بے مثال عادلانہ دور حکومت

خلیفہ ثانی جناب سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا عادلانہ دور حکومت تھا۔اسلام کا جھنڈا سربلند ہورہاتھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنگی فتوحات کررہے تھے۔ دنیائے کفر پرامیر المومنین ؓکی ہیبت طاری تھی۔ اسلامی ریاست کی جڑیں دن بدن مضبوط ہورہی تھیں۔ عدل و انصاف کابول بالا، مظلوموں کی دادرسی، ظالموں کاحساب شروع ہو چکا تھا۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ کہ جن کے نام کا رعب زمانہ جاہلیت ہی سے کفار پرسکتہ کا سبب تھا،اب اسلام کی تقویت کا باعث بن چکا تھا۔آپ ؓ کے دور خلافت میں عدالتیں خود مختار تھیں،ایسے سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ سیدناحضرت عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی کے ساتھ تھا۔ مکان کا پرنالہ مسجد کی طرف تھااور جب بارش ہوتی توپرنالے سے پانی گرتااور چھینٹے نمازیوں پر پڑتے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حکم دیا کہ پرنالے کو اکھاڑ دیا جائے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس بات کاپتا چلا کہ ان کے مکان کا پرنالہ امیر المومنین حضر ت عمر بن الخطاب ؓ کے حکم سے نکال دیا ہے، اس لیے کہ پرنالے سے بارش کاپانی گرنے سے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے تھے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عدالت سے رجوع کیا اور امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پر بغیر اجازت مکان کا پرنالہ نکالنے کا مقدمہ درج کرادیا۔
عدالت کے جج حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین کو عدالت میں طلب کر لیا۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے پہنچے تو دیکھا جج حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لوگوں کے مقدمات سننے میں مصروف ہیں۔ امیر المومنین کمرہ عدالت کے باہر انتظار میں بیٹھ گئے۔کافی انتظار بعد جب آپ ؓ کا نمبر آیاتوآپ ؓ نے بات کرنا چاہی۔ عدالت کے جج حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کرامیر المومنین کو بات نہ کرنے دی کیوں کہ کہ پہلے بات کرنے کا حق مقدمہ کرنے والے کا ہے،لہذا عدالت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی بات پہلے سنے گی۔عدالت اور جج امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے تھے،مگر وقت کا خلیفہ تعظیم عدالت کی وجہ سے خاموش ہوجاتا ہے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بات کرتے ہیں:”سیدنا عباس رضی اللہ عنہ عدالت کو بتاتے ہیں کہ میرے مکان کا پرنالہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد کی طرف ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی پرنالے کا پانی مسجد نبوی میں گرتا رہا،لیکن امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے میری غیر موجودگی میں میرے مکا ن کا پرنالہ نکال کر گھر کو نقصان پہنچایا ہے،اس لیے مجھے انصاف چاہیے“۔
عدالت کے جج حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ فکر نہ کریں،انصاف آپ کو ضرور ملے گا۔ اب عدالت بائیس لاکھ مربع میل کے حاکم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور پوچھتی ہے کہ آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کا پرنالہ ان کی اجازت کے بغیر کیوں نکالا؟امیر المومنین نے کہا:”سیدنا عباس ؓ کے مکان کا پرنالہ مسجد کی طرف تھا،جس سے بارش کا پانی مسجد میں گرتا اور نمازیوں کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑتا تھا،اس لیے میں نے اسے اتار دیا“۔ عدالت کے جج حضرت ابی بن کعبؓ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو کروٹیں بدلتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔پوچھاآپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:”میرے مکان کی جگہ کا تعین خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی مبارک کے نشانات لگا کر کیا تھا اور پرنالہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نصب کیا تھا“۔ عدالت نے پوچھا:”آپ کے پاس اس واقعے کا کوئی گواہ ہے؟“حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کچھ انصار کو گواہی کے لیے عدالت میں بلایا جنہوں نے اس واقعے کی تصدیق کی۔ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ دیکھاتو رونے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آگئے اور دور نبوی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ قیصر وکسریٰ کے ایوانوں کو ہلانے والا عدالت میں سر جھکائے کھڑا تھا۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ حاکم وقت نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اور پرنالہ کو اس کی جگہ پر لگا دیا۔ امیر المومنین کا یہ سلوک دیکھ کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مکان مسجد نبوی کو دے دیا۔
آج کے دور میں کسی حکمراں کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آتا تو کیا ہوتا؟ اللہ ہمیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی صفات والے حکمران عطاکرے۔
اسلامی سلطنت کا یہ پہلابارعب عظیم لیڈر،ہجری تقویم کا بانی، بائیس لاکھ اکاون ہزار تیس مربع میل کا حاکم،اسلامی سلطنت کو عراق، مصر لیبیا، شام، ایران، خراسان مشرقی اناطولیہ، جنوبی ارمینیا، سجستان تک وسیع کرنے والا، اسلامی دور خلافت کا سنگ بنیاد رکھنے والا، امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یکم محرم الحرام کو دار فانی سے دائمی حیات کے سفر پر روانہ ہوگیا۔اللہ ان کے درجات بلند کرے۔آمین

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں