محمدعلی جناح امت مسلمہ

 

ایک نظریہ اتنا اٹل اور لاثانی ہونا چاہیے کہ عقیدے کی طرح کہ اس کی حقانیت سمجھانے اور منوانے کے لیے بحث اور تذلیل کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔جس نظریہ کی حقانیت مشکوک ہوگی وہ سرراہ مباحث کا شکار ہوگا اور اس پر اعتراض اٹھتے رہیں گے تاکہ دلیل سے اس کی حقانیت واضح کردی جائے یا پھر لاجواب ہوکر تذلیل سے خود نظریہ کو بدنام کروالیا جائے۔

دوقومی نظریہ اور نظریہ پاکستان حقیقی اور لاثانی نظریات کے عکاس ہیں عقیدے کی طرح ، لہذا ان کو چیلنج کرنے والے کبھی سرخرو نہیں ہوئے جبکہ یہ نظریات دن بہ دن دلوں میں راسخ اور اذہان میں صیقل ہوتے گئے اور ہو رہے ہیںاور برسبیل تذکرہ بتادوں کہ ان نظریات میں اسلام ضرورت نہیں بلکہ بنیاد کے طور پر موجود تھا، ہے اور رہے گا، جس سے یہ پتہ چلا کہ اسلام نے الگ وطن کی چاہ دی نہ کہ الگ وطن نے اسلام کی تو یہ بات یہیں ختم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے کیا؟

محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تحریک آزادی دراصل اسلام کے بطن سے ہی پھوٹی ہے کہ مسلمان برصغیر کی ایک قوت بنیں اور اپنے اسلامی تشخص کے ساتھ امت مسلمہ کے رہبر و محافظ بنیں لیکن ان کی پوری زندگی اور تحریک کے مطالعے کے دوران یہ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ برصغیر کے مسلمان آزاد وطن لیکر اس کی سرحدوں میں خود کو قید کرلیں گے بلکہ اگر قائدآعظم کے آخری ایام کا مشاہدہ و مطالعہ کریں تو انہیں پاکستان کی بطور رہنما فکر تھی لیکن بطور مسلمان اور ایک نوزائیدہ اسلامی ملک کے مختار کل وہ امت مسلمہ کے لیے فکر مند تھے۔

شاید آپ احباب کو یہی پتہ ہو کہ فلسطین کی حالت زار پر وہ پریشان اور فکر مند تھے جبکہ اسرائیل کے لیے شدید اور سخت افکاررکھتے تھے جوکہ یہ سمجھانے کو کافی ہے کہ اس وقت کٹی پھٹی حالت میں بھی انہوں نے امت مسلمہ کو اسلام کے مضبوط رشتے اور نظریہ کی وجہ سے اول رکھا، نا کہ حاصل شدہ وطن کو، لیکن وہ اس کے علاوہ بھی مسلم ممالک کی دلجوئی اور عسکری مدد کے خواہاں رہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ انڈونیشیا کے قومی انقلاب کے دوران ، محمد علی جناح نے برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے والے مسلمان فوجیوں کو انڈونیشیا کے ڈچ امپیریل نوآبادیات کے خلاف اپنی لڑائی میں انڈونیشیا کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں ، برطانوی ہندوستانی فوج کے 600 مسلم فوجیوں نے نوآبادیاتی قوتوں کو اپنا حصہ داؤ پر لگاتے ہوئے اور انڈونیشیا کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان 600 فوجیوں میں سے 500 فوجی جنگ میں شہید ہوئے جبکہ بچ جانے والے افراد پاکستان واپس آئے یا انڈونیشیا میں رہتے رہے۔

پاکستان سے مسلمان فوجیوں کی مدد کے اعتراف کے طور پر ، 17 اگست ، 1995 کو انڈونیشیا کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوران ، انڈونیشیا نے زندہ سابق پاکستانی فوجیوں کو آزادی جنگ ایوارڈز دیئے اور پاکستان کے بانی والد محمد علی جناح کو انڈونیشیاء کے سب بڑے ایوارڈ ‘‘آدیپورا’’ سے نوازا, یہ سب ‘‘سب سے پہلے اسلام’’ (امت مسلمہ) کی بہترین مثال پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔اس کے بعد بات کرتے ہیں جناح اور اسرائیل کی کہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریان نے مئی 1948 میں پاکستان کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، جب اس نے محمد علی جناح کو ایک ٹیلیگرام بھیجا تھا۔ محمد علی جناح کی جانب سے کوئی خاص کیا بلکہ کوئی جواب ہی نہیں ملا۔ جناح ، جو در حقیقت صحت کے شدید مسائل میں مبتلا تھے ، ستمبر 1948 میں اپنی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔

1949 تک ، اسرائیل کی وزارت خارجہ کا خیال تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کے دارالحکومت ، کراچی میں اسرائیلی سفارت خانہ کھول سکیں گے یا کم از کم تجارت کھول کر کر شروع کریں گےاور دوسری جانب لندن میں پاکستانی سفارتکاروں اور مختلف یہودی تنظیموں کے ساتھ منسلک اسرائیل کے نمائندوں کے مابین ابتدائی رابطہ 1950 کے اوائل میں ہوا تھا۔

پاکستانی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو کچھ سو یہودیوں کے لئے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے جو افغانستان چھوڑ کر اسرائیل ہجرت کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے 1948 میں فلسطین کے فلسطینیوں کے انخلاء اور اسرائیل سے ان کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پاکستان کے راستے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ، جس کے بعد افغان یہودی ایران کے راستے روانہ ہوگئے۔

1952 میں ، پاکستانی وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان (احمدی) نے اسرائیل کے خلاف (محمد علی جناح کی آخری ایام زندگی کے وقت متجوزہ پالسیز کی روشنی میں) سخت گیر پالیسیوں کو فروغ دیا ، اور 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کی روشنی میں فلسطین کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی وکالت کی۔

اس طرح ، ایوب خان کی پالیسی نے عرب ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات کی بنیاد رکھی اور دنیائے عالم اور تاقیامت پاکستانی مسلم عوام کو باور کروادیا کہ ‘‘سب سے پہلے اسلام’’ (امت مسلمہ)۔اسی طرح بانی پاکستان محمد علی جناح نے دیگر پڑوسی اور مسلمان ریاستوں کے ساتھ اسلام کے رشتے سے مضبوط تعلقات کی داغ بیل ڈالنے کی خواہش اور کوشش کی تاکہ امت مسلمہ آگے چل کر متحدمنظم کردار ادا کرے اور مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرلیں کہ بیشک قیام پاکستان نشاتہ ثانیہ کے دیگر ابواب کی طرح ایک اہم اور بڑا باب تھا اور اس وقت مضبوط اور بااختیار پاکستان نشانہ ثانیہ کا اگلا اہم اور بڑا باب ہے، جس کو ہمیں مکمل کرنا ہے۔

پر یاد رہے نشاتہ ثانیہ ایک ایسی بحالی عروج کی مبارک جدوجہد ہے جس میں پاکستان کا اپنا کردار متعین ہے جو اس نے ادا کرنا ہی کرنا ہے جس سے یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کہنا کافی نہیں بلکہ موجودہ حالات اور وقت کے غیر متقاضی ہے البتہ جس وقت مشرف نے یہ غنچہ اقوام عالم بالخصوص طاغوت کو دیا تھا تب اسی کی ضرورت تھی لیکن یہ کوئی صد سالہ یا تاقیامت نظریہ نہیں تھا جس کو کھونٹا بنا کر ہم اس سے باندھ دیا جائیں۔

پاکستان نے جب ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش کی تو کیا مسلم اور کیا غیر مسلم سب نے جو نعرہ اور الزام دہرایا وہ قطعی یہ نہیں تھا کہ ‘‘پاکستانی بم’’ بلکہ جب بھی بات ہوئی وہ یہی ہوئی کہ ‘‘اسلامی بم’’ لہذا اس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ہی محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ترجیحات اور مقاصد طے اور واضح تھے جو سرحدوں کی قید سے بالاتر تھے اس لیے یہ بحث اپنا وجود ویسے ہی کھوجاتی ہے کہ سب سے پہلے اسلام یا سب سے پہلے پاکستان کیونکہ اسلام ہی اس ملک کے قیام کی وجہ بنا اور اسلام ہی اس کے وجود کا ضامن ہے اور اسلام ہی اس کی عزت و سربلندی کی کنجی ہے تو بات ہی ختم کہ اسلام جیسے الہامی و لافانی عقیدے کے سامنے کسی کمزور نظریہ کو کھڑا کیا جائے جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہر اس فیصلے اور اقدام پر سوالیہ نشان لگادے جس کا پس منظر اسلام اور امت مسلمہ تھے۔