اپنا میڈیا، اپنے ہاتھ

’’ارے یار تنگ آگیا ہوں میں ۔۔۔‘‘ اُس نے قدرے خفگی سے کہا۔
’’ کیا ہو گیا ہے بھائی؟۔۔ سب خیر تو ہے ناں ۔۔۔‘‘ میں نے لیپ ٹاپ پر سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔
’’پتہ نہیں کیوں یار۔ آج کل ہر دوسرا شخص میڈیا پر برس رہا ہے کہ جیسے معاشرے میں سارا فساد میڈیا کی وجہ سے آرہا ہے۔ ‘‘
’’اچھا تو لوگوں کی مرضی ، اچھا کہیں یا برا ، تم کیوں پریشان ہو رہے ہو۔ ‘‘ میں نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے معلوم تھا کہ ابھی وہ بہت کچھ بولے گا۔
’’ لوگوں کا خیال ہے کہ میڈیا معاشرے میں تفریح کے نام پر بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ نئی نسل کو بگاڑ رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ہم سے ہماری دنیا ہی چھین لینا چاہتے ہیں ۔میں کہتا ہوں کہ معاشرے میں جو ہو رہا ہے میڈیا وہی تو دکھائے گا ناں ۔۔۔۔‘‘ وہ ذرا سانس لینے کو رکا تو میں نے اس کی بات اچک لی۔
’’اچھا ۔۔۔میڈیا تو وہ بھی دکھا رہا ہے کہ جو معاشرے میں ہو بھی نہیں رہا۔مجھے بتاؤ کہ معاشرے میں اتنا ڈانس کر کے چائے کہاں پی جارہی ہے؟فقہی مسائل کے عنوانات پر جو ڈرامے بنتے ہیں ، ہوتا ہوگا کوئی دو چار گھروں میں، مگر اُس کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے کہ ہر گھر میں یہی چل رہا ہے۔ کرائم کواس طرح ہائی لائٹ کیا جارہا ہے کہ ایک شریف آدمی بھی جرم کرنا سیکھ لے ۔ میڈیا کوتو وہ دکھانا چاہیے’’ جو ہونا چاہیے‘‘ ، میرے بھولے بھائی ‘‘میں اپنی فارم میں آگیا۔
’’پھر بھی یار۔۔ہماری قوم پہلے ہی اتنے مسائل کا شکار رہتی ہے۔ اگر دو گھڑی ریلیکس ہونے کا موقع مل ہی رہا ہے تو تم لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟میں خود جب آن لائن ہوتا ہوں تو تھوٹی دیر کے لئے سب بھول جاتا ہوں۔‘‘
’’اتنی فرسٹیٹڈ چیزوں کو دیکھ کر کونسی ریلکسیشن ملتی ہے بھائی تم کو ۔۔‘‘ میں حیران تھا۔
’’تمہیں کیا پتہ۔۔۔‘‘
’’ایک بات بتاؤ ۔یہ سی پیک کیا ہے ؟ ‘‘ میں نے اچانک پوچھا۔
’’یہ سی پیک کہاں سے لے آئے تم ۔۔۔‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’بتاؤ ناں بھائی!‘‘
’’ بھائی چین سے ہمارے ٹریڈ ریلیشنز ہیں ، اس وقت اس ذکر کی کیا ضرورت ؟ ‘‘ وہ کافی حیران تھا۔
’’تم نے بالکل صحیح کہا ۔۔۔ کچھ دانشوروں کی نظر میں یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں خوشحالی آجائے گی اور کچھ کہتے ہیں کہ اس طرح پاکستان چین کی نوآبادی بن جائے گا۔یعنی یہ ایک ایسا ہاتھی ہے کہ اگر اس کے اوپر چڑھ کرسواری نہ کی گئی تو یہ ہم کو روندھتا ہوا گزر جائے گا۔ ‘‘
’’ بھائی صاحب ! اس کا میڈیا سے کیا تعلق ہے۔؟؟ ‘‘وہ حیران ہو کر بولا۔
’’دیکھو بھائی! تم ہی کہتے ہو ہم میڈیا کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ میں بھی یہ ہی کہہ رہا ہوں کہ سی پیک کی طرح میڈیا بھی ایک ہاتھی ہے۔ ہمیں اس پر سوار ہونا ہے ۔اس کے آگے اپنے آپ کو جھکانا نہیں ہے کہ یہ ہم کو ہماری شناخت سے محروم کر دے۔ ہمیں اس کا سامنا کرنا ہے۔ ‘‘میں کہہ رہا تھا۔
’’اچھا!تو جناب اسی لئے آن لائن ہوتے ہیں۔ ۔‘‘ وہ مسکرایا
’’جی!سوشل میڈیا ایک پاورہے جس کو تسلیم کرنے میں ہمارے بڑوں نے دیر کر دی ہے۔ اس وقت یہ اتنا سٹرونگ ہو چکا ہے کہ بعض اشوز پر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میدیا دونوں ہی اس کو فالو کرتے ہیں۔ہر ایشو پر فوری ری ایکشن آتا ہے۔ ٹرینڈ بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی شکل میں نئی نسل اپنے میڈیا کی خود مالک ہے۔ اکثر جو میں تم کو آن لائن دکھتا ہوں، تو میں یہی سب کر رہا ہوتا ہوں۔ میں ’’ہاتھی کی سواری ‘‘ کرتا ہوں۔ آخر اپنے ملک اور مذہب کواس پلیٹ فارم پر ہم ڈیفنڈ نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا ۔‘‘ میں اپنی ’فارم‘میں آچکا تھا۔
’’مان گئے بھائی تم کو ۔۔چلو چائے پینے چلتے ہیں ۔۔۔‘‘ میں مسکراتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں