اللہ کے فیصلے

وہ دونو ں مید ان ِ عرفات میں بیٹھے ہوئے تھے، پوری دنیا سے بے خبر، اپنے رب کے سامنے! آج انہیں اپنی خوش قسمتی پر کس قدر رشک آ رہا تھا، ان کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو گئی تھی، رب نے ان کو اپنا مہمان بنا لیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ مکہ آمد پر ہوٹل کے استقبالئے پر ”ضیوف الرحمن“ کی تختی دیکھ کر ہی عافیہ کا خون سیروں بڑھ گیا تھا کہ وہ رب کی مہمان ہے، آج وہ اور سعید اسی رب کی رحمت کے سائے میں میدان ِ عرفات میں بیٹھے تھے، دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے امیدوار!!
عافیہ کو یاد تھا اس نے یہاں پہنچنے کی تیاریاں کس طرح کی تھیں، اپنے اکلوتے بیٹے کے بغیر یہ انکا پہلا طویل سفر تھا، سعید نے حج پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہیں پہلا خیال سعد کا ہی آیا تھا:
سعد کیسے رہے گا اتنے دن؟
اور سعید صاحب جھنجھلا اٹھے تھے، کیا اب بھی آپ کو سعد کی فکر ہے، بڑا ہو گیا ہے اب، تعلیم مکمل کر کے نوکری پر لگ گیا ہے، اگر بہت پریشانی ہے تو شادی کر دیجئے اسکی۔
اور اس آخری جملے نے انکی ساری کلفت دور کر دی تھی، اگلے کچھ روز انہوں نے سعد کے لئے چاند سی دلہن لانے کی تلاش میں گزار دیے، اور ابھی حج کے کاغذ بھی جمع نہ ہوئے تھے کہ انہیں اپنی تلاش مل گئی۔ ملائکہ بڑی پیاری لڑکی تھی، بڑی بڑی چمکتی آنکھیں، جب مسکراتی توآنکھوں کے دیے جل اٹھتے، اور ہنستی تو کانوں میں رس گھلتا محسوس ہوتا۔ انکی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی، اس لئے ساری محبتیں اسی پر نچھاور کرنے کو تیار ہو گئیں۔شادی کی تیاری شروع کی تومہینوں کا کام ہفتوں میں کر لیااور ملائکہ کو گھر لا کر دم لیا۔ سعد اور ملائکہ کی جوڑی بھی خوب تھی، انہیں سعد عزیز تھا تو ملائکہ عزیز تر، ساس بہو کی روایتی دوریاں نہ تھیں، حج پر جانے سے پہلے انہوں نے گھر اسکے حوالے کر دیا، ملازمہ کے بارے میں ساری ہدایات، گھر کے اہم امور اور سب سے بڑھ کر سعد کے بارے میں!! حقیقت تو یہ ہے کہ سعد کے بارے میں کچھ زیادہ ہدایات کی ضرورت بھی نہ پڑی، انہوں نے سعد کو بہت سے کاموں میں خود انحصاری سکھائی تھی، اور باقی سب ان کا آپس کا معاملہ تھا۔
انکی حج کی تیاریوں میں دونوں نے آگے بڑھ کر ساتھ دیا تھا، چند ہفتوں میں ملائکہ ان سے مانوس ہو گئی تھی، الوداع کہتے ہوئے پیچھے رہ جانے والوں کے چہرے کچھ اداس تھے، عافیہ بیگم اور سعید انہیں دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوئے تھے، اور اب پندرہ دن ہو چکے تھے انہیں حرمین کی سرزمین پر، بیٹا بہو سے بات ہوتی تو انکے سینے میں اطمینان کی لہر اتر آتی، کتنا اچھا ہوا وہ اپنا فرض ادا کر آئے، اب کم از کم سعد کی تو فکر نہ تھی۔
عرفات کے میدان میں وہ دونوں رب کے حضور مغفرت مانگ رہے تھے، دنیا و آخرت کی بھلائیاں، اﷲ نے کتنے اچھے وقت میں ان سے یہ فیصلہ کروا لیا تھا، دعائیں مانگتے مانگتے سعید صاحب اچانک اس سے مخاطب ہوئے:
۔ ”بس اﷲ ہمیں پاک کر دے، گناہوں کا میل کچیل دور کر دے ، اور کسی نو زائیدہ بچے کی مانند کر دے“۔
۔ ”اﷲ تعالی واپس جانے کے بعد بھی ہمارے دلوں کو اسی طرح اپنی جانب متوجہ رکھے“۔ عافیہ بیگم کی دل کی دعا لبوں پر آگئی۔
۔ ”بڑی اچھی زندگی گزری ہے ہماری، کم ذمہ داریاں، اور آسان زندگی، اﷲ نے رزق ِ حلال دیا، فرائض کا پابند بنایا، کیا ہوکہ اگر اﷲ اسی پاکیزگی میں ہمیں اپنے پاس بلا لے“۔ سعید صاحب کے دل میں مچلتی کئی دنوں کی آرزو زبان پر آگئی۔
عافیہ بیگم نے گھبرا کر انکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا:
۔ ”سعد بھول گیا ہے آپ کو؟ میں اسے کوئی صدمہ نہیں دینا چاہتی، باقی اﷲ کی مرضی۔۔ “۔
عافیہ اپنی دعاو¿ں کی کتاب کی جانب متوجہ ہو گئیں، اور سعید صاحب اپنی مناجات میں گم، وہ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے، مگر اس موضوع کا باب عافیہ کے جواب نے بند کر دیا تھا۔ وہ جو ہمیشہ ایک سا سوچتے تھے آج جوان بیٹے کی محبت نے ان کی دعاو¿ں کو مختلف کر دیا تھا، حالانکہ انکی تمام عمر اسی طرح گزری تھی، سعید صاحب رشتہ داروں سے ملنے جاتے، یا کاروباری دوروں پر، یا سیر و سیاحت کرنے ، عافیہ بیگم انکے ساتھ ہوتیں، اگر سعد فارغ ہوتا تو وہ بھی، اور جب بھی سعد کے امتحان ہوتے یا کوئی اور مصروفیت تو انکا دل اسی میں اٹکا رہتا، وہ سعید صاحب کے ساتھ قدم بقدم چلتے ہوئے بھی اس سے مکمل آگاہ رہتیں۔
حج سے واپسی پر سعد اور ملائکہ انکے اسقبال کو موجود تھے، انہوں نے گھر کو بہترین طریقے سے سجا رکھا تھا، مبارک باد کا سلسلہ چند روز چلتا رہا، اسی دوران سعد نے بتایا کہ اسکا ٹرانسفر اسلام آباد ہو گیا ہے، سعید صاحب نے اپنے کسی دوست کے ذریعے انکی رہائش کا بندو بست کروایا، دونوں نے انہیں دعاو¿ں سے رخصت کیا، اور ابھی انہیں گئے دو ہفتے بھی نہ گزرے تھے کہ ایک روز اپنے آفس جاتے ہوئے سعید صاحب کی کار کو ایک ٹرک نے ٹکر ماری او ر وہ اﷲ کو پیارے ہو گئے، اﷲ نے دنیا کے جھمیلوں میں مشغول ہونے سے پہلے ہی انکے دل میں در آنی والی اس اچانک سی خواہش کو پورا کر دیا، جو جانے دعا کے قالب میں ڈھلی بھی تھی یا نہیں۔
عافیہ بیگم کی زندگی میں زلزلہ آگیا تھا، پچیس سالہ رفاقت تنہائی میں ڈھل گئی تھی، انہیں خود سمجھ نہ آ رہا تھا کہ اب کیا کریں۔ زمانہ عدت اسی غم اور سوچوں کے بہاو¿ میں گذر گیا، حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی سعید کے ساتھ قدم بقدم گزری تھی، اب تو جینے کی آس بھی معدوم ہو رہی تھی،سعد ان کی کیفیت سمجھ رہا تھا، وہ اور ملائکہ ہر ہفتے لاہور آ جاتے، انکے ساتھ وقت گزارتے، ملائکہ انکے چھوٹے چھوٹے کام اپنی نگرانی میں کروا جاتی، عدت مکمل ہونے تک وہ انہیں اسلام آباد منتقل ہونے کا بھی نہ کہہ رہے تھے۔
عافیہ بیگم کی سب سے بڑی ڈھارس انکے رب نے بندھائی تھی، صدمے کے ابتدائی دنوں ہی میں انہوں نے رب سے تعلق کی گرہیں مضبوط کر لی تھیں، اپنے غم، دکھ اور صدمے کا اظہار وہ اسی رب سے کرتیں، رات کی گھڑیوں میں ان کے آنسو ان کے رخسار اور مصلّے کو بھگوتے رہتے، انہیں رب سے شکوہ نہ تھا، ہاں اس غم کا مداوہ چاہتیں تھیں، صبر ِ جمیل کی تمنا تھی انہیں! پھر اللہ کریم نے دھیرے دھیرے انہیں زندگی کی قیمت سکھا دی، سعید صاحب کا امتحان مکمل ہو چکا تھا مگر عافیہ بیگم کا پرچہ ان کے ہاتھ میں تھا، اور ان کی کامیابی کا تعلق باقی ماندہ سوالوں کے درست جواب پر تھا۔۔
زمانہءعدت میں سعید صاحب کی زندگی کے کئی اوراق ایسے بھی ان کی نظر سے گزرے، جو بیوی ہوتے ہوئے بھی ان سے اوجھل تھے، ایسے صدقات جو دایاں ہاتھ دے اور بائیں کو خبر نہ ہو، اور کچھ صدقہءجاریہ کام، اور انہیں میں یتیم بچیوں کے لئے ایک ادارہ تھا، جس کی کونسل کے ممبران نے جنازے کے بعد سعد سے ملاقات کی تھی۔ سعد نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ والد کے حصّے کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرے گا۔ ادارے کی خاتون ذمہ دار بھی عافیہ بیگم سے ملنے آئیں، اور انہیں مستقبل کے کئی منصوبوں سے آگاہ کیا، عافیہ بیگم کی نگاہیں چمک اٹھیں، آئندہ زندگی کی ایک مشغولیت کا سرا ان کے ہاتھ آ گیا تھا۔
وہ چند ماہ بعد اسلام آباد آگئیں، لیکن لاہور کی مشولیت کو بھی وہ بھولی نہیں تھیں۔ تین ہفتے اسلام آباد گزارتیں اور چوتھا ہفتہ لاہور میں یتیم بچیوں کے ادارے کے کام کے لئے وقف تھا، اسی طرح انہیں کچھ وقت اپنے گھر میں گزارنے کا موقع بھی مل جاتا، جہاں سعید کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں ان کا سہارا ہوتیں، اس گھر کے ہر گوشے سے کتنی ہی خوشگوا ر یادیں وابستہ تھیں، جہاں سعد، سعید صاحب اور وہ تھے، اور اس تکونے رشتے کے اپنے اپنے زاویے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے پیوست نقطے تھے، جس میں ہر ایک دوسرے سے جڑا تھا۔۔
سعد کو اللہ نے یکے بعد دیگرے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تو وہ اسلام آباد ہی کر ہو کر رہ گئیں، کئی کئی ماہ لاہور آنا نہ ہوتا، بیٹی کی کمی عمارہ اور سارہ کے چہچہاتے وجود نے پوری کر دی، اور ابراہیم میں تو وہ گویا ایک مرتبہ پھر سعد کا بچپن دیکھ رہی تھیں، لیکن سعد سعید صاحب جیسا باپ نہ تھا، بلکہ ملائکہ بھی ان جیسی ماں نہ تھی، ان دونوں نے سعد کی تربیت میں دینی سوچ اور اعلی اخلاق اور معاشرت کو پیش ِ نظر رکھا تھا،مگر انکے بہو بیٹا بچوں کی تربیت سے کچھ غفلت برت رہے تھے، وہ دبے لفظوں سے کئی پہلووں کی جانب توجہ دلاتیں مگر وہ کیا کرتیں، ان دونوں نے جدید زمانے کے تقاضوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے، وہ جس طرح سعد کے لئے مثبت سرگرمیوں کا اہتمام کرتی تھیں ، سعد وہ سب اپنے بچوں کے لئے نہ کر پا رہا تھا۔ بچوں کی تفریح میں کھیل کود کی جگہ سکرین نے لے لی، لباس بھی جگ بھاتا اختیار کر لیا گیا، اور دین کی تعلیم مولوی صاحب کے سپرد کر دی گئی، عافیہ بیگم نے سمجھانا چاہا تو اسے مداخلت سمجھا گیا، وہ اپنے طور پر بچوں کو سکھانا چاہتیں تو بھی کئی رکاوٹیں سامنے آ جاتیں، سب سے بڑھ کر بچوں میں نظم وضبط کا فقدان انہیں پریشان کرتا، جوں جوں بچے بڑے ہو رہے تھے ، ان کی تشویش بڑھ رہی تھی، اور اس کا انجام یہ تھا کہ ایک مرتبہ پھر ان کی لاہور کی مصروفیات بڑھنے لگیں، یتیم بچیوں کے ادارے میں تربیت کے وہ سارے خواب پورے کر رہی تھی، جو انہوں نے اپنی نسل کے لئے دیکھے تھے، یہ سب صدقہ جاریہ بنے گا ان کے لئے، انہیں اندر تک اطمینان اترتا محسوس ہوتا، وہ لاہور میں خود کو زیادہ اطمینان میں پاتی تھیں، سعد نے کئی مرتبہ انہیں روکنا چاہا، لیکن ۔۔
وقت کا پہیہ بڑی تیزی سے گردش کر رہا تھا، سعد کی ملازمت کی مصروفیات میں کاروباری ذمہ داریاں بھی شامل ہو گئی تھیں، وہ اچھا شوہر تھا، محبت کرنے والا شفیق باپ اور بے حد دلارا بیٹا، اب بھی وہ ہر پریشانی عافیہ بیگم ہی سے شیئر کرتا، ہاں ایک قلق تھا اسے، وہ ماں کو ساتھ نہیں رکھ پایا تھا، یا وہ ہی اس کے ساتھ نہیں رہ سکی تھیں۔ اسے ذرا بھی فرصت ملتی تو سب کو ساتھ لے کر لاہور پہنچ جاتا، عافیہ بیگم سب کی آو¿ بھگت میں لگ جاتیں، اور سعد ہمیشہ اداس دل کے ساتھ واپس لوٹتا۔
سعد نے اسلام آباد میں مکان کی تعمیر شروع کی، تو سب گھر والے ہی مشوروں میں شریک تھے، وہ سب کی بات غور سے سنتا، اور ان کی رائے کو اہمیت دیتا، اسی دوران کسی کمزور لمحے اس نے عافیہ بیگم سے منوا لیا کہ نئے گھر میں وہ بھی ان کے ساتھ رہیں گی، اور پھر اس کی توجہ سب سے بڑھ کر اسی گوشے پر تھی، جسے اس نے سردی گرمی سے بچاو¿، اور بڑھاپے کی ضروریات سامنے رکھ کر بنوایا ، اس کی ایک کھڑکی لان کی جانب رکھی، اسے معلوم تھا پھول اور پودے ان کی کمزوری ہیں۔
مکین مکان میں پہنچ کر اس کو آراستہ کرنے میں لگے ہوئے تھے، عافیہ بیگم ابھی تک شش و پنج میں تھیں، اگرچہ ادارے کی ٹیم کو اپنے متوقع پروگرام سے آگاہ کر چکی تھیں، جو پودا انہوں نے خون ِ جگر سے سینچا تھا اس سے جدائی آسان نہ تھی، لیکن دو روقبل آنے والے فون نے انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا، جو فیصلہ مہینوں میں نہ ہوا تھا لمحوں میں ہو گیا تھا۔ سعد اور ملائکہ دونوں کو ابراہیم کے سکول بلایا گیا تھا، اشرافیہ کے سکول کی انتظامیہ کو بچوں کے منشیات میں ملوث ہونے کی رپورٹ ملی تھی، سکول کے کئی طلبا کے شیشہ ہاو¿س میں جانے کی بھی مصدقہ اطلاعات اور سمارٹ فونز میں قبیح اور فحش مواد کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا، سعد اور ملائکہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی، ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، جدید علوم کے حصول کی طلب میں انہوں نے کس اطمینان سے اس سکول کا انتخاب کیا تھا، یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ابراہیم کے اخلاق اور کردار کے بارے میں اساتذہ اور انتظامیہ کی رپورٹ بری نہ تھی، لیکن وہ گندے اور متعفن ماحول میں موجود تو تھا اور کسی بھی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔آج انہیں ابراہیم کی تربیت کے لئے دادی کی معاونت درکار تھی، اور عافیہ بیگم جو بے گانے بچوں کی تربیت کے لئے ہلکان ہوتی تھیں اپنے پوتے سے کیسے لا تعلق رہ سکتی تھیں، انہوںنے بلا تردد دو روز بعد اسلام آباد منتقل ہونے کا عندیہ دے دیا، اور اس اعلان کے ساتھ ہی گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ملائکہ اورسعد نے بچوں کے ساتھ مل کر اماں کا کمرہ سیٹ کروایا، ویڈیو کال سے ان کو سب کچھ دکھایا جاتا رہا اوران کی رضا مندی سے سب چیزیں ترتیب سے رکھی گئیں،ان سب کی بھاگ دوڑ عافیہ بیگم کو سرشار کر رہی تھی۔
ویک اینڈ پر سعد اور ملائکہ اماں کو لینے لاہور جا رہے تھے، اماں نے صبح ہی بتایا تھا کہ ان کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ ان کی منتظر بیٹھی ہیں، ملائکہ ایک نظر ان کے کمرے کا جائزہ لینے گئی، اور وہ ملازمہ کو رات کے کھانے کی ہدایات دے رہی تھی، جب ابراہیم گھبرایا ہوا اس کے پیچھے آگیا:
”ماما ۔۔ ماما ۔۔ پاپا بلا رہے ہیں آپ کو ۔۔“۔
اور ابھی وہ ہدایات ہی دے رہی تھی کہ اس کی چیخ سنائی دی:
”ماما ۔۔ ماما ۔۔ دیکھیں نا پاپا کو ۔۔“۔
وہ بھاگتی ہوئی لاو¿نج میں پہنچی، سعد سینے پر ہاتھ رکھے کراہ رہا تھا، ابراہیم قریبی کلینک سے ڈاکٹر کو بلانے بھاگا، لیکن اس کے آنے سے پہلے ہی اس کی روح پرواز کر چکی تھی، ملائکہ پاس کھڑی انگلیاں مروڑ رہی تھی، اس کا چہرہ زرد تھا، موت کی المناک حقیقت نے سب کو حواس باختہ کر دیا تھا۔
اور اس شام جب عافیہ بیگم اسلام آباد پہنچی تو وہاں استقبال کا نہیں رخصت کا منظر تھا، اتنا خوبصورت گھر بنانے والا اور اسے خوابوں سے سجانے والا سعد اگلی منزل کی جانب سدھار گیا تھا، رشتہ دار آگے بڑھے اور ایک بزرگ نے ”کل نفس ذائقة الموت“ کا پیغام سنا کر جنازہ اٹھانے کا اشارہ کیا۔ عافیہ بیگم نے بس اتنا کہا: ”پیارے بیٹے اللہ کے حوالے، تو نے اتنی محبت سے بلا کر میرے آنے کا انتظار بھی نہ کیا، میں زندگی بھر تجھ سے راضی رہی اور آج بھی تیرے ایمان کی گواہی دیتی ہوں، اے اللہ تو بھی میرے بیٹے کی بخشش فرما دے، آمین“۔
سعد سے جڑا ہر رشتہ، دوست، ہمسائے، جانے انجانے سب اشکبار تھے، چند دن تک تعزیت کا سلسلہ رہا، اور پھر ایسی تنہائی کہ گھر کے در و دیوار کاٹ کھانے کو دوڑتے، بچے روتے بلکتے تو ملائکہ انہیں چپ کرواتے خود بھی بے حال ہو جاتی، اس کے سر سے سائبان اٹھ گیا تھا، اور عافیہ بیگم ٹکر ٹکر سب کو دیکھے جاتیں، اور پھر وہی ہمت جمع کر کے سب کو تسلی دیتیں، دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کا دوام!!
سارا دن وہ ملائکہ کا دل بہلاتیں اور ملائکہ انہیں خوش رکھنے کی اپنی سی کوشش کرتی رہتی، سارا اور عمارہ گھر آتیں تو ان کے غمزدہ اور اداس چہرے دیکھ کر انکا دل کٹنے لگتا، خوشیوں کے ہنڈولنے میں جھولنے والایہ گھرانہ غم کے معنی سے بھی نامانوس تھا، اب غم پڑا تو ان کے اعصاب چٹخ گئے، لیکن عافیہ بیگم نے کئی ماہ کی مسلسل کوشش سے انہیں اس رب سے جوڑ دیا جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی، جو اس کی جانب بڑھنے والوں پر صبر انڈیل دیتا ہے ۔ وہ سارا دن سب کو وہی سبق پڑھاتی رہتیں۔
دن کی تھی ہاری جب وہ رات کو بستر میں آتیں تو ابراہیم چپکے سے انکے پاس سرک آتا، انکے کندھے دباتا، پیروں کی مالش کرتا، اور ہولے ہولے ان سے باتیں کئے جاتا، ماضی کی باتیں، اس گھر کی رونق بحال کرنے کے منصوبے اور مستقبل کے خواب! اسکی مضطرب نگاہوں اور ان کہے خطرے کو بھی وہ محسوس کر لیتیں، اور اسے سینے سے لگا کر بھینچ لیتیں، ابراہیم میرے بچے، میرے سعد کی امانت، تم سب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاو¿ں گی، اب تو لاہور بھول گیا ہے مجھے۔
اور اس سمے انہیں میدانِ عرفات میں بیٹھے دو نفوس یاد آ جاتے جن میں سے ایک نے اک خواہش کا اظہار کیا تھا، اور دوسرا ہچکچا گیا تھا، اسے اپنا بیٹا بہت پیارا تھا۔۔ اور کسے معلوم تھا کہ ایک کی خواہش قبولیت پا جائے گی، اور دوسرے کے لئے رب کا ایک اور ہی فیصلہ ہو گا، جس بیٹے کی محبت نے اس لمحے انہیں جکڑ لیا تھا، وہ بھی ایک حسین اور نازک موڑ پر ان سے جدا ہو کر رب کے حضور پہنچ جائے گا، اور اتنے برس بعد وہ پھر محبت کی ڈور میں بندھی پوتے پوتیوں اور بیٹی جیسی بہو کی دلداری میں لگی ہوں گی، اللہ کے اگلے فیصلے کی منتظر ۔۔
اور ہر حال میں اس سے راضی۔۔
اور اسے راضی کرنے کے لئے فکر مند!!
٭٭٭

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں