مرض بڑھتا گیا۔۔۔۔

یہ فقرہ تو ہر شخص نے سن رکھا ہے ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ جی ہاں اسلام کے نام پر لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا پاکستان ہر مفاد پرست اور عیار کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا کبھی آئین معطل ہوا تو کبھی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا،عوام کو اچھے دن دکھانے کے خواب دیکھاتے دیکھاتے 70سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ ہر آنے والا دن غریب کے لئے مزید برا اور سیاستدان کے لئے اچھا ہی ثابت ہوا۔عوام فاقہ کشی کی طرف گامزن تو سیاستدانوں کے دستر خوان مزید وسیع ہوتے گے۔ کچھ لوگ تو صرف پاکستان میں حکمرانی کرنے آئے اور دل بھر کے اس غریب اور مجبور عوام کو لوٹا اور پھر اسی دیس واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے یا لایا گیا تھا عوام کے سامنے تمن خان بننے والے بعض طاقتور لوگ آج اللہ کی پکڑ میں ہیں اور ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ذی شعور سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں بلکہ جس کا جتنا بس چل رہا ہے عوام کو لوٹ رہا ہے۔۔۔۔مثالیں دین سے دیتے ہیں اور عمل اس سے متضاد جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے خلفیہ مقرر ہونے کے بعد آپؓ سے پوچھا گیا کہ بطور خلفیہ آپؓ کی کیا اجرت مقرر کی جائے توآپؓ نے فرمایا ایک مزدور کے برابر سوال اٹھا کہ اس میں آپ کا گزارا ہو جائے گا تو آپؓ نے فرمایا اگر میرا گزرا نہ ہوا تو میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا۔میرا چیلنج ہے عوام کے نام نہاد ہمدرد وں اور ٹھیکدارو ں سے کو ئی ا قتدار میں بیٹھا شخص لائیں جس کی اجرت مزدور کے برابر ہو۔۔۔؟
عدل اس معاشر میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔حالانکہ کہا گیا معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے ناانصافی پر نہیں قارئین ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایک مسلمان بن کر فیصلہ کریں عام آدمی کو یہاں انصاف میسر ہے۔ بلکہ انصاف کے نام پر مظلوم اورمعصوم لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے، سارا سارا دن شدید سردی،اور شدید جھلسا دینے والی گرمی میں انصاف کے طلبگار ایوان عدل میں ذلیل رسوا ہو نے کے بعد ناامید اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں لے کر جاتے ہیں تو تاریخ ،میں جب یہ باتیں لکھ رہا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والے لوگوں کی تصاویر ہیں مجھے چین نہیں لینے دیتی وہ تصویر جس میں ایک ماں کا لخت جگر مرا پڑا ہے شاید وہ ہجرت کی سختیاں برداشت نہ کر سکا میرے کانوں میں وہ آواز گونج رہی ہے کہ بہن کے سامنے جوان بھائی کو ذبح کر دیا گیا تھا میرے آنکھوں کے سامنے وہ حروف ہیں کہ بوڑھے والدین نے اپنی جوان بچیوں کو اپنے ہاتھوں اندھے کنووں میں دھکے دے کر ان کی عصمتیں بچائیں۔جب روز حشر چشم فلک یہ بات اللہ پاک کی عدالت میں بیان کرے گا کہ کس طرح لوگ گاجر مولی کی طرح اس عظیم ریاست کے لئے کٹ گئے اپنوں سے بچھٹر گے تو اس وقت اس وطن کے عوام کو لوٹنے والے کیا جواب دیں گے۔یاد رکھنا روز حشرکوئی قابل ترین اور چرب زبان وکیل وہاں تمہاری وکالت نہ کر سکے گا۔کوئی منشی اگلی تاریخ دینے کے لئے وہاں موجود نہ ہو گا۔کوئی جھوٹی ضمنی لکھنے والا پولیس ملازم نہیں ہو گا بلکہ وہاں تو ہر چیز تمہارے سامنے رکھ کر پوچھا جائے گا۔کاش عوام اور اس ملک کو لوٹنے والے چشم تصور میں یہ منظر دیکھ سکیں لیکن نہیں نہیں اقتدار اور طاقت کا نشہ دیکھنا تو درکنار سوچنے سے بھی روک لیتا ہے۔اب بات کرتے ہیں آج کے دور کی لاتعداد ارے لاکھوں ملازمیں کروڑوں نہیں اربوں ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والوں میں چند ہی ہوں ملازمین ایسے ہوں گے جن کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو، امراء کو تو عام کھانسی پر بھی تین تین ڈاکٹر چیک کرتے ہیں۔ارب پتی لوگوں کے کروڑوں کے قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں ملاوٹ خور،سود خور،راشی،بد عنوان اور ظالم آج بھی عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔شریف اور سادہ لوح ایماندار لوگ آج بھی آپ کو ہر جگہ دھکے کھاتے نظرآتے ہیں اور انہیں مہلک سے مہلک بیماری پر بھی دوائی میسر نہیں۔کرپشن کا سدباب کرنے والے ادارے خود کرپٹ ہو چکے ہیں۔معاشرے کا بنیادی حق انصاف صرف بیانات کی حد تک رہ گیا۔ظالم ظلم سے غریبوں مسکینوں اور یتیموں بیواووں کے مال پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔کیمیکل سے دودھ تیار ہو رہا ہے۔مردہ اور حرام جانوروں کا گوشت عوام کو کھلایا جارہا ہے،جان بچانے والی ادویات بلیک کر کے منہ مانگے داموں فروخت کیا جانا معمول بن چکا ہے ڈرگ انسپکٹر اور پرائس کنڑول انسپکٹر وں کو اپنی منتھلی سے غرض ہے۔کہیں پولیس کے خلاف کمپلین کے لئے 8787تو کہیں عوام کی شنوائی کے لئے سٹیزن پورٹل پاکستان کا لالی پاپ عوام کو دیا جارہا ہے لیکن نہ تو لاقانونیت کو بریک لگی اور نہ ہی ظالم کا ہاتھ ظلم سے رک سکا، نہ رشوت کی طلب میں کمی آئی اور نہ ہی غریب عوام کے مسائل کم ہوئے۔کیونکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔۔۔۔!!!!

حصہ

جواب چھوڑ دیں