ابتدا سے انتہا تک

دور حاضرہ سے تو ہم سب واقف ہی ہیں فصلیں اور نسلیں دونوں ہی تباہی کی طرف جا رہی ہیں حالات اور خیالات دن بہ دن بدلتے اور بگڑتے جارہے ہیں دوا کے نام پر زہر اور آزادی کے نام پر قید، ہماری نئی نسل کو زندہ لاشیں بنا رہی ہیں۔ جس طرح پانی نہ دینے سے فصلیں تباہ ہورہی ہیں اسی طرح تربیت نہ کرنے سے نسلیں تباہ ہورہی ہیں۔

تربیت، تربیت ہر جگہ تربیت کیوں آجاتی ہے گھوم پھر کے، وہ اس لیۓ کیوں کہ کوئی بھی شے جب فطرت سے ہٹتی ہے تو برباد ہی ہوتی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے کچھ ایسے واقعات نظر سے گزرے ہیں، ایک ایسی سوچ نے گھیر لیا ہے کہ اگر اس قطرہ قطرہ زہر کو نہ روکا گیا تو نہ جانے ہم کس تباہی کی طرف چلے جائیں گے

دوکمروں کے مکان میں رہنے والے پانچ سے چھ افراد روز ساتھ کھاتے ہیں پیتے ہیں مگر کسی کو کسی کی زندگی کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں والد اگر بیمار ہے تو اولاد کو نہیں معلوم اور اولاد اگر کسی عیب میں مبتلا ہے تو والدین کو نہیں معلوم حد ہوگئی نہ ہم گونگے ہیں نہ بہرے پھر بھی چپ بیٹھے ہیں پھر بھی کچھ نہیں سنتے۔

آئے دن ایک نئی خبر سننے کوملتی ہے۔ چودہ سالہ لڑکی گھر سے فرار اٹھارہ سالہ لڑکی گھر سے فرار ان میں سے کچھ معصوم اغوا ہوجاتی ہیں اور کچھ اپنے ساتھی کے ساتھ نکاح کرلیتی ہیں سارے جہان کو تنگ کرنے اور گھر والوں کو رسوائی کی دلدل میں دھکیلنے کے بعد ویڈیو کلپ آتا ہے کے جی ہم نے نکاح کرلیا ہے چلو بھئی ولی کے بغير نکاح بھی کر لیا جو کہ ہوا ہی نہیں۔

آٹھ سے تیرہ سال تک کے بچے بچیاں اب وہ بھی کسی سے کم نہیں اس عمر میں ہمیں مرغا بنا دیا جاتا تھا یہ بچے ریسٹورینٹ میں بیٹھے کھانے کے آرڈر دے رہے ہوتے ہیں ارے جناب اکیلے نہیں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ہوتے ہیں۔

جس عمر میں ہم شیر اور ہاتھی کی کہانیاں سنتے تھے یہ بچے شعرو شاعری کرتے ہیں۔ اب آگے کیا بتاؤں ایک دس سالہ بچے کو اس کی والدہ میرے پاس لے آئیں ماں بیچاری منہ پرچادر رکھ کر شرمندہ سی ہنس رہی تھی اور بچے کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر میری طرف کیا۔ اللہ رحم میرے مالک وہ تو پورا خط تھا ایک سات سالہ بچی کے نام مجھے تو چکر آنے لگے۔

جرنل اسٹور پر کھڑی دوبچیاں خوب میک اپ کیا ہوا ہیل بھی پہنی ہوئی تھیں مگر جب وہ بچیاں چلنے لگیں ہیں کسی ماڈل سے کم نہیں تھی بہترین کیٹ واک کر رہی تھی میری ایڑیاں تو بغیر ہیل کے ڈگمگا گئی۔ چھ سالہ بچی کیا خوب ڈانس کر رہی تھی صرف ڈانس ہی نہیں بلکہ چہرے اور جسم کے حصوں سے بھی ڈانس کے اسٹیپس ادا کر رہی تھی وہیں ان کے والد صاحب کہ رہے تھے بس کرو گڑیا نظر لگ جائے گی۔ بھئی آپ نظر نہیں رکھیں گے تو نظر لے بھی اڑے گی۔

ویلینٹائن ڈے تھا کالج کے باہر لال گلاب کے تین چار اسٹال لگے تھے لڑکیاں خوب پھول خرید رہی تھیں چُھٹی کا وقت تھا سو کسی کا بھائی تو کسی کے والد ساتھ تھے۔ پھر کہتے ہیں ہمیں تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ بھیا یہ پھول آپ کی لڑکی آپکی عزت کی قبر پر ہی چڑھائے گی ابھی عزت ذندہ ہو تو روکو نہ اسے۔

میں سوچ سوچ کے پریشان ہوگئی کہ اتنی ہمت اس نسل میں آئی کہاں سے ہمارے بیگ سے تو ایک پینسل اضافی نکل آئے تو امّی کہتی تھیں۔ ضرور چوری کی ہوگی دوسرے دن تصدیق کرنے اسکول بھی پہنچ جاتی تھی یہاں تو آدھا آدھا کلو کے گفٹ گھر پہنچ جاتے ہیں اور گھر والے کہتے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔ ابھی اس زہر کی تلاش میں ہی تھی کہ میری دوست کی کال آگئی اکلوتی بہن ہے پانچ بھائیوں کی، کسی کو پسند کرتی ہے مجھے فون کیا تھا کہ دعا کرو امّی راضی ہو جائیں بس امّی ہیں کہ دشمن بنی ہوئی ہیں۔

یااللہ مائیں بھی کوئی دشمن ہوتی ہیں؟۔ لیکن یہ بات اگر اسے کہہ دوں تو پچھلی بار کی طرح مجھے بوڑھی روح کہہ کر کال کاٹ دے گی۔ بہرحال میں نے کہا اللہ آسانی کرے گا تم کچھ غلط مت کرنا ایک غلطی سب کچھ ختم کر دیتی ہے اسی بات کے جواب میں اس نے زہر کے بازار کا پتہ دیا۔ کہنے لگی کچھ نہیں ہوتا آج کل دیکھتی نہیں ہو ٹی وی پر زیادہ تر لڑکیاں کورٹ میرج کرتی ہیں ماں باپ کچھ عرصے بعد نادان نا سمجھ کہ کر معاف کر دیتے ہیں۔ لوجی کورٹ میرج کرلو پیچھے چاہے باپ مرے یا بھائی، ماں اور بہنوں کا جینا حرام کردیا جائے بس ان کو کورٹ میرج کرنی ہے۔

جی ہاں آج کل ہر دوسرے ڈرامے میں یہی دیکھایا جارہاہے کہ اگر لڑکی گھر سے نہ بھاگی تو پھر وہ ہیروئن ہی نہیں بس دو دن کی محبت کے پیچھے اپنی جنت اور جنت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیۓ بند کرلو اپنے محرم رشتوں کو دشمن سمجھنا یہی سب سے بڑی بربادی ہے۔ پھر اگر لڑکا لڑکی لوٹ آئیں کاغذی نکاح کر کے شرعی نہیں کاغذی تو والدین اس اٹھارہ سے تیس سالہ لڑکی کو نا سمجھ کہہ کر یا ہماری سختیوں کی وجہ سے ایسا قدم اٹھا لیا کہہ کر معاف کر دیتے ہیں۔ بھیا سختیوں میں کارنامہ انجام دیا ہے تو آزادی میں کیا کرتی۔؟ اور تو اور یہ اور نیا ڈرامہ چلایا ہے کہ لڑکی عین نکاح سے پہلے پارلر سے ہی بھاگ جاتی ہے۔

بیس سے تیس قسطوں پر مشتمل ڈرامہ جس کے آخر میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے اس نئی نسل کو دکھا کر پوری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اسی لیۓ کہتے ہیں لگایا پیڑ ببول کا تو آم کہاں سے کھائیں، تربیت بچپن سے کی جاتی ہے جس طرح بیج کی حفاظت کی جاتی ہے اسی طرح بچوں کی بھی حفاظت کریں۔ ہم اور آپ سمجھتے ہیں بچے چھوٹے ہیں نہیں اگر آپ کے بچے کو موبائل استعمال کرنا آتا ہے وہ ٹی وی شوق سے دیکھتا ہے تو آپ سمجھ جائیں میڈیا اس کی تربیت کر رہا ہے وہ تو ایک خالی کاغذ ہے اب کسی نہ کسی کو تو لکھنا ہوگا آپ نہیں تو کوئی اور لکھے گا۔ اپنے بچوں سے دوستی کریں ان سے پورے دن کی تفصيل پوچھیں لیکن دوست بن کر اور اکثر بچے ہم سے اپنی عمر سے بڑے سوال کر لیتے ہیں تو انھیں ڈانٹیں نہیں اچھا اور موثر جواب دیں کیوں کہ اگر آپ نہیں بتائیں گے تو موبائل میں سرچ کا آپشن ہے اور اگر ایک بار بچے کی دوستی موبائل سے ہوگئی تو سمجھیں پھر وہ آپ کو کچھ نہیں بتائے گا۔

بچیوں کو بچپن سے حیا کا لباس پہنائیں محرم نا محرم کی تمیز بتائیں کیوں کہ انھیں ہی بڑے ہونا ہے یہ مسلمان کی پہلی درس گاہ بنیں گی انھیں سے عزتیں ہیں۔ بیٹوں کو بھی چھوٹی عمر سے عورت کی عزت کرنا نگاہ نیچی رکھنا سکھائیں کیوں کہ باہر کا ماحول انھیں ہی محفوظ بنانا ہے۔ شروعات کریں اپنے بچوں پر توجہ دیں اپنی بیٹوں بیٹیوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کریں۔ ورنہ ہمارا معاشرہ ایک اندھے کنویں کی طرف چلا جائے گا اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوگی۔

یاد رکھیں بیج سے ہی پودا اور پودے سے ہی درخت بنتا ہے۔ ابتدا سے انتہا تک اسلام سے جوڑے رکھیں کیوں کہ ٹوٹے ہوئے پتے یا تو بکھر جاتے ہیں یا یہاں وہاں اڑتے رہتے ہیں۔

حصہ