اردوزبان وادب کی ترقی میں علمائے کرام کاکردار

برطانوی راج کی طرف سے 1835ء میں برصغیرمیں فارسی زبان کی سرکاری حیثیت کوختم کرکے انگریزی زبان کوسرکاری زبان کادرجہ دے دیاگیالیکن چونکہ فارسی زبان ایک طویل عرصہ برصغیرکی سرکاری زبان رہی اس لئے اردوجواس زمانہ میں عوامی زبان تھی پراس کااثرکسی دوسری زبان سے قدرے زیادہ رہایہی وجہ ہے کہ اردوکو”دخترفارسی“کہاجاتا ہے۔اردوزبان کے اکثرالفاظ کی بنا فارسی زبان ہے برصغیرمیں برطانوی راج کے دوران انگریزکی غاصبانہ حکومت کے خلاف ردعمل میں مسلمانان برصغیرمیں سے اکثریت نے انگریزی زبان کی شدید مخالفت کی ان کامؤقف تھاکہ زبان کے ذریعہ سے برطانوی استعماراپنی تہذیب وتمدن کوسادہ لوح مسلمانوں کے عقائدو نظریات کوخراب کرنے کے لئے استعما ل کرے گا جس کے نتیجہ میں دوفریق بن گئے ایک فریق انگریزی زبان کوسیکھنے کے حق میں تھا جب کہ دوسرا انگریزوانگریزی ہردوکے مخالف تھا۔انگریزی کی مخالفت کرنے والوں نے فارسی واردوسے تعلق کمزورنہیں ہونے دیااوریہ بدیہی بات ہے کہ کسی زبان وتہذٰیب کی بقاکی جنگ لڑنے کے لئے اس سے غیرمتزلزل جذباتی وابستگی ناگزیرہوتی ہے وگرنہ مشہورکہاوت ہے ”کواچلاہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا“
اسلامی تاریخ اورادب کابہت بڑاذخیرہ فارسی کتب کی شکل میں موجود تھا اورفارسی زبان کوترک کرنے کا مطلب اسلامی ورثہ سے بے اعتنائی تھا جس کومذہبی حلقہ کسی طورپرترک نہیں کرناچاہتا تھا متحدہ ہندوستان میں اس وقت کے مدارس دینیہ میں سے سب سے بڑاوقدیم مدرسہ دارلعلوم دیوبندتھا جس کی بنیاد 1867میں رکھی گئی یہاں ذریعہ تعلیم کی زبان اردوتھی اردوزبان وادب کی اشاعت وترویج میں دارلعلوم دیوبندکے مشائخ نے مرکزی کرداراداکیااس کی وجہ یہ تھی کہ مدارس میں روزاول سے عربی وفارسی لازمی مضامین کے طورپرپڑھائے جاتے ہیں اوراردوزبان میں فارسی کے علاوہ عربی کے بے شمارالفاظ شامل ہیں اوران سب میں ذریعہ تعلیم اردوہے لہذافضلاء عربی،فارسی میں دسترس ہونے کی وجہ سے اردودانی میں یکتائے روزگارتھے۔لہذااس زمانہ میں مدارس دینیہ نے اردوزبان وادب کے جومایہ نازادیب وشاعراورنثرنگارپیداکیے ان میں سے مولاناقاسم نانوتوی،مفتی کفایت اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی،مولانا شبلی نعمانی،سرسیداحمدخان،مولانامناظراحسن گیلانی،علامہ شبیراحمدعثمانی،مولانا ابوالکلام آزاد،مولانایوسف بنوری،قاری محمدطیب،مفتی محمدشفیع،مولانارشیداحمدگنگوہی،مولانا سعیداحمداکبرآبادی،مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی،مولاناظفر علی خان،مولانا احمدضابریلوی،مولاناانورشاہ کشمیری ،مولاناابوالحسن علی ندوی،سیدسلیمان ندوی،مولوی سعادت علی،شمس العلماء مولوی ممتازعلی،مولاناحسرت موہانی،مولانا محمدحسین آزاد،مولاناالطاف حسین حالی،ابوالاعلی مودودی مقابل ذکرہیں
دوسری جانب سرسیداحمدخان نے1875ء میں محمڈن اینگلواورینٹل کالج کی بنیادرکھی جسے 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کادرجہ ملا۔علی گڑھ نے انگریزی واردوہردوزبانوں کے لئے خدمات سرانجام دیں تاہم اردوزبان وادب کے حوالہ سے یہاں جن عظیم شخصیات نے خدمات سرانجام دیں ان میں علامہ شبلی نعمانی،مولاناچراغ علی اورمولاناالطاف حسین حالی قابل ذکرہیں۔
اردوزبان وادب کے نفاذوترقی کی ہرجدوجہد میں علمائے کرام اورمدارس دینیہ کاکردارمثالی رہاہے چنانچہ 1902ء میں آل انڈیامحمڈن ایجوکیشن کانفرنس علی گڑھ کے تحت جب انجمن ترقی اردوکی بنیادرکھی گئی توعلامہ شبلی نعمانی کو سیکرٹری جنرل کاعہدہ سونپاگیابعدازاں 1912ء میں بابائے اردو مولوی عبدالحق جب اس کے سیکرٹری بنے توپھرانجمن نے خوب ترقی کی۔اورہندی اردوتنازعہ میں انجمن نے اردوزبان کے تحفظ وبقاء کے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں جوآگے چل کرتحریک پاکستان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔مولوی عبدالحق جامعہ عثمانیہ میں شعبہ اردوکے صدرتھے1936ء میں ملازمت سے فراغت کے بعدبالکلیہ خودکواردوزبان وادب کی ترقی کے لئے وقف کردیا1949ء میں صرف اردوکے احیاء کے لئے اپناسب کچھ قربان کرکے پاکستان ہجرت کرآئے بعدازاں انجمن ترقی اردوپاکستان کے 1961ء تک صدررہے۔مولوی عبدالحق ایک بلندپایہ ماہرلغت نگار،محقق ونقادتھے اردوزبان کوپاکستان کی سرکاری،دفتری،اورذریعہ تعلیم کی زبان بنانے کے لئے عمربھرکوشاں رہے اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ۔
”اس براعظم پاک وہندکاشایدہی کوئی بڑایاچھوٹاقصبہ ایساہوجس کی خاک میں نے نہ چھانی ہوشہراورقصبے تومیری جولان گاہ تھے پہاڑوں،جنگلوں،دریاؤں اورسمندرؤں کی بھی جی بھرکرسیرکی جن دنوں مجھ پراردوکاجن سوارتھااورہندی والوں اورکانگریسی حکومت سے معرکہ آرائی تھی توسچ مچ زمین کاگزبناہواتھاوہ دورعجیب وغریب تھااگرتحریرمیں لاؤں توالف لیلیٰ کی داستان معلوم ہوگی“ ان کی اردوزبان وادب کی خدمات کے اعتراف میں انہیں الٰہ آبادیونی ورسٹی اورعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطاکیں۔
اردوہے جس کانام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
قیام پاکستان کے بعدآج بھی پاک وہندکے مدارس دینیہ میں فارسی زبان پڑھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے دینی مدارس کے فضلاء بہترین اردوبولنااورلکھناجانتے ہیں اوریہی فضلاء عصری اداروں میں اردوکی درس وتدریس پرمامورہیں یہی وجہ ہے کہ سکول کالجزاوریونیورسٹیز میں شامل اکثروبیشتر کتب کے مصنفین علمائے کرام ہیں۔
۔لہذایہ بات تسلیم کرناپڑے گی کہ پاک وہندمیں اردوزبان کی ترقی میں وہاں کے مدارس دینیہ اوران میں پڑھانے والے علمائے کرام کا مرکزی کردار روزاول سے آج تلک
ہے۔جنگ آزادی سے لے کرآج تک جن مشاہیرادباوشعراء کی تصانیف ہمارے تعلیمی اداروں میں تسلسل سے پرھی پڑھائی جاتی ہیں ان میں سے چندکاتذکرہ ذیل میں کیاجاتاہے۔
مولانامحمدحسین آزادکے والدمولوی محمدباقردہلی کے مشہورصحافی وادیب اورنڈرمردمجاہدتھے آپ نے 1837 ء میں اردوکاہفت روزہ ”دہلی اخبار“شروع کیااور’‘اردواخبارپریس“کے نام سے اپناذاتی پریس شروع کیااپنے اس اخبارکے ذریعے برصغیرکے باسیوں میں انگریزکی غلامی سے آزادی کاشعورپیداکیا بعدازاں برطانوی حکومت نے ان پرایک انگریزکے قتل کاجھوٹامقدمہ چلاکر 1857ء میں توپ کے دھانے پرچڑھاکراڑادیاگیاجنگ آزادی میں وہ اپنی جان قربان والے پہلے صحافی ٹھہرے۔
مولانا محمدحسین آزادگورنمنٹ کالج لاہورمیں عربی وفارسی کے پروفیسرتھے اردوکے ساحب طرزنثرنگاروشاعرتھے حکومت پنجاب نے ان سے متعددنصابی ودرسی کتابیں بھی لکھوائیں انہیں اسلون بیان کوموجد وخاتم کہاجاتاہے ان کاایک بڑاکارنامہ اردومیں جدیدطرزشاعری ہے انکی تصانیف میں ”آب حیات“،”درباراکبری“،”نیرنگ خیال“،”قصص ہند“،”سخندان فارس“اپنے استاد ابراہیم ذوق کا دیوان بھی انہوں نے مرتب کیاآپ کی لکھی ہوئی موضوعاتی نظمیں ”نظم ِآزاد“میں شامل ہیں۔
مولانا الطاف حسین حالی مضمون نگار،سوانح نگاراوربہترین نقادہیں۔ان کے اسلوب کی سب سے نمایاں خوبی مدعانگاری ہے لاہورآنے کے بعدپنجاب بک ڈپوسے منسلک ہوگئے ان کے نثری اسلوب کو اردونثرکامعیاری اسلوب قراردیاگیاہے انکی مشہورکتابوں میں ”حیات جاوید“،”یادگارغالب“،”حیات سعدی“،”مقدمہ شعروشاعری“،”اورمدوجززاسلام“جوکہ ”مسد س حالی“کے نام سے مشہورہے بے حدمقبولیت رکھتی ہے
شہدوشکرسے شیریں اردوزباں ہماری
ہوتی ہے جس کوبولے میٹھی زباں ہماری
مولانا حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردوزبان کے مایہ نازادیب وشاعر تھے آپ نے 1903ء میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“جاری کیاآپ ایک قائدانہ صلاحیت رکھنے والے سچے مسلمان،حوصلہ مندصحافی،اورحساس شاعرتھے۔
مولانا شبلی نعمانی علی گڑھ کالج میں فارسی کے استاد تھے بعدازاں حیدرآباددکن کے دائرۃ المعارف کے ناظم رہے آپ کاایک بہت عظیم کارنامہ لکھنومیں ”ندوۃ العلماء“اوراعظم گڑھ میں ”دارالمصنفین“کاقیام ہے آپ کاشماراردوکے صف اول کے نثرنگاروں میں ہوتاہے آپ شاعربھی تھے اردوزبان وادب کی ترقی میں آپ کاایک بلندمقام ہے آپ کی تصانیف میں سے ”سیرۃ النبی“،”شعرالعجم“،”الفاروق“،”المامون“،”سیرۃ النعمان“،الغزالی“،”سوانح مولانا روم“،”سفرنامہ روم،مصر،شام“شامل ہیں۔
تحریک پاکستان کوکامیاب بنانے اورپاک سرزمین کے حصول کے لئے علمائے کرام نے اپنی تقریروتحریرکے ذریعہ سے نظریاتی جنگ لڑی یہ وہ قدسی صفات شخصیات تھیں جنہوں نے اپنی خدادافہم وفراست اورقائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتہ پربرصغیرکے مسلمانوں کی تہذیب وتمدن،رہن سہن،زبان وعلاقہ کی بقاکے لئے اپنی جان تک کی قربانی دے دی لیکن آزادی کے مقابلہ میں کسی بات پرسمجھوتہ نہیں کیا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں