقت پر اپنے کام پر پہنچ سکے-یہی حال ہمارے کراچی کی قوم کاہے- خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

پانچ روپے کا ماسک اور 200 کی بریانی

میرے آج کے کالم کا موضوع کچھ عجیب سا لگ رہا ہوگا کہ یہ ماسک اور بریانی کی پلیٹ کا آپس میں کیا تعلق،تو جناب کبھی کبھار تعلق یونہی بنا لینا چاہئے جیسا کہ ایک مزارع ایک زمیندار کے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ایسے میں زمیندار کا ادھر سے گزر ہوا۔زمیندار نے دیکھا کہ مزارع ہل ٹھیک سے نہیں چلا رہا ہے تو اس نے ڈانٹتے ہوئے اس مزارع سے کہا کہ غلامیاں! تم ’’سڑیوں کے ساتھ سڑی‘‘یعنی لائن کی ترتیب کے ساتھ ہل نہیں چلا رہے ہو،جس پر غلاماں بولا کہ چوہدری صاحب جب آپ نے اپنی دھی کا پیسہ کھایا تھا تو کیا میں بولا تھا؟چوہدری نے ذرا گھبراتے ہوئے پوچھا کہ بھلا اس جواب کا میرے سوال کے ساتھ کیا تعلق ہے تو مزارع نے کہا چوہدری صاحب ’’گلاں چوں گل ایویں ای نکلدی اے‘‘یعنی باتوں میں سے باتیں ایسے ہی نکلتی ہیں۔ لیکن میرے موضوع یعنی ماسک اور بریانی کا تعلق اس لئے ہے کہ آجکل حکومتی اور اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے جلسوں کا سلسلہ جو چلا ہوا ہے اس میں میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ حکومتی ایوانوں سے ان کے مشیران جب بھی ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف فرما ہوتے ہیں ان کی ایک ہی آواز ہوتی ہے کہ کرونا کا مرض ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اس لئے عوام کو ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا پڑے گا۔ بات بالکل درست ہے لیکن جب حافظ آباد کا جلسہ ہوتا ہے اور اس میں مہمان خصوصی خود ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب خود تشریف لاتے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے سامنے عوام کے ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو بنا ماسک کے نہیں دیکھا ہوگا؟اگر دیکھا تھا تو پھر کیوں اپنی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا کہ اتنی ساری عوام بنا ماسک کے کیوں ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔اور انتظامیہ کا حال دیکھ لو کہ تماشائیوں کی تعداد پر ہر ٹی وی ٹاک شو میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے نمبرز اپوزیشن کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھے لیکن کوئی یہ نہیں کہیے گا کہ ہمارے جلسے میں آنے والی عوام کا شعوری لیول آپ کی عوام سے اس لئے بہتر تھا کہ انہوں نے حکومتی ہدایات کے مطابق کرونا کے خلاف ایس او پیز کا زیادہ خیال رکھا ہوا تھا۔ یہی حال اپوزیشن کے جلسوں میں بھی دیکھا گیا ہے اگر صرف گوجرانوالہ،کراچی کے جلسہ کو ہی لے لیں تو ہر میڈیا چینل نے دکھایا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔لوگ صبح سے ہی جوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں ہر طرف بریانی اور کھانے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلا یا جارہا ہے۔کیونکہ بھوکے پیٹ تو سارا دن جلسہ گاہ میں عوام اپنے لیڈران کا انتظار نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے بریانی کا انتظام بھی اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیا ہوگا ،عوام تو اپنے ساتھ دو وقت کی روٹی ٹفن میں پیک کر کے اپنے ساتھ لانے سے رہی۔اگر...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

ہمارے بلاگرز