کیا آپ کو پتا ہے؟

ایک جھٹکے کے ساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی میں جو اونگھ رہی تھی ہڑا بڑا کر اُٹھ بیٹھی۔ ہم اسلام آباد سے گجرات جا رہے تھے۔ میرے دونوں بیٹے احسن اور احتشام پیچھے بیٹھے بابر اعظم کے گن گا رہے تھے۔

“افففف گاڑی کو بھی یہیں خراب ہونا تھا۔”بچوں کے ابو جان طارق صاحب نے اسٹیرنگ پر الجھن سے ہاتھ مارا۔

“اب کیا ہوگا؟” میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا۔

“کچھ نہیں، آپ ایسا کریں یہ سامنے پارک ہے بچوں کو لے کر آپ یہاں بیٹھیں میں دیکھتا ہوں یہاں قریب کوئی میکنک ہو تو میں گاڑی دکھا لوں۔”

“جی.. “

میں بچوں کو لے کر پارک میں آ گئی۔ بچوں نے گاڑی سے اپنا بلا اور گیند نکال لیا وہ کرکٹ کھیلنے لگے تھے۔

میں نے بھی پرس سے موبائل نکالا اور ایک بینچ پر بیٹھ کر یونہی بے مقصد اسکرول کرنے لگی جبکہ دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی پہلے ہی اتنا لمبا سفر ہے اب اور بھی دیر ہو جائے گی

اتفاقاً القدس نیوز چینل کھل گیا تھا میں اکتاہٹ کے ساتھ پڑھنے لگی۔

ہر خبر کے ساتھ تبصرہ بھی موجود تھا۔

اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں الشطی کیمپ پر حملہ کیا۔

صہیونی بندوق بردار کشتیوں نے غزہ میں دیر البلاح اور خان یونس شہروں کے ساحل پر بمباری کی۔

صہیونی اپنے ظلم اور سفاکیت کی بنا پر دنیا بھر کے عوام کی نفرت سمیٹ رہے ہیں۔

*وال اسٹریٹ جرنل* اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں فضائی اور زمینی مہم کے باوجود حماس کو تباہ کرنے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

قارئین غور کیجیے کچھ تو ہے حماس کے پاس کے اتنے دن گزر جانے کے باوجود ڈٹ کر اسرائیلی درندوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ غزہ کے معصوم شہریوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جا رہیں اسرائیل تاریخی ہزیمت اور معاشی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔

اگلی خبر تبصرے کے ساتھ کچھ یوں تھی

آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ غزہ کی چھوٹی سی معصوم بچی جس کی بہن شہید ہوگئی ہے وہ ہمت و استقامت سے کھڑی مسکرا رہی ہے۔

اس مسکراہٹ میں یقین و اعتماد کے جو دیے چمکتے محسوس ہو رہے ہیں وہ تو ناقابل تسخیر، ناقابل شکست ہیں۔ صہیونیوں کو گھٹنے ٹیکنے ہوں گے۔

القدس بریگیڈز : ہم نے ایک (“EVO Max 4T”) صیہونی جاسوسی ڈرون کو اس وقت اپنے کنٹرول میں لے لیا جب وہ وسطی غزہ کی پٹی کے آسمانوں میں انٹیلی جنس مشن چلا رہا تھا۔

ہمارے مجاہد فتح یا شہادت

کامیابی یا عظیم الشان کامیابی کی جنگ لڑ رہے ہیں کامیابی تو ہر صورت ان ہی کا مقدر ہے۔

خبروں سےدھیان ہٹا کرمیں نےبچوں کی جانب دیکھا جو کرکٹ کھیلنے میں مگن تھے۔

“السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ میں نےمڑ کر دیکھا میرے بالکل قریب احسن اور احتشام کے ہم عمر ایک بچہ اور بچی کھڑے تھے۔ بچہ سفید شلوار قمیض جبکہ بچی گلابی خوب گھیرے والے لمبے فراک، سفید ڈھیلے ڈھالے پاجامےاور سفید اسکارف میں بہت جاذب نظر آرہی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں خوبصورت ہینڈل والی ٹوکریاں تھیں جن میں پھولوں کے گجروں کے ساتھ کچھ اور بھی رکھا تھا۔

میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔

“میں عمر اور یہ میری بہن عائشہ ہے… بچے نے بہت سلجھے ہوئے انداز میں اپنا تعارف کروایا۔

کیا آپ کو پتا ہے ہمارے پاس آپ کے لیے کچھ خاص ہے۔” بچی نے اپنی ٹوکری میں سے چند اونی ٹوپیاں، مفلر اور دستانے نکالے۔

“آپ کو پتا ہے یہ عام نہیں ہیں ان میں کچھ خاص ہے۔”

احسن اور احتشام بھی میرے پاس آ کھڑے ہوئے تھے اور ان بچوں کو دلچسپی سے دیکھنے لگے تھے۔

میں نے دستانے عائشہ سے لے کر دیکھے ان پر سبز، سفید اور کالی پٹیاں بنی تھیں جن کے شروع میں ایک سرخ تکون تھی۔

“ارے ان پر تو فلسطین کا جھنڈا بُنا گیا ہے۔”

جی ہاں مفلر اور ٹوپیوں پر بھی۔ عمر نے کہا

“امی مجھے یہ لے دیں اور مجھے یہ

احسن اور احتشام ہاتھوں میں دستانے پہن کر دیکھنے لگے تھے۔ ٹھنڈ میں کھیلنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ سرد ہو رہے تھے۔

ہم نے اپنے اپنے سائز کے دستانے منتخب کیے۔

دستانے نرم، گرم اور خوبصورت تو تھے ہی فلسطین کے جھنڈے کی وجہ سے منفرد بھی تھے۔

“کیا آپ کو پتا ہے فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے۔ قرآن پاک میں مذکور قریباً اسی فی صد انبیاء کا تعلق فلسطین اور اس کے گرد و نواح سے ہے اور یہاں پر موجود مسجد الاقصی مقام معراج ہے۔ وہ مقام جہاں شب معراج ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔” عائشہ نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا” اسی مقدس سرزمین کی محبت و عقیدت میں ہم آپ کو ان دستانوں کے ساتھ یہ بک مارکس مفت دیں گے۔

اس نے ہم تینوں کو الگ الگ بک مارکس تھمائے۔ میں نے بغور بک مارکس کو دیکھا انہیں غزہ کی پٹی کے نقشے کی صورت کاٹا گیا تھا۔

“کیا آپ کو پتا ہے ان بک مارکس پر کچھ بہت خاص بتایا گیا ہے۔” عمر نے اپنے مخصوص انداز میں میری طرف دیکھا۔

مجھے ان بچوں کا مہذب، انوکھا اور بھولا بھالا انداز اچھا لگنے لگا تھا۔

“کیا خاص؟”

میں نے اسے سوالیہ انداز میں دیکھا

“آپ پڑھ کر دیکھیں۔”

بک مارکس پر باریک مگر خوشخط ایک مختصر تحریر موجود تھی۔

غزہ: یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد ہاشم کا انتقال ہوا اور یہیں وہ دفن ہوئے اس لیے اس شہر کو غزہ ہاشم بھی کہا جاتا ہے۔*

*رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تجارت کی غرض سے غزہ تک کا سفر بھی کیا. جہاں مسجد الاقصی شب معراج کی گواہ ہے وہاں غزہ کی مبارک سرزمین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں کے نقش محفوظ کیے ہوئے ہے۔ “*

یہ کیا لکھا تھا اس بک مارک پر جو میرےدل کو چھو گیا تھا۔

میں نے نم آنکھوں سے عمر اور عائشہ کی جانب دیکھا۔

“میرے بک مارک پر لکھا ہے”

احسن پڑھنے لگا تھا

ہم مسجد الاقصی کے تحفظ کے لیے ہر اس کمپنی اور ہر اس شے کا بائیکاٹ کرتے ہیں جو صہیونی عزائم کی پشت پناہی کرتی ہیں۔

اور میرے پر لکھا ہے

احتشام پڑھنے لگا..

“مسجد الاقصی اور اہل فلسطین کو صہیونی مظالم سے بچانا فرض عین ہے۔”

“آپ کو پتا ہے طوفان الاقصی مہم کے ذریعے ہم اپنا فرض عین نبھا رہے ہیں….”

میں نے عمر کو دستانوں کی قیمت ادا کی تو اس نے بقایا کے لیے جو نوٹ مجھے دئیے

ان پر “فلسطین کو آزاد کرواؤ” کی مہر لگی تھی۔” ہم ہر دل پر دستک دے رہے ہیں کہ انبیاء کی سرزمین فلسطین مقبوضہ ہے اسے آزاد کروانے میں اپنا حصہ ڈالیے۔

عمر اور عائشہ پھولوں سے مہکتی ٹوکریاں لے کر غائب ہو چکے تھے

اور میرے بچے پوچھ رہے تھے

امی! طوفان الاقصی مہم کیا ہے؟

میں نے ایک گہری سانس لی

عائشہ اور عمر اللہ تم دونوں کو سلامت رکھے۔ مجھے واقعتا نہیں پتا تھا کہ کوئی فرض عین مجھے پکار رہا ہے جسے مجھے پورا کرنا ہے

ہاں

مجھے طارق صاحب احسن اور احتشام کو بھی طوفان الاقصی مہم کا حصہ بننا ہے اور ضرور بننا ہے ان شاءاللہ