دام ضیاء صابری

1 بلاگ 0 تبصرے

آم کے آم………گٹھلیوں کے

نماز جمعہ کے خطبہ میں خطیب تقریر کر رہا تھا ۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں...

اہم بلاگز

 ”شکریہ جماعت اسلامی “

”بھائی! فون تو اٹھا لیا کر،میں نے قرضہ تونہیں لیناتھا،کل سے ستر فون کر چکا ہوں مجال ہے جو ایک بار بھی کال اٹھا ئی ہو،چلو بندہ مصروف ہوتا ہے لیکن فرصت میں تو کال کر سکتا ہے ،یعنی اب ہم ایسے گئے گزرے ہوگئے ۔۔۔“سیلانی فون پر جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیا،گذشتہ بارہ گھنٹوں میں جمیل کو گیارہ بار فون کر چکا تھا،بارہویں فون پر اس نے کال وصول کی تو سیلانی کاکھری کھری سناناتو بنتا تھا۔ جمیل احمد صغیر سے اسکا پرانا ساتھ اور بے تکلفی ہے ،کراچی یونیورسٹی کی بسوں پر دونوں نے لٹک لٹک کرخوب سفر کر رکھے ہیں ۔کیمسٹری کی کھٹی چنا چاٹ اور رول پراٹھے کھارکھے ہیں،ایک دوسرے سے چھین کر عبداللہ کی بریانی پلیٹ  پربھاگتے رہے ہیں، جمیل پڑھنے لکھنے والا بچہ اورتقریبا آدھا جماعتی تھا،فکری اور نظریاتی طور پر وہ جماعتی ہی تھا،مولانا موددودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابیں اس کے بیگ میں رکھی ہوتی تھیں لیکن وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوتاتھا ،یاروں نے بڑی کوششیں کیں، ربط میں رکھا،گھر کے چکر لگائے، بڑے بڑے لیکچر دیئے لیکن جمیل نے جمعیت میں نہ آنا تھا نہ آیا۔ یونیورسٹی کے بعد غم روزگار نے سارے ہی دوست محبتیں اوررفاقتیں یاد بنا دیں، وہ احباب جن سے روز آرٹس لابی میں مصافحے معانقے ہوا کرتے تھے انہیں بھی گردش دوراں جانے کہاں لے اڑی جو نہیں اڑے جمے رہے ان سے بھی ملاقاتوں میں وقفہ بڑھتا چلا گیا۔جمیل سے بھی کبھی کبھار ہی ملاقات ہوپاتی کبھی اس کا فون آجاتا یا کبھی سیلانی اسے فون کر لیتا ،کل ایک کام کے سلسلے میں سیلانی کو جمیل کی ضرورت پڑ گئی سیلانی نے فون کیا لیکن اس نے اٹھایاہی نہیں پھر فون کیا جواب ندارد،تیسراچوتھا اور وقفے وقفے سے کتنے ہی فون کئے لیکن جمیل سے رابطہ نہ ہواپہلے اسکے نمبر پر گھنٹی بج رہی تھی پھر اس نے فون بھی بند کر دیا،سیلانی کا غصہ پریشانی میں بدل گیا طرح طرح کے وسوسے اسے ڈسنے لگے اس نے چاہا کہ کسی اوردوست سے جمیل کی خیر خبر لی جائے لیکن دونوں کا کوئی مشترکہ دوست بھی ایسا یاد نہ آیا اب جو صبح جمیل کے نمبر سے اپنے فون پر مس کال دیکھی تواس نے نمبر ملایا اور جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیاسناتے سناتے سیلانی ذرا دم لینے کو رکاتو دوسری طرف سے آواز آئی ”بس یا کچھ اوررہتا ہے ۔۔۔“ ”ابے ! چپ میں سامنے ہوتا ناں تو طبیعت صاف کر دیتا “ ”واپس آجا کراچی میں صفائی کرنے والوں کی بڑی ضرورت ہے یہاں سیاست ہی صفائی پر ہورہی ہے“جمیل ہنس پڑا ”یار ! میں تجھے کل سے فون پر فون کئے جارہا ہوں مگر تو نے جواب دینے کے بجائے فون ہی بند کر دیا“ ”بدگمان نہیں ہوتے دوست فون بند نہیں کیا تھا ہو گیا تھا اور کال میں اس لئے نہیں لے سکا کہ لاکھوں لوگوں کے شور میں گھنٹی کیا گھڑیال کی بھی کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی“ ”لاکھوں لوگ۔۔۔کیامطلب ؟“ ”میں کل کشمیر کی ریلی میں تھا“  تو بھی کل جماعت اسلامی کی...

امت کو طعنے

امت کا تصور اتنا جاندار ہے کہ استعمار نے اس کو ختم کرنے کے لیے امت کے وجود کو بزور شمشیر کیک کے ٹکڑوں کی طرح تقسیم کیا،خاردار باڑیں لگائیں،آمد و رفت محدود کی، پاسپورٹ اور ویزے کا دھندا قائم کیا،پھر بندوق کے پہرے بٹھائے،ایک کے بجائے درجنوں پرچم دیے اور ہر قومیت کو صرف اپنے وطن کی عظمت پر لگا دیا، اپنے تئیں باقی سب بھلا دیا اور پھرسب سے اوپر ذہنی غلامی کو قائم دائم رکھنے کے لیے اپنے کالے غلام اس سارے بندوبست کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیے۔۔۔! لیکن امت نے اپنے وجود کا ثبوت دیا اور ہر محاذ پر دیا۔ اڑتالیس کی عرب اسرائیل جنگ میں مجاہدینِ امت نے بے سروسامانی میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے۔۔۔73ء کی جنگ میں اسرائیلی پوچھتے تھےاس دفعہ فدائین تو نہیں لڑ رہےنا! پھر جتنی جنگیں عرب قومیت کے نعرے پر لڑی گئیں،ہمیشہ منہ کی کھائی اور جب جب امت کی،قرآن کی صدا بلند ہوئی، دشمن خون کے گھونٹ پی کرر ہ گیا۔آج بھی غزہ کا قید خانہ اور القدس کے مینار خون سے تر ہیں ، امت تابندہ ہے! افغانستان کی تو مثال ہی دینا وقت کا زیاں ہے ،انڈونیشیا سے مراکش تک امت کے نمائندے بارگاہ الٰہی میں منتخب ہو ہو کر پہنچے اور خون ِرگِ جاں سے حق کی شہادت رقم کی۔رحمھم اللہ۔ بوسنیا کی بات کم کومعلوم ہے۔۔۔1992ء میں نسل کشی شروع ہوئی تو ہر حکومت نے ویسے ہی تاریخی'' کھڑے ہونے'' پر اکتفا فرمایا جیسے آج پاکستان کشمیر کی چتا کے سرہانے ساتھ''کھڑا" ہے۔۔۔امت کو آواز پڑی،امت نے لبیک کہا،عالم اسلام سے جانباز آئے اوردو ہی سال میں سرب افواج کا زور توڑ دیا۔دشمن کو مجبوراََبوسنیا کے قیام کو تسلیم کرنا پڑا! صدرعلی عزت بیگوویچ کا خراج تحسین آج بھی موجود ہے،اسے پڑھیں،معلوم ہو گا امت کیا ہے، کیا کر سکتی ہے! عراق میں امریکی تسلط کے خلاف ان کہی داستان کبھی لکھی جائے تو استعمار کے خلاف جدوجہد میں امت کاتاریخی کردار سامنے آئے گا اور یہ لکھا جائے گا۔انگریزی میں لکھا بھی گیا ہے،اردو تاحال محروم ہے! اعلان آزادی 1995ء کے بعد آزاد چیچنیا کے صدر جوہر داؤدییف نے آرمی کا کمانڈر ایک عرب کمانڈر امیر الخطاب کو مقرر کیا تھا،کس قاعدے کے تحت؟یہ امت ہے! وہی خطاب جس نے سعودی عرب میں والدہ کو فون پر کہا تھا کہ جب چیچنیا سے روسی استعمار کا جنازہ نکل جائے گا،خطاب اپنی ماں سے ملنے آ جائے گا! صرف کشمیر میں پچیس ہزار پاکستانی امت کے وجود کی سند خونِ رگِ جاں سے رقم کر چکے ہیں۔کسی ایک کا باپ یا بھائی بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ' 'سب سے پہلے پاکستان'' پر قربان ہوا۔ہر شہید نے امت کے لیے قربانی دی!خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی! حماس کے ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کا بانی تیونس کا شہری محمد الزواری بنتا ہے۔۔۔کس نسبت سے؟؟اسی نسبت سے جس نسبت سے بوڑھا شیرسیدعلی گیلانی اپنا آپ پاکستان سے منسوب کرتا ہے۔۔پاکستان کو امت کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے۔۔ "اسلام کی نسبت سے ۔۔۔اسلام کے تعلق سے۔۔۔اسلام کے رشتے سے۔۔۔ہم پاکستانی ہیں۔۔پاکستان ہمارا ہے!" اقبال ابھی تک غلطی سے قومی شاعر ہی ہے،بہت...

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی؟

دس ذوالحجہ عید الاضحی کے دن مسلمان خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو زندہ کرتے ہیں۔ یوں توحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری زندگی عظیم الشان قربانیوں سے آراستہ ہے مگر بحکم خداوندی اپنے لاڈلے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نازک و نرم خوبصورت نورانی گلے پر اپنے ہاتھ مبارک سے پوری قوت کیساتھ تیزدھار چھری چلانا ایسی لا مثال و منفرد قربانی ہے کہ تعمیل حکم و اطاعت خداوندی کی ایسی مثال نہیں ملتی۔ عجیب منظر تھا جب باپ نے اپنے نو عمر فرزند سے پوچھا، اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہاہوں، بتا تیری مرضی کیا ہے؟“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے یہ رائے اس لیے نہیں پوچھی تھی کہ اگر بیٹے کی رائے ہو گی تو ایسا کروں گاورنہ میں اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کروں گا، ایسا ہر گز نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رائے اس لیے پوچھی تھی کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے حکم کے بارے میں بیٹے کا تصور کیا ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمابرداری دیکھئے، وہ بیٹا بھی تو کوئی عام بیٹانہیں تھا، وہ بھی آخر خلیل اللہ کا فرزند ارجمند تھا۔ اگر باپ خلیل اللہ کے مرتبہ پر فائز تو بیٹے کے سر پر بھی ذبیح اللہ کا تاج سجنے والا تھا۔ کیونکہ آپ علیہ السلام ہی کی صلب اطہر سے آقائے دو جہاں،تاجدارانبیاء،شفیع روزجزا، جناب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نورمبین سے اس جہان کو دائمی روشنی سے منور کرنے والے تھے۔ اس لیے وارث نبوت نے بھی اطاعت کی حد کر دی۔آپ علیہ السلام نے اپنے باپ کے آگے سر کو جھکا دیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کہ ابا جا ن مجھ سے کیا جرم سر زد ہوا ہے؟میری خطا کیا ہے؟ جو آپ مجھے موت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔ قربان جاؤں! اس بیٹے پر جس نے نہایت عاجزی وانکساری سے اپنے باپ کے آگے گردن جھکاتے ہوئے جوکلمات اپنی زبان سے ارشاد فرمائے وہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اس (بیٹے) نے کہااے ابا جان!آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیاہے، انشاء اللہ! آپ مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورۃ الصفّٰت آیت 102)“ اے اباجان! میں روؤں گا نہیں اور نہ ہی میں چلاؤں گا اور نہ ہی آپ کو اس کام سے منع کروں گا،اب آپ چلئے اور اس حکم کی تعمیل میں دیر نہ کیجئے۔انشاء اللہ! آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ بقول حضرت علامہ محمد اقبال یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی اب آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے عشق میں اپنی گردن مبارک زمین پر رکھ دی، اور باپ نے چھری کو چلانا شروع کیا تو آسمان دنیا کے فرشتے پہلی دفعہ اطاعت خداوندی اور تسلیم و...

کشمیر تیرے باپ کی جاگیر نہیں ہے

بچپن سے ہی ایک ذکر سنا تھا، ایک دلفریب تذکرہ، کشمیر کی ارضی جنت کا، اور ذرا بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ ارضی جنت تو دشمن کے قبضے میں ہے، اور اس کا تھوڑا سا حصہ پاکستان کے ساتھ الحاق شدہ ہے، اور پھر اس جبری قبضے کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو کشمیری قوم کی حالت پر سخت دکھ ہوا، جو آج سے نہیں بلکہ ڈوگرہ راج کے زمانے سے غلامی در غلامی کا عذاب سہہ رہی ہے، بار بار اسے دھوکہ دیا گیا، اور کتنی ہی بار آزادی کی منزل دو ہاتھ کے فاصلے پر پہنچ کر ان سے چھین لی گئی، کسی مکار نے، کسی عیار نے کسی بین الاقوامی ادارے کی طفل تسلیوں نے ہر بار ہی کشمیریوں سے حق ِ آزادی چھین لیا۔ یہ کہانی۶۴۸۱ء سے شروع ہوتی ہے جب کشمیری قوم کا سودا ۵۷ لاکھ نانک شاہی میں ہوا، اور اسے گلاب سنگھ کی جھولی میں ڈال دیا گیا، ۷۴۹۱ء کی تحریک آزادی میں مسلم آبادی کا علاقہ جموں و کشمیر آزادی کے خواب دیکھ رہا تھا، مگر ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کی سازش کی، جسے کشمیر کے عوام نے تسلیم نہیں کیا اور بزور شمشیر اپنا حق حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی، اور اپنی قوت ِ ایمان اور جذبہء جہاد سے کشمیر کے کافی حصّے کو آزاد کروا لیا، بھارت نے کشمیر کی ریاست کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اقوام ِ متحدہ میں پہنچ کر واویلا کیا، اور یوں کشمیر ایک متنازعہ خطہ قرار پایا جس کے عوام نے اپنی مرضی سے رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا، کشمیر کے آزاد شدہ حصّے نے پاکستان سے الحاق کر لیا، اور دوسرے حصّے پر بھارت نے جبراً اپنی فوجیں داخل رکھیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت اپنے وعدوں کی تکمیل میں لیت و لعل ہی سے کام نہیں لیتا رہا بلکہ ہر کچھ عرصہ بعد ظلم کے اس شکنجے کو اور زیادہ شدید کرتا چلا جا رہا ہے۔ کشمیر کے دکھ کی کہانی کہاں سے شروع کروں، جب معاہدہء امرتسر کے نتیجے میں اس آزاد قوم کو غلام بنا لیا گیا، اور ڈوگروں نے اس پر ظلم کی انتہا کر دی، ان سے جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا، مساجد کو اصطبل اور بارود خانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا اور مسلمانوں کو اذان دینے اور جمعہ کا خطبہ دینے کی بھی اجازت نہ دی جاتی۔ ایک شر انگیز اور متنفر قوم کو کشمیر کے مسلمانوں پر اس طرح حاکم بنا دیا گیا کہ گویا سکھوں کو کشمیریوں کے قتل کا پروانہ تھما دیا، جس کی سفاکی کی انتہا یہ تھی کہ اگر کوئی سکھ کسی کشمیری کو قتل کر دیا جاتا تو اسے سزا کے طور پر (سولہ روپے) ۶۱ نانک شاہی ادا کرنے پڑتے، جس میں سے دو روپے مقتول خاندان کو (دیت کے طور پر) ادا کئے جاتے۔یعنی انیسویں صدی میں ایک کشمیری کے خون کی قیمت صرف دو روپے تھی۔ معاہدہء امرتسر کو علامہ اقبال...

نور الدین زنگی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

نور الدین زنگی اپنے باپ کے مثل بہادر اور جری حکمران تھا۔اسلام سے محبت کرتا تھا اور اپنی زندگی اس کے سانچے میں گزارتا تھا۔خلاف شرع کام کرنے کا سخت مخالف تھا۔اسلام کے لیے اس کے کارنامے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔وہ شریعت کے مطابق خود بھی زندگی گزارتا اور ماتحتوں کو بھی اس کا پابند بناتا۔ان کی اس خوبی کی وجہ سے لوگوں میں دین پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور ایک اچھی اسلامی فضا قائم ہوتی گئی۔وہ حکمرانی اور اسلامی احکامات کی پابندی کے ساتھ ساتھ فلاحی کام بھی بڑے ذوق شوق سے کرتا تھا۔ وہ صرف ایک فاتح نہیں تھا بلکہ ایک شفیق حکمران اور علم پرور بادشاہ تھا۔ اس نے سلطنت میں مدرسوں اور ہسپتالوں کا جال بچھا دیا تھا۔ اس کے انصاف کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ وہ بڑی ذاتی زندگی گزارتا تھا، بیت المال سے  کبھی ذاتی ضرورت پوری نہیں کرتا تھا۔ اس نے اپنے لیے بڑے بڑے محل تعمیر نہیں کیے بلکہ بیت المال کا روپیہ مدرسوں، شفاخانوں اور مسافر خانوں کے قائم کرنے اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں صرف کرتا۔ دمشق میں اس نے ایک شاندار شفاخانہ قائم کیا تھا جس کی دنیا میں مثال نہ تھی۔ اس میں مریضوں کو دوا بھی مفت دی جاتی تھی اور کھانے اور رہنے کا خرچ بھی حکومت کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔ نور الدین نے تمام ناجائز ٹیکس ختم کردیے تھے۔ وہ مظلوموں کی شکایت خود سنتا اور اس کی تفتیش کرتا تھا۔ نور الدین کی ان خوبیوں اور کارناموں کی وجہ سے اس زمانے کے ایک مورخ نے لکھا ہے کہ: “میں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز  کے سوا نور الدین سے زیادہ بہتر حکمران میری نظر سے نہیں گزرا”۔نور الدین زنگی کے جنگی کارناموں اور فتوحات کا مختصر خاکہ کچھ اس طرح سے ہے:اس نے مسیحیوں سے بیت المقدس  واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کر لیا۔ شروع میں نور الدین کا دار الحکومت حلب تھا۔ 549ھ میں اس نے دمشق  پر قبضہ کرکے اسے دار الحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ  پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کر لیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کی عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ  کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششوں کو بھی سیف الدین  اورمعین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس  سے مسیحیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔دوسری صلیبی جنگ  میں فتح کی بدولت ہی مسلمان تیسری صلیبی جنگ  میں فتح یاب ہوکر بیت المقدس واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں مصر میں فاطمی حکومت قائم تھی لیکن اب وہ بالکل کمزور ہو گئی تھی اور مصر چونکہ فلسطین  سے ملا ہوا تھا اس لیے مسیحی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر نور الدین نے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

”دنیائے مزاح“

”ہاں بھئی کھانے میں کیا ہے؟“ ”بلی کا گوشت ہے، کتے کا گوشت ہے،چوہے کے کباب ہیں۔۔۔“ ”ارے ارے بھائی!! کیا ہوگیا ہے؟ کیا جنگل میں کھول رکھا ہے ریسٹورنٹ آپ نے۔۔۔“ ویٹر اور گاہک کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو میرے ذہن کی اختراع نہیں بلکہ ایک معروف ریسٹورنٹ میں prank (مذاق) کرتا Prankster ہے۔ میں اس قسم کی ناقابلِ فہم گفتگو کبھی تحریر نہیں کرتی لیکن میرا موضوع انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں حال ہی میں آنے والا ”پرینک کلچر“ ہے۔ یوں تو تفریح اور مزاح تھکے ہوئے، اعصاب کے لئے ٹانک کا کام دیتے ہیں اور انسان ان سے لطف اندوز ہو کے تازہ دم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کی بھی کچھ حدود ہیں جن کو پار کر لیا جائے تو سوائے بد تہذیبی کے کچھ نہیں بچتا۔ یہ پرینکس عوامی مقامات مثلاََ معروف شاہراہیں، پارکس، شاپنگ مالز یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں بھی کئے جاتے ہیں۔ اکثر یہ لچر گفتگو، گھٹیا الفاظ، تحقیر آمیز رویے اور مخاطب کی تضحیک پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اس کے سبب پرینکسٹر کو جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں۔ پھر یو ٹیوبر یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرا دیتا ہے کہ ”بھائی!! کیمرے کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں۔“ اور وہ متاثرہ بھائی اپنی تمام تر ذلت بھول کر بتیسی نکال کر اس کی بات پر من و عن عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ یوں تو کئی پرینکس قابلِ اعتراض ہیں جو تعلیمی اداروں کے احترام کو مجروح کرتے ہیں۔ انکے کمنٹس پڑھ کے اندازہ ہوجاتا ہے کہ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ ایک پرینک کی مثال دیتی ہوں جس کا عنوان ہے Cute Girl Asking Strangers, Guess Who??? دو دوست ایک معروف شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ایک محترمہ نازل ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے کہتی ہیں: ”پہچانو کون؟؟ یاد کرو ہم اسکول میں ہوتے تھے۔۔۔!“ جب پورا پرینک مکمل ہوگیا اور ان حضرات کو حقیقت کا علم ہوا تو ان افراد میں اتنی بھی غیرت نہ تھی کہ کسی بھی قسم کے غصے کا اظہار کرتے بلکہ ان خاتون کے کہنے پر ایک روبوٹ کی مانند کیمرے کو دیکھ کرہاتھ ہلا دیا۔ جب اس پرینک کے کمنٹس پڑھے تو عوام کی اکثریت اس پرینک کے خلاف تھی اور پاکستان میں بڑھتی بے راہ روی کی طرف توجہ دلا رہی تھی۔ وہیں کچھ روشن خیال افراد اپنی رائے کا اظہار اس طرح کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک بھائی لکھتے ہیں: ”یہاں پر کچھ افراد مفتی بن کر فتویٰ لگا رہے ہیں۔ بھائی!! کیا اب پاکستانیو ں کو سانس بھی نہیں لینے دو گے؟؟ پاکستان اسی extremism کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔“ تو بھئی، بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان اگر بدنام ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والے کچھ افراد کو ضرورت سے ذیادہ سانس لینے دی جا رہی ہے اور وہ معاشرتی اقدار و روایات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو...

ماس-ٹر

محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ“مار نہیں پیار“نوٹیفیکیشن سے قبل ماسٹر(استاد)کو ایسے خطرناک کردار کے طور پرمعاشر ہ میں پیش کیا جاتاتھا کہ جس کو دیکھتے ہی طالب علم کے جسم کا ماس(skin)ٹر،ٹر کرنا شروع کردیتا تھا۔میرا ایک دوست فرخ الحسن بھٹی بچپن سے ہی پختہ عزم کئے ہوئے تھا کہ اسے بڑے ہو کر اس وجہ سے ماسٹر بننا ہے کہ جتنا ماسٹروں نے اسے مارا ہے خود ماسٹربن کربچوں کو مار پیٹ کر اپنا بدلہ لینا ہے،ماسٹر تو نہ بن سکا البتہ محکمہ جنگلات میں آجکل ٹمبر کوخوردبرد کرنے میں کافی ”ماسٹر“ہو گیا ہے۔اپنے ماسٹرپن کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ کیا ہوا درخت کٹوا کے پیچ دیا ایک کی بجائے دس درخت لگواتا بھی تو ہوں،کیا فلسفہ ہے کالے دھن کو سفید کرنے کا،اس کے اسی فعل کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے کتنی بار سیاست میں آنے کا مشورہ دیا ہے۔اس کے ماسٹر پن کی ایک مثال ملاحظہ ہوکہ ایک بار جوکالیہ بیلا فاریسٹ میں نئے پودے لگانے کا حکم صادر ہوا،موصوف نے کہیں نئی گاڑی خریدنی تھی تو ظاہر ہے پودے نہ لگوا سکا۔اتفاق سے سیکرٹری فاریسٹ کا دورہ تھا،جناب انہیں گھنٹہ بھر لانچ میں بیلا کے ارد گرد گھماتا رہا،سیکرٹری کے پوچھنے پر کہ کیا تم نے پودے لگوائے بھی ہیں کہ ایسے ہی ہمیں گھماتے جا رہے ہو۔فرخ نے نہائت معصومیت سے جواب دیا کہ سر دریائی علاقہ ہے پانی کا کیا بھروسہ،ہو سکتا ہے کہ دریا کا پانی بہا کے لے گیا ہو۔موصوف برطرف ہوئے اور ماموں کی سفارش سے نوکری پر بحال ہوئے اور انہیں پیسوں سے خرید کردہ گاڑی پر دفتر حاضری دینے پہنچ گئے۔اب آپ ہی بتائیں کہ اس سے بڑا ماسٹر کوئی ہو سکتا ہے۔مگر جس ماسٹر کی بچپن میں فرخ بھٹی بات کیا کرتا تھا اس سے مراد سکول اساتذہ تھے۔وہ تو ماسٹر نہ بن سکا البتہ میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ چھوڑ کر دوحہ قطر میں ضرور ایک پاکستانی اسکو ل میں ماسٹربن گیا۔اب میرے پاس سب کچھ ہے ماسوا پیسے کہ کیونکہ فرخ کا کہنا تھا کہ استاد کا کام پیسہ کمانا نہیں یہ کام دیگر”پیشہ ور“لوگوں کا ہے۔جب پیسے کی اہمیت کی سوچ اجتماعیت کی سوچ بن جائے گی تو ماسٹر بھی تو ایسا ہی سوچنے والے ہونگے جیسے کہ ایک گاؤں میں اسکول میں معائنہ ہورہا تھا اور ماسٹر صاحب بچوں کو cupسپ(سانپ) پڑھا رہے تھے انسپکٹر نے اعتراض کرتے ہوئے ماسٹر نے کہا کہ سر یہ سپ نہیں بلکہ کپ ہوتا ہے تو استاد محترم استادی دکھاتے ہوئے بڑے معصومانہ انداز میں گویا ہوئے کہ سر جب تک میری تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی اس وقت تک cup سپ ہی رہے گا۔ ایک بار مجھے ایک طالب علم نے پوچھا کہ سر یہ استاد اور ماسٹر میں کیا فرق ہے تو میں نے جواب دیا کہ ماسٹر و ہ ہوتا ہے کہ وہ جب بچے کو مارے تو ماس ٹر،ٹر ہو جبکہ استاد مارتے ہوئے بھی ایسی استادی دکھا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔میرے ایک استاد محترم تھے جن کے پاس ایک سہراب کی سائیکل تھی وہ...

  واقعی بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ 

زندگی کی یکسانیت کے ہاتھوں تنگ آکر دماغ میں کچھ نیا کرنے کا سمایا۔ ذہن پر زور دینے کے لیے بھاری کتابوں کا سہارا لیا لیکن اس ناہنجار دماغ نے کچھ نیا نہ سجھایا۔ سوچا چلو قریبی دوست کے پاس جا کر مشورہ کیا جائے، گھر سے باہر قدم  نکالنے ہی والے تھے کہ دھوپ کی شدت دیکھ کر دوست کی بات یاد آگئی۔" زیادہ تیز دھوپ میں ہرگز باہر نہ جانا سورج کی روشنی سے بھوسا جلدی آگ پکڑ لیتا ہے۔" اپنے سر کی خیریت اسی میں جانی کہ شام تک انتظار کیا جائے۔ اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ ڈور بیل کی آواز سنائی دی دروازہ کھولا تو سامنے محلےدار خاتون کو پایا جو حال ہی میں یہاں شفٹ ہوئی تھیں۔ انھیں اندر بلاکر امی کو ان کے آنے کی اطلاع دی باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ٹیوشن ڈھونڈ رہی ہیں۔ ہمارے دماغ میں ٹیوشن پڑھانے کا خیال وارد ہوا جسے ہم نے عملی جامہ پہنانے کا سوچا اور فورا ً ہی اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصادق انھوں نے بھی فوراً ہامی بھرلی۔ دوسرے دن وہ اپنے دو بچوں مع   اپنی بہن کے تین بچوں  کے تشریف لے آئیں۔ بچے ان کے سامنے جس شرافت کا مظاہرہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر انگ انگ خوشی سے نہال ہوگیا کہ بچے نہایت تمیزدار اور سمجھ دار ہیں۔ اپنی امی کے جانے کے تھوڑی دیر بعد بچوں نے وہ رنگ ڈھنگ دکھائے کہ چودہ کیا اٹھائیس طبق روشن ہوگئے۔ خیر بچوں کو جلدی چھٹی دےکر گھر بھیجا اور ان سے نمٹنے کے طریقے سوچنے لگے۔ بالآخر بچوں کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ سوچ ہی لیا۔ دوسرے دن بچوں کے آتے ہی انھیں چاکلیٹ دکھا کر آرام سے بیٹھ کر پڑھنے والے بچوں کو دینے کاوعدہ کیا۔ اس اعلان  سے خاطر خواہ فائدہ ہوا مگر اس کے بعد ۔۔۔۔ "مس! پڑھنا کیوں ضروری ہے؟" "اس لیے تاکہ آپ پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن سکیں۔" "مس عالم چنہ جتنا؟" "مس ، مس! لڑکے پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بنتے ہیں تو کیا میں بڑی عورت بنوں گی۔ " میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور ڈپٹ کر کام مکمل کرنے کاکہا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ۔۔۔۔۔ "مس! یہ مجھے پڑھنے نہیں دے رہا۔" " کیوں بھئی کیا مسئلہ ہے آپ کیوں پڑھنے نہیں دے رہے۔" " مس میں تو کچھ بھی نہیں کررہا۔" "مس! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میں اپنا یاد کررہا ہوں "قائد اعظم نے فرمایا" تو یہ بول رہا ہے "تو چل میں آیا". " میں نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے دونوں کو ڈانٹا تو ایک نیا معرکہ شروع ہوگیا۔ "مس! یہ مجھے جھوٹی کہہ رہی ہے۔" "مس! یہ کہہ رہی تھی کہ اس کی امی نے کہا ہے اب ہمیں کھانا کھانے اور سانس لینے پر بھی ٹیکس دینا پڑیگا۔"  .کچھ سوچتے ہوئے  " مس یہ ٹیکس کیا ہوتا ہے۔"  "بےوقوف !تمہیں اتنا بھی نہیں پتا۔ میرے ابو بتا رہے تھےجب حکومت دوسرے کے کیے ہوئے جرم کی سزا کے لیے عوام سے پیسے لے کر انکا خون نچوڑتی ہے تو اسے ٹیکس دینا...

ڈنڈا پیر

میرے استادِ محترم شفیع صاحب اکثر نالائق بچوں کو کام نہ کرنے پر سزا دیتے ہوئے اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک موٹا ڈنڈا ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ”وگڑیاں تِگڑیاں دا ڈنڈا پیر“اور پھر اسی ڈنڈے سے بچوں کے وہ کس اور ”بل“ نکالتے تھے کہ جسم کے ایک ایک انگ سے ”پیڑاں“نکلنی شروع ہو جاتی،یا پھر کہا کرتے تھے کہ ”آسمان سے چار کتابیں اور ایک ڈنڈا نازل ہوا ہے“پہلی بات تو سیدھی سادھی سی تھی اس لئے سمجھ آگئی کہ جو نالائق ہیں ان کے بستے بھاری اور ذہن خالی ہوتے ہیں اس لئے ان کا علاج ڈنڈا ہی ہو سکتا ہے جبکہ دوسری ضرب المثل کبھی کھاتے نہیں پڑی کہ جب زمین جنگلات سے بھری ہوئی ہے تو پھر ڈنڈے کو فلک سے نیچے کیوں اتارا گیا،ذرا ہوش سنبھالا تو خود ہی اندازہ لگایا کہ ہو سکتا ہے جو لوگ الہامی کتابوں پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان پر سختی برتنے کے لئے ڈنڈے کا نزول بھی کر دیا گیا ہو۔بروزن ”ڈبہ پیر“ایک عرصہ تک”ڈنڈا پیر“کو بھی کسی آستانہ عالیہ و درگاہ شریف کا گدی نشین ہی خیال کرتا رہا کہ ہو سکتا ہے یہ کوئی ایسا پیر ہو جو مریدوں کا علاج ڈنڈے سے کرتے ہوں جس کی نسبت سے ڈنڈا پیر معروف ہو گیا ہو وہ تو اس وقت سمجھ آئی جب شریف صاحب نے ہماری تشریف پر ایک دن گھر کا کام نہ کرنے پر ڈنڈوں کی ایسی برسات کی کہ خدا پناہ۔ عصرالاقدام میں ڈنڈے سے وہی کام لیا جاتا تھا جو آج کل کلاشنکوف یا پسٹل سے لیا جاتا ہے۔یقین کے لئے اپنے پٹھان بھائیوں کی پرانی تصاویر پر غور فرمائیے گا تو ہر بزرگ کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا دکھائی دے گا جبکہ آج کے دور کی تصویر ملاحظہ فرمائیں تو ڈنڈے کا نعم البدل کلاشنکوف ہو گی۔برصغیر پاک و ہند کی روائت بھی رہی ہے کہ پرانے بزرگ دوران سفر اپنے ساتھ دو چیزوں کو ضرور ساتھ رکھتے تھے،کتا اور ڈنڈا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے بے شمار فائدے ہیں،مثلاً دشمن اگر ڈنڈے سے نہ مرے تو یہ کام کتے سے لیا جا سکتا ہے اور کتا اپنے فرائض آوری سے کوتاہی برتے تو ڈنڈا کام دکھا سکتا ہے۔ان دنوں ڈنڈا چلانے میں مشاقی حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کو باقاعدہ ”گتکا“(ایک گیم) سکھایا جاتا تھا اور پولیس میں بھرتی کرتے ہوئے مختلف سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی کیا جاتا تھا کہ کیا تمہیں گتکا کھیلنا آتا ہے۔ممکن ہے یہ ڈنڈا بردارپولیس اسی دور سے چلی آرہی ہو۔پا کستان میں تو خیراس پولیس کی اتنی اہمیت نہیں اکثر اس پولیس کو جلسے جلوسوں،میلوں،یا قبضہ لینے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے ہاں البتہ ایک بار سعادت عمرہ کے دوران جنت البقیع کے باہر موجود تھا کہ ایک دم لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا،ایسے میں کسی نے آواز لگائی کہ ڈنڈا بردار پولیس آگئی بھاگو،اگرچہ ان کے پاس جو ڈنڈے تھے وہ ہمارے پولیس والوں کے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں تھے تاہم ان کا رعب و دبدبہ ایسا تھا...

عجیب پاکستانی ہوں

پاکستانی اتنے غریب نہیں ہونگے جتنے عجیب ہیں۔ ہر مرد عورت اپنے آپ میں ایک وکھرا نمونہ ہے۔ پاکستانیوں میں ایک عادت بڑی '' عام '' ہے۔ جو ہر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ اتنے چسکورے ہیں کہ ہر بات کا پتہ ہونے کے باوجود منہ کراراے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی '' چائے '' پی رہا ہو تو دوسرا باہر سے آنے والا بصارت جیسی نعمت سے مستفید ہونے کے باوجود بھی حیرت سے پوچھے گا '' چائے پی رہے ہو ''۔ اب ظاہر ہے چائے کے کپ میں خون پینے سے تو بندہ رہا۔ ہمارے رشتہ داروں میں میں کسی کے آنے پر اسے آواز نہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ آواز کرنے سے مراد یہ کہنا ہوتا ہے '' آئے ہو '' اگر کوئی بزرگ ہو تو بس لفظ کو ذرا کھینچ کر لمبا کر کے '' راااااااااااااالے '' کہنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والے کی مٹی ایسی پلید کردی جاتی ہے کہ دنیا کے نکھٹو، منحوس، اور بے ادب بھگوڑا انسان کی مہر اس پر لگا دی جاتی ہے۔ جب بھی ہری پور جانا ہوا جس رشتہ دار کی طرف بھی جاؤ پہلا سوال یہی ہوگا '' آئی ہو '' جس پر میں آرام سے بس یہی کہہ دیتی ہوں۔ '' نہیں! ابھی راستے میں ہوں۔'' اب بندہ پوچھے راستے میں ہوتا تو گھر کیسے تشریف لاتا ظاہر ہے گھر تک پہنچا ہے تو آیا ہی ناں۔ اچھا __ اگر آپ بازار چلے جاؤ اور بدقسمتی سے کوئی واقف مل جائے تو چھوٹتے ہی یہی سوال پوچھے گا '' بازار آئے ہو ''۔ اس بے تکے سوال پر بندہ ہونق بنا بٹر بٹر دیکھنے لگتا ہے کہ شاید غلطی سے پہلوانوں کے اکھاڑے یا کسی فیکٹری میں تو نہیں گھس گیا۔ چلو پہلے جوتا خریدتے ہیں اس سوچ کے آتے بندہ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد جیسے ہی شوز ہاؤس میں داخل ہوتا ہے دکاندار کا پہلا سوال حواس باختہ کردیتا ہے۔ '' ہاں جی! میڈم جوتا لینے آئے ہیں '' '' نہیں بھائی! گرم مصالحہ، برتن دھونے والا صابن اور ہاں ساتھ ایک سرف کا پیکٹ بھی دے دو '' کوفت سے سوچتے چپ چاپ جوتا پسند کرنے میں ہی بندہ بہتری جانتا ہے۔ کچھ دن پہلے افطار کے لیے کچھ مہمان آئے۔ جیسے ہی مہمان خاتون نے واش روم کی طرف قدم بڑھائے میں نے مروتاً، جبراً، کنایتاً، اشارتاً غرض ہر طرح سے دانتوں کی نمائش کرتے حق میزبانی کے ساتھ حق پاکستانی ادا کیا۔ '' آنٹی جی! واش روم جارہی ہیں '' '' نہیں بیٹا! ایک میٹنگ ہے وہی اٹینڈ کرنے جارہی ہوں '' سادگی سے دیے گئے جواب نے بھرپور شرمندہ کروا دیا۔ خجالت سے مسکرا دی کہ چلو وطن کی بیٹی اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا حق تو ادا کردیا۔ اب انسان کیا شرمندہ ہو! ہماری یہی ڈھٹائی تو ایک دوسرے کے لیے ہنسی کا باعث بنتی ہے ورنہ تو آج کا انسان معاشی بوجھ میں اس قدر دب چکا ہے کہ بتیسی کو ہی ٹھنڈ لگوا بیٹھا ہے۔ '' میں بھی '' عجیب پاکستانی ہوں '' سے اقتباس

ہمارے بلاگرز