لدھیانوی شہید سے ڈاکٹر عادل خان تک

آج ڈاکٹر عادل خان کی شہادت پر کراچی علماء کمیٹی نے ہڑتال کی کال دے رکھی تھی کاش نہ دی ہوتی کہ کچھ بھرم رہ جاتا کراچی میں چھوٹے بڑے 500 مدارس تو ہوں گے ان 500 میں سے صرف 5 مدارس کے طلباء اپنے اساتذہ کے ساتھ شارع فیصل اور شارع قائدین پر پانچ جگہ بیٹھ جاتے تو حکومت بیٹھ کر بات کررہی ہوتی اس وقت شہر میں مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی ،ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر،مفتی عبدالرحیم،حکیم مظہر صاحب،مولانا منظور مینگل ،حضرت والا زر ولی خان، مفتی منیب اور مولانا قصوری صاحب جیسے جید علماء کرام موجود ہیں جن کی ایک آواز پر ہزاروں لوگ کھڑے ہوسکتے ہیں لیکن وہ ایک آواز کہاں ہیں؟

جب خون ناحق پر احتجاج ایسا ہی ناحق ہے تو کسی کراچی علماء کمیٹی کو ہڑتال کی پھلجھڑی چھوڑنے کی اور ان حضرات والا کو حمایت کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ اس قسم کے پھسپھسے فیصلوں سے کسی کو قہقہے لگانے کا موقع دینا ضروری تھا؟

مانیں یا نہ مانیں پیغام یہی گیا ہے کہ مسجد مدارس والے سفید فارمی مرغیاں ہیں پکڑو کاٹو، چھیل چھال کر پھینکو اور پتلی گلی سے نکل لو اسکے بعد یہ نکلیں گے اور تھوڑے بہت نہیں ہزاروں کی تعداد میں ٹخنوں سے اوپر شلواروں کے پائنچے کئے،داڑھیوں سے وضو کا پانی ٹپکاتے آنکھوں میں اشک لئے نکلیں گے تاکہ شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت نہ رہ جائے ۔۔۔ لڑکے اپنے موبائل فونوں سے جنازہ گاہ میں سینکڑوں صفوں کی تصاویر کھینیچیں گے وڈیوز بنائیں گے فیس بک پر چڑھائیں گے کہ دجالی میڈیا کو یہ ٹھاٹیں مارتا سمندر نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور، اور، احتجاج ختم ہوجائے گا !

حصہ
mm
احسان کوہاٹی المعروف سیلانی معروف قلم کار ہیں۔لکھنےکے لیے بلاشبہ قلم و قرطاس ہی کا سہارا لیتے ہوں گے مگر ان کی تحریر پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاہی نہیں بلکہ اپنے خونِ جگر میں ڈبو کر فگار انگلیوں سے لکھ رہے ہیں۔۔سچے جذبوں اور احساس کی فراوانی صرف سیلانی ہی کے قلم میں ملے گی۔گزشتہ دو دھائی سے روزنامہ امت کراچی میں سیلانی دیکھتا چلا گیا کہ عنوان سے لکھ رہے ہیں ۔آج کل ایک نجی ٹی ؤی چینلز میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔